شرک اور اس کی مختلف مروّجہ صورتیں(قسط 1) ۔مولانا عبد الرحمن کیلانی

یہی توحید تھی، جس کو نہ تو سمجھا، نہ میں سمجھا !

توحید

’توحید‘ کا لغوی معنی کسی چیز کوایک بنانا اور اس کا شرعی مفہوم، اللہ تعالیٰ کو اپنی ذات وصفات میں یکتا سمجھنا ہے۔ توحید کی ضد الإشراك باللہ یعنی اللہ کی ذات وصفات میں کسی دوسرے کو بھی حصہ دار سمجھنا ہے۔ ’الإشراك باللہ‘ کو مختصر الفاظ میں ’شرک‘ بھی کہا جاتاہے۔ توحید کے اثبات سے شرک کا ردّ از خود ہوجاتا ہے۔ شرک کی جملہ اقسام سے اجتناب سے ہی عقیدئہ توحید میں پختگی اور استحکام پیداہوتا ہے۔

قرآن میں توحید کا لفظ نہیں آیا مگر احادیث میں بکثرت استعمال ہوا ہے۔ امام بخاری﷫ نے تو اپنی صحیح میں ایک مستقل کتاب کا نام ہی ’کتاب التوحید‘ رکھاہے۔ قرآن مجید میں توحید کے بجائے اللہ کیلئے ’اَحد‘ اور ’واحد‘ کے الفاظ بکثرت استعمال ہوئے ہیں یا پھر شرک اور اس کی معروف اقسام کا ذکر کیا گیا ہے۔

توحید کی اہمیت

اس موضوع کی اہمیت کا اندازہ ان باتوں سے ہوتا ہے کہ

٭ تمام انبیائے کرام﷩ نے سب سے پہلے اپنی قوم کو توحید کا سبق دیا۔

٭ توحید ہی وہ نسخہ کیمیا ہے جس سے انبیا نے ایک بگڑی ہوئی قوم کی اِصلاح کا آغاز کیا۔

٭ توحید ہی وہ بنیادی عقیدہ ہے جس کے اقرار پر کوئی شخص اسلام کے حصار میں داخل ہوتاہے۔

٭ توحید ہی وہ اہم موضوع ہے جس کاذکر صراحتاً یا اشارةً قرآن کریم کے ہر صفحہ میں ملتا ہے۔ پھر اس کی تفصیلات احادیث میں بکثرت مذکور ہیں۔

٭ اسی موضوع پر علماے حق اور مفکرین اسلام ہر دور میں زبان و قلم سے جہاد کرتے رہے اور آئندہ بھی ان شاء اللہ کرتے رہیں گے۔

٭ ساتھ ہی ساتھ یہ عقیدۂ توحید ہی ایسا نازک موضوع ہے کہ اس میں تھوڑی سی کمی بیشی سے انسان ایسا مشرک ٹھہرتا ہے جس کی نجاتِ اُخروی کی کوئی صورت ممکن نہیں۔ جیسا کہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ لَا يَغْفِرُ‌ أَن يُّشْرَ‌كَ بِهِ وَيَغْفِرُ‌ مَا دُوْنَ ذَلِكَ لِمَنْ يَّشَاءُ…﴾ ( سورة النساء: 48)

’’اللہ تعالیٰ یہ گناہ کبھی نہیں بخشے گا کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک بنایا جائے اور اس کے علاوہ (اورگناہ) جس کو چاہے گا بخش دے گا۔‘‘

انہی وجوہات کی بنا پر عقیدۂ توحید شیطان کا اصل ہدف ہے۔ وہ اس میں طرح طرح سے رخنہ اندازیاں کرکے خیالات کا رخ موڑتا اور ایک ہدایت یافتہ انسان کو پھر سے شرکیہ افعال میں مبتلا کردیتا ہے۔جس کانتیجہ یہ ہوتا ہے کہ انبیا کے رخصت ہونے کے بعد ان پر ایمان لانے والوں میں سے بھی اکثر لوگ مشرک ہی رہتے یا بن جاتے ہیں۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿وَما يُؤمِنُ أَكثَرُ‌هُم بِاللَّـهِ إِلّا وَهُم مُشرِ‌كونَ ﴾ (سورة يوسف: 106)

’’اور ان میں سے اکثر لوگ نہیں ایمان لاتے مگر اللہ کے ساتھ شرک بھی کرتے ہیں۔‘‘

عقیدہ توحید میں پختگی سے نجاتِ اُخروی تو قرآن کریم کی بہت سی آیات سے ثابت ہے۔یہ فائدہ مسلم، لیکن کبھی آپ نے یہ بھی سوچا ہے کہ اس عقیدئہ توحید کے انسانی زندگی پرکیا اثرات مرتب ہوتے ہیں؟ ایک مشرک کی زندگی اور ایک موٴحد کی زندگی میں کیا فرق ہوتا ہے؟ اس عقیدہ سے بگڑی ہوئی قوم کی اصلاح کیونکر ہوتی ہے۔نیز یہ عقیدہ عالمی قیامِ امن کے سلسلہ میں کیاکردار ادا کرتا ہے؟ یہ اور اس جیسے دوسرے سوالات کا جواب دینے کیلئے ضروری ہے کہ ہم اس موضوع کے مختلف پہلوؤں کا تفصیلی جائزہ لیں۔

شرک کی بنیاد توہم پرستی ہے!

انسان فطرتاً توہم پرست واقع ہوا ہے۔ اور اس توہم پرستی کا ٹھیک ٹھیک علاج عقیدہٴ توحید ہے۔ شیطان کا انسان کو گمراہ کرنے اور مشرک بنانے کا سب سے موٴثر حربہ یہ ہے کہ وہ انسان کی اس توہم پرستی کو ہوا دیتا ہے اور اس کی حوصلہ افزائی کرتا ہے۔ اسی توہم پرستی کی وجہ سے انسان خوفِ غیر اللہ میں مبتلا ہو جاتا ہے۔ اللہ کے سوا دوسری چیزوں سے اپنے فائدہ کی توقعات وابستہ کرنے لگتا ہے۔ بس یہی دو چیزیں یعنی دفع مضرت اور جلب ِمنفعت یا نقصان اور تکلیف کا ڈر اور کسی بھلائی اور فائدہ کی توقع ہیں جو انسان کو شرک کی بے شمار قسم کی خار زار وادیوں میں کھینچ لاتی ہیں۔ مثلاً مظاہر پرستی، کواکب پرستی، بت پرستی، ملائکہ پرستی، جنات پرستی، عقل پرستی، ذہن پرستی، اولیاء پرستی، قبر پرستی، آبا پرستی، احبار پرستی، حتیٰ کہ خود پرستی سب شرک ہی کی شاخیں ہیں۔پھر یہ شاخیں اور کئی چھوٹی شاخوں میں تقسیم ہوجاتی ہیں۔ ان سب شاخوں کا اگر تجزیہ کیا جائے تو بالآخر یہی نتیجہ نکلتا ہے کہ ان کا جذبہ محرکہ یہی مذکورہ دونوں باتیں یا ان میں سے کوئی ایک ہے۔ اسی لئے اللہ تعالیٰ مشرکین کو مخاطب کرتے ہوئے فرماتے ہیں کہ

﴿قُل أَتَعبُدونَ مِن دونِ اللَّهِ ما لا يَملِكُ لَكُم ضَرًّ‌ا وَلا نَفعًا﴾ (سورة المائدة: 76)

’’(اے پیغمبر) ان سے کہہ دو کہ تم ایسی چیزوں کی پرستش کیوں کرتے ہو جنہیں تمہارے نفع ونقصان کاکچھ بھی اختیار نہیں۔‘‘

اور مشرکین کی اس توہم پرستی کا عقلی اور مشاہداتی جواب یہ دیا کہ اللہ کے سواباقی چیزیں جنہیں تم اپنا مددگار سمجھتے ہو وہ تو خود اپنے نفع و نقصان کی بھی مالک نہیں تو پھر وہ تمہارا کیابگاڑ یا سنوار سکتی ہیں۔چنانچہ ارشادِ باری تعالیٰ ہے

﴿قُل أَفَاتَّخَذتُم مِن دونِهِ أَولِياءَ لا يَملِكونَ لِأَنفُسِهِم نَفعًا وَلا ضَرًّ‌ا﴾

’’(اے پیغمبر!) ان سے کہہ دو کہ اللہ کے سوا جن کو تم نے اپنا مددگار بنا رکھا ہے ، وہ تو اپنے بھی نفع ونقصان کا کچھ اختیار نہیں رکھتے۔‘‘( سورة الرعد: 16)

اس دنیا میں اگر کوئی سب سے بلند مقام ہستی ہوسکتی ہے تو وہ اللہ کا رسول ہی ہوسکتا ہے، جس کا اللہ تعالیٰ سے براہِ راست بھی تعلق ہوتا ہے اور جبریل کے واسطہ سے بھی۔ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ ایسی بلند ہستی بھی نہ اپنے نفع و نقصان کی خود مالک ہوتی ہے، نہ ہی کسی دوسرے کو کچھ فائدہ یا نقصان پہنچاسکتی ہے۔تو پھر دوسری چیزوں کا ذکر ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ رسول اللہ سے فرماتے ہیں:

﴿قُل إِنّى لا أَملِكُ لَكُم ضَرًّ‌ا وَلا رَ‌شَدًا ﴾ (سورة الجن: 21)

’’ان لوگوں سے کہہ دو کہ میں تمہارے حق میں نقصان یا بھلائی کاکچھ اختیار نہیں رکھتا۔‘‘

توحید و شرک سے متعلق چند شرعی اصطلاحات

مناسب ہوگا کہ شرک کی مختلف اقسام بیان کرنے سے پیشتر ان چند الفاظ کا لغوی مفہوم بیان کردیا جائے جو شرک کے بیان میں تکرار سے آتے ہیں اور شرعی اصطلاح کی حیثیت اختیار کرگئے ہیں اور وہ ہیں: عبد اور عبادت …دین… ربّ… الٰہ… اللہ… جبت… طاغوت… حنیف

1۔ عبد:بمعنی بندہ، غلام ، محکوم(عباد اور عبید) اور عبادت کا لفظ عموماً تین معنوں میں قرآن میں آیا ہے

(1) بمعنی بندگی، غلامی اور محکومی … جیسا کہ ارشاد باری تعالیٰ ہے

﴿فَقالوا أَنُؤمِنُ لِبَشَرَ‌ينِ مِثلِنا وَقَومُهُما لَنا عـٰبِدونَ ﴾ (سورة المومنون: 47)

’’فرعون کے درباری کہنے لگے: بھلا ہم ایسے دو آدمیوں (سیدنا موسیٰ و سیدنا ہارون ) پرایمان لا ئیں جن کی قوم ہماری غلام ہے۔‘‘

اب یہ تو ظاہر ہے کہ آج تک شیطان کی کسی نے پوجاپاٹ نہیں کی، نہ ہی اسے کسی نے کبھی آقا سمجھا، لہٰذا یہاں مفہوم، شیطانی وساوس کی پیروی ہی ہوسکتی ہے۔

اور عَبَّد بمعنی کسی دوسرے کو محکوم اور غلام بنانا۔ سیدنا موسیٰ نے فرعون کو مخاطب کرکے فرمایا:

﴿وَتِلكَ نِعمَةٌ تَمُنُّها عَلَىَّ أَن عَبَّدتَ بَنى إِسر‌ٰ‌ءيلَ﴾ (سورة الشعراء: 22)

’’اور (کیا) یہی احسان ہے جو تو مجھ پر رکھتا ہے کہ تو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا رکھا ہے۔‘‘

(2) بمعنی سر عجزو نیاز خم کرنا…معروف معنوں میں پوجا پاٹ اور پرستش کے وہ طریقے جومشہور ہیں۔ (عبادت، جمع عبادات) خواہ یہ اللہ کی ہو یا کسی دوسرے کی ۔جیسا کہ قرآن میں ہے:

﴿قالوا نَعبُدُ أَصنامًا فَنَظَلُّ لَها عـٰكِفينَ ﴾ ( سورة الشعراء: 71)

’’سیدنا ابراہیم کی قوم کہنے لگی کہ ہم تو بتوں کو پوجتے ہیں اور ان (کی پوجا) پر قائم ہیں۔‘‘

(3) بمعنی محض اطاعت اور فرمانبرداری جیسے سیدنا ابراہیم نے اپنے باپ سے فرمایا:

﴿يـٰأَبَتِ لا تَعبُدِ الشَّيطـٰنَ﴾ (سورة مريم: 44)

’’اے میرے والد! شیطان کی اطاعت نہ کیجئے۔‘‘

2۔ دین: دین کالفظ چارمعنوں میں مستعمل ہوتا ہے اور یہ لغت ِاضداد سے بھی ہے۔

دین کا معنی (1) مکمل حاکمیت بھی ہے اور (2) مکمل عبودیت بھی ۔ ارشادِ باری ہے

﴿أَلا لِلَّهِ الدّينُ الخالِصُ﴾ ( سورة الزمر: 3)

’’غور سے سن لو کہ خالص عبادت صرف اللہ ہی کو زیبا ہے۔‘‘

اس آیت میں دین کا لفظ دونوں معنوں میں آیا ہے جو آپس میں متضاد ہیں۔ اس آیت کا اگر یوں ترجمہ کیا جائے کہ مکمل حاکمیت اللہ ہی کے لئے ہے،تو بھی مفہوم وہی نکلتا ہے یعنی اس کے بندے اس کی مکمل حاکمیت سمجھیں اور اس کی مکمل اطاعت و عبادت کریں۔

(3) قانونِ جزا وسزا جیسے سورئہ یوسف میں فرمایا:

﴿ما كانَ لِيَأخُذَ أَخاهُ فى دينِ المَلِكِ﴾ (سورة يوسف: 76)

’’شاہی قانون کے لحاظ سے یہ ناممکن تھا کہ سیدنا یوسف اپنے بھائی کو اپنے ہاں روک لیتے”

(4) مکافاتِ عمل… یعنی قانونِ جزاوسزا کے مطابق اس کا عملی نفاذ۔جیسے فرمایا:

﴿مـٰلِكِ يَومِ الدّينِ ﴾ ( سورة الفاتحہ: 4)

’’(وہ اللہ) جزا و سزا کے دن(قیامت کے دن) کا مالک ہے۔‘‘

درج ذیل آیت میں دین کا لفظ یہ دونوں مفہوم ادا کررہا ہے۔ارشادِ باری تعالیٰ ہے:

﴿فَلَولا إِن كُنتُم غَيرَ‌ مَدينينَ 0 تَر‌جِعونَها إِن كُنتُم صـٰدِقينَ﴾ (سورة الواقعہ: 86۔87)

’’پھر اگر تم سچے ہو اور تم پر ہمارا قانونِ جزاوسزا لاگو نہیں ہوسکتا تو تم اس (مرنے والے کی روح کو) واپس پھیر کیوں نہیں لیتے۔‘‘

گویا دین کا لفظ ایک مکمل نظام کی نمائندگی کرتا ہے اور مذکورہ بالا چار وں معانی اس کے اجزائے ترکیبی ہیں :

یعنی (1) مکمل حاکمیت یا اقتدارِاعلیٰ

(2) حاکمیت کے مقابلہ میں مکمل تسلیم و اطاعت

(3) وہ نظامِ فکروعمل جو اس حاکمیت کے زیر اثر بنے

(4) وہ جزاو سزا جو حاکم اعلیٰ کی طرف سے اطاعت کے صلہ یا سرکشی کی پاداش میں دی جائے، اس دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی۔

3۔ ربّ: کا لفظ چار معنوں میں آیا ہے:

(1) ربّ (مصدر) بمعنی کسی کو پرورش کرکے حد ِکمال تک پہنچانا اور اس کی جملہ ضرورتوں کا خیال رکھنا (مفردات)۔ مگریہ لفظ عموماً بطورِاسم فاعل ہی استعمال ہوتاہے جیسا کہ فرمایا:

﴿الحَمدُ لِلَّهِ رَ‌بِّ العـٰلَمينَ ﴾ (سورة الفاتحہ: 2)

’’سب تعریف اللہ ہی کو سزا وار ہے جو تمام جہانوں کا پرورش کنندہ ہے۔‘‘

اس لحاظ سے الربّ صر ف اللہ تعالی ہی ہوسکتا ہے اور اس لفظ کا مصدر ربوبیة آتا ہے۔ اور اس کی جمع نہیں آتی۔

(2) یعنی آقا و مالک جو کسی کی تربیت کاذمہ دار ہو۔ان معنوں میں ا س کا مصدر ربوبیة کے بجائے ربابیة آتا ہے۔جمع أرباب( المفردات) قرآن میں ہے:

﴿يـٰصـٰحِبَىِ السِّجنِ أَمّا أَحَدُكُما فَيَسقى رَ‌بَّهُ خَمرً‌ا﴾ (سورة يوسف: 41)

’’(سیدنا یوسف نے کہا) اے میرے جیل کے رفیقو! تم میں سے ایک تو اپنے آقا کو شراب پلائے گا۔‘‘

3۔بمعنی صرف مالک جسے اپنی مملوکہ چیز میں تصرف کا پورا پورا اختیار ہو۔ جیسے ربّ الناقة بمعنی اونٹنی کا مالک۔ ربّ ا لکعبة بمعنی بیت اللہ کا مالک ہے۔ اسی معنی میں یہ لفظ درج ذیل آیت میں مستعمل ہوا ہے:

﴿فَليَعبُدوا رَ‌بَّ هـٰذَا البَيتِ ﴾ (سورة قريش: 3)

“تو لوگوں کو چاہئے کہ وہ (اس نعمت کے شکر میں) اس گھر (کعبہ) کے مالک کی عبادت کریں”

(4) چوتھا معنی’قانون دہندہ’ اس کی پوری تصریح ایک حدیث میں مذکور ہے۔ عدی بن حاتم جو پہلے عیسائی تھے، 9 ہجری میں اسلام لائے۔ان کے اسلام لانے کے بعد جب سورۂ توبہ کی یہ آیت نازل ہوئی

﴿اتَّخَذوا أَحبارَ‌هُم وَرُ‌هبـٰنَهُم أَر‌بابًا مِن دونِ اللَّهِ وَالمَسيحَ ابنَ مَر‌يَمَ وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدوا إِلـٰهًا و‌ٰحِدًا﴾ (سورة التوبہ: 31)

’’ان (عیسائیوں) نے اپنے علما اور مشائخ کو اللہ کے علاوہ اپنا ربّ بنا لیا اور مسیح ابن مریم﷧ کو بھی حالانکہ انہیں حکم یہ دیا گیا تھا کہ اللہ واحد کے سوا کسی کی عبادت نہ کریں۔‘‘

تو سیدنا عدی بن حاتم نے رسول اللہ ﷺ سے پوچھاکہ وہ لوگ (عیسائی) اپنے علماء و مشائخ کی عبادت تو نہیں کرتے، آپﷺ نے فرمایا:

«بلیٰ إنهم حرموا عليهم الحلال وأحلوا لهم الحرام فاتبعوهم فذلك عبادتهم إياهم» ( جامع ترمذی، ابواب التفسیر)

’’کیوں نہیں، وہ علماء و مشائخ ان کے لئے حلال کو حرام قرار دیتے اور حرام کو حلال۔پھر وہ ان کی پیروی کرتے بس یہی چیزان کی عبادت ہے۔‘‘

اور یہ واضح ہے کہ حرام کو حلال کرنے اور حلال کو حرام کرنے کا مسئلہ خالصتاً تشریعی امور سے تعلق رکھتا ہے۔ تشریعاسلامی قانون کو کہا جاتاہے۔

4۔ الٰه: اِلٰه کا لفظ ہرمعبود پر بولاجاتاہے۔ خواہ وہ معبود برحق ہو یا باطل ۔چنانچہ اللہ کے لئے بھی یہ لفظ قرآن میں بکثرت استعمال ہوا ہے اور دوسرے ہر طرح کے معبودانِ باطل کے لئے بھی اور اہل عرب سورج کو اِلٰهَة کہہ کرپکارتے تھے کیونکہ انہوں نے سورج کو معبود بنارکھا تھا۔(مفردات از امام راغب)

سورج عربی زبان میں بطورِ موٴنث استعمال ہوتا ہے اور اِلٰه کی مونث اِلاَھَة آتی ہے۔

اب اس لفظ اِله کی لغوی لحاظ سے خصوصیات درج ذیل ہیں:

1۔ اَلِهَ اَلَهًا سرگشتہ شد (حیران ہوا)

2۔ اَلِهَ اِلَيْهِ ترسید و پناہ گرفت (اس سے ڈرا اور اس کی طرف پناہ پکڑی)

3۔ اَلَهَه امان و زنہار داد (ا س نے اسے امان اور حفاظت دی)

4۔ اَلِهَ اِلاَهَةً پرستید(اس کی پرستش کی) (منتہی الادب)

5۔ بعض کے نزدیک لفظ اِلٰه دراصل وِلاَہٌ تھا، ہمزہ کو واؤ سے بدل کر اِلٰهٌ بنا لیا اور وَلِهَ بمعنی عشق و محبت میں وارفتہ اور بے خود ہونا( اردوزبان میں لفظ والہانہ محبت مشہور ہے)۔ اور چونکہ مخلوق کو اپنے إلہ سے بہت محبت ہوتی ہے۔ اس لئے اسے اِلٰه کہا گیا (مفردات)

(6) بعض کے نزدیک لفظ اِلٰه لَاهَ يَلُوْهٌ لِيَاهًا سے ہے بمعنی پردہ میں چھپ جانا (مفردات)

ان سب معانی کوسامنے رکھا جائے تو ایک معبود (الٰہ)میں درج ذیل صفات کا ہونا ضروری ہے :

(1) اتنی طاقت رکھتا ہو کہ شر سے پناہ دے سکے، گویا وہ کوئی بالادست ہستی ہی ہوسکتی ہے۔

(2) اس کی اس مشکل کشائی اور پناہ دہندگی ظاہری اسباب و علل پر منحصر نہ ہو بلکہ مستور و محجوب ہو۔ گویا یہ پناہ دہندگی یا حجت براری حیران کن طریقہ سے ہو۔

(3) پھر ایسی ہستی سے اس کے طالب کا اشتیاق و محبت تو ویسے ہی ایک ناگزیر امر بن جاتاہے۔

(4) تخلیق کرنے کی صلاحیت

﴿إِنَّ الَّذينَ تَدعونَ مِن دونِ اللَّهِ لَن يَخلُقوا ذُبابًا وَلَوِ اجتَمَعوا لَهُ ﴾ (سورة الحج: 73)

“جن لوگوں کو تم اللہ کے سوا پکارتے ہو، وہ ایک مکھی بھی پیدا نہیں کرسکتے اگرچہ اس کے لئے سب مجتمع ہوجائیں۔”

(5) جو خود مخلوق ہو وہ الٰہ نہیں ہوسکتا

﴿أَيُشرِ‌كونَ ما لا يَخلُقُ شَيـًٔا وَهُم يُخلَقونَ﴾ (سورة الاعراف: 191)

’’کیاوہ ایسی چیزوں کو شریک بناتے ہیں جو کچھ بھی پیدا نہیں کرسکتے بلکہ خود پیدا کئے ہوئے ہیں۔‘‘

(6) جو کھانا کھاتا ہو، وہ الٰہ نہیں ہوسکتا

﴿مَا المَسيحُ ابنُ مَر‌يَمَ إِلّا رَ‌سولٌ قَد خَلَت مِن قَبلِهِ الرُّ‌سُلُ وَأُمُّهُ صِدّيقَةٌ ۖ كانا يَأكُلانِ الطَّعامَ﴾ (سورة المائدة: 75)

’’ مسیح بن مریم کچھ نہیں سوائے اللہ کے پیغمبر کے، ان سے پہلے بھی رسول گزرے۔ ان کی ماں صدیقہ تھیں۔ وہ دونوں تو کھانا کھاتے تھے۔‘‘

گویا اللہ تعالیٰ ربّ بھی ہے اوراِلٰہ بھی۔ ربّ: اس لحاظ سے وہ کائنات کی جملہ اشیا کا پروردگار بھی ہے اور مالک بھی اور ان اشیا میں ہر طرح کے تصرف کا پورا اختیار رکھتاہے اور اِلٰہ: اس لحاظ سے کہ حقیقتاً وہ ہی حاجت روائی اور مشکل کشائی کی طاقت رکھتا ہے کیونکہ اُمورِ کائنات میں تصرف کا اختیار صرف اسی کو حاصل ہے۔ پھر اَحکم الحاکمین بھی وہی ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ قانون سازی کے جملہ اختیارات بھی اسی کو حاصل ہیں اور حاکمیت ِاعلیٰ بھی اسی کو سزاوار ہے۔

5۔ اللہ: بعض اہل لغت کا خیال ہے کہ لفظ اللّٰه، اِلٰهٌ سے ہی بنا ہے۔ وہ یوں کہ پہلا ہمزۂ وصل حذف کرکے اس پر ‘اَل’ تعریف کا داخل کرکے لفظ ‘اللہ’ بنا ہے۔’اِلٰہ‘ اسم نکرہ ہے جس کے معنی ہیں کوئی سا معبود۔ اور ’اللہ‘ اسم معرفہ ہے جس کے معنی ہوئے خاص معبود یاحقیقی معبود۔ اس خیال کے مطابق اکثر اہل لغت اسے ’الٰہ‘ کے تحت لائے ہیں۔

اس کے برعکس بعض علما اس خیال کے سخت مخالف ہیں۔

وہ کہتے ہیں کہ اِلٰہ پر ’اَل‘ داخل کرنے سے سینکڑوں ہزاروں ’الہوں‘ میں سے کون سے الہ پرزور دینامقصود ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ ’اللہ‘ ایک ایسا کلمہ ہے جو شروع ہی سے عربی زبان میں موجود تھا۔ نہ یہ کسی لفظ سے مشتق ہے ، نہ اس سے کوئی دوسرا لفظ مشتق ہے۔ گویا ‘اللہ’ اسم مُرْتَجَل ہے، عَلَم ہے اور جامد للفرد۔ عربوں کا اللہ کے متعلق تصور یہ تھا کہ وہ ہی معبود برحق ہے۔ وہی کائنات کا خالق، مالک اور رازق ہے۔ وہی دعا اور پرستش کا اصل مستحق اور نفع و ضرر کا مالک ہے۔ جیسا کہ قرآن میں ان کے ان معتقدات کا ذکر کئی مقامات پر دہرایا گیا ہے۔

6۔ جبت: جِبْت کے معنی صاحب ’ منتہی الادب‘ نے یوں لکھے ہیں:

’’بت و کاہن و فال گری و جادو وجادوگر، وآنکہ وراں خیر نبا شد ازہر چیز غیر باری تعالیٰ کہ آں را پرستش نمایند‘‘

’’یعنی بت اور ہر وہ چیز جس کی اللہ کے سوا پرستش کی جائے۔نیز کہانت، جادو، فال گیری اور ہر وہ چیز جس میں خیر نہ ہو۔ ‘‘

یہ لفظ دراصل اوہام و خرافات کے لئے ایک جامع لفظ ہے جس میں جادو، ٹونے، ٹوٹکے، جنتر منتر، سیاروں کی تاثیرات، سعد و نحس کے تصورات و توہمات اور گنڈے، تعویذ اور نقش وغیرہ سب کچھ شامل ہے۔

7۔ طاغوت:بمعنی

“لات و عزیٰ و جادو و جادوگر، کاہن و دیو و ہرباطل و بت و ہرچہ بدی راسر شایک و ہرچہ جز خدا است کہ اورا پر ستند و سرکش” (منتہی الادب)

گویا طاغوت ہروہ باطل یا سرکش طاقت ہے جس نے خدا کے مقابلہ میں سرکشی اختیار کی ہو اور بندگی کی حد سے تجاوز کرکے خداوندی کا علم بلند کیا ہو، خواہ یہ کوئی ایک شخص ہو یا گروہ یا ادارہ یا حکومت ہو۔ ارشادِ باری ہے

﴿أَلَم تَرَ‌ إِلَى الَّذينَ أوتوا نَصيبًا مِنَ الكِتـٰبِ يُؤمِنونَ بِالجِبتِ وَالطّـٰغوتِ﴾

’’کیا تم نے ان لوگوں پر غور کیا جنہیں کتاب اللہ کا ایک حصہ ملا ہے لیکن وہ جبت اور طاغوت کو مان رہے ہیں۔‘‘ (سورة النساء: 51)

اس آیت میں’کتاب اللہ’ کے ایک حصہ سے مراد وہ حصہ ہے جو تمدنی، اخلاقی، معاشرتی اور سیاسی احکام پرمشتمل ہے۔

8۔حنیف:حنف (ضد جنف، طرفداری کرنا) بمعنی دوسرے راستے چھوڑ کر یکسو ہوکر دین کی راہ اختیار کرنا (جمع، حنفاء) اور اس سے مراد وہ شخص ہے جونہ تو اللہ کے سوا کسی کو اِلٰہ مانتا ہو نہ ربّ، نہ جِبت کو تسلیم کرتا اور ایمان رکھتا ہو اور نہ طاغوت کے آگے جھکے۔ ارشادِ باری ہے:

﴿وَما أُمِر‌وا إِلّا لِيَعبُدُوا اللَّهَ مُخلِصينَ لَهُ الدّينَ حُنَفاءَ﴾ (سورة البينہ: 5)

’’اور انہیں تو صرف یہ حکم دیا گیا تھاکہ یکسو ہوکر دین کو اللہ کے لئے خالص کرتے ہوئے اس کی بندگی کریں۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں