
زکاۃ کے مال سے مسجد کی تعمیر
سوال : پندرہ سال کی مسلسل جدو جہد کے بعد فن لینڈ کی مجاز اتھارٹی نے اس ملک میں پہلی مسجد بنانے کی اجازت دے دی ہے ، ابھی مسجد کی تعمیر کے سارے مراحل باقی ہیں ۔ پہلا مرحلہ قطعہ زمین کی خرید کا ہے جس پر منظور شدہ پلان / نقشہ کے مطابق مسجد کی تعمیر کی جائے گی اور جس کے لئے پانچ لاکھ یورو درکار ہیں ، پھر تفصیلی نقشوں کے وضع کرنے کے اخراجات ہیں اور اس کے بعد مسجد کی عمارت کی تعمیر کا مرحلہ ہے کہ جس کے لئے کم از کم 8 ملیون ((80)اسَی لاکھ ) یورو کا ہونا ضروری ہے ، یہ مسجد فن لینڈ کا پہلا اسلامی مرکز ہوگا، جس میں ایک مسجد، مدرسہ، دفاتر شامل ہوں گے ، ساتھ ساتھ مسجد کے اخراجات پورا کرنے کے لئے اوقاف کی تعمیر بھی شامل ہوگئی کہ جس کے کرائے یا آمدنی سے اخراجات پورے کئے جاسکیں گے ۔ اب صورتحال یہ ہے کہ یہاں مسلم کمیونٹی کی مالی حالت اچھی نہیں ہے ۔ اکثر لوگ تو حکومتی امداد پر گزارا کر رہے ہیں، اگر کچھ چندہ جمع بھی ہو گیا تو وہ قطعہ زمین کی خرید کے لئے بھی نا کافی ہوگا ۔ ہم تین سال کے اندر اندر تعمیر مکمل کرنے کے بھی پابند ہیں۔
ہمارے علم میں آیا ہے کہ کئی مسلمان کمپنیاں ہمیں زمین کی خرید کے لئے زکاۃ کی رقوم دینے کے لئے آمادہ ہیں، تاکہ ہم کم از کم تعمیر شروع کرنے کے تو قابل ہو سکیں ، ملاحظہ ہو کہ اگر ہم تاجر حضرات سے قرض لیتے ہیں تو ہم اس کی ادائیگی نہیں کر سکتے ۔
اب ہمارا سوال یہ ہے کہ آیا ہم قطعہ زمین کی خرید اور ضروری ابتدائی اخراجات پورا کرنے کے لئے زکاۃ لے سکتے ہیں یا نہیں ، یہ بھی واضح رہے کہ مسجد کمیٹی کے سارے ارکان لله کام کر رہے ہیں ، وہ کسی معاوضہ کے طلبگار نہیں ہیں، سوائے اس کے اللہ تعالیٰ ان کے اس عمل کو قبول فرمائیں ۔
جواب: زکاة کے مصارف سورۃ توبہ کی آیت 60 میں بیان ہوتے ہیں:
﴿إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ وَالْعَامِلِينَ عَلَيْهَا وَالْمُؤَلَّفَةِ قُلُوبُهُمْ وَفِي الرِّقَابِ وَالْغَارِمِينَ وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ وَابْنِ السَّبِيلِ ۖ فَرِيضَةً مِّنَ اللَّهِ ۗ وَاللَّهُ عَلِيمٌ حَكِيمٌ ﴾
’’بے شک صدقات (زكاة وخيرات) فقراء ، مساكين ، زکاۃ کی وصولیابی کے ذمہ دار حضرات اور وہ لوگ جن کی تالیف قلب منظور ہے ، ان سب کے لئے ہے اور گردن چھڑانے کے لئے اور قر ضداروں کے لئے ہے اور (ان کا موں کے لیے) جو اللہ کی راہ میں ہوں اور مسافروں کے لئے ہے ، یہ اللہ کی طرف سے ایک فرض ہے اور اللہ تعالی خوب علم اور حکمت والے ہیں۔‘‘
یہ وہ زکاۃ کے آٹھ مصارف ہیں، جو اس آیت میں ذکر کئے گئے ہیں، جن میں مساجد کا ذکر نہیں ہے اور اسی لیے اس مسئلہ میں کہ آیا زکاۃ کی رقوم سے مساجد کی تعمیر کی جاسکتی ہے ، علماء کے در میان اختلاف واقع ہوا ہے۔
ایک گروہ کی رائے ہے کہ ایسا کرنا نا جائز ہے کیونکہ یہ آیت لفظ ’’انما‘‘ سے شروع ہوتی ہے جو کہ عربی زبان میں حصر کے لئے استعمال ہوتا ہے، یعنی زکاۃ کے مصارف انہی آٹھ چیزوں میں محصور کر دئیے گئے ہیں، اس لئے ان آٹھ مصارف کے علاوہ کسی اور چیز کو مصارف زکاة میں داخل نہیں کیا جاسکتا ۔
دوسری رائے یہ ہے کہ ’’فی سبیل اللہ‘‘ کے تحت اللہ کی راہ میں جہاد کرنے والے داخل ہیں اور وہ بھی جو رزق کی تلاش میں یا طلب علم یا تعلیم کے لئے سرگرداں ہیں۔ جیسا کہ سورۃ البقرۃ کی اس آیت سے واضح ہوتا ہے :
﴿ لِلْفُقَرَاءِ الَّذِينَ أُحْصِرُوا فِي سَبِيلِ اللَّهِ لَا يَسْتَطِيعُونَ ضَرْبًا فِي الْأَرْضِ يَحْسَبُهُمُ الْجَاهِلُ أَغْنِيَاءَ مِنَ التَّعَفُّفِ تَعْرِفُهُم بِسِيمَاهُمْ لَا يَسْأَلُونَ النَّاسَ إِلْحَافًا ۗ وَمَا تُنفِقُوا مِنْ خَيْرٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ ﴾
’’(یہ صدقات) ان فقراء کے لئے میں جواللہ کی راہ میں روک دیئے گئے ، جو زمین میں چل پھر نہیں سکتے ۔ نادان لوگ انہیں اس لئے غنی سمجھتے ہیں کہ وہ سوال کے لئے ہاتھ نہیں پھیلاتے، تم انہیں ان کی پیشانیوں سے پہچان سکتے ہو، وہ لوگوں سے اصرار کرکے نہیں مانگتے، اور جو کچھ مال تم خرچ کرو تو اللہ اسے جاننے والا ہے ۔ ‘‘
اس لحاظ سے ’’فی سبیل اللہ‘‘ کی مد میں بنفس نفیس جہاد کرنے والے اور دعوت دین کا جہاد کرنے والے دونوں داخل ہیں، خاص طور پر دیار غرب میں جہاں مسلمان تعداد اور وسائل کے اعتبار سے کمزور ہیں ، تو وہ مساجد اور اسلامی مراکز کی تعمیر میں زکاۃ کے احوال لگا سکتے ہیں، بشر طیکہ ان کے پاس ذاتی اموال اور تبرعات سے معقول فنڈز نہ جمع ہو سکتے ہوں ۔
ایک تیسری رائے کہ جس کے قائل رشید رضا اور دوسرے علماء بھی ہیں کہ ’’ فی سبیل الله‘‘ کی مد میں خیر کے سارے کام آجاتے ہیں کہ جن میں مساجد اور مدارس کی تعمیر، یتیم خانوں کا قیام اور راستوں اور پلوں کا بنانا بھی آجاتا ہے اور اس مد میں بعض کے نزدیک صرف آٹھواں حصہ اور راجح رائے کے مطابق زکاۃ کی ساری رقم بھی خرچ کی جا سکتی ہے۔
لیکن یہاں ایک بات زیر غور رہنی چاہیے کہ بلاد غرب میں مسجد کی تعمیر کے اخراجات بعض دفعہ لاکھوں ڈالروں کے محتاج ہوتے ہیں، اس لیے اگر ساری کی ساری زکاۃ صرف مساجد اور مراکز کی تعمیر میں لگا دی جائے تو وہ فقراء اور مساکین جو کہ اصل میں زکاۃ کے مستحق ہیں، محرومی کا شکار ہو جائیں گے ، اللہ کے رسول ﷺ نے تو صاف صاف کہا ہے کہ ’’زکاۃ مسلمانوں کے اغنیاء سے لی جائے اور ان کے فقراء پر تقسیم کر دی جائے ۔‘‘
اور اگر امت مسلمہ کی حالت زار کو دیکھا جا تو ایسے لاتعداد لوگ نظر آئیں گے جونان جویں کے مستحق ہیں اور ایسے بھی جو فقر و فاقہ کی انتہائی حدوں کو چُھو رہے ہیں۔ اس لیے ہم فن لینڈ کے درخواست گزاروں سے کہتے ہیں کہ وہ فی الحال اپنے جمع شدہ فنڈز کے علاوہ اتنی زکاۃ اور لے سکتے ہیں کہ جس سے قطعہ زمین خریدا جا سکے اور مکمل مسجد کی تعمیر کے لئے تگ ودو جاری رکھی جائے تاکہ اہل خیر اور جنت میں اپنا مکان بنانے کے خواہشمند لوگ اس کار خیرمیں اپنا حصہ ڈال کر مسجد کی تعمیر کو ممکن بناسکیں، اور ان شاء اللہ ایسا ہونا نا ممکن نہیں ، یورپ کے اکثر بڑے شہروں میں بڑے بڑے مراکز تعمیر ہوئے ہیں کہ جن کے مکمل کرنے میں کئی دولتمند مسلمان ملک یا ان مالدار مخیر حضرات نے حصہ لیا ہے، جو صرف اللہ کی راہ میں خرچ کرنا جانتے ہیں، اپنی شہرت یا ناموری نہیں جانتے ۔ واللہ الموفق
حلال و حرام میں مستعمل دوائی کی تجارت
سوال: میں ایک یورپی ملک میں رہائش رکھتا ہوں اور دو غیر مسلم حضرات کے ساتھ تھ ایک کمپنی میں بحیثیت شریک تجارت کرتا ہوں جو دواؤں اور طبی مرکبات کا کاروبار کرتی ہے، ہمیں ایک دوسری میڈیکل کمپنی کے ایجنٹ کی حیثیت سے کام کرنے کی آفر آئی ہے ۔ یہ کمپنی ’’فیلر‘‘ کے انجکشن تیار کرتی ہے جو چہرے اور گھٹنوں کی سختی کو نرم کرنے کے لئے استعمال ہوتے ہیں ، کیا اس قسم کے انجکشن کی تجارت حلال ہے جو دونوں طرح سے استعمال ہو سکتے ہیں، یعنی چہرے کو کسی مرض کی بنا پر لاحق بدنمائی کو زائل کرنا یا صرف چہرے کو مزید جاذب نظر بنانے کی کوشش کرنا، جیسے ہونٹوں کو پھُلانا یا آنکھ کے نچلے حصے کو بھرنا یا چہرے کو خوش کن بنانا وغیرہ ۔
جواب: یہ مسئلہ ان مسائل میں سے ہے کہ ایک چیز دونوں طرح استعمال کی جاسکتی ہے،حلال کے لئے بھی اور حرام کے لئے بھی ، اس میں یہ اصول کار فرما ہے کہ اگر وہ چیز بذات خود حلال ہو تو اس کی خرید و فروخت جائز ہے، اور ایک دفعہ ایک چیز کو فروخت کر دیا تو اب ذمہ داری خریدنے والے (مشتری) کی طرف منتقل ہو جاتی ہے ، اب اگر وہ اُسے کسی حرام کام میں استعمال کرتا ہے تو وہ خود ذمہ دار ہوگا۔
یہاں پر سوال اٹھایا جاسکتا ہے کہ آیا ایسا کرنا ایک گناہ کے کرنے میں مدد پہنچانے کے مترادف نہیں ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا ارشا د ہے:
﴿وَتَعَاوَنُوا عَلَى الْبِرِّ وَالتَّقْوَىٰ ۖ وَلَا تَعَاوَنُوا عَلَى الْإِثْمِ وَالْعُدْوَانِ﴾ (سورۃ المائدہ: 2)
’’اور نیکی اور تقوی کے کاموں میں ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کرو اور گناہ و سرکشی کے کاموں میں قطعاً تعاون نہ کرو ۔‘‘
یہ بات درست ہے اور ایسی صورتحال سے بچنے کے لئے مناسب ہوگا کہ اگر ظن غالب ہو کہ مشتری اس چیز کو حرام کام کے لئے استعمال کرے گا تو ایسے شخص کو یہ چیز فروخت نہ کی جائے ۔ یہ ایسے ہی ہے کہ فتنہ وفساد کے زمانے میں چھری کانٹے بیچنے والا شخص اُس آدمی کو چھری نہ بیچے جو نظاہر کسی کا خون بہانے کے لئے چھری کی خرید کا ارادہ رکھتا ہو ، اورایسے ہی اس ملبوس کا مسئلہ ہے جو بہت ہی باریک اور حیا سوز ہو کہ جسے گھر کی چار دیواری میں پہنا جائز ہو لیکن اگرگھر سے باہر پہنا جائے تو ممنوع ہو کہ اس میں جاہلیت کا ساتعیش پایا جاتا ہے، اور اسی پر ان ادویہ اور طبی سازوسامان کا قیاس کیا جاسکتا ہے، جن کے بارے میں سوال کیا گیا ہے ۔واللہ اعلم
٭٭٭
مولانا ظفر الحسن المدنی کی برطانیہ آمد
شیخ ظفر الحسن المدنی عالمی داعی وخطیب شارجہ، دبئی۔ حسب سالہائے گزشتہ دعوت وتبلیغ کے لیے برطانیہ پہنچ چکے ہیں اور مختلف مساجد و مراکز میں ان کے پروگرام جاری ہیں۔ مرکزی جمعیہ اہل حدیث برطانیہ کے قائدین وعلما نے انہیں اہلا وسہلا مرحبا کہا ہے۔
دعا ہے کہ اللہ کریم انہیں صحت وعافیت والی لمبی زندگی عطا فرمائے اور بندگان خدا کو ان کی تبلیغ سے فائدہ بخشے۔ آمین
مولانا رانا محمد شفیق خان پسروری کی برطانیہ آمد
مرکزی جمعیہ اہل حدیث پاکستان کے ذمہ دار، خطیب مسجد علامہ احسان الٰہی ظہیر شہید ، مصنف کتب کثیرہ، سابق رکن اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان اور معروف کالم نگار مولانا رانا محمد شفیق خاں پسروری موسم سرما میں کانفرنسوں اور اجتماعات سے خطاب کرنے کے لیےبرطانیہ پہنچ چکے ہیں اور مختلف شہروں میں ان کے پروگرام جاری ہیں۔ ذمہ داران مرکزی جمعیہ اہل حدیث برطانیہ نے انہیں خوش آمدید کہا اور ان کی صحت وعافیت کے لیے اللہ سے دعا کی ہے۔
تبصرہ کریں