سورۃ الجمعہ، مدنی: ایک مختصر و جامع تعارف۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

قرآن حکیم کی یہ 62 ویں سورۃ الجمعہ11آیات اور 2 رکوع پر مشتمل ہے اور یہ مدینہ طیبہ میں نازل ہوئی ۔ اگرچہ کہ اس میں نماز جمعہ کے (بنیادی) احکام نازل ہوئے ہیں لیکن اس میں شامل مضامین کاعنوان مجموعی طور پر ’’جمعہ‘‘ نہیں بلکہ یہ دوسری سورتوں کی طرح علامت کے طور پر اس کا نام جمعہ رکھا گیا ہے کیونکہ اس کی آیت کریمہ 9 میں ﴿إِذَا نُوْدِیَ لِصَّلوٰةِ مِنْ یَّوْمِ الْجُمْعَةِ….﴾آیا ہے۔اس سورۃ کے زمانہ نزول کے متعلق کوئی اختلاف نہیں ہے، یہ مدنی سورت ہے۔

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ہم اس روز نبی ﷺ کی خدمت میں حاضر تھے جس روز ’’سورۃ جمعہ‘‘ نازل ہوئی۔ یہ بات اہل علم جانتے ہیں کہ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ صلح حدیبیہ کے بعد اور غزوۂ خیبر سے پہلے اسلام کے باب رحمت میں داخل ہوئے۔ تاریخ اسلام یہ بتاتی ہے کہ خیبر کا غزوہ سنہ 7 ھ میں ہوا۔ ابن ہشام کے نزدیک مہینہ محرم کا تھا اور ابن سعد کے نزدیک جمادی الاولی تھا۔ علاوہ ازیں سورہ ہذا کے مضامین بھی اس بات کی تائید کرتے ہیں کہ یہ مدنی سورۃ ہے (کیوں کہ اس کے پہلے رکوع) میں یہود کو خطاب کیا گیا اورانکی نافرمانیوں ، برے کرتوت اور انبیاء کو جھٹلانے کا ذکر فرماتے ہوے انکی ناکامی کی تصویر پیش کردی گئ تاکہ اہل ایمان اِنکی روش سے بلکل مجتنب رہیں….. ؛ اور دوسرے رکوع میں نماز جمعہ کے متعلق تاکیدی حکم اور اس کے آداب بیان فرمائے گئے ہیں۔ اس طرح ان دونوں رکو عات کا تعلق مدنی عہد سے ہے۔ البتہ نماز جمعہ سے متعلق جو آیات کریمہ ناز ل ہوئی ہیں یہ نبی کریم ﷺ کے مکہ سے ہجرت فرماکر مدینہ تشریف لانے کے فوری بعد یعنی ( یہود سے متعلق آیات کے نزول سے بہت پہلے) کسی قریبی زمانہ ہی میں نازل ہوئی ہیں۔ علماء تفسیر رحمہ اللہ اس سلسلہ میں یوں تحریر فرماتے ہیں کہ ’’ نبی اکرم ﷺ نے مدینہ طیبہ میں اپنی آمد کے پانچویں روز جمعہ قائم فرمایا تھا اور اس رکوع کی آخری آیت کریمہ میں جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے یہ صاف بتارہا ہے کہ وہ اقامت جمعہ کا (نبی کریم ﷺ کی قیادتِ متبرکہ میں) سلسلہ شروع ہونے کے بعد لازماً کسی ایسے موقع پر پیش آیا ہوگا جبکہ مسلمانوں کو دینی اجتماعات کے بارے میں اسکے تقاضے کی پوری تربیت ابھی باقی تھی،لہٰذا اس کے متعلق آداب سکھلائے گئے، اب رہتی دنیا تک ان آداب کا پاس و خیال رکھنا ہر صاحب ایمان کے لئے لازمی ہے،یعنی مسلمان دنیا کے کسی کونے میں رہتے بستے ہوں ان کے لیے فرض ہے کہ وہ نماز جمعہ کو اپنے اوپر ، پورے آداب کے ساتھ لازم کرلیں۔

الغرض پہلے رکوع کا مختصر تعارف یہ ہے کہ یہود اپنی پوری کوششوں کے باجود اسلام کا راستہ روکنے میں ناکام ہوچکے تھے جو اُنھوں نے پچھلے چھ سالوں کے دوران جو کچھ کیا وہ سب رائیگاں ہوا ان کے بڑے بڑے قبیلہ تباہ ہوگئے اور ان میں کے دو قبیلوں کو جلاوطن ہونا پڑا۔ پھر بھی ان کی شرارت اور اسلام کے خلاف بغض و عداوت کا یہ حال تھا کہ اِن یہود نے سازش کرتے ہوئے عرب کے قبائل کو مدینہ پر چڑھائی کرنے پر آمادہ کیا اور آخرکارانہیں چڑھا لائے مگر اس غزوہ ’احزاب‘ میں بھی ان سب نے منہ کی کھائی۔ اب صرف ان کا آخری اور سب سے بڑا گڑھ خیبر رہ گیا تھا (جہاں پر مدینے سے نکلے ہوئے یہودیوں کی بڑی تعداد جمع تھی) ان آیات کریمہ کے نزول کے وقت وہ بھی ( یعنی خیبر کا علاقہ) بلا کسی غیر معمولی زحمت کے فتح ہوگیا۔ ان یہود کا، اللہ تبارک و تعالیٰ اور اس کے حبیب ﷺ اور اسلام سے ٹکرانے کا یہ انجام ہوا کہ اُنھوں نے خود یہ درخواست کی کہ ہم مسلمانوں کے کاشتکار بن کر رہنا قبول کرتے ہیں۔ اس طرح ان یہود کی اس آخری شکست نے سارے عرب میں ان کی طاقت کا خاتمہ کردیا صرف اتنا ہی نہیں بلکہ وادیٔ القریٰ ، فدک ، تیما اور تبوک سب ایک کے بعد ایک کرکے اسلام کے آگے ہتھیار ڈالتے چلے گئے۔ یہاں تک کہ عرب کے سارے یہودیوں نے جو اسلام کو برداشت کرنا تو درکنار اس کا نام سننا بھی ان کو گراں گزرتا تھا اب اسی اسلام کی رعایا بن کر رہ گئے۔ ایسے موقع پر اللہ تبارک و تعالیٰ اس سورہ کے پہلے حصہ میں ان یہود کو پھر ایک مرتبہ خطاب فرمایا اور تین باتیں ارشاد فرمائی گئیں۔ غالباً قرآن مجید میں یہود سے متعلق یہ آخری خطاب ہے۔

سورہ کا آغاز اللہ تعالیٰ کی تسبیح اور اس کی صفات کے ذکر سے ہوتا ہے۔ جس میں یہ بات بھی شامل ہے کہ ساری کائنات کا بادشاہ (بلا کسی شرکت غیرے ، کسی اور کی شرکت و ساجھے داری کے ) صرف اور صرف اللہ تعالیٰ ہے جو ہر نقص سے پاک ہے ، اس کے فیصلے اٹل ہوتے ہیں کہ کسی میں طاقت نہیں کہ اسے ٹال دے یا بدل دے کیوں کہ وہی سب پر غالب ہے اور اس کی شان یہ ہے کہ وہ ان صفات کمال سے متصف ہونے کے باوجود اس کے سارے کام حکمت کے عین مطابق ہیں۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ یہود کے اس غرور کا تذکرہ فرماتا ہے جو انہیں محمدﷺ کی رسالت کو تسلیم کرنے سے روک رکھا ہے کیوں کہ رسول اللہ جس قوم سے مبعوث فرمائے گئے تھے یہ یہود کو ناپسند تھا۔ یہود کا اپنا یہ مفروضہ اور انکے دل کی جلن کا یہ اظہار تھا کہ اُمیوں میں کوئی رسول نہیں آسکتا۔ یہاں اللہ تعالیٰ نے اُمیین کا ذکر فرماتے ہوئے یہودیوں کے اس زعم باطل کو رد فرمادیا۔

لفظ اُمی کی تحقیق کرتے ہوےحضرت علامہ ابن منظور رحمہ اللہ (ایک مشہور عالم کبیر) لکھتے ہیں کہ

” یعنی امی وہ ہے جو لکھ نہ سکے۔زجاج کہتے ہیں کہ امی اس کو کہتے ہیں کہ جو اپنی پیدائش کے وقت کی حالت پر رہے۔ جس نے لکھنا نہ سیکھا ہو۔ اہل عرب کو بھی امیین کہا جاتا کیونکہ ان میں لکھنا نادر بلکہ معدوم تھا۔“ (ماخوز)

اصل بات تو یہ ہے کہ”نبوت“ عطا کرنا یہ محض اللہ تعالیٰ کا فضل ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے اس کے عطا کردہ فضل پر کسی کو معترض ہونے کا ذرہ برابر بھی حق نہیں ہے۔ کیونکہ وہ قادر و مختار ہے جسے چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے لہٰذا اس نے اپنی مہربانی سے بغیر پڑھے لکھے ہوے لوگوں میں ایسا رفیع الشان اورجلیل القدر رسول محترم کو مبعوث فرمایا جن کی تعلیم کے برکات روز روشن کی طرح عیاں ہے اور آپکی زبان مبارک سے علوم و حکمت کے عظیم چشمہ پھوٹ رہے ہیں ۔ تم خود اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہو کہ یہ کتاب اللہ کو سنارہے ہیں نفوس کا تزکیہ فرما رہے ہیں اور آپ کی تعلیم کے اثر سے جو لوگ گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ان کے اندر صالح تبدیلی آرہی ہے یہ سب چیزیں شہادت کے طور پر تمہارے سامنے ہیں اسے دیکھو سبق حاصل کرو…! ، یہ رسول صرف تمہارے لئے نہیں ہے بلکہ آپ (ﷺ) کی رسالت قیامت تک کے لئے نوع انسانی کی ہدایت کے لئے ہے۔

دوسری بات یہ بیان فرمائی گئی کہ تم کو’’تورات‘‘ کا حامل بنایا گیا تھا مگر تم نے اس کی ذمہ داری نہ سمجھی اور نہ ادا کی،تمہاری حالت اس گدھے(DONKEY) جیسی ہے جس کی پیٹھ پر کتابیں لدی ہوئی ہوں اور اسے کچھ نہیں معلوم کہ اس نے کس چیز کا بار اُٹھائے ہوئے ہے۔ بلکہ گدھے سے بھی بدتر حالت ہے ان لوگوں کی کیوں کہ گدھا سمجھ بوجھ اپنے اندر نہیں رکھتا۔

معروف مفسر، حضرت مولانا حافظ صلاح الدین یوسف رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ

﴿مَثَلُ الَّذِیْنَ حُمِّلُوا التَّوْرٰىةَ ثُمَّ لَمْ یَحْمِلُوْهَا كَمَثَلِ الْحِمَارِ یَحْمِلُ اَسْفَارًا١ؕ بِئْسَ مَثَلُ الْقَوْمِ الَّذِیْنَ كَذَّبُوْا بِاٰیٰتِ اللّٰهِ١ؕ وَ اللّٰهُ لَا یَهْدِی الْقَوْمَ الظّٰلِمِیْنَ﴾

’’ جن لوگوں کو تورات پر عمل کرنے کا حکم دیا گیا پھر انہوں نے اس پر عمل نہیں کیا ان کی مثال اس گدھے کی سی ہے جو بہت سی کتابیں لادے ہو۔اللہ کی باتوں کو جھٹلانے والوں کی بڑی بری مثال ہے اور اللہ (ایسی) ظالم قوم کو ہدایت نہیں دیتا۔

حاشیہ(1) *اَسْفَار سَفْر* کی جمع ہے، معنی ہیں بڑی کتاب۔ کتاب جب پڑھی جاتی ہے تو انسان اس کے معنوں میں سفر کرتا ہے اس لئے کتاب کو سفر کہا جاتا ہے (فتح القدیر) یہ بےعمل یہودیوں کی مثال بیان کی گئی ہے کہ جس طرح گدھے کو معلوم نہیں ہوتا کہ اس کی کمر پر جو کتابیں لدی ہیں، ان میں کیا لکھا ہوا ہے۔ یا اس پر کتابیں لدی ہوئی ہیں یا کوڑا کرکٹ۔ اسی طرح یہ یہودی ہیں یہ تورات کو تو اٹھائے پھرتے ہیں، بلکہ اس میں تاویل و تحریف اور تغیر وتبدل سے کام لیتے ہیں۔ اس لیے یہ حقیقت میں گدھے سے بھی بدتر ہیں، کیونکہ گدھا تو پیدائشی طور پر فہم وشعور سے ہی عاری ہوتا ہے، جب کہ ان کے اندر فہم و شعور ہے لیکن یہ اسے صحیح طریقے سے استعمال نہیں کرتے۔ اسی لیے آگے فرمایا کہ ان کی بڑی بری مثال ہے۔ اور دوسرے مقام پر فرمایا:

﴿ اُولٰىِٕكَ كَالْاَنْعَامِ بَلْ هُمْ اَضَلُّ اُولٰىِٕكَ هُمُ الْغٰفِلُوْنَ ﴾ (سورۃ الاعراف : آیت179)

” یہ چوپائے کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی بدتر ہیں، یہی مثال مسلمانوں کی اور بالخصوص (ان) علماء کی ہے جو قرآن پڑھتے ہیں اسے یاد کرتے ہیں اور اس کے معانی ومطالب کو سمجھتے ہیں لیکن اس کے مقتضی پر عمل نہیں کرتے۔ (تفسیر: احسن البیان)

﴿واللہ لا یھدی القوم الظلمین﴾

اور اللہ تعالی نہیں ہدایت دیتا ظالم قوم کو۔

یہاں یہ بات اچھی طرح ذہن نشین رہنی چاہیے کہ جو لوگ طالب ہدایت ہوتے ہیں انہیں اللہ تعالی ہدایت سے نوازتا ہے ، یعنی اللہ تعالی کی ہدایت معاذ اللہ کوئ ایسی کم وزن شے نہیں ہے جسے ہر شخص کی جھولی میں زبردستی ڈال دیا جاے۔ یہ تو صرف اسی شخص کو ملے گی جس کے دل میں اس کے حصول کی سچی تمنا وتڑپ ہوگی اور جو اسکے حصول کے لیے تک ودو اور سعی بھی کرے گا !۔

تیسری چیز یہ کہ یہود اپنے آپ کو خدا کے چہیتے سمجھتے تھے اور جنت صرف اپناحق سمجھ بیٹھے تھے اس سلسلہ میں فرمایا گیا کہ اگر تم اپنے اس زعم میں سچے ہو تو مرنے کی تمنا کیوں نہیں کرتے ، حقیقت یہ ہے کہ یہ کبھی مرنے کی تمنا نہیں کریں گے کیونکہ یہ بُرے اعمال کرچکے۔ ان ظالموں سے کہہ دیا گیا کہ تم جس موت سے بھاگتے ہو وہ تمہیں آکر رہے گی اور تمہیں یہ بتادیا جائے گا کہ تم دنیا میں کیا کچھ کرکے آئے ہو۔

دوسرے رکوع میں اہل ایمان کی تربیت فرماتے ہوے یہ تاکید کی گئی کہ جب نماز جمعہ کے لئے پکارا (اذان دی) جائے تو اپنے کاروبار کو چھوڑ کر اللہ کے ذکر کی طرف دوڑو یہ طریقہ تمہارے لئے بہتر ہے۔

اور جب نماز ”جمعہ“ پوری ہوجائے تو اپنے حسب معمول زمین میں پھیل جاؤ اور اللہ کافضل تلاش کرو ، یعنی (کاروبار زندگی میں مصروف ہوکر اللہ کی طرف سے عطا ہونے والی نعمتوں کے حصول کے لیے سرگرم ہوجاؤ مگر اس بات کا خوب خیال رہے کہ قدم قدم پر اللہ کو کثرت سے یاد رکھنا)۔ مختصر یہ کہ جب نماز جمعہ کے لئے بلایا جاے تو سب کام ، کلام کاروبار و لین دین کوچھوڑ کر اللہ کے ذکر کے لئے مسجد کی طرف دوڑو اور جب نماز مکمل ہوجاے تو حسب معمول کاروبار زندگی کے لیے مصروف ہوجا سکتے ہو۔ علامہ محمد کرم شاہ الازھری رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ” اللہ تعالی کے ذکر کو صرف نماز تک محدود نہیں رکھنا چاہیے بلکہ جب بھی موقع ملے اللہ کاذکر کرناچاہیے۔ آپ کوئ کام کر رہے ہوں اس وقت بھی آپ کو اللہ کےذکرسے اپنی زبان کو ترو تازہ رکھنا چاہیے۔اللہ تعالی کے حکم کی تعمیل اور اس کے ذکر کی کثرت سے ہی فلاح دارین نصیب ہوسکتی ہے“ ( ضیاء القرآن جلد پنجم صفحہ 239تا 240 حاشیہ 14،15)

آخری آیت کریمہ میں اہل ایمان کو ایک خاص واقعہ کی طرف متوجہ کیاگیا، جس میں خطبہ کے دوران کچھ لوگوں نے آپ ﷺ کو کھڑاچھوڑ دیا، یعنی جب نبی کریمﷺ خطبہ ارشاد فرمارہے تھے اس اہم موقع پر،ایک تجارتی قافلہ آیا ان کی آواز سن کر بعض اصحاب (جو ابھی تربیت پارہے تھے یاجمعہ کے شرائط سے مکمل طور پر واقف نہ تھے ……) خرید و فروخت میں لگ گئے ﴿وتَرَکُوكَ قَآئِمًا﴾اور آپﷺ کو کھڑی حالت میں چھوڑ دیا ایسے موقع پر اللہ تعالیٰ اِنہیں تعلیم دیتے ہوے ارشاد فرمایا کہ

دنیوی مقصد کے حصول کیلئے اُٹھ کر چلے نہ جایا کرو کیونکہ اللہ تعالیٰ بہتر رزاق ہے یعنی سارے رزق کے خزانے اسی کے قبضۂ قدررت میں ہے پھر تمہیں فکر واندیشہ کس بات کا …!؟ چنانچہ اس بارے میں ارشاد ربانی یوں ہوا،

﴿وَإِذَا رَأَوْا تِجَارَةً أَوْ لَهْوًا انفَضُّوا إِلَيْهَا وَتَرَكُوكَ قَائِمًا…﴾

’’ اور جب انہوں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑ دیا۔ ان سے کہو، جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے۔ اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔‘‘

مولانا سید ابوالاعلی مودودی رحمھم اللہ لکھتے ہیں کہ

’’ یہ ہے وہ واقعہ جس کی وجہ سے اوپر کی آیات میں جمعہ کے احکام ارشاد فرمائے گئے ہیں۔ اس کا قصہ جو کتب حدیث میں حضرت جابر بن عبداللہ، حضرت عبداللہ بن عباس، حضرت ابوہریرہ، حضرت ابو مالک رضی اللہ عنہم اور حضرات حسن بصری،ابن زید، قتادہ اور مقاتل بن حیان رحمہم اللہ سے منقول ہوا ہے، یہ ہے کہ مدینہ طیبہ میں شام سے ایک تجارتی قافلہ عین نماز جمعہ کے وقت آیا اور اس نے ڈھول تاشے بجانے شروع کیے تاکہ بستی کے لوگوں کو اس کی آمد کی اطلاع ہوجائے۔ رسول اللہ ﷺ اس وقت خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ ڈھول تاشوں کی آوازیں سن کر لوگ بےچین ہوگئے اور 12 آدمیوں کے سوا باقی سب بقیع کی طرف دوڑ گئے جہاں قافلہ اترا ہوا تھا۔ اس قصے کی روایات میں سب سے زیادہ معتبر روایت حضرت جابؓر بن عبداللہ کی ہے جسے امام احمد، بخاری، مسلم، ترمذی، ابوعوانہ، عبد بن حُمید، ابویعلیٰ رحہم اللہ وغیرہم نے متعدد سندوں سے نقل کیا ہے۔ اس میں اضطراب صرف یہ ہے کہ کسی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ

یہ واقعہ نماز کی حالت میں پیش آیا تھا، اور کسی میں یہ ہے کہ یہ اس وقت پیش آیا جب حضورخطبہ دے رہے تھے۔ لیکن حضرت جابر رضی اللہ عنہ اور دوسرے صحابہ وتابعین کی تمام روایات کو جمع کرنے سے صحیح بات یہ معلوم ہوتی ہے کہ

یہ دوران خطبہ کاواقعہ ہے اور حضرت جابر رضی اللہ عنہ نے جہاں یہ کہا ہے کہ یہ نماز جمعہ کے دوران میں پیش آیا، وہاں دراصل انہوں نے خطبے اور نماز کے مجموعہ پر نماز جمعہ کا اطلاق کیا ہے۔

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کی روایت میں بیان کیا گیا ہے کہ اس وقت 12 مردوں کے ساتھ سات (7) عورتیں باقی رہ گئیں تھی۔ (ابن مردویہ)

قتادہ کا بیان ہے کہ 12 مردوں کےساتھ ایک عورت تھی(ابن جریر۔ابن ابی حاتم)۔

دارقطنی کی ایک روایت میں 40 افراد اور عبد بن حُمَید کی روایت میں 7 نفر بیان کیے گئے ہیں۔ اور فرّاء نے 8 نفر لکھے ہیں۔ لیکن یہ سب ضعیف روایات ہیں۔ اور قتادہ کی یہ روایت بھی ضعیف ہے کہ

اس طرح کا واقعہ تین مرتبہ پیش آیاتھا (ابن جریر)۔

معتبر روایت حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کی ہے جس میں باقی رہ جانے والوں کی تعداد 12 بتائی گئ ہے۔اور قتادہ کی ایک روایت کے سوا باقی تمام صحابہ رضی اللہ عنہم وتابعین کی روایات اس پر متفق ہیں کہ یہ واقعہ صرف ایک مرتبہ پیش آیا۔

باقی رہ جانے والوں کے متعلق مختلف روایات کو جمع کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ ان میں حضرت ابو بکر، حضرت عمر، حضرت عثمان،حضرت علی،حضرت عبد اللہ بن مسعود، حضرت عمار بن یاسِر،حضرت سالم مولیٰ حزیفہ، اور حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہم شامل تھے۔

حافظ ابو یعلی رحمہ اللہ نے حضرت جابربن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے جو روایت نقل کی ہے اس میں بیان کیا گیا ہے کہ جب لوگ اسطرح نکل کر چلے گئے اور صرف بارہ اصحاب رضی اللہ عنہم باقی رہ گئے تو اُن کو خطاب کرکے حضورﷺ نے فرمایا:

«والذی نفسی بیدہ لو تتابعتم حتی لم یبق منکم احد لسال بکم الوادی نارًا »

”اگر تم سب چلے جاتے اور ایک بھی باقی نہ رہتا تو یہ وادی آگ سے بہ نکلتی“ اسی سے ملتا جلتا مضمون ابن مردویہ نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہم سے اور ابن جریر نے قَتادہ سے نقل کیا ہے۔(تفہیم القرآن جلد پنجم صفحہ 502تا 503 حاشیہ 19)

مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ اس بارے میں لکھتے ہیں کہ

”اس آیت میں ان لوگوں کو تنبیہ کی گئی ہے جو جمعہ کا خطبہ چھوڑ کر تجارتی کا م کی طرف متوجہ ہوگئے تھے، امام ابن کثیررحمہ اللہ نے فرمایا کہ

یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ نبی کریم (ﷺ) خطبہ جمعہ نماز جمعہ کے بعد دیا کرتے تھے جیسا کہ عیدین میں اب بھی یہی معمول ہے، ایک جمعہ کے روز یہ واقعہ پیش آیا کہ نماز جمعہ سے فارغ ہو کر رسول اللہ (ﷺ) خطبہ دے رہے تھے کہ

اچانک ایک تجارتی قافلہ مدینہ طیبہ کے بازار میں پہنچا اور ڈھول باجہ وغیرہ سے اس کا اعلان ہونے لگا، اس وقت نماز جمعہ سے فراغت ہوچکی تھی، خطبہ ہو رہا تھا، بہت سے حضرات صحابہ بازار چلے گئے اور آپ کے ساتھ تھوڑے سے حضرات رہ گئے جن کی تعداد بارہ بتلائی گئی ہے۔ (یہ روایت ابوداؤد نے مراسیل میں بیان فرمائی ہے)

بعض روایات حدیث میں ہے کہ رسول اللہ (ﷺ) نے اس واقعہ پر فرمایا کہ اگر تم سب کے سب چلے جاتے تو مدینہ کی ساری وادی عذاب کی آگ سے بھر جاتی (رواہ ابو یعلی، ابن کثیر)

امام تفسیر مقاتل کا بیان ہے کہ یہ تجارتی قافلہ دحیہ بن خلف کلبی کا تھا، جو ملک شام سے آیا تھا اور تجارِ مدینہ میں اس کا قافلہ عموماً تمام ضروریات لے کر آیا کرتا تھا اور جب مدینہ کے لوگوں کو اس کی آمد کی خبر ملتی تھی تو سب مرد و عورت اس کی طرف دوڑتے تھے، یہ دحیہ بن خلف اس وقت تک مسلمان نہ تھے بعد میں داخل اسلام ہوئے۔

اور حسن بصری رحمہ اللہ اور ابو مالک رحمہ اللہ نے فرمایا کہ

یہ وہ زمانہ تھا جبکہ مدینہ میں اشیاء ضرورت کی کمی اور سخت گرانی تھی (تفسیر مظہری) یہ اسباب تھے کہ حضرات صحابہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کی بڑی جماعت تجارتی قافلہ کی آواز پر مسجد سے نکل گئ ، اول تو نماز فرض ادا ہوچکی تھی، خطبہ کے متعلق یہ معلوم نہ تھا کہ جمعہ میں وہ بھی فرض کا جز ہے، دوسرے اشیاء کی گرانی، تیسرے تجارتی قافلہ پر لوگوں کا ٹوٹ پڑنا، جس سے ہر ایک کو یہ خیال ہوسکتا تھا کہ دیر کروں گا تو اپنی ضروریات نہ پا سکوں گا۔

بہر حال ان اسباب کے تحت حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے یہ لغزش ہوئی جس پر حدیث مذکور میں وعید کے الفاظ آئے کہ سب کے سب چلے جاتے تو اللہ کا عذاب آجاتا، اسی پر عار دلانے اور تنبیہ کرنے کے لئے آیت مذکورہ نازل ہوئی اذا راوا تجارة اور اسی کے سبب رسول اللہ (ﷺ) نے خطبہ کے معاملے میں اپنا طرز بدل دیا کہ نماز جمعہ سے پہلے خطبہ دینے کا معمول بنا لیا اور یہی اب سنت ہے۔“( ابن کثیر: (بحوالہ معارف القرآن جلدہشتم صفحہ 443تا444 )

حاصل کلام: ان آیات کی روشنی میں ہم اپنے حال پر غورکرلیں، ہم سے خطبہ جمعہ اور نماز کے متعلق جو کچھ بھی کوتاہی اگر ہورہی ہوتو اپنی اصلاح کرلیں یہی سورہ جمعہ کا اہم پیغام important message ہے۔

٭٭٭

متکبر خواہش پرست اور گناہ پر اصرار کرنے والا قرآن کی لذت و حلاوت سے محروم رہتا ہے

امام ابن قدامہ رحمہ الله فرماتے ہیں :

“من موانع فهم القرآن والتلذذ به: أن يكون التالي مصراً على ذنب،أو متصفاً بكبر، أو مبتلى بهوى مطاع، فإن ذلك سبب ظلمة القلب وصدئه، فالقلب مثل المرآة، والشهوات مثل الصدأ، ومعاني القرآن مثل الصور التي تتراءى في المرآة.”

’’قرآن کو سمجھنے اور اس کے لطف و حلاوت سے محروم رہنے کی بڑی رکاوٹوں میں سے یہ ہے کہ قاری کسی گناہ پر اصرار کر رہا ہو، یا تکبّر کی صفت میں مبتلا ہو، یا کسی خواہشِ نفس کا اسیر ہو۔

یہ چیزیں دل میں تاریکی اور زنگ پیدا کرتی ہیں، کیونکہ دل آئینے کی طرح ہوتا ہے، خواہشات اس پر لگنے والے زنگ کی مانند ہیں، اور قرآن کے معانی اُس آئینے میں ظاہر ہونے والی تصاویر کی طرح۔‘‘

(منہاج القاصدين : ص 45)

٭٭٭

تبصرہ کریں