
بسم الله الرحمن الرحيم
الحمد للہ، رب العالمین حمد و صلاح، شکر و تعریف اور عظمت و بزرگی سب اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک، خالق کُل اور عالم کل ہے۔ درود و سلام اور صلوۃ و تسلیم سرور انبیاء کے لیے جو امام کل اور رحمت کل ہیں، تاریخ اپنے آپ کو دہراتی رہتی ہے۔ آدم کے دو بیٹوں میں جھگڑا ہوا ، ایک نے دوسرے کو قتل کیا۔ قتل ہونے والے نے پہلے ہی کہہ دیا تھا کہ تم میری طرف اپنا دست قتل آگے کرو یا بڑھاؤ بھی تو میں اپنا ہاتھ تمہیں جوابی طور پر مارنے کے لیے آگے نہیں کروں گا۔ اس لیے کہ میں رب العالمین سے ڈرتا ہوں کہ میرے ہاتھ سے کوئی انسانی جان نہ جائے، ضائع نہ ہو۔ حضرت عثمان کی سیرت گزشتہ دفعہ بیان کی تھی۔ آج بات کریں گے ان کی مظلومانہ شہادت کی، جو قرآن کے اسی بیان کی تصویر اور عکاسی کرتی ہے کہ ظالموں نے اپنے ہاتھ ان پر ظلم کے لیے، ان کے قتل کے لیے ان کی شہادت کے لیےآگے بڑھائے، لیکن انہوں نے اپنے ہاتھ کو روکے رکھا۔ حتی کہ اپنے حامیوں اور اپنے دوستوں کے ہاتھوں کو بھی روکا کہ کوئی کسی مسلمان کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین نہیں کرے گا۔ حیرت ہوتی ہے، آج انسان سوچتا ہے تو حیران ہوتا ہے کہ نبی کریم ﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے تھوڑا ہی عرصہ بعد 30، 35 سال بعد آخر کیا ہوا کہ قرآن کے ماننے والوں نے، قرآن کو جمع کر کے ساری دنیا میں پھیلانے والے کو قرآن پڑھتے ہوئے شہید کیا۔ وجہ کیا تھی؟ وجوہات کئی ہیں، ایک بات تو یہ ہے کہ عربوں کی پرانی قبائلی عداوتیں اور دشمنیاں، جن کو رسول اکرم ﷺ نے اللہ کی توفیق سے ختم کیا تھا، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے، ہماری قدرت ہے کہ ہم نے ان کے دلوں کو ملا دیا، ٹھیک ہے، مل گئے تھے مگر بہت سے لوگوں میں وہ عداوتیں وہ چیزیں مکمل ختم نہیں ہوئی تھیں، دب دب گئی تھیں، دبی ہوئی موجود تھیں، کچھ عرصے کے بعد وہ قبائلی کدورتیں، عداوتیں، دشمنیاں اور مقابلہ بازیاں یہ چیزیں پھر کچھ نہ کچھ باہر آنا شروع ہوگئیں۔
دوسری بات بہت سے لوگ نَو مسلم تھے۔ ان کی تربیت حضور اکرم ﷺ کے ہاتھوں یا صحابہ کے ہاتھوں نہیں ہوئی تھی یا کم ہوئی تھی اور پھر یہ بھی ہے کہ صحابہ نبی کریم ﷺ کے بعد آہستہ آہستہ دنیا کے مختلف حصوں میں پھیل گئے۔ جہاد کے لیے یا ویسے کسب معاش کے لیے کسی اورضرورت کے لیے،کوئی شام جا بسا ، اس وقت کی جو مسلم دنیا تھی، اس میں انہوں نے اپنے ٹھکانے بنا لیے تھے، مدینہ مکمل طور پر تو نہیں لیکن بڑی حد تک ان صحابہ سے خالی ہو گیا تھاجو نبی کریم ﷺ کے تربیت یافتہ لوگ تھے۔ نبی کریم ﷺ کی صحبت اور تربیت جنہیں ملی تھی۔ وہ نہ رہے تھے، یا تعداد ان کی بہت کم ہو گئی تھی، تیسری طرف ایرانی مغلوب ہوگئے تھے، خلافت راشدہ کے دور میں ان کی بہت بڑی سلطنت ختم ہوئی، مسلمانوں کے ہاتھ آئی، ان میں سے بہت سے مسلمان ہوئے۔ بہت سے مفید اور خدمت گزار بنے لیکن ان میں سے کئی لوگ ایسے بھی تھے جن کے دل میں مسلمانوں اور اسلام کے خلاف عداوت باقی تھی اور ختم نہیں ہوئی تھی کہ یہ بدو یہ گنوار یہ ہم پر حاکم بن گئے، یہ ہم پر مسلط ہو گئے، ہماری تہذیب اور ہمارے تمدن کو انہوں نے ختم کر دیا تو در پردہ نفرت کا ایک طوفان تھا جو بہت سے لوگوں کے دلوں میں دبا ہوا تھا اور اسی طرح یہودی جو ہمیشہ سے سازشوں کے سرغنہ اور سازشوں کے استاد اور ماہر رہے۔ان کی سازشیں بھی تھیں۔ انہوں نے بھی مسلمانوں میں نفرت اور بد دلی پھیلانے میں اپنا کردار ادا کیا۔ انہی میں سے ایک شخص پیدا ہوا، جس کا نام عبداللہ بن سبا تھا۔ جو بظاہر مسلمان ہوا لیکن اپنی پرانی نفرت اور پرانی عداوت پرقائم رہا اور اس کا غصہ نکالنے کے لیے اس نے سازشیں کیں، باغیوں کو تیار کیا، اعتراض بنائے گئے، پیدا کیے گئے، تلاش کیے گئے۔ حضرت عثمان کے طرزِ خلافت طرزِ حکومت کے متعلق کہا کہ جی یہ بیت المال کا پیسہ اپنی مرضی سے خرچ کرتے ہیں۔ اس طرح اس کی حفاظت نہیں کرتے جس طرح ابوبکر اور عمر نے کی ، کہا گیا کہ جی یہ کنبہ پرست ہیں، خدانخواستہ اپنے قریبی عزیزوں کو عہدے اور منصب بخشتے ہیں، ان کو آگے کرتے ہیں، اسی طرح کے کچھ اعتراض، ایک اعتراض یہ بھی تھا کہ جی انہوں نے قرآن ختم کرایا ہے۔ دراصل حضرت ابوبکر نے جمع کیا تھا، حضرت عثمان نے اسی کو پھیلایا، بڑے بڑے شہروں میں اس کی کاپیاں رکھوائیں اور کہا کہ جو کاپی اس کے مطابق ہو وہ صحیح ہے۔ اسی سے نقل کر کے جو مزید کاپی بنانا چاہے، بنا سکتا ہے وہ ، لیکن اس کے علاوہ جو کاپی ہے ان کو ختم کر دو، اسی طرح حضرت عثمان نے حکم جاری کیا کہ یہی Official ، سرکاری اور مصدقہ نقل ہے۔ اس کے علاوہ باقی سب کو ختم کر دو، اس پر یہ الزام بھی ان پر لگا یا گیا، پھر ہوا کیا؟ عبداللہ بن سبا اور اس کے ساتھیوں کے اکسانے پر یہ سازش آگے بڑھی، جب حج کا دور اور حج کا زمانہ آیا تو لوگ حج کے بہانے کہہ لیں یا حج کی وجہ سے مکے میں اکٹھے کیے گئے اور پھر ان میں سے جو اس طرح کا ذہن رکھنے والے باغی، مفسد اور فسادی تھے، انہوں نے حج کے بعد مل کر مدینے کا رخ کیا اور مدینے میں آ کے شہر کے باہر ان کا پڑاؤ تھا، انہوں نے بعض سینئر صحابہ مثلاً حضرت علی، طلحہ، زبیر کو پیغام بھیجے کہ ہم آپ کا ساتھ دیتے ہیں۔ خلیفہ عثمان کو ہٹائیں،آپ میں سے جو بھی خلیفہ بننا چاہے، وہ بن جائے ہم اس کا ساتھ دیں گے۔ تینوں نے انکار کیا کہ نہیں وہ خلیفہ ہیں، وہی رہیں گے ہماری کوئی ایسی خواہش نہیں ہے، نہ ہماری خواہش ہے ، نہ ہم تمہاری مدد لینے کے لیے تیار ہیں۔
اس کے بعد انہی حضرات کو حضرت عثمان نے اپنا نمائندہ بنایااور باغیوں کی طرف بھیجا کہ جا کے ان سے بات کرو کہ وہ چاہتے کیا ہیں؟ کس طرح ٹلتے ہیں لیکن خون ریزی سے بچنا ہے تو انہوں نے جو اعتراض کیے ان میں یہ بھی کہا کہ مصر میں انہوں نے اپنے ایک سوتیلے بھائی عبداللہ بن سعد کو حاکم اور گورنر مقرر کیا ہے، اس کو ہٹائیں یہ کنبہ پروری ہے، حالانکہ اس میں صلاحیت تھی۔ آپ نے فساد مٹانے کے لیے اس طرح کے مطالبات اور خاص طور پہ یہ مطالبہ تسلیم کر لیا اور باغیوں میں بدقسمتی سے ابوبکر کے بیٹے محمد بن ابی بکر بھی شامل تھے، عبداللہ بن سعد کی جگہ ان کو گورنر بنا دیا اور اپنے بھائی کو ہٹا دیا، باغی چلے گئے۔ ان کا ایک بڑا مطالبہ پورا ہو گیا تھا،لیکن چند دن بعد پھر وہ دندناتے ہوئے آ گئے اور انہوں نے مدینے کی گلیوں میں انتقام، انتقام، انتقام کا شور ڈال دیا۔ پوچھا، کیا ہوا بھائی؟ انہوں نے کہا کہ ہمارے پیچھے انہوں نے اپنے ایک اور عزیز ، مروان کو بھیجا تھا یہ حکم اور خط دے کر کہ باغیوں کے سرداروں کو پکڑ کے ختم کر دو ۔ اس کے لیے انہوں نے ایک جعلی خط بھی بنالیا تھا، حضرت عثمان کی طرف سے جو مروان کو لکھا۔ انہوں نے کہا کہ اب تو ہم نہیں چھوڑیں گے۔ اب تو ہم ان کو مار کے یا ہٹا کے ہی دم لیں گے، ویسے ہم نہیں جائیں گے۔ انہوں نے محاصرہ کر لیا، کئی دن تک کھانے پینے کی کوئی چیز حضرت عثمان تک پہنچنے نہیں دی گئی۔ باغیوں نے اب مطالبہ کیا کہ مروان کو ان کے حوالے کیا جائے۔ ہم اسے قتل کریں یا جو مرضی سزا دیں، بس انہیں ہمارے حوالے کیا جائے۔ آپ نے کہا نہیں۔ قرآن یہ کہتا ہے کہ ایک آدمی کا خون یا قتل اللہ کے نزدیک ساری مخلوق کو مارنے کے برابر ہے، جو بغیر حق کے کسی کو مارے گویا کہ اس نے سارے لوگوں کو مار دیا۔ مروان کا خون یہ بہائیں گے لیکن اس کی ذمہ داری مجھ پر آئے گی کہ میں نے ان کے حوالے کیا، اس لیے میں ایسا نہیں کروں گا۔ پھر انہوں نے حضرت عبداللہ بن عمر ، جو فاضل متقی صحابہ میں سے تھے اور حضرت عمر کے بیٹے تھے، ان کو بلایا اور ان سے مشورہ کیا کہ ان حالات میں مجھے کیا کرنا چاہیے؟ کیا میں خلافت چھوڑ دوں؟ کیا میرے خلافت چھوڑنے سے یہ راضی ہو جائیں گے؟ آپ کیا کہتے ہیں؟انہوں نے سیدھا جواب دینے کی بجائے کچھ سوال کیے۔ عبداللہ بن عمر نے کہا کہ مجھے یہ بتائیں کہ آپ دنیا میں ہمیشہ رہیں گے؟ کہا، نہیں، کوئی انسان ہمیشہ نہیں رہتا۔ اللہ کے رسول بھی نہیں رہے تو ہم کہاں رہیں گے؟ تو اگر یہ قتل کر دیں یا شہید کر دیں یا کوئی اور طریقہ ہو تو دنیا سے جانا تو طے ہے۔
دوسرا سوال انہوں نے کیا، کیا جنت دوزخ کا فیصلہ یہ لوگ کر سکتے ہیں؟ کیا یہ جنت دوزخ کے مالک ہیں کہ چاہیں تو آپ کو جنت میں بھیج دیں یا جہنم میں دھکیل دیں؟ کہا، نہیں، اللہ ہی جنت و دوزخ کا مالک ہے، وہی فیصلہ کرے گا۔
کہا پھر ان کی بات کیوں مانتے ہیں؟ اسی طرح انہوں نے کہا کہ اگر دنیا میں ہمیشہ نہیں رہنا اور جنت دوزخ کا فیصلہ بھی ان کے ہاتھ میں نہیں ہے، تو پھر آپ یہ خلافت کی قبا اور قمیض جو اللہ نے آپ کو پہنائی ہے، اس کو مت اتاریں۔ اپنے منصب پر قائم رہیں، جو ہوگا، آپ کے لیے اچھا ہی ہوگا۔
بہرحال حضرت عثمان کی خواہش یہی تھی کہ میری طرف سے ہاتھ نہ اٹھے، میری طرف سے ظلم نہ ہو، میری طرف سے خون نہ بہے۔ جیسے بھی تھے آپ انہیں مسلمان سمجھتے اور کہتے تھے، اس لیے انہوں نے کہا کہ مسلمان کا خون میں کسی قیمت پر نہیں بہاؤں گا۔ بات بڑھتی گئی۔ حضرت عثمان کا جو موقف تھا، بظاہر لگتا ہے کہ کمزور موقف تھا لیکن اس کی بنیاد یہی تھی کہ میں کسی مسلمان کا خون نہیں بہاؤں گا۔
حدیث میں رسول اکرم ﷺ نے بھی فرمایا ہے کہ اگر موقع آئے تو اے مسلمان! تو آدم کے بیٹوں میں سے بہتر بیٹا بن، یعنی مقتول بن جا،قاتل نہ بن۔ (جامع ترمذی: 2194) اس حدیث کا مطلب یہی ہے۔ آدم کے دونوں بیٹوں میں سے بہتر اور اچھا بیٹا وہ تھا، جو اللہ سے ڈرتا تھا، جس نے ظلم نہیں کیا اور قتل کی کوشش نہیں کی جبکہ دوسرا ظالم اور قاتل تھا۔
تو نصیحت یہی ہے کہ ایسے موقع پر خون بہانے والا نہ بنو۔ اگر تمہارا خون بہہ جائے تو اس کا حساب اللہ کرے گا۔
کئی دن محاصرہ جاری رہا، صحابہ نے اپنے جوان بیٹوں کو حضرت عثمان کے گھر حفاظت اور دفاع کے لیے بھیجا۔ حتی کہ حضرت علی نے اپنے صاحبزادوں حسن اور حسین کو بھی بھیجا۔ وہ بھی پہرہ دیتے رہے، حضرت عثمان کی حفاظت کی ڈیوٹی دیتے رہے۔میں کہہ سکتا ہوں کہ کربلا میں حضرت حسین نے جو صبر و رضا کا مظاہرہ کیا، اس کی تربیت جنگوں کے علاوہ انہیں یہاں سے بھی یقیناً ملی ہو گی۔ جہاں وہ پہرہ دیا کرتے تھے۔ حضرت عثمان کے کتنے بڑے صبر اور کتنی تسلیم و رضا کا مظاہرہ دیکھا۔ حضرت عثمان شہید ہو گئے لیکن ظلم سے اپنا ہاتھ روکے رکھا۔
حضرت عثمان ، آخرت کا بہت زیادہ خیال رکھنے والے تھے، ایک موقع پر ایک خادم سے کوئی غلطی ہوئی۔ اس کی سرزنش کے لیے حضرت عثمان نے اس کا کان کھینچا۔ فوراً انہیں احساس ہوا کہ وہ نرمی سے سمجھا سکتے تھے اور کان کھینچ کر شاید زیادتی کر دی۔ اس پر انہوں نے اسی خادم سے کہا کہ یہیں بدلہ لے لو تاکہ آخرت میں بدلہ دینے کی نوبت نہ آئے۔ خادم نے ادب اور احترام سے آہستہ سے کان کھینچا مگر حضرت عثمان نے اصرار کیا کہ میں نے زور سے کھینچا تھا تم بھی زور سے کھینچو تاکہ بدلہ پورا ہو۔
اس موقع پر بھی حضرت عثمان نے چھت پر کھڑے ہو کر باغیوں سے خطاب کیا۔ اپنی خدمات اور کچھ اہم باتیں انہیں یاد دلائیں۔ انہوں نے فرمایا: ’’وہ وقت یاد کرو جب مسجد نبوی میں، جو نبی کریم ﷺ کی تعمیر کردہ تھی، جگہ کم پڑ گئی۔ کون تھا جس نے اس کی توسیع کی اور اس پر اپنا مال خرچ کیا؟ یاد کرو، جب مدینے میں مسلمانوں کے لیے پینے کا پانی میسر نہیں تھا، مشکل سے دستیاب ہوتا تھا اور اس کے لیے قیمت دینی پڑتی تھی۔‘‘
یہودیوں سے پانی خریدنے کی دشواری کا ذکر کرتے ہوئے، حضرت عثمان نے یاد دلایا کہ جب مدینے میں مسلمانوں کے لیے پینے کا میٹھا پانی دستیاب نہیں تھا تو کس نے میٹھے پانی کا کنواں خرید کر اللہ کی راہ میں وقف کیا تھا تاکہ کوئی بھی بغیر قیمت کے پانی لے سکے۔
پھر انہوں نے فرمایا، بیعت رضوان کا واقعہ یاد کرو۔ جب نبی کریم ﷺ نے عمرے کا ارادہ کیا لیکن انہیں مکہ سے باہر روکا گیاتو آپ نے گفت وشنید کے لیے مجھے اپنا نمائندہ بنایا۔ جب میری شہادت کی غلط خبر پھیلی تو آپ نے بیعت رضوان لی۔ اللہ نے اس بیعت کے بارے میں قرآن مجید نازل فرمایا اور آپ ﷺ نے اپنے ہاتھ کو میرا ہاتھ قرار دیا۔ یہ سوال بھی کیا کہ کس کو رسول اللہ ﷺ نے اپنا نمائندہ بنایا تھا؟ اس کے بعد انہوں نے باغیوں سے سوال کیا: ’’کس وجہ سے مجھے قتل کرنا چاہتے ہو؟ وجہ بتاؤ!‘‘ انہوں نے یاد دلایا کہ نبی کریمﷺ نے اسلام میں قتل کی صرف تین وجوہات بیان کی ہیں: اگر کوئی قاتل ہو اور اس کا جرم ثابت ہو تو اسے قاضی یا حکومت کے حکم پر سزا دی جا سکتی ہے۔اگر کوئی شادی شدہ زانی ہو، تو اسے سنگسار کرنے کا حکم ہے۔اگر کوئی مرتد ہو جائے، یعنی اسلام چھوڑ دے تو اسے حکومت کے ذریعے سزا دی جا سکتی ہے۔ حضرت عثمان نے کہا: ’’نہ میں کسی کا قاتل ہوں، نہ کبھی بدکاری کے قریب گیا ہوں اور نہ ہی میں مرتد ہوا ہوں۔ پھر مجھے قتل کرنے کا جواز کیا ہے؟‘‘ میں مرتد بھی نہیں ہوں، تینوں وجوہات مجھ پر لاگو نہیں ہوتیں، پھر کیسے مجھے قتل کر سکتے ہو؟اس موقع پر پیاس بہت تھی، آپ نے مجبور ہو کر کہا، تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو مجھے پانی ہی پلا دے؟ لیکن وہ تو ظالم تھے، مفسد تھے، فساد پر تلے ہوئے تھے۔ یہ بات کسی ذریعے سے حضرت علی تک پہنچی اور وہ تڑپ اٹھے۔ انہوں نے اپنے کچھ خادم غلام پانی کے مشکیزے دے کر بھیجے۔ باغیوں نے ان کو روکا ، لیکن وہ لڑتے بھڑتے اندر چلے گئے اور پانی آپ تک پہنچا دیا۔
پھر وہ رات آئی جس صبح ان کی شہادت ہو گئی تھی۔ عام لباس آپ کا تہہ بند تھا، جیسے ہمارے دھوتی یا لاچا ہوتا ہے، لیکن اس وقت آپ نے شلوار یا پاجامہ پہنا۔ مقصد یہ تھا کہ اگر میں شہید کیا جاؤں تو بے پردگی نہ ہو۔ باغی اندر آئے، ظالم آگے بڑھا، اس نے آپ کی پیشانی پر وار کیا، نیچے گرایا اور پھر مزید وار کیے۔(سیرت عثمان :233-245)
وفا شعار بیوی نہتی تھی لیکن اپنے خاوند کے دفاع کے لیے آگے بڑھی۔ تلوار نے اس کی بھی انگلیاں کاٹ دیں، تین انگلیاں کاٹ دیں۔ بالآخر آپ شہید ہو گئے، لیکن حضرت عثمان کا خون ایک ایسا دریا بنا، جس نے بعد میں بہت سے حادثات کو جنم دیا۔ گویا حادثات کا ایک دروازہ کھل گیا اور ان حادثات میں کربلا کا حادثہ بھی شامل ہے۔ اس کی بھی کڑیاں اس سے ملتی ہیں۔ یہ مظلوم شہید حضرت عثمان کی شہادت ہے۔ آخرت میں تو اللہ ان شاء اللہ بڑا اجر عطا فرمائے گا، لیکن دنیا میں وہ ایک سبق چھوڑ گئے کہ کسی بھی قیمت پر ظالم نہ بنو، مظلوم بن جاؤ۔اپنا دفاع جائز ہے، اس کے لیے لڑنا بھی جائز ہے، لیکن انہیں خطرہ تھا کہ دفاع کرتے ہوئے میرے ہاتھ سے خون نہ ہو۔ یہ مشکل سبق ہے، لیکن بہت بڑا سبق ہے، جو حضرت عثمان نے اپنی مظلومانہ شہادت سے دیا۔ اللہ تعالی ان کے درجات کو مزید بلند فرمائے ۔
اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ نبی کریم ﷺ کے تمام صحابہ، خاص طور پر خلفائے راشدین اور حضرت عثمان سے راضی ہو اور ان کے درجات کو مزید بلند فرمائے۔
وآخر دعوانا أن الحمد لله رب العالمين
تبصرہ کریں