
مظاہر (کواکب) پرستی اور اولیا پرستی میں مشترک اقدار
غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ شرک کی ان مختلف اقسام میں چندباتیں ایسی ہیں جو ہر قسم کے مشرکوں کے عقائد میں داخل ہیں اور وہ یہ ہیں:
1۔ روح کا تعلق
ایک مظاہر پرست جب کسی بت کی پوجا کرتا ہے تو اس اعتقاد کے ساتھ کرتا ہے کہ یہ بت تو صرف پتھر یا دھات کا بت ہے۔ اس کی بذاتِ خود کوئی حیثیت نہیں۔ البتہ جس چیز یا دیوتا کا یہ بت ہے، اس کی روح کا تعلق اس بت سے بدستور قائم ہوتا ہے۔ اور جب بھی کوئی نیا بت اس دیوتا کی مخصوص شکل کے مطابق بنایا جاتا ہے تو اس نئے بت سے بھی اس دیوتا کی روح کا تعلق قائم ہوجاتا ہے۔ لہٰذا جب ہم اس بت کوپکارتے ہیں تو اس دیوتا کی روح قریب سے ہماری آواز سنتی ہے، پھر اس کا مداوا کرتی ہے۔ بعینہ اس طرح کا عقیدہ ایک قبر پرست کا ہوتا ہے وہ یہ سمجھتا ہے کہ فوت شدہ بزرگ کی روح کا تعلق اس کی قبر سے بدستور قائم رہتا ہے۔ اور جب ہم ان کی قبر پر حاضری دیتے ہیں تو ان کی روح ہم سے خوش ہوتی ہے اور جب انہیں پکارتے ہیں تو وہ اس کا مداوا کرتے ہیں۔
قرآن ان دونوں قسم کے نظریات کو باطل قرا ردیتا ہے۔ مظاہر کا اس لئے کہ وہ بے جان اور انسان کے خادم ہیں۔ ان میں زندگی یا روح کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔ سورج اگر ہمیں حرارت بخشتا ہے اور اس سے فصل پکتے یا بعض دوسرے فوائد حاصل ہوتے ہیں تو اس میں اس کا اپنا کچھ کمال نہیں کیونکہ یہ تاثیریں اللہ تعالیٰ ہی کی عطا کردہ ہیں۔ جیسے زہر انسان کو ہلاک کرتا ہے یا شہد شفا بخشتا ہے تو اس میں زہر یاشہد کا اپناکچھ کمال نہیں۔
اور اولیاء اللہ کی رو حیں تو ہوتی ہیں مگر وہ مرنے کے بعد اعلیٰ علیّیین میں پہنچ چکی ہوتی ہیں۔ ان کا اپنی قبر سے کوئی تعلق نہیں رہتا۔ لہٰذا قبر پرست جو انہیں پکارتے ہیں، وہ تو ان کی پکار کوسن بھی نہیں سکتے۔ چہ جائیکہ ان کا جواب دیں یا تکلیف کامداوا کریں۔ چنانچہ ارشاد ِباری ہے:
﴿وَمَن أَضَلُّ مِمَّن يَدعوا مِن دونِ اللَّهِ مَن لا يَستَجيبُ لَهُ إِلىٰ يَومِ القِيـٰمَةِ وَهُم عَن دُعائِهِم غـٰفِلونَ 0 وَإِذا حُشِرَ النّاسُ كانوا لَهُم أَعداءً وَكانوا بِعِبادَتِهِم كـٰفِرينَ﴾
’’اور اس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوسکتا ہے جو ایسے کو پکارے جو قیامت تک اس کا جواب نہ دے سکے اور انہیں ان کے پکارنے کی خبر بھی نہ ہو۔ اور جب لوگ (قیامت کو) اکٹھے کئے جائیں گے تو وہ ان کے دشمن ہوں گے اور ان کی پرستش سے انکار کر دیں گے۔‘‘ (سورۃ الاحقاف:5۔6)
اس آیت سے درج ذیل نتائج سامنے آتے ہیں:
1۔یہاں من دون اللہ سے مراد صرف ’فوت شدہ بزرگ‘ ہی لئے جاسکتے ہیں۔ کیونکہ مظاہر قدرت سورج، چاند، آگ، درختوں وغیرہ کا حشر و نشر سے کوئی تعلق نہیں۔ نہ ہی ان کی دشمنی کا کچھ نقصان پہنچ سکتا ہے اور نہ ہی دوستی کا کچھ فائدہ۔
2۔یہ ’فوت شدہ بزرگ‘ پکارنے والے کی پکار کو قیامت تک نہیں سن سکتے تو پھر بھلا اسکا مداوا کیا کریں گے؟
3۔ ان ’فوت شدہ بزرگوں‘ کو پکارنے والا گمراہ ترین انسان ہوتا ہے۔
4۔قرآن کریم نے اس پکار یا دعا کو عبادت کے لفظ سے تعبیر کیا ہے جس سے معلوم ہوا کہ ان کو پکارنا ’شرک‘ ہے۔
2۔ نظامِ کائنات
ان دیوتاؤں، جھوٹے خداؤں یا اولیاؤں کے جو از میں مشرکین کی دلیل یہ ہوتی ہے کہ جس طرح ایک بادشاہ کو اپنی مملکت کا نظام چلانے کے لئے امیروں وزیروں کی ضرورت ہوتی ہے اور اس کے بغیر نظامِ حکومت چل ہی نہیں سکتا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ نے بھی اس نظام کائنات کو چلانے کے لئے اپنے ماتحت مختلف ہستیوں کو مقرر کررکھا ہے اور انہیں کچھ نہ کچھ اختیارات تفویض کررکھے ہیں۔ جو مختلف امورِ کائنات کی نگرانی کا کام سرانجام دیتے ہیں۔
خدا تعالیٰ نے مشرکین کی اس دلیل کو بھی باطل قرار دیا ہے۔ کیونکہ ایک بادشاہ آخر ایک کمزور سا انسان ہوتا ہے اور اکیلے نظامِ مملکت چلانا اس کے لئے ناگزیر ہے۔ وہ نہ تو ہر کسی کی بات سن سکتا ہے، نہ اس کا مداوا کرسکتا ہے ، نہ ہی اپنی مملکت کے ہر کونے میں بذاتِ خود پہنچ سکتا ہے۔ جبکہ اللہ تعالیٰ ایسے تمام نقائص سے پاک ہے۔ وہ خالق ہے مخلوق نہیں۔ وہ مقتدرِ اعلیٰ ہے کمزور نہیں۔ لہٰذا اس نظامِ مملکت کے چلانے کے لئے کسی مددگار کی بھی ضرورت نہیں، وہ ہر جگہ حاضر بھی ہے اور ناظر بھی ۔ ہر ایک کی ہر جگہ سے پکار سن بھی سکتا ہے اور ا س کا مداوا کرنے کا بھی اسے مکمل اختیار ہے۔ لہٰذا اسے ماتحت افسران کی کوئی ضرورت نہیں۔ارشادِ باری ہے:
﴿وَقُلِ الحَمدُ لِلَّهِ الَّذى لَم يَتَّخِذ وَلَدًا وَلَم يَكُن لَهُ شَريكٌ فِى المُلكِ وَلَم يَكُن لَهُ وَلِىٌّ مِنَ الذُّلِّ ۖ وَكَبِّرهُ تَكبيرًا﴾
’’اور کہو کہ سب تعریف اللہ ہی کو ہے جس نے نہ تو کسی کو بیٹابنایا ہے، نہ ہی اس کی بادشاہی میں کوئی شریک ہے، اور نہ ہی وہ عاجز و ناتواں ہے کہ اس کا کوئی مددگار ہے، اور اس کو بڑا جان کر اس کی بڑائی کرتے رہو۔‘‘ (سورة الاسراء: 111)
3۔ توسل
نظامِ کائنات سے متعلق یہ تصور قائم کرنے کے بعد شیطان نے ان مشرکوں کو یہ راہ سجھائی کہ جس طرح ایک بادشاہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے اپنے قریبی افسروں سے تعلق پیدا کرنا ضروری ہوتا ہے، اسی طرح اللہ تک رسائی حاصل کرنے کے لئے ان چھوٹے خداؤں (نبیوں یا اولیاؤں سے رابطہ قائم رکھناضروری ہے تاکہ ہماری ضروریات باضابطہ طور پر (Through Proper Channel) شرفِ پذیرائی حاصل کرسکیں اور ہم اللہ کے قریب ہو سکیں۔ مشرکین کے اس عقیدہ کواللہ تعالیٰ نے ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
﴿وَالَّذينَ اتَّخَذوا مِن دونِهِ أَولِياءَ ما نَعبُدُهُم إِلّا لِيُقَرِّبونا إِلَى اللَّهِ زُلفىٰ﴾ ( سورة الزمر: 3)
’’ اور وہ لوگ جنہوں نے اللہ کے سوا دوست بنا رکھے ہیں (وہ کہتے ہیں)، ہم تو ان کی صرف اس لئے عبادت کرتے ہیں کہ وہ ہمیں اللہ تعالیٰ سے قریب کردیں۔‘‘
ایسے ہی درمیانی رابطہ کو جو کسی کے لئے ذریعہ قرب بن سکے، عربی زبان میں ‘وسیلہ’ کہتے ہیں۔ اور توسل بھی قرب کا ذریعہ تلاش کرنا ہے۔ مشرکین مکہ بھی وسیلہ سے یہی چھوٹے خداؤں کا درمیانی رابطہ مراد لیتے تھے ۔ دورانِ حج وہ تلبیہ اس طرح پڑھا کرتے تھے :
«لَبَّيْكَ، اَللّٰهُمَّ لَبَّيْكَ، لَبَّيْكَ لاَشَرِيْكَ لَكَ لَبَّيْكَ. إِنَّ الْحَمْدَ وَالنِّعْمَةَ لَكَ وَالْمُلْك لاَشَرِيْكَ لَكَ» (صحیح بخاری: 1549)
یعنی وہ حقیقی معبود اللہ تعالیٰ ہی کو سمجھتے تھے۔ صرف اس قسم کے ‘توسل’ کی بنا پر انہیں مشرک قرار دیا گیا۔مشرکین کی اس دلیل کا ردّ کرنے کے بعد اللہ تعالیٰ نے اس کا مثبت جواب یہ دیا کہ تمہاری دعا و فریاد سننے کے لئے بھی کسی درمیانی واسطہ کی قطعاً کوئی ضرورت نہیں کیونکہ میں تو تمہاری رگ ِجان سے بھی تم سے نزدیک تر ہوں۔ ارشاد باری ہے:
﴿وَإِذا سَأَلَكَ عِبادى عَنّى فَإِنّى قَريبٌ ۖ أُجيبُ دَعوَةَ الدّاعِ إِذا دَعانِ﴾ ( سورة البقرة: 186)
’’اور (اے پیغمبر) جب میرے بندے آپ سے میرے متعلق سوال کریں تو ان سے کہہ دو کہ میں قریب ہی ہوں جب کوئی پکارنے والا مجھے پکارتا ہے تو میں اس کی دعا قبول کرتا ہوں۔‘‘
اللہ تعالیٰ سے کی ہوئی دعا بعض دفعہ قبول ہوجاتی ہے اور بعض دفعہ نہیں بھی ہوتی۔ دعا کے قبول نہ ہونے کے بھی کئی اسباب ہیں، جن کی تفصیل کا یہ موقع نہیں۔ دعا قبول ہو یا نہ ہو، ہمیں یہ حکم دیا گیاہے کہ اگر ایک جوتی کا تسمہ بھی مانگیں تو اسی اللہ سے مانگیں۔ اس قسم کا توسل بہرحال اللہ تعالیٰ کو سخت ناگوار ہے۔ اور وسیلہ کی جائز اور صحیح تر صورت یہ ہے کہ اپنے نیک اعمال کو وسیلہ بنایا جائے۔ یعنی اگر ہم نیک عمل کریں گے تو خود بخود اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہوتا جائے گا۔ جیسا کہ ارشادِ باری ہے:
﴿يـٰأَيُّهَا الَّذينَ ءامَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَابتَغوا إِلَيهِ الوَسيلَةَ وَجـٰهِدوا فى سَبيلِهِ لَعَلَّكُم تُفلِحونَ ﴾ (سورة المائدة : 35)
’’اے ایمان والو! خدا سے ڈرتے رہو اور اس کا قرب حاصل کرنے کا ذریعہ تلاش کرتے رہو اور اس کے رستے میں جہاد کرو تاکہ نجات پاؤ۔‘‘
اس آیت سے معلوم ہوا کہ جوں جوں انسان تقویٰ اختیار کرتا جاتا ہے، اللہ کا قرب حاصل کرتا جاتا ہے اور اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور نجات پانے کا بہترین ذریعہ تو ’جہاد‘ (دین کو غالب کرنے کی محنت) ہے۔
4۔ سفارش
تمام مشرکین میں چوتھی قدرِ مشترک سفارش یا شفاعت ہے جو ان کے نظامِ کائنات والے مزعومہ عقیدہ کی ایک کڑی ہے۔ شفاعت کا اطلاق عام طور پر دفع مضرت کے لئے درمیانی رابطہ تلاش کرنے پر ہوتا ہے۔ ان لوگوں کا یہ خیال ہے کہ جس طرح ایک مجرم انسان کو تھانے یا عدالت میں پیش ہونے سے پہلے اپنے بچاؤ کے لئے کسی سفارش کی ضرورت ہوتی ہے،اسی طرح ہم جیسے گنہگاروں کو اس حقیقی معبود کی عدالت میں حاضر ہونے سے پیشتر ان چھوٹے خداؤں (یعنی دیوتاؤں یا اولیاؤں) کی سفارش بھی ضروری ہے۔ اسی ضرورت کے تحت ان معبودوں کے آگے سرعجز ونیاز خم کرتے ہیں، چڑھاوے چڑھاتے اور قربانیاں پیش کرتے ہیں۔ اور ہر وہ کام کرتے ہیں جو معبودِ حقیقی کے لئے سزاوار ہیں تاکہ یہ معبود ہم سے خوش رہیں اور ہماری سفارش کردیں۔مشرکین کے اس عقیدہ کو اللہ نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے
﴿وَيَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَضُرُّهُم وَلا يَنفَعُهُم وَيَقولونَ هـٰؤُلاءِ شُفَعـٰؤُنا عِندَ اللَّهِ ۚ قُل أَتُنَبِّـٔونَ اللَّهَ بِما لا يَعلَمُ فِى السَّمـٰوٰتِ وَلا فِى الأَرضِ﴾ ( سورة يونس: 18)
’’ اور یہ لوگ اللہ کے سوا ایسی چیزوں کی عبادت کرتے ہیں، جو نہ تو ان کا کچھ بگاڑ سکتی ہیں اور نہ سنوار سکتی ہیں۔ پھر کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ ان سے کہہ دو: کیا تم اللہ کو ایسی بات کی خبردیتے ہو،اس کے علم میں آسمانوں اور زمین میں جس کا کوئی وجود ہی نہیں ہے۔‘‘
آیت ِبالا سے معلوم ہوا کہ مشرکین کا یہ عقیدۂ شفاعت سرتاپا باطل ہی باطل ہے جس میں ذرّہ بھر بھی حقیقت نہیں۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ دوسرے مقام پر فرماتا ہے :
﴿مَن ذَا الَّذى يَشفَعُ عِندَهُ إِلّا بِإِذنِهِ…﴾
’’کسی کی مجال ہے کہ وہ اللہ کے ہاں کسی کی سفارش کرسکے، اِلا یہ کہ اللہ کو خود منظور ہو۔‘‘ (سورة البقرة: 255)
اس آیت سے معلوم ہوا کہ ایسے عقیدۂ شفاعت پر تکیہ کرنا باطل اور عبث ہے۔ کیونکہ جس ’بزرگ‘ سے ایسی توقع وابستہ کی جارہی ہے، اسے تو یہ بھی معلوم نہیں کہ اس کا اپنا انجام کیا ہو گا؟ پھر وہ دوسروں کو کیا ضمانت دے سکتا ہے یا دوسرے اس سے کیا توقع رکھ سکتے ہیں؟ البتہ اس آیت میں إلا بإذنہ کے الفاظ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ اس ’کلیةً‘ میں کچھ گنجائش موجود ہے۔ یعنی کسی خاص بزرگ کی کسی خاص گنہگار کے حق میں سفارش قبول بھی ہوسکتی ہے اور اس کی شرائط درج ذیل ہیں:
1۔ سفارش کنندہ کو روزِقیامت اپنی نجات اور خدا کی خوشنودی کا یقین ہوچکا ہو۔
2۔ جس کی سفارش کی جارہی ہے، وہ نہ تو مشرک ہو اور نہ ہی عادی مجرم۔
3۔ ایسی سفارش بھی کسی زور یا دباؤ کے تحت قبول نہیں ہوسکتی کیونکہ اللہ تعالیٰ پر کسی کا زور نہیں۔ وہ سب سے زیادہ زورآور اور غالب ہے۔ یہ سفارش بھی سفارش کی التجا اور اللہ تعالیٰ کے لطف و کرم کے نتیجہ کے طور پر مقبول ہوسکتی ہے اور یہی إلا باذنہ کا مطلب ہے۔ اور اسی طرح کی سفارش انبیاء اور صالحین کریں گے جو مقبول ہوگی۔
دورِ نبوی کا ایک واقعہ ہے ، قحط سالی کا دور تھا۔ ایک گنوار رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور بارش کے لئے دعا کرنے کی التجا کی اور کہا کہ
«إنا نستشفع بك علی الله ونستشفع بالله عليك»
یعنی ’’ہم آپ کی اللہ کے ہاں سفارش چاہتے ہیں اور اللہ کی سفارش آپ کے ہاں۔‘‘
گنوار کی اس بات پر آپ لرزہ براندام ہوگئے اور سبحان اللہ، سبحان اللہ کہنے لگے۔ مشیت ِالٰہی کے آثار آپ کے چہرہ سے واضح طور معلوم ہونے لگے۔ پھر آپ نے اس گنوار کو کہا کہ تم کیسے بیوقوف ہو اور اللہ کو کسی کے ہاں سفارشی نہیں بناتے، تم اس کی عظمت کو کیا جانو۔ اس کی شان بہت بڑی ہے۔ اس کا عرش اس کے آسمانوں پر ہے۔ اور اپنے ہاتھ کوقبے کی شکل بناکر سمجھایا اور کہا کہ اس کا عرش اللہ کی عظمت کی وجہ سے یوں چرچربولتا ہے جیسے اونٹ کا پالان سوار کے بوجھ سے‘‘ (سنن ابو داود: 4101)
اس حدیث کی روشنی میں آپ اندازہ کرسکتے ہیں کہ روزِ قیامت سفارش کون کرسکے گا اور کس صورت میں کرسکے گا؟
3۔ ملائکہ پرستی
فرشتے اللہ تعالیٰ کی ایک غیر مرئی اور نوری جاندار مخلوق ہے جن پر ایمان لانا ’ایمان بالغیب‘ کا ایک حصہ ہے۔ اور یہ ایمان لانا صرف ہم مسلمانوں پر ہی فرض نہیں بلکہ پہلی امتوں پر بھی فرض تھاکیونکہ اس کا ذکر تمام سابقہ الہامی کتابوں میں ملتا ہے۔
فرشتے بھی جسم رکھتے ہیں۔ ان میں سے بعض دو پروں والے، بعض چار پروں والے، بعض چھ پروں والے اور بعض کے پر اس سے بھی زیادہ ہیں۔ وہ آسمانوں کی طرف چڑھتے بھی ہیں اور آسمانوں سے زمین کی طرف اُترتے بھی ہیں۔ ان میں عقل و شعور تو ہے مگر اِرادہ و اختیار نہیں۔ وہ بھی اللہ تعالیٰ کے احکام کی تعمیل پر ایسے ہی مجبور وبے بس ہیں جیسے سورج اور چاند وغیرہ۔ گویا ان کی اطاعت تسخیری ہے اختیاری نہیں۔ وہ نہ کھاتے ہیں نہ پیتے ہیں،نہ ہی ا ن میں نسل کشی یا توالدو تناسل کا سلسلہ قائم ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ان میں ہر ایک کو الگ الگ ہی پیدا کیا ہے۔ ان کی تعداد بے حد و حساب ہے۔ یہ فرشتے اپنا الگ الگ تشخص اور نام بھی رکھتے ہیں۔
ان فرشتوں کا کام تدبیر اُمورِ کائنات ہے۔وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے مامور ہیں۔ وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے نہ سرمو تجاوز کرسکتے ہیں نہ تقصیر، یہی ان کی عبادت ہے۔ بلکہ کام کی نوعیت کے لحاظ سے بعض فرشتے دوسروں سے افضل ہیں۔ سیدنا جبرئیل کے ذمہ ایک اضافی ڈیوٹی یہ بھی تھی کہ وہ انبیاء و رسل تک اللہ تعالیٰ کا پیغام پہنچاتے تھے۔سیدنا عزرائیل جاندار مخلوق کی اَرواح قبض کرنے پر مامور ہیں۔ سیدنا میکائیل بادلوں پر مامور ہیں۔جس وقت اور جس مقام پر اور جتنی اللہ تعالیٰ چاہے، وہاں اتنی ہی بارش ہوتی ہے۔ سیدنا اسرافیل کی ایک اضافی ڈیوٹی یہ ہے کہ وہ پہلی دفعہ صور میں پھونکیں گے تو روئے زمین پر کوئی جاندار مخلوق باقی نہ رہے گی اور دوسری دفعہ اس وقت پھونکیں گے جب میدانِ محشر قائم ہوگا۔ ہر انسان کے ساتھ دو فرشتے بدستور لگے رہتے ہیں جو ان کے نیک اور برے اعمال کا ریکارڈ رکھتے ہیں۔ دوزخ پر بھی تندخو قسم کے فرشتے مقرر ہیں۔ قیامت کے دن بھی اللہ تعالیٰ کے عرش کو آٹھ فرشتے اُٹھائے ہوں گے وغیرہ وغیرہ۔ قرآن کریم کے مطالعہ سے ان کی بھی کئی قسم کی ذمہ داریوں کا پتہ چلتا ہے۔ فرشتے یہ کام کیسے سرانجام دیتے ہیں؟ یہ ہمیں معلوم نہیں، نہ ہم یہ جاننے کے مکلف ہیں۔
ایسامعلوم ہوتا ہے کہ ہندی، مصری اور یونانی تہذیب میں دیوتاؤں اور دیویوں کا عقیدہ اسی عقیدۂ ملائکہ سے ماخوذ ہے جو کئی لحاظ سے غلط ہے، مثلاً:
1۔دیوی دیوتاؤں میں نرو مادہ کا سلسلہ موجود ہے، لیکن فرشتوں میں نرومادہ کی سرے سے کوئی تمیز ہی نہیں۔
2۔دیوی دیوتاؤں میں توالد و تناسل کا سلسلہ بھی موجود ہے جیسا کہ ویدن (Weden) کی ایک بیوی تسلیم کی جاتی ہے جس کا نام فرگ (Frigg) یا فرگا (Frigga) ہے۔ اور ان کے بیٹے کا نام تھار (Thor) لیکن فرشتوں میں توالد و تناسل کا کوئی سلسلہ نہیں۔
3۔دیوی دیوتاؤں کو صاحب ِاختیار و ارادہ مخلوق تسلیم کیا گیا ہے جو ایک دوسرے سے الجھتے، لڑپڑتے ایک دوسرے پر غالب ہوتے ہیں لیکن فرشتے ان باتوں سے پاک ہیں۔
4۔دیوی دیوتا اپنے پجاریوں کی عبادت سے خوش ہوتے اور ان کی مشکل کشائی اور حاجت روائی کی طاقت رکھتے ہیں کیونکہ صاحب ِاختیار و ارادہ ہیں۔ لیکن فرشتے تو صاحب ِاختیار و اِرادہ ہیں ہی نہیں، لہٰذا اُن سے ایسی توقعات عبث ہیں۔
غالباً انہی وجوہ کی بنا پر مسلمانوں کے ایک عقل پرست فرقہ نے ملائکہ سے کائنات کی تسخیری قوتیں مراد لی ہیں لیکن یہ تعبیر بھی غلط ہے کیونکہ صریح نصوص کے خلاف ہے۔
کہا جاسکتا ہے کہ اگر اللہ تعالیٰ ایسی مقتدرِ اعلیٰ ہستی ہے جیسا کہ اس کی صفات بیان کی جاتی ہیں تو اسے تدبیر اُمور کائنات میں فرشتوں سے بھی مدد لینے کی کیا ضرورت تھی؟ نیز یہ کہ اگر نظامِ کائنات ایسے ہی چل رہا ہے تو پھر ملائکہ کے بجائے دیوتاؤں کا نام لے لینے سے کیا فرق پڑ جاتاہے؟ تو ان سوالوں کا جواب یہ ہے کہ لفظ ‘شریک’ کا اطلاق صرف اس وقت ہوتا ہے جب وہ’ مشرک’ صاحب ِارادہ بھی ہو۔ میں اگر قلم اور دوات سے کچھ لکھتا ہوں تو یہ قلم اور دوات میرے شریک نہیں بلکہ آلہ کار ہیں۔ اسی طرح ملائکہ کو اللہ تعالیٰ کے آلہ کار کی حیثیت تو دی جاسکتی ہے، شریک کی نہیں۔ اس کے برعکس دیوی دیوتا چونکہ صاحب ِاختیار و ارادہ تسلیم کئے گئے ہیں، اس لئے ان کی حیثیت شریک ِکار کی ہے نہ کہ آلہ کار کی۔
اِس صریح فرق کے باوجود انبیاے سابقہ کی اُمتوں پر اسی یونانی، مصری اور ہندی تہذیبوں کا اتنااثر پڑا کہ وہ ملائکہ کو بھی وہی کچھ کہنے لگے جو دیوی دیوتاؤں سے سمجھا جاتا تھا۔ ان فرشتوں میں نسلی امتیاز بھی قائم کیا گیا اور انہیں اللہ تعالیٰ کی اولاد سمجھا جانے لگا۔ مزید ستم یہ کہ وہ ان فرشتوں کو زیادہ بیٹیاں یا بیویاں ہی قرار دیتے تھے۔ اور یہی ’فرشتیاں‘ ان کے معبود تھے۔ قرآنِ کریم نے ان مشرکین عرب کے اس عقیدہ کو ان الفاظ میں بیان فرمایا ہے:
﴿وَجَعَلُوا المَلـٰئِكَةَ الَّذينَ هُم عِبـٰدُ الرَّحمـٰنِ إِنـٰثًا ﴾ (سورة الزخرف: 19)
’’ان لوگوں نے فرشتوں کو، جو دراصل رحمن کے بندے ہیں، دیویاں بنا رکھا ہے۔‘‘
اِن مشرکین کاایک دیوتا ‘ہبل’ تھا۔ ابوسفیان سپہ سالارِ مشرکین مکہ نے جنگ اُحد کے اختتام پر أعلیٰ الھبل کہہ کر اس کے نام کا نعرہ لگایا تھا لیکن زیادہ تر ان کی دیویوں کی ہی پرستش ہوتی تھی۔ ایک دیوی کا نام ’لات‘ (الٰہ کا موٴنث) تھا جسے اللہ تعالیٰ کی بیوی سمجھا جاتا تھا۔دوسری دیوی کا نام ‘عزیٰ’ (عزیز کی موٴنث) اور تیسری کا نام ’منات‘ تھا جو غالباً اللہ تعالیٰ کی لڑکی سمجھی جاتی تھی۔
لات کا استھان طائف میں تھا اور بنو ثقیف اس کے پجاری اور اس حد تک معتقد تھے کہ عام الفیل میں جب ابرہہ ہاتھیوں کی فوج لے کر مکہ پر چڑھائی کرنے آیا تو ان ظالموں نے محض آستانہ لات کو بچانے کی خاطر اور مکہ کا رستہ بتلانے کے لئے اپنے آدمی فراہم کئے حالانکہ باقی اہل عرب کی طرح اہل ثقیف بھی یہ مانتے تھے کہ کعبہ اللہ کا گھر ہے۔
عزیٰ قریش کی خاص دیوی تھی اور اس کا استھان مکہ اور طائف کے درمیان وادی نخلةمیں تھا۔ قریش اور دوسرے قبائل عرب اس کی زیارت کو آتے، نذریں چڑھاتے اور اس کے لئے قربانیاں کرتے تھے۔ کعبہ کی طرح اس کی طرف بھی قربانی کے جانور لے جائے جاتے اور تمام بتوں سے بڑھ کر اس کی عزت کی جاتی تھی۔
‘منات’ کا استھان مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے ‘قدید’ کے مقام پر واقع تھا۔ بنو خزاعہ اور اوس وخزرج کے لوگ اس کے بہت معتقد تھے۔اس کا حج اور طواف کیا جاتا اور قربانیاں چڑھائی جاتیں۔ بیت اللہ کا حج کرنے والے جب طواف بیت اللہ اور عرفات اور منیٰ سے فارغ ہوجاتے تو وہیں سے ‘منات’ کی زیارت کے لئے لبیک پکارنا شروع کردیتے۔ اس طرح اس ‘دوسرے حج’ کرنے والوں کو صفا اور مروہ کے درمیان سعی کی ضرورت نہ ہوتی تھی۔
اللہ تعالیٰ نے مشرکین کے انہیں شرکیہ عقائد و افعال کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا:
﴿أَفَرَءَيتُمُ اللّـٰتَ وَالعُزّىٰ 0 وَمَنوٰةَ الثّالِثَةَ الأُخرىٰ0 أَلَكُمُ الذَّكَرُ وَلَهُ الأُنثىٰ 0 تِلكَ إِذًا قِسمَةٌ ضيزىٰ﴾ (سورة النجم : 19۔22)
’’بھلا تم نے اس لات اور عزیٰ اور تیسری منات دیوی پربھی کچھ غور کیا۔ کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لئے ؟ یہ تو سخت ناانصافی کی بات ہوئی!‘‘
ان آیات کی رو سے مشرکین عرب تین کبیرہ گناہوں کے مرتکب تھے:
1۔ غیر اللہ کی پرستش جو کہ قطعاًناقابل معافی گناہ ہے۔
2۔ اللہ تعالیٰ کے لئے اولاد ٹھہرانا، جو شرک کی سب سے بڑی قسم ہے۔
3۔اور اولاد بھی وہ جسے وہ اپنے لئے قطعاً پسند نہیں کرتے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں