
خواتین جنت کی سردار
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا کے بطن سے رسول اکرم ﷺ کی سب سے چھوٹی اور سب سے زیادہ پیاری بیٹی تھیں ۔ ( صحیح بخاری)
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاجب آپ کے پاس تشریف لاتیں تو آپ ﷺ کھڑےہو جاتے ، بیٹی کا ماتھا چومتے اور انہیں اپنی جگہ بٹھا کر خود دوسری جگہ تشریف رکھتے۔ (اسلامی تعلیم از مولانا عبد السلام بستوی)
آپ ﷺ جب سفر پر روانہ ہوتے تو سب سے آخر میں اس بیٹی سے مل کر رخصت ہوتے اور جب سفر سے واپس تشریف لاتے تو سب سے پہلے ان ہی سے ملاقات فرماتے۔ (المرتضیٰ مصنفہ مولا نا ابو الحسن علی ندوی)
آپ ﷺنے ارشاد فرمایا کہ فاطمہ میرے جسم کا ٹکڑا ہے، لہٰذا جو اسے ناراض کرے گا وہ مجھے ناراض کرے گا۔ ( صحیح بخاری ؛ صحیح مسلم)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہافرماتی ہیں کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہااپنی بات چیت اور اندازِ گفتگو میں رسول اکرم ﷺسے بہت زیادہ مشابہت رکھتی تھیں ۔ (الاستیعاب)
ایک بار حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہابیمار ہو ئیں تو رسول اکرمﷺ نے عیادت کے لیے تشریف لے گئے اور بیٹی سے خیریت دریافت فرمائی، بیٹی نے اپنی تنگدستی کا شکوہ کیا ، رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ ’’جان پدر! کیا تم اس بات پر خوش نہیں ہو کہ تم دنیا جہان کی تمام عورتوں کی سردار ہو، فاطمہ رضی اللہ عنہانے کہا کہ ابا جان! تو پھر حضرت مریم علیہا السلام کا کیا بنے گا، کیونکہ یہ اعزاز تو ان کا ہے، اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ حضرت مریم علیہا السلام اپنے زمانے کی خواتین کی سردار تھیں اور تم اپنے زمانے کی سردار ہو۔‘‘ (رحمتہ اللعالمین مصنفہ: قاضی سلیمان سلمان منصور پوری )
ایک موقع پر آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ ”تمام دنیا کی عورتوں کی اقتداء کے لیے حضرت مریم علیہا السلام، حضرت آسیہ علیہا السلام، حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہااور حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکافی ہیں ۔‘‘ (جامع ترمذی)
ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے پوچھا گیا کہ آپ ﷺ کو سب سے زیادہ محبوب کون تھے ؟ تو انہوں نے کہا کہ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا۔(جامع ترمذی)
حضور نبی کریم ﷺجیسے اپنی بیٹی فاطمہ رضی اللہ عنہاسے محبت فرماتے تھے ۔ حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہابھی اسی طرح اپنے والد ماجد آنحضرت ﷺ سے محبت کرتیں اور ان کی خدمت کرنے کو سعادت سمجھتیں۔
مشہور واقعہ ہے کہ مکہ میں آنحضرت ﷺ نماز پڑھ رہے تھے کہ ایک بد بخت عقبہ بن ابی معیط کو شرارت سوجھی، اس نے آپ ﷺ کی گردن مبارک پر اونٹ کی اوجھڑی لا کر ڈال دی اور دشمن اس منظر کو دیکھ کر خوشی سے پھولے نہ سمارہے تھے، اتنے میں کسی نے بی بی فاطمہ رضی اللہ عنہاکو خبر کردی، اگر چہ کہ وہ کم عمر بچی تھیں مگر جوشِ محبت میں فوراً آئیں اور اس اوجھڑی کونکال پھینکا اور عقبہ کیلئے بد دعافرمائی۔ (صحیح بخاری)
نبیﷺ نے اپنے مرض الموت میں حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکو اپنے پاس بلایا اور ان کے کان میں کچھ فرمایا تو وہ رو پڑیں ، پھر آپ ﷺنے ان کے کان میں کچھ فرمایا، تو وہ ہنس دیں۔
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہانے دریافت فرمایا کہ یہ کیا ماجرا ہے؟
حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ یہ راز کی بات ہے۔ ابھی نہیں بتاؤں گی، آپ ﷺ کے وصال کے بعد فاطمہ رضی اللہ عنہانے بتایا کہ پہلے آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ میں اس مرض میں وفات پا جاؤں گا، تو یہ سن کر میں رونے لگی، پھر آپ ﷺ نے فرمایا کہ
میرے اہل بیت میں سب سے پہلے تم ہی مجھ سے ملو گی تو میں یہ سن کر خوشی کے مارے ہنسنے لگی۔ (صحیح بخاری )
ایک مرتبہ آپﷺ نے غزوہ تبوک سے واپس ہوئے اور حسب معمول مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد سب سے پہلے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہاکے گھر تشریف لائے تو آپ ﷺ نے ان کے گھر کے دروازے پر ایک قیمتی پردہ ملاحظہ فرمایا، پتہ چلا کہ معمول سے ہٹ کر فاطمہ رضی اللہ عنہانے کچھ قیمتی لباس بھی زیب تن فرمایا ہے، آپ ﷺ فوراًوہاں سے واپس ہو گئے اور مسجد میں جا کر بیٹھ گئے، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا کہ ابا جان میرے گھر کے دروازے سے پلٹ گئے ہیں تو وہ بہت پریشان ہو ئیں اور فورا حضرت بلال رضی اللہ عنہ کو آپ ﷺ کی خدمت میں بھیجا، پتہ چلا کہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہانے گھر کا پردہ چاک کردیا اور اپنا قیمتی لباس تبدیل کر کے سیدھا سادہ لباس زیب تن فرمایا ہے ، تب آپ ﷺ اپنی بیٹی کے گھر میں تشریف لائے اور تکلفات سے بچ کر سیدھی سادھی زندگی بسر کرنے کی تلقین فرمائی۔ (صحیح بخاری)
اپنی بیٹی ، داماد اور نواسوں سے بہت زیادہ محبت کے باوجود اللہ کے نبی ﷺ کو یہ بات پسند تھی کہ وہ پُر مشقت اور سادھی زندگی بسر کریں، کبھی مال و دولت کی تقسیم عمل میں آتی تو دوسرے لوگوں کو اہل بیت پر ترجیح دیتے ، حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ چکی پیستے پیستے فاطمہ رضی اللہ عنہاکے ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے تھے، گھر میں جھاڑو دیتے دیتے کپڑے میلے ہو جاتے تھے اور چولہے کے پاس بیٹھ کر پکانے سے دھوئیں کی وجہ سے کپڑے سیاہ ہو جاتے تھے، انہیں دنوں میں حضور ﷺنے کے پاس کچھ خادم آئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جاؤ اور کوئی خادمہ اپنے لیے بھی مانگ لاؤ تا کہ تم اس مشقت سے بچ جاؤ، یہ کہنے پر فاطمہ رضی اللہ عنہاآپ کے پاس پہنچیں مگر لوگوں کا اژدھام دیکھ کر واپس چلی آئیں، دوسرے دن حضورﷺ نے فاطمہ رضی اللہ عنہاکے گھر تشریف لے گئے اور آنے کی وجہ دریافت فرمائی ؟
فاطمہ رضی اللہ عنہاچپ ہو گئیں، مگر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے سارا حال سنایا، آپﷺ نے فرمایا کہ
اللہ سے ڈرو اور اس کے فرائض ادا کرو اور اپنے گھر کے کاموں کو بجالا ؤ اور جب بستر پر آرام کرنے کے لیے جاؤ تو 33بار سبحان اللہ ، 33بار الحمد للہ اور 34 بار اللہ اکبر کہہ لیا کرو، یہ تمہارے لیے کسی خادم یا خادمہ سے بہتر ہے، آپﷺ نے انہیں کوئی خادم یا خادمہ نہیں دیا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے فرمایا کہ میں اللہ اور اس کے رسول ﷺ پر خوش ہوں ۔ ( صحیح بخاری ؛ صحیح مسلم)
ایک مرتبہ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو سونے کا ہار دیا، اللہ کے رسول ﷺ کو معلوم ہوا تو آپ ﷺ نے ناراضگی کا اظہار فرمایا، حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہانے اس کو بیچ کر ایک غلام خریدا اور راہ خدا میں آزاد کر دیا ۔ (سنن نسائی)
ایک سفر سے آپ ﷺ واپس تشریف لائے تو گھر کے دروازے پر آپ کے استقبال کے لیے لگایا گیا پردہ ملاحظہ فرمایا اور حسن رضی اللہ عنہ اور حسین رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں میں چاندی کے کنگن ، آپ ﷺناراض ہو کر واپس ہو گئے ، فاطمہ رضی اللہ عنہا کو معلوم ہوا تو دروازے پر سے پردہ ہٹادیا اور بچوں کے ہاتھوں سے کنگن نکال دیئے ، بچے روتے ہوئے آپﷺ کے پاس پہنچے تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ میں نہیں چاہتا کہ میرے اہل بیت زیورات سے آلودہ ہوں، آپ ﷺ نے فرمایا کہ اس کے بدلے فاطمہ رضی اللہ عنہا کے لیے کھجور کے پتوں سے بنا ہوا ہار اور ہاتھی دانت کے کنگن خرید لو۔ (سنن ابوداؤد)
سرکار کائناتﷺ نے اپنی چہیتی بیٹی کے رشتہ کے لیے حضرت علی رضی اللہ عنہ کا انتخاب خالصۃً ان کی دینداری ، زہد و ورع اور حسن اخلاق کے پیش نظر فرمایا، ورنہ مالدار صحابہ کرام کی کوئی کمی نہیں تھی ، جو اس شرف سے مشرف ہونے کو اپنی سعادت مندی سمجھتے تھے۔
حضرت علیؓ کے پاس ایک زرہ ، بھیڑ کی ایک کھال اور ایک پرانی چادر تھی اور یہی ان کی کل دنیوی پونجی تھی، چونکہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کی کفالت بھی حضور ﷺ فرماتے تھے ، اس کے لیے شادی کے بعد نیا گھر بسانے کے لیے چند چیزوں کی ضرورت تھی، اس لیے سرور دو عالمﷺنے اپنی بیٹی کے جہیز میں ایک چار پائی، کھجور کے پتوں سے بھرا ہوا چمڑے کا ایک گدا ، مٹی کے دو گھڑے، ایک مشک اور دو چکیاں عطا فرمائیں۔ ان میں سے کوئی چیز بھی آرائش و زیبائش اور ڈیکوریشن کے لیے نہ تھی، بلکہ یہ ساری چیزیں گھریلو استعمال کی تھیں، جو زندگی بھر روزانہ استعمال میں آتی رہیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس رہائش کے لیے کوئی امکان بھی نہیں تھا، شادی کے بعد ایک مکان کی ضرورت پیش آئی ، صحابی رسول ﷺ حضرت حارثہ بن نعمان انصاری رضی اللہ عنہ کو معلوم ہوا تو انہوں نے اپنا ایک مکان ان کی خدمت میں پیش فرمادیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ و فاطمہ رضی اللہ عنہا اسی مکان میں رہنے لگے۔ (سیر الصحابیات)
میاں بیوی میں اختلاف کا پیدا ہو جانا کوئی تعجب خیز بات نہیں ہے، چنانچہ کبھی کبھار حضرت علی رضی اللہ عنہ اور فاطمہ رضی اللہ عنہا میں بھی کچھ رنجش پیدا ہو جاتی، حضور ﷺ کو پتہ چلتا تو آپ ﷺ بڑی خوش اسلوبی کے ساتھ ان کے درمیان مصالحت فرما دیتے۔
حضور نبی کریم ﷺ کی وفات کے وقت آپ ﷺ کی اولاد میں صرف یہی ایک بقید حیات تھیں، اس لیے انہی کو آپ ﷺ کی جدائی کا زیادہ صدمہ ہوا۔ بلکہ آپ ﷺ کی تدفین کے بعد جب صحابہ کرام واپس تشریف لائے تو حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا نے رنج و غم کے عالم میں کہا کہ
اے انس رضی اللہ عنہ کس طرح تم سے رسول اللہ ﷺ پر مٹی ڈالی گئی۔ (صحیح بخاری)
سنہ ولادت میں مختلف روایات وارد ہیں، جن کی وجہ سے حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا کی عمر شریف کے تعلق سے بھی مختلف آراء ہیں، مشہور روایت کے مطابق رسول اللہ ﷺ کی وفات کے صرف 6 ماہ بعد 29 سال کی عمر پا کرشنبہ(ہفتہ) کی شب 3؍ رمضان المبارک سنہ 11 ہجری کو اس دنیا سے رحلت فرما گئیں۔ اناللہ وانا الیہ راجعون
حضرت فاطمہ چونکہ شرم و حیاء کی پیکر تھیں، اس لیے انہیں کی وصیت کے مطابق حضرت علی رضی اللہ عنہ نے ان کو غسل دیا اور رات ہی میں تدفین عمل میں آئی۔ (الاستیعاب)
اور جنازہ کے اطراف چھوٹی چھوٹی لکڑیاں لگا کر اوپر چادر ڈالنے کا رواج بھی ان ہی کی فرمائش پر شروع ہوا تا کہ میت کا ڈیل ڈول ظاہر نہ ہو سکے۔ (اسد الغابہ)
آپ کے مدفن کے تعلق سے بھی اختلاف ہے، اکثر مؤرخین کا خیال ہے کہ آپ کی قبر مبارک جنت البقیع میں ہے۔ (خلاصتہ الوفاء)
آپ کی اولاد میں حضرت حسن ، حضرت حسین ، حضرت ام کلثوم، حضرت زینب محسن اور حضرت رقیہ رضی اللہ عنہم چھ نام ذکر کئے گئے ہیں مگر اول الذکر چار اسمائے گرامی مشہور عالم ہیں۔
آنحضرت ﷺ کی اولاد نرینہ تو بچپن ہی میں وفات پا گئی تھیں اور آپ کی صاحبزادیوں میں بھی اللہ تعالیٰ نے صرف حضرت فاطمہ کو یہ شرف و اعزاز بخشا ہے کہ ان ہی سے آپ ﷺکی نسل کا سلسلہ چہار دانگ عالم میں پھیل گیا۔
٭٭٭
حقیقت خرافات میں کھو گئی !
اسلام ایک مکمل ضابطہ حیات ہے جو ضلالت و جہالت سے مبرا اور دلائل و براہین سے آراستہ ہے، اسلام کے تمام احکام پایۂ تکمیل کو پہنچ چکے ہیں۔اور اس دین مبین میں خرافات وبدعات کے لیے کوئی جگہ نہیں۔ اب کوئی نام نہاد عالم دین، مفتی یا محدث ایسا نہیں جو اس دین مبین اور صاف و شفاف چشمے میں بدعات وخرافات کا زہر ملائے لیکن افسوس ہے کہ شیطان اور اس کے پیروکاروں نے اس دین صافی کو ضلالت و جہالت سے خلط ملط کرنے اور خرافات سے داغ دار کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی۔
دیگر مہینوں کی طرح ماہِ صفر میں بھی کچھ جاہلانہ رسومات ادا کی جاتی ہیں۔ صفر کا مہینہ اسلامی مہینوں کی لڑی کا دوسرا موتی ہے۔ اس مہینے کے بارے غلط باتوں کو ختم کرنے کے لیے اسے ‘صفر المظفر’ کہا جاتا ہے۔
صفر کے متعلق قدیم خیالات
قبل از اسلام اہل جاہلیت ماہِ صفر کو منحوس خیال کرتے اور اس میں سفر کرنے کو برا سمجھتے تھے، اسی طرح دورِ جاہلیت میں ماہِ محرم میں جنگ و قتال کو حرام خیال کیا جاتا تھا اور یہ حرمت ِ قتال ماہ صفر تک برقرار رہتی لیکن جب صفر کا مہینا شروع ہو جاتا، جنگ و جدال دوبارہ شروع ہو جاتے لہٰذا یہ مہینہ منحوس سمجھا جاتا تھا۔ عرب کے لوگ ماہ صفر کے بارے عجیب عجیب خیالات رکھتے تھے۔
شیخ علیم الدین سخاوی نے اپنی کتاب ‘المشهور في أسماء الأیام والشهور’ میں لکھا ہے:
’’صفر کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ اس مہینے میں عموماً اُن کے (اہل عرب) گھر خالی رہتے تھے اور وہ لڑائی بھڑائی اور سفر میں چل دیتے تھے، جب مکان خالی ہوجاتے تو عرب کہتے تھے: صَفَرَ المَکَانُ ”مکان خالی ہوگیا۔‘‘
الغرض آج کے اس پڑھے لکھے معاشرے میں بھی عوام الناس ماہِ صفر کے بارے جہالت اور دین سے دوری کے سبب ایسے ایسے توہمات کا شکار ہیں جن کا دین اسلام سے دور کا بھی واسطہ نہیں۔ یہ اسی قدیم جاہلیت وجہالت کا نتیجہ ہے کہ متعدد صدیاں گزرنے کے باوجود آج بھی عوام الناس میں وہی زمانۂ جاہلیت جیسی خرافات موجود ہیں۔
صفر کے متعلق جدید خیالات
برصغیر کے مسلمانوں کا ایک طبقہ صفر کے مہینے کو منحوس سمجھتاہے۔ اس مہینے میں توہم پرست لوگ شادی کرنے کو نحوست کا باعث قرار دیتے ہیں۔ فی زمانہ لوگ اس مہینے سے بدشگونی لیتے ہیں اور اس کو خیر و برکت سے خالی سمجھا جاتا ہے۔ اس میں کسی کام مثلاً کاروبار وغیرہ کی ابتدا نہیں کرتے، لڑکیوں کو رخصت نہیں کرتے۔ اس قسم کے اور بھی کئی کام ہیں جنہیں کرنے سے پرہیز کرتے ہیں۔ ان لوگوں کا اعتقاد ہوتا ہے کہ ہر وہ کام جو اس مہینے میں شروع کیا جاتا ہے وہ منحوس یعنی خیر و برکت سے خالی ہوتا ہے۔
٭٭٭
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا :
«مَنْ أَرْجَعَتْهُ الطِّیَرَةُ عَنْ حَاجَتِهِ، فَقَدْ أَشْرَكَ ، قَالُوا: وَمَا کَفَّارَةُ ذَلِكَ یَا رَسُولَ اللہ؟ قَالَ یَقُولُ أَحَدُهُمُ:
«اللَّهُمَّ لَا طَیْرَ إِلَّا طَیْرُكَ، وَلَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَیْرُك»
’’جس شخص کو بد شگونی اس کی حاجت ( کو پورا کرنے ) سے روک دے تو اس نے شرک کیا ۔ صحابہ کرام نے عرض کیا
: یا رسول اللہ ﷺ ! اس کا کفارہ کیاہے ؟
تو آپ ﷺنے فرمایا : وہ یہ دعا پڑھ لے :
«اللَّهُمَّ لَا طَیْرَ إِلَّا طَیْرُكَ، وَلَا خَیْرَ إِلَّا خَیْرُكَ، وَلَا إِلَهَ غَیْرُك»
” اے اللہ ! تیری بدشگونی (جو کہ تیرے ہی حکم سے ہوتی ہے ،اس)کے علاوہ کوئی بدشگونی نہیں ہے اور تیری بھلائی کے علاوہ کوئی بھلائی نہیں ہے اور تیرے علاوہ کوئی (سچا) معبود نہیں ہے۔‘‘
(مسند احمد: 11؍623 ؛ حدیث نمبر:7045 )
تبصرہ کریں