سوالات کے جوابات۔ڈاکٹر صہیب حسن (لندن)

قبروں میں مُردہ اجسام کی کیمیائی طور پر تحلیل کا حکم

سوال: انگلینڈ میں موسم عموماً سرد رہتا ہے اور موسم کی تبدیلی کی وجہ سے ہوا میں نمی کا عنصر زیادہ ہو جاتا ہے جس کا مطلب یہ ہے کہ اگر ہم میت کو کفن میں یا تابوت میں بھی دفن کرتے رہیں تو ان کے جسم کے ٹوٹنے کا عمل (یعنی تحلیل جسم )کا عرصہ بڑھتا چلا جائے گا ۔ میرے شہر شیفیلڈ میں اس وقت سولہ قبرستان ہیں جو 359 ایکٹر زمین پر پھیلے ہوئے ہیں اور اندازہ ہے کہ اگلے دس سال میں وہ قبروں سے بھر جائیں گے ، ہمارے شہر کی آبادی کوئی پانچ لاکھ نفوس پر مشتمل ہے، جنہیں ساٹھ ہزار مسلمانوں کی تعداد ہے ، یعنی اگلی صدی میں ہمیں اپنے مُردوں کو دفنانے کے لئے نئی جگہوں کی ضرورت ہوگی اور یہ صورت بار بار پیدا ہوتی رہے گی، یہاں تک کہ اس کا کوئی حل تلاش کر لیا جائے۔

میرا سوال یہ کہ ہماری معلومات کے مطابق ایسے کیمیائی مرکبات موجود ہیں کہ جنہیں اگر قبر کی مٹی سے ملا دیا جائے تو مردہ اجسام کی تحلیل کا ہونا تیزی سے شروع ہو جائے گا اور اسی طرح ہم اُسی زمین کو بار بار استعمال کرنے پر قادر رہیں گے اور ہمیں نہ ہی نئی زمینوں کی تلاشی رہے گی اور نہ ہی دفنا نے کی فیس بڑھانا پڑے گی تو کیا ایسی صورت میں کیمیائی مرکبات کا استعمال کیا جاسکتا ہے ؟

جواب: بنیادی بات تو یہ ہے کہ میت کے جسم کے ساتھ ایسا کچھ نہ کیا جائے کہ وہ جلد سے جلد تلف ہو جائے ، چاہے وہ اس طریقے سے ہو کہ مردہ جسم کے اوپر سی کوئی مادہ رکھ دیا جائے یا مٹی میں اسے ملا دیا جائے تاکہ ان کی جلد سے جلد تحلیل ہو سکے اور اس ضمن میں قبرستانوں کے لئے نئی جگہوں کا حصول بقدر امکان ضروری ہو گا ۔ لیکن اس کے باوجود اگر صورتحال ایسی ہی ہو جیسا کہ سوال میں بتائی گئی ہے یعنی نئی اراضی کا حصول ناممکن ہو تو ہم امید رکھتے ہیں کہ ضرورت کی بنا پر ایسے کیمیائی مرکبات کا استعمال نا جائز نہ ہوگا، شافعی مذہب کے مطابق میت کو خشک رکھنے کی زیادہ سے زیادہ کوشش کرنی چاہئے تاکہ اس کا کفن جلد بھیگنے سے بچ جائے اور اس کے جلد بگڑ جانے کے امکانات کم سے کم ہوتے چلے جائیں اور اس قول کا مطلب یہ ہوا کہ میت کے جسم کے ساتھ کوئی ایسا معاملہ نہ کیا جائے کہ جس کی بنا پر اس کا جسم جلدی سے تحلیل ہونا شروع ہو جائے ـ

المنہج میں زکریا الانصاری نےیہی بات لکھی ہے:

“ينشف تنشيفا بليغا لئلا تبتل أكفانه فيسرع إليه الفساد.”

’’میت کے جسم کو خوب خشک کیا جائے تاکہ اس کا کفن بھیگ نہ جائے، جس کی بنا پر وہ بگڑتا چلا جائے۔‘‘

سلیمان بن عمر ( جوجمل کے لقب سے معروف ہیں) اس عبارت پر لکھتے ہیں:

اس سے یہ معلوم ہوا کہ جو زمین با لکل بوسیدہ نہ ہو یا تیزی سے بوسیدہ نہ ہوتی ہو وہ افضل ہے ، اور وہ اس لئے کہ شریعت اس بات کا تقاضا کہ کرتی ہے کہ بوسیدگی کا عمل تیزی سے نہ ہوتا کہ روح کا جتنی دیر بدن باقی رہے گا ۔ نعمتوں سے فیضیاب ہونے میں زیادہ کا مل رہے گی ۔‘‘ (فتویٰ یورپین کونسل برائے فتویٰ اور تحقیق)

دودھ بنک سے استفادے کا حکم

سوال : ایک صاحب نے سوال کیا ہے کہ ان کی ایک رشتے دار خاتون نے بچے کو جنم دیا ہے جو انتہائی کمزور حالت میں ہے ، ماں خود سے دودھ پلانے پر قا در نہیں ہے۔ ڈاکٹروں نے مشورہ دیا ہے کہ بچے کو فوری طور پر دودھ کی سخت ضرورت ہے ، جو کہ دودھ بنک سے دستیا ب ہے، تو اس خاتون کا سوال ہے کہ آیا وہ اپنے بچے کو یہ دودھ پلا سکتی ہے؟

جواب : یہ سوال چند سال قبل کونسل کے اجلاس میں زیر بحث لایا جا چکا ہے، کہ آیا بلاد مغرب میں وہ نومولود جو ناقص الخلق پیدا ہوئے ہوں یا ولادت کے وقت اتنے کم وزن کے ہوں کہ جن کے بقا کے لئے سوائے دودھ بنک کے اور کوئی دودھ مفید نہ ہو تو کیا وہ ان بنکوں سے استفادہ کر سکتے ہیں جو بلاد مغرب میں کثرت سے موجود ہیں، تو اسی سلسلے میں پہلے تو عالمی اسلامی فقہ اکیڈمی کی قرارداد نمبر 6 (2:6) کی طرف رجوع کیا گیا کہ جس میں یہ کہا گیا تھا کہ اسلامی ملکوں میں ایسے بنکوں کا قائم کرنا حرمت بسبب رضاعت کا باعث ہو گا، اس لیے اس سے بچا جائے، لیکن کونسل نے دودھ بنک کے بارے میں چند فنی اور شرعی محققانہ رپورٹس کا بنظر غائر مطالعہ کیا اور وہ اس نتیجہ پر پہنچی کہ

1۔بلاد مغرب میں قائم شدہ بنوک کی حیثیت وہ نہیں ہے جو کہ اسلامی ممالک میں پائی جاتی ہے کہ جہاں ایسی خواتین موجود ہیں جو بچوں کو گود لینے یا انہیں اپنا دودھ پلانے پر آمادہ رہتی ہیں، اس لیے یہاں وہ حکم لاگو نہیں ہو گا جو کہ عالمی اسلامی فقہ اکیڈمی نے منظور کیا ہے، اس لیے کونسل کے نزدیک ایسے بنکوں سے حاجت کے وقت استفادہ کرنے میں شرعاً کوئی قباحت نہیں ہے۔

2۔ رضاعت کی بنا پر اس دودھ سے حرمت ثابت نہیں ہوتی اور وہ اس لئے کہ یہاں کئی باتیں مجہول ہیں ، یعنی کہ بچے نے کتنی دفعہ دودھ پیا اور یہ کہ دودھ بہت ساری خواتین کی طرف سے عطیہ کیے جانے کی بنا پر مختلط دودھ کے حکم میں تھا اور یہ کہ جن خواتین نے اپنا دودھ عطیہ کیا تھا ، ان کا تشخص قانونی طور پر مجہول رکھا گیا ہے یعنی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ ایسی خواتین کا نام و پتہ کسی کو دیا جائے اور یہ کہ ان خواتین کی تعداد اچھی خاصی ہے کہ ان کا احاطہ نہیں کیا جاسکتا ۔

اور یہاں فقہاء کی اس بات سے بھی تائید حاصل ہوتی ہے کہ اگر کوئی بچہ کسی گاؤں کی ایک مجہول عورت سے دودھ پیتا ہے تو اس عورت کے غیر معلوم ہونے کی بنا پر حرمت ثابت نہ ہوگی اور پھر یہ بات بھی نظر سے اوجھل نہ ہو کہ مندرجہ بالا صورت میں دودھ بہت ساری خواتین کے عطیہ کردہ دودھ کا مرکب ہے اور اس میں اس بات کا تعین نہیں کیا جاسکتا کہ کس کا دودھ زیادہ ہے اور کس کا کم ۔‘‘

اور حاصل بحث یہ ہے کہ

یہ خاتون شدید حاجت کی بنا پر دودھ بنک سے استفادہ کر سکتی ہے۔ واللہ اعلم

وہ ادویہ جن کا استعمال حلال و حرام دونوں طرح سے ہو سکتا ہو

سوال : میں یورپ کے ایک ملک میں رہائش رکھتا ہوں اور ایک ایسی کمپنی میں دو غیر مسلم حضرات کے ساتھ شراکت رکھتا ہوں جو دواؤں اور طبی مرکبات کی تجارت کرتی ہے ، ہم اب ایک یورپین میڈیکل کمپنی کا ایجنٹ بننا چاہتے ہیں جوایسے انجکشن تیار کرتی ہے جو چہرے اور گھٹنوں کے جوڑوں کی سختی دور کرنے کے لئے دیئے جاتے ہیں جیسے فیلر کا انجکشن (ہیالو برونیک ایسِڈ) ۔

اب یہ انجیکشن خاص طور پر چہرے کے بگاڑ کو بسبب مرض دور کرنے کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور صرف چہرے کی خوبصورتی کے لئے بھی استعمال کیا جا سکتا ہے جیسے ہونٹوں کو موٹا کرنا یا آنکھ کے زیریں حلقہ کو بھرنا یا چہرے پر سرخی کا نمایاں کرنا ، تو کیا ایسے انجیکشن کا بیچنا یا بطور ایجنٹ اس کا سپلائی کرنا جائز ہوگا۔

جواب: یہ مسئلہ اس نوعیت کا ہے کہ

ایک چیز حلال اور حرام دونوں طریقوں سے استعمال ہو سکتی ہے ۔ ب

نیادی اصول یہ ہے کہ جو چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہو،اس کی بیع و شراء جائز ہے ، ایک دفعہ بائع نے اسے بیچ دیا تو اب اس کے استعمال کی ذمہ داری مشتری کی طرف منتقل ہو جاتی ہے ، اگر وہ اسے حرام میں استعمال کرے گا تو گناہگار ہوگا۔

یہاں یہ سوال پیدا ہو سکتا ہے کہ کیا یہ گناہ کے کاموں میں تعاون کرنے کی طرح نہیں ہے؟ اور اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورة المائدۃ : 2)

اور نیکی اور تقویٰ میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو،لیکن گناہ اور زیادتی کے کاموں میں بالکل تعاون نہ کرو ۔‘‘

چنا چہ اس آیت کو زیر نظر رکھتے ہوئے اس بات کا خیال رکھا جائے کہ اگر بائع کو اس بات کا یقین ہو یا غلبہ ظن ہو کہ مشتری اس چیز کو کسی حرام مقصد کی خاطر استعمال کرے گا تو وہ ایسے شخص کے ہا تھ اس چیز کو فروخت نہ کرے ، یہ ایسے ہی ہے کہ فتنہ اور دنگا فساد کے موقع پر چھری چا قو فروخت کرنے والے کے لئے احتیاط لازم ہے ہے کہ ایسے آدمی کو یہ آلات فروخت نہ کرے کہ جس بارے میں غالب گمان ہو کہ وہ اسے ناحق خون بہانے کے لئے استعمال کرے گا اور اگر ایسا کرے گا تو یقیناً ایسا شخص گناہ اور زیادتی کے کاموں میں تعاون کرنے کا مجرم قرار پائے گا۔

( فتوی یورپین کونسل برائے فتاوی اور ریسرچ )

٭٭٭

ماہ صفر اور نحوست

ماہ صفر اسلامی سال کا دوسرا قمری مہینہ ہے۔ صفر کے لغوی معنیٰ ’خالی ہونے کے ہیں۔‘

عرب محرم کے مہینےکا احترام کرتے ہوئے اس میں قتال وغیرہ سے باز رہتے تھے لیکن ماہِ صفر کے شروع ہوتے ہی وہ قتال وجدال کےلیے نکل کھڑے ہوتے تھے اور گھروں کو خالی چھوڑ دیتے تھے اس لیے اس کا مہینے کا نام صفر پڑگیا۔صفر کے میں نحوست کے عقیدے کی کوئی حیثیت نہیں۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

’’کوئی بیماری متعدی نہیں ہوتی،بدشگونی لینا جائز نہیں۔‘‘

قرآن وحدیث میں کہیں بھی ماہ ِصفر میں کسی نیک عمل کو فضیلت کے ساتھ خاص نہیں کیا گیا ،لہٰذا جو مسنون اعمال عام دنوں میں کیے حاتے ہیں ، وہ اس ماہ میں بھی کیے جا سکتے ہیں ماہ محرم کو منحوس سمجھ کر اس میں شادیاں نہ کرنا،اس ماہ کی آخری بدھ کو جلوس نکالنا اور بڑی بڑی محافل منعقد کرکے خاص قسم کے کھانے اور حلوے تقسیم کرنا اور اسی طرح کی دیگر رسم ورواج کا تعلق بدعت سے ہے کیوں کہ اس کا قرآن وسنت میں کوئی ثبوت نہیں ہے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں