سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ۔ پروفیسر سینیٹر ساجد میر

بسم الله الرحمن الر حيم

﴿مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ ۚ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاءُ عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاءُ بَيْنَهُمْ ۖ تَرَاهُمْ رُكَّعًا سُجَّدًا يَبْتَغُونَ فَضْلًا مِّنَ اللَّهِ وَرِضْوَانًا﴾ (سورة محمد: 29)

ہر طرح کی حمد، ہر طرح کا شکر، ہر طرح کی تعریف، عظمت ، بزرگی ، بڑائی اور کبریائی سب اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک خالقِ کل اور عالم کل ہے۔درود و سلام سرور انبیاء کے لیے جو رحمت کائنات اور قیامت تک نبی کائنات ہے ۔ ﷺ۔

گزشتہ خطبہ جمعہ میں ذکر خیر ہوا۔ نبی اکرم ﷺ کے سب سے قریبی، سب سے چہیتے، سب سے عظیم اور سب سے بڑے ساتھی اور صحابی، حضرت ابوبکر کا۔ آج ان شاءاللہ ذکر خیر کریں گے، ایک دوسرے بڑے روشن ستارےکا ، جو مطلع اسلام پر چاند بن کر دمکے اور چمکے اور ابوبکر صدیق کی طرح جن کی تاریخ میں اسلام کے لیے، مسلمانوں کے لیے بے پناہ اور بے حد خدمات ہیں۔ یہ ہیں سیدنا عمر بن خطاب ۔

ان کے بارے میں درست کہا گیا کہ نبی کریم ﷺ کے سوا لاکھ کے قریب صحابی مرید تھے اور یہ واحد صحابی ہیں، جو آپ کی مراد ہیں، یعنی جن کو آپ چاہتے تھے کہ وہ مسلمان ہوں میرے ساتھی بنیں ۔ مکے میں عمر نامی دو شخص تھے۔ عمر کی ایک دوسری صورت عربی میں ہے عمرو۔ اس کے آگے واؤ لکھا جاتا ہے لیکن پڑھا نہیں جاتا، عمر اور عمرو یہ مکہ کی دو بڑی طاقتور اور قوی شخصیتیں تھیں ۔ انہی کے بارے میں نبی کریمﷺ کی خواہش اور دعا تھی:

«اَللهم أيِّدِ الإسْلَامَ بأحدِّ العُمَرينِ» (فضائل الصحابة: 1/405)

کہ یا اللہ! ان دو عمروں میں سے، جن میں سے ایک کا نام عمر ہے اور ایک کا نام عمروہے، ان دو عمروں میں سے ایک مجھے دے دے۔ میرے دین کو دے دے، جو اس دین کا طاقتور محافظ بن سکتا ہے۔قسمت تھی، عمر بن خطاب کی اور بدقسمتی تھی عمرو بن ہشام کی، جو صحابی کی بجائے ابو جہل بنا اور اسی نام سے قیامت تک یاد کیا جائے گا۔

حضرت عمر کی سیرت میں بہت سی قابل توجہ،بڑی عظیم اور اچھی باتیں ہیں۔ مضبوط اور پکا ایمان، اس ایمان کے لیے قربانی کا جذبہ اور اس کے بعد ذاتی طور پر زندگی میں، تقویٰ، زہد، دنیا سے بے رغبتی اور عبادت کا ذوق ، شوق ، پھر تقویٰ، سب سے بڑھ کر اللہ کا ڈر اور تقویٰ، ظاہر و باطن میں رکھنے والے انسان ہیں۔

پھر بطور حکمران بھی انہوں نے کمال احساس ذمہ داری کا ثبوت دیا۔ بہت خوب جذبہ خدمت دکھایا اور پھر ایک فاتح کے طور پہ، جرنیل کے طور پہ، اپنے کمانڈروں کو، مجاہدوں کو بہترین ہدایات دینے میں بھی آپ کا بڑا نام ہے ۔ ایک ایسا زبردست اور بڑا حکمران جو بیس لاکھ مربع میل سے زیادہ پر حکمران تھا اور صرف حکمران نہیں، بلکہ ایک بہترین منتظم، اپنی سلطنت کا بہترین انتظام کرنے والا، اپنی رعایا کا زیادہ سے زیادہ خیال رکھنے والا اور اپنے ماتحت حکمرانوں پر صحیح طرح کنٹرول کرنے والا بھی تھا۔

آپ کی چند خوبیاں ہیں۔ آپ نے حسن انتظام سے اور سلیقے سے کاروبار سلطنت کو چلایا۔ بعض ایسی چیزیں بھی شروع کیں، تاریخ میں پہلے جن کا وجود نہیں تھا۔مثلاً یہ سوشل سیکیورٹی کا نظام، آپ نے بنایا۔ جو آج بھی مغرب میں، یورپ میں اور امریکہ میں فالو کیا جاتا ہے۔ وہ یہ کہ یہ محتاجوں کو، غریبوں کو، بے روزگاروں اور بوڑھوں کو پنشن اور الاؤنس ملے۔ سٹیٹ، ریاست اور ملک ان کا ذمہ دار بنے۔ ان کو بے سہارا اور بے آسرا نہ چھوڑے۔ یہ سارا حضرت عمر کا آئیڈیا تھا۔

سیرت کی پختگی اور مقام کی بلندی کے باوجود تقوی ایسا تھا کہ ساتھ ڈرتے بھی رہے کہ یہ قبول بھی ہوگا یا نہیں۔ اللہ کے سامنے جواب دہی سے چھوٹ پاؤں گا یا نہیں چھوٹ پاؤں گا، یہی فکر آپ پر سوار رہتی تھی۔ کہا کرتے تھے۔

«لَا لِي وَلَا عَلَيَّ» (صحیح مسلم:1823)

مجھے بے شک میری کچھ نیکیوں کا ثواب، ان نیکیوں کا ثواب ملے یا نہ ملے، بس کسی طرح عذاب سے بچ جاؤں۔ کچھ بھی نہ ملے لیکن عذاب سے بچ جاؤں۔ اللہ کی سزا سے، اس کی ناراضگی سے بچ جاؤں، یہی میرے لیے کافی ہے۔

اور تقویٰ کا یہ عالم، اللہ کا ڈر ایسا تھا کہ روتے رہتے تھے۔ کتنا روتے تھے؟ یہ حافظ ابن کثیر﷫ نے لکھا ہے:

” وَكَانَ فِي خَدِّ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ خَطَّانِ أَسْوَدَانِ مِنَ الْبُكَاءِ.” ( صفة الصفوة: 282)

مسلسل روتے رہنے کی وجہ سے رخساروں اور منہ پر نشان بن گئے تھے، چہرے پر نالیاں سی بن گئی تھیں۔ اتنا اللہ کے خوف سے روتے تھے۔

اور اس سے بڑھ کر ایک بات جو تاریخ کی ہے کہ بعض اوقات مسجد میں یا کہیں قرآن پاک کی کوئی آیت، اللہ کا خوف دلانے والی، اللہ کا جلال اور ہیبت والی سنتے تھے تو کیا ہوتا تھا۔ لکھا ہے:

فَيُحْمَلُ صَرِيعًا إِلَى مَنْزِلِهِ، فَيُعَادُ أَيَّامًا لَيْسَ بِهِ مَرَضٌ إِلَّا الْخَوْفُ (البداية والنهاية: 10/ 185)

بے ہوش ہو جاتے تھے، ان کو اٹھا کے گھر لانا پڑتا تھا۔ انہیں کوئی بیماری نہیں تھی۔ بس اللہ کا خوف تھا، جس کی وجہ سے وہ بے ہوش ہو جاتے تھے۔ کتنی بڑی بات ہے۔ آپ کے ایسے بہت سے واقعات ہیں۔ ایک مرتبہ ایک گمنام سی بڑھیا راستے میں ملی۔ نہ وہ آپ کو جانتی ہے، نہ آپ اس کو جانتے ہیں۔ آپ جاننا چاہتے تھے کہ عام لوگوں کا میرے طرز حکمرانی کے بارے میں کیا خیال ہے ، اور عوام کیا سمجھتے ہیں کہ میں کیسا حکمران ہوں، تو اس سے پوچھا کہ عمر کے بارے میں تمہاری کیا رائے ہے؟ اس نے کہا، مجھے کچھ پتہ نہیں، لیکن مجھے اس نے کچھ نہیں دیا، تو میں اس کے بارے میں اچھا خیال کیسے کروں؟ تو آپ نے فرمایا کہ اچھا اگر وہ تمہیں دے، تمہارا حق دے دے، یا جو تم سمجھتی ہو، جو تم چاہتی ہو، وہ تمہیں دے دے تو تم ناراضی دور کر دو گی؟ اس نے کہا ، دے گا تو پھر دیکھیں گے۔ یہ باتیں ہو رہی تھیں کہ آپ کے کچھ ساتھی اتفاق سے موقع پر آگئے۔ حضرت علی ، ابن مسعود اور قریبی ساتھی آ گئے۔ وہ دیکھتے ہی بولے:

جس پر وہ بیچاری گھبرا گئی۔ اچھا، یہ امیرالمؤمنین ہیں، ان سے میں اس طرح باتیں کر رہی ہوں؟ تو آپ نے فرمایا: گھبراؤ نہیں، مجھ سے سودا کرو اور لکھ کر سودا کرو، اگر میں تمہیں راضی کر دوں تو قیامت کے میدان میں تمہارا میرے خلاف کوئی دعویٰ نہیں ہوگا۔ یہ تھا احساسِ ذمہ داری اور یہ تھا تقویٰ اور پھر اللہ کی طرف رجوع، عبادت کا ذوق شوق اور خیال، آخری دم تک رہا، ساری زندگی رہا۔آخری دم ، جب آپ پر قاتلانہ حملہ ہوا، شدید زخمی ہوئے، گیارہ زخم آئے، مسجد میں زمین پر گرے۔ حالت یہ تھی کہ طبیب دوائی ڈالتا تھا مگر وہ زخم کے راستے باہر نکل جاتی تھی۔ کسی چیز کا کوئی فائدہ نظر نہیں آرہا تھا لیکن اس حال میں بھی جبکہ موت قریب تھی، کمزوری تھی، خون نکل رہا تھا، ساتھی نماز کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ وہ ساتھی ایسے تھے کہ وہ نماز کو اس وقت بھی نہیں بھولے تھے۔ وہ کہتے ہیں:

“الصَّلَاةَ يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ.” (مصنف عبد الرزاق: 7013)

امیرالمومنین، آپ کی نماز، رب کی نماز ہے، نماز آپ پوری کریں۔ ہمت نہیں تھی، لیکن زبان سے کہتے ہیں:

“لا حَظَّ فِي الْإِسْلَامِ لمنْ تَرَكَ الصَّلاةِ.” (الإقناع: 690)

تم ٹھیک کہتے ہو، تم بڑے اچھے ساتھی ہو، جو مجھے اس حالت میں بھی نماز یاد دلا رہے ہو۔ اس لیے کہ جو نماز چھوڑ دے، اس کا اسلام سے کوئی تعلق نہیں۔ اس کا اسلام میں کوئی حصہ نہیں ہےاور پھر اسی جذبے کے ساتھ: وقت کے اندر اندر آپ نے لیٹے لیٹے جس حالت میں بھی پڑھ سکتے تھے، نماز پڑھی اور پوری کی۔ مؤرخین کہتے ہیں کہ جماعتِ انبیاء کے علاوہ کوئی شخصیت ایسی نہیں، جس میں اتنا زُہد اور دنیا سے اتنی بے رغبتی ہو ،جیسی کہ حضرت عمر میں تھی، ایک بڑا حکمران ہونے کے باوجود۔

بیت المال سے جس طرح حضرت ابوبکر نے کم از کم لیا تھا، اسی طرح حضرت عمر بھی کم از کم تنخواہ، کم از کم معاوضہ لیتے تھے۔ ہلکا اور عام کھانا تھا آپ کا۔ لباس کیسا تھا؟ تاریخ میں لکھا ہے کہ ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھا کہ منبر پر خطبہ دے رہے ہیں اور لباس کا حال یہ ہے کہ اس میں لوگوں نے گنا کہ بارہ جوڑ یا پیوند لگے ہوئے تھے۔ ٹاکیاں لگی ہوئی تھیں، ٹکڑے لگے ہوئے تھے۔ صحابہ کا ایک وفد آپ کے پاس آیا، تو انہوں نے اس انداز میں بات کی کہ آپ اپنا کھانا پینا ذرا بہتر کر لیں، تو اس سے آپ کو دین پر چلنے، دین پر عمل کرنے میں زیادہ قوت مل جائے گی۔ یعنی دینی انداز سے اچھا کھانے کی ترغیب دی کہ اچھا کھائیں اور اس نیت سے کھائیں کہ میرے بدن میں طاقت آئے اور میں زیادہ اللہ کی عبادت کروں۔ جواب کیا تھا؟ فرمایا:

وَلَكِنِّي تَرَكْتُ صَاحِبَيیَّ عَلَى جَادَّةٍ۔.( تاريخ الخلفاء: 128)

میں نے اپنے دو ساتھیوں کو، یہ کون دو ساتھی تھے؟ اللہ کے رسول ﷺ اور حضرت ابوبکر ، تو میں نے اپنے ان دو ساتھیوں کو ایک راستے پر پایا تھا، ان کا ایک راستہ تھا اور وہ راستہ دنیا سے بے رغبتی کا، اگر میں اسی راستے پر چلتا رہا تو میں ان سے جا ملوں گا۔ اگر میں نے اس راستے کو چھوڑ دیا تو میری منزل گم ہو جائے گی، میرا راستہ گم ہو جائے گا۔

کچھ وقت کے بعد لوگوں نے ایک اور کوشش کی۔ اس مرتبہ انہوں نے حضرت عمر کی صاحبزادی، ام المومنین حضرت حفصہ کو آگے کیا کہ وہ بات کریں۔ اس بار حضرت حفصہ آئیں، انہوں نے کہا: ابا جان ، سب لوگ کہتے ہیں، میں بھی کہتی ہوں کہ آپ نے دنیا کو اپنے آپ پر بہت تنگ کر لیا ہے۔ جب سے آپ خلیفہ ہوئے، آپ نے اپنے اوپر مزید رضاکارانہ پابندیاں لگا لی ہیں، تو ایسا نہ کریں۔

آپ نے فرمایا: مجھے یہ بتاؤ، تم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ رہی ہو، ان کی صحبت میں رہی ہو، ان کا طریقہ کار کیا تھا؟ ان کی زندگی کیسے گزری؟ حضرت حفصہ نے کہا: ان کی زندگی تو زہد و تقویٰ کی مثال تھی۔ ایک بات مجھے یاد آ رہی ہے، ایک دفعہ رات کے وقت میں یہ کیا کہ آپ نے جو چادر زمین پر بچھاتے تھے، کوئی لمبا چوڑا بچھونا نہیں، کوئی گدا نہیں، کوئی فرنیچر نہیں، کوئی Bed نہیں، وہی چادر جو روز بچھتی تھی، میں نے اس کی ایک کی بجائے، اس کی دو تہیں کر دی تھیں، تاکہ آپ ذرا آرام اور سکون سے سو سکیں، اسے تھوڑا موٹا کر دیا۔ آپ کو پتہ نہیں چلا، سو گئے۔ صبح اٹھے تو فرمایا: حفصہ! یہ تم نے میرے نیچے کیا بچھایا ہوا تھا؟ میں نے کہا، یہ وہی چادر تھی جو روز بچھتی ہے، بس میں نے اسے ذرا موٹا کر دیا تھا۔ آپ نے فرمایا: اچھی چادر تھی؟ اس نے مجھے اٹھنے نہیں دیا، میں دیر تک سوتا رہا ۔ تو ایسا مت کرو، جو پہلے طریقہ تھا ، اسے ہی اختیار کرو۔ یہ سن کر سیدنا عمر نے کہا، تو ٹھیک ہے۔ یہی میرا راستہ ہے، یہی نبی کا راستہ تھا، یہی میں اختیار کروں گا۔ دیکھ لو۔ میں جو کر رہا ہوں، وہ غلط نہیں کر رہا، آپ حج کونکلے تو بیت المال سے خرچہ نہیں لیا اور سیرت نگاروں نے لکھا ہے کہ

“وَلَيْسَ لَهُ خَيْمَةٌ وَلَا فُسْطَاطٌ.” (البداية والنهاية: 10/ 184)

آپ کا کوئی خیمہ الگ نہیں تھا۔ آپ کیا کرتے تھے؟ جب سونے کا دن یا رات کے وقت آرام کا وقت آتا تھا۔کسی درخت کے اوپر کوئی چادر یا کپڑا تان دیا جاتا تھا، اس کے نیچے آرام کرتے تھے۔ زمین پر کوئی علیحدہ خیمہ نہیں تھا، کوئی علیحدہ پروٹوکول نہیں تھا۔

اسی لیے ابن کثیر نے لکھا ہے:

“كَانَ خَشنَ الْمَطْعَمِ.” (البداية والنهاية: 10/ 182)

آپ کا کھانا بھی تنگی والا اور سادہ غربت والا اور آپ کی عام اورعمومی زندگی بھی اسی طرح تھی۔ پھر نیک بندہ وہ ہوتا ہے جو دوسرے کی نیکی کی بھی قدر کرے، دوسرے کی نیکی کی بھی اسے پہچان ہو ۔

تاریخ میں واقعہ ہے کہ ایک بار دن کے وقت یا رات کے وقت حضرت عمر گشت کر رہے تھے۔ گشت آپ کی عادت تھی، عادتاً گشت کرتے تھے۔ ایک مکان کے قریب سے گزرے، دو عورتوں کی آوازیں آ رہی تھیں۔ ایک عورت جو آواز میں بڑی لگتی تھی، وہ عمر میں ماں تھی، وہ چھوٹی سے کہہ رہی تھی کہ یہ دودھ جو تم نے دوہا ہے، بکری کا یا جانور کا نکالا ہے جو دودھ، تم اس میں تھوڑا پانی ملاؤ تاکہ یہ زیادہ ہو جائے۔ تو اس نے کہا کہ یہ بات تو اللہ نے منع کی ہے اور ہمارے جو خلیفہ وقت ہیں نا، وہ بھی سختی سے منع کرتے ہیں، اس کے بڑے خلاف ہیں ۔ اس نے کہا عمر کی بات کرتی ہو؟ سویا ہو گا کہیں، آرام کر رہا ہو گا، اسے کیا پتہ کہ تم کیا کر رہی ہو اور میں کیا کر رہی ہوں۔بیٹی نے کہا، اماں جان، اگر خلیفہ نہیں دیکھ رہا تو اللہ تو دیکھ رہا ہے۔ واپس آ کے آپ نے کہا، پتہ کرو، یہ کون لوگ ہیں جو اس گھر میں رہتے ہیں؟ پتہ کیا اور بیٹے کے لیے اس لڑکی کے لیے پیغام دیا کہ ایسی نیک لڑکی میرے گھر میں ہونی چاہیے اور یہی وہ لڑکی ہے، جو بعد میں عمر ثانی، عمر بن عبدالعزیز، جو بہت بعد میں ہوئے، لیکن ان کا شمار بھی خلفائے راشدین میں کیا جاتا ہے، اس کی نانی بنی۔ فاطمہ اس کا نام تھا۔

فاطمہ نامی یہ لڑکی، یہ عمر بن عبد العزیز کی نانی بنی۔ پتہ چلا نیکی آپ میں خود میں بھی ہے اور نیکی کی قدر بھی ہے۔ یہ ہے اصل بات۔ ان ساری باتوں کے باوجود تواضع، عاجزی، تکبر سے بچنا، اپنے آپ کو چھوٹا سمجھنا، جیسے نبی کریم ﷺ کی دعا ہوتی تھی:

«اللَّهُمَّ اجْعَلْنِي فِي عَيْنِي صَغِيرًا، وَفِي أَعْيُنِ النَّاسِ كَبِيرًا.» (مسند بزار:10/315)

یا اللہ! لوگ بے شک مجھے بڑا سمجھتے رہیں، میں اپنی آنکھوں سے اپنے آپ کو دیکھوں تو اپنے آپ کو چھوٹا سمجھوں، بڑا نہ سمجھوں، یعنی میرے اندر تکبر نہ ہو، بڑائی والی بات نہ ہو۔اللہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يُحِبُّ كُلَّ مُخْتَالٍ فَخُورٍ﴾ (سورة لقمان: 18)

اللہ تعالیٰ شیخی باز اور گھمنڈ کرنے والے کو پسند نہیں کرتا۔ وہ جو گھمنڈ کرتا ہے، غرور کرتا ہے اپنی بڑائی پر، اپنے مال پر، جان پر، کسی چیز پر۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا :

﴿وَلَا تَمْشِ فِي الْأَرْضِ مَرَحًا﴾ (سورة لقمان: 18)

’’زمین پر اکڑ کے مت چلو۔‘‘

اس طرح کی ہدایات قرآن نے دیں تو ان پر عمل صحابہ نے کیا اور اسی طرح حضرت عمر كو ایک مرتبہ لوگوں نے دیکھا کہ آپ پانی کی مشک اٹھا کے لے کے جا رہے ہیں۔ کسی نے کہہ دیا کہ آپ کو اس کی کیا ضرورت پیش آئی ؟ کسی کو حکم دے دیتے، وہ اٹھا لیتا۔ فرمایا:

إِنِّي خَلَوْتُ؛ فَحَدَّثَتْنِي نفسي؛ قال: أَنْتَ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ؛ فَمَنْ ذَا أَفْضَلُ مِنْكَ؟ فَأَرَدْتُ أَنْ أُعَرِّفَهَا نَفْسَهَا.” (المجالسة وجواهر العلم: 4/466)

میرے نفس نے مجھ کو خراب کرنے، گمراہ کرنے کی، یعنی تکبر کے راستے پر لانے کی کوشش کی۔ دل میں آیا تھا میں کتنا بڑا ہوں، کتنا بڑا حکمران ہوں، کتنی بڑی میری سلطنت ہے، کتنی بڑی میری طاقت ہے۔تو اس لیے میں نے ارادہ کیا کہ اپنے نفس کو ذرا ذلیل کروں، اس کو ذرا نیچے لے کے آؤں اور عام آدمی کی طرح مشک پانی کی اٹھا کے، سب لوگوں کے سامنے اپنے آپ کو ذلیل کروں، چھوٹا بنوں۔ اسی طرح ایک مرتبہ منبر پر تشریف لائے اور جتنے بھی لوگ بیٹھے تھے ان کے سامنے صرف دو تین جملے کہے ۔ آپ نے فرمایا: ’’ میں وہ عمر ہوں جو چھوٹی عمر میں اونٹ چرایا کرتا تھا۔ تھوڑی سی مزدوری ملتی تھی اور تھوڑی بہت غفلت ہوتی تھی تو باپ سے مار بھی بہت پڑتی تھی۔ میں وہی عمر ہوں۔‘‘

یہ کہہ کے نیچے اتر گئے۔ لوگوں نے کہا، یہ کیسی بات ہے؟ بس آج اتنا ہی وعظ ہو گا؟ آپ نے فرمایا، یہ بات اصل میں تمہارے لیے نہیں، میرے لیے ہے۔ اپنے لیے میں نے کیا ہے۔ وہی بات کہ دل میں آ گیا کہ میں بہت بڑا ہوں، میری سلطنت بڑی ہے، میری طاقت بڑی ہے۔ تو اس لیے میں نے کہا، ذرا لیول ہو جائے کام اپنے آپ کو پبلک میں یاد دلا دوں کہ میں کیا تھا؟ اور اللہ نے مجھے کیا بنا دیا۔

بیت المقدس کا سفر آپ کا مشہور ہے۔ وہاں کے لوگوں نے، عیسائیوں نے کہا، مسلمانو! تم ہم سے لڑنے کے لیے آئے ہو، جہاد کے لیے، تو خونریزی کا کیا فائدہ؟ ہم ہتھیار ڈال دیں گے، شہر کی چابیاں تمہیں دینے کے لیے تیار ہیں، لیکن تمہیں نہیں دیں گے۔ اپنے خلیفہ کو بلاؤ، اس کے حوالے کریں گے، تو آپ کو کہا گیا، آپ نے کہا ٹھیک ہے، خونریزی سے بچنا چاہیے، ہمارے لوگوں کا خون بھی نہ بہے، ان کا بھی نہیں ۔ تو سفر آپ کا بیت المقدس کا کیا تھا؟ ایک اونٹ ہے، اس پر آپ ہیں اور ایک آپ کا خادم ہے اور دورانِ سفر اونٹ کا بھی خیال رکھ رہے ہیں، کچھ فاصلے تک خود سوار ہوتے ہیں، کچھ فاصلے تک خادم کو سوار کرتے ہیں۔

شہر کے قریب پہنچے تو اتفاق سے خادم کی باری تھی۔ اس نے کہا، جی اب میں سوار نہیں ہونا چاہتا، اب لوگ آپ کو دیکھیں گے پیدل چلتے ہوئے، کیا سمجھیں گے؟ آپ نے فرمایا، نہیں، باری باری ہے، یہ تمہاری باری ہے، میری باری نہیں۔ تم بیٹھو، میں پیدل چلوں گا۔

اللہ کا کرنا کیا ہوا؟ جو بڑے بڑے پادری تھے، جو بڑے بڑے راہب تھے، کتابوں کے عالم تھے، انہوں نے کہا کہ ہماری کتابوں میں یہی پیش گوئی لکھی ہے کہ اس شہر کو ایک بندہ فتح کرے گا اور وہ بندہ ایسا ہو گا جو پیدل چل کر بیت المقدس آ رہا ہو گا۔ انہوں نے ہتھیار ڈال دیئے، چابیاں آپ کے حوالے کر دیں۔ یہ آپ کی سادگی تھی، یہ آپ کی تواضع تھی۔

لیکن اس کے ساتھ ساتھ احساسِ فرض اور خدمت خلق کا جذبہ بھی تھا۔ خدمت خلق کے جذبے کے تحت ہی آپ رات کے وقت گشت کرتے تھے۔

ایک ساتھی، طلحہ بن عبداللہ، کہتے ہیں کہ میں نے دو چار پانچ مرتبہ دیکھا کہ صبح ابھی تاریکی ہوتی، عمر فجر کے فوراً بعد، ایک گھر میں جاتے ہیں، کچھ دیر وہاں رہتے ہیں اور پھر نکل آتے ہیں۔ مجھے تجسس ہوا۔ پھر میں نے پتہ کیا، اندر گیا، تو دیکھا کہ ایک بوڑھی عورت اکیلی وہاں رہتی تھی۔ اس سے پوچھا، صبح صبح کوئی بندہ آتا ہے؟ اس نے کہا، ہاں آتا ہے، پوچھا کیا کرتا ہے؟ اس نے کہا، کہ میرے چھوٹے موٹے کام گھر کے کرتا ہے، صفائی کرتا ہے۔ اور اس نے کہا کہ

“وَيُخْرِجُ عَنِّي الْأَذَى.” (حلية الأولياء: 1/ 47)

’’ میری جو گندگی ہے، وہ بھی اٹھا کے باہر پھینکتا ہے۔‘‘

طلحہ بن عبداللہ کہتے ہیں، مجھے بڑی ندامت ہوئی، اپنے آپ پر افسوس ہوا ، میں نے ایسے شخص کا تجسس کیا۔ میں نے اپنے آپ کو کہا:”ثَكِلَتْكَ أُمُّكَ يَا طَلْحَةُ.” (حلية الأولياء: 1/47)

تیری ماں تجھے گم پائے ۔ یہ اس وقت کہتے ہیں جب کہنا ہو ، تیرا ستیا ناس ہو کہ تونے اتنی اچھی شخصیت کے متعلق کیا سوچا اور کیوں سوچا ۔ ان تمام اچھائیوں ، عظمتوں کی وجہ سے رسول اکرمﷺ آپ کی قدر بھی بہت کرتے تھے اور اللہ تعالیٰ کے نزدیک بھی یقینا آپ کی قدر ہے ۔ آپ نے یہاں تک فرمایا :

«لَوْ كَانَ نَبِيٌّ بَعْدِي لَكَانَ عُمَر بْن الخَطَّابِ» (جامع ترمذی:3686)

عمر میں وہ صلاحیتیں ہیں کہ جو نبی میں ہوتی ہیں ۔ اگر میرے بعد کوئی نبی ہونا ہوتا تو وہ عمر ہوتا۔ میرے بعد تو کوئی نبی نہیں ، اگر ہوتا تو عمر ہوتا، یہ آپ کا مقام ہے، رسول اکرمﷺ کے نزدیک اور اسی طرح آپ نے فرمایا :

جب مجھے معراج کے لئے لے جایا گیا ، جنت کی سیر کرائی گئی ، تو میں نے ایک محل دیکھا، جو دیکھنے میں باہر سے ہی بڑا شاندار تھا ، تو میں نے سوچا کہ یہ کسی عام بندے کا محل نہیں ، یہ کسی نبی کا محل لگتا ہے کہ یہ میرا ہی ہو ، تو باہر سے ایسا ہے، اندر سے دیکھنا چاہئے کہ کیسا ہے ، میں جانے لگا تو فرشتے نے کہا، جناب یہ محل آپ کا نہیں ہے، آپ کے ساتھی عمر کا ہے۔ آپﷺ نے ارشاد فرمایا:

’’عمر مجھے تیری غیرت یاد آ گئی ، تیری اجازت کے بغیر میں تیرے گھر میں داخل نہ ہوا کہ کہیں عمر ناراض ہی نہ ہو جائے ۔‘‘(صحيح الجامع:3364)

حضرت عمر کی آنکھوں میں آنسو آگئے ، اور فرمایا : آپ چلے جاتے تو کون سی بات تھی ۔ یہ اللہ کے نزدیک بھی آپ کا مقام ہے، صحابہ کہتے ہیں کہ ہم دو بندوں کو ہمیشہ آپ کے دائیں بائیں دیکھتے تھے ، جن کو شیخین کہا جاتا ہے ، ابو بکر اور عمر ۔

تو یہ حضرت عمر کی سیرت کے چند پہلو ہیں جو ان کی عظمت کو ظاہر کرتے ہیں ، اور ہمارے لئے بھی رہنما ہیں ۔

تبصرہ کریں