
60 آیات پر مشتمل قرآن حکیم کی یہ 51 ویں سورت ’’الذاريات‘‘ بھی نبی مکرم ﷺ کی (مکی) حیات طیبہ کے اس دور میں نازل شدہ سورت ہے جس کا ذکر گزشتہ کے مضمون میں سورۃ ’’ق‘‘ کے تحت میں آچکا ، یعنی یہ سورت بھی اسی زمانے میں نازل ہوئی تھی جس میں سورۃ ’’ق‘‘ نازل ہوئی ہے۔
سورہ ق میں آخرت پر زور دیا تھا اور یہ بتادیا گیا تھا کہ آخرت کا واقع ہونا یقینی ہے۔ مر کر دوبارہ اُٹھایا جانا ،حساب و کتاب کے بارے میں تذکرہ بھی ہوا اور جو لوگ مر کر دوبارہ اُٹھائے جانے کی بات پر تعجب میں پڑے ہوئے تھے ان کی اس غلط فہمی پر پرزور دلائل کے ساتھ جواب دیا گیا۔ اس طرح اس سورت (الذٰاریٰت) کا ایک بڑا حصہ بھی آخرت کے موضوع پر مشتمل ہے لیکن اس کے ساتھ ساتھ اللہ تبارک و تعالیٰ نے جہاں پر آخرت والی ابدی زندگی پر ارشاد فرمایا وہیں پر اسکے آخری حصہ میں توحید کی دعوت پیش فرمائی۔
سورۃ کا آغاز قسم سے ہوتا ہے ، اپنی قدرت کاملہ کا اظہار فرماتے ہوئے متعدد چیزوں کی قسمیں کھاکر یہ بات واضح فرمائی گئی کہ قیامت کی آمد کا جو وعدہ کیا جارہا ہے یہ حق ہے اور سچا ہے لہٰذا وہ دن ضرور واقع ہوکر رہے گا۔ یہ وہ دن ہوگا جہاں پر نیک و بد لوگوں کو ان کے اعمال کے عین مطابق انصاف کے ساتھ جزاء و سزا کا فیصلہ کردیا جائے گا۔ کفار جو منکر قیامت ہیں ان کے پاس کوئی دلیل ہرگز نہیں ہے ، یہ تو بس اپنی خام خیالی میں مبتلا ہوکر اپنے میں مگن زندگی گزار رہے ہیں جن کی کوئی حقیقت نہیں اور وہ اپنی اس بے اصل باتوں سے اس لئے مطمئن ہیں کہ انھیں عیش و عشرت کا نشہ چڑھا ہوا ہے۔ ان کا یہ نشہ اس وقت اُترے گا ، جب موت ان کے سامنے آئے گی اور اس کا تلخ گھونٹ یہ پئیں گے۔ اس وقت آخرت کی فکر نہ کرنے والے اور آخرت کا انکار کرنے والے کے حصہ میں سوائے حسرت و ندامت کے کچھ آنے والا نہیں۔ روز قیامت کو جھٹلانے والے لوگ نبی ﷺسے مذاق کے طور پر سوال کیا کرتے تھے کہ وہ دن کب آئے گا ، اس کے جواب میں یہ فرمایا گیا کہ یہ اس دن ہوگا جب وہ آگ پر تپائے جائیں گے اور اس دن ان سے کہا جائے گا کہ اپنی سزا کا مزہ چکھو ، اللہ کے کلام میں یہ خصوصیت پائی جاتی ہے کہ جہاں پر اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے باغی بندوں کا تذکرہ فرماکر ان کی دردناک سزاؤں کا ذکر کرتا ہے وہیں پر ہم کو یہ بھی پڑھنے کو ملتا ہے کہ وہ اپنے فرماں بردار بندوں کے ساتھ کس کس طریقہ سے رحم و کرم و انعام کا معاملہ فرماتا ہے۔ اس کا ذکر کرتے ہوئے اہل ایمان کے کچھ خصوصی اعمال کا تذکرہ فرمایا۔ مثلاً پہلی خوبی یہ ہے کہ یہ لوگ رات کو کم ہی سوتے ہیں اور (راتوں کو اُٹھ کر اللہ سے) مغفرت طلب کرتے ہیں۔
دوسری خاص بات ان میں یہ ہوتی ہے کہ ان کے پاس کوئی سوال کرتا تو اپنے مال میں سے کچھ نہ کچھ ضرور دیتے ، (خالی ہاتھ نہیں لوٹاتے) اور جو لوگ سماج میں کمزور ہیں، ان مستحقین کی امداد کے لئے فکرمند رہا کرتے ہیں۔
پھر آگے آیات 20 تا 21 میں کفار کی توجہ تکوینی اور آفاقی دلائل کی طرف مبذول کرائی گئی ہے اور یہ بتایا گیا کہ کائنات کی ہر چیز میں تمہیں قدم قدم پر نشانیاں ملیں گی ، اگر تمہاری نظر اتنی رسا نہیں تو خود اپنی ذات پر غور کرو کہ اللہ نے تمہیں کس طرح ایک حقیر قطرہ سے پیدا فرماکر ، ایک بے جان قطرۂ آب سے ایک زندہ انسان بناکر تمہیں دنیا میں لایا۔
اس سورۃ میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے بندوں کو اس بات کا اطمینان دلاتے ہیں کہ تمہارا رزق ہمارے ہاتھ میں ہے ، بتانا یہ مقصود ہے کہ ہر قسم کی نعمتوں کے خزانے ہمارے پاس ہیں۔ ہم سے مانگو ، ہم تمہاری جھولی بھر دیں گے۔ یہ بات یاد رہنی چاہئے کہ رزق سے مراد صرف کھانے پینے کا سامان ہی نہیں ہے بلکہ انسان کی بقاء ذہنی و جسمانی اور روحانی نشوونما کے لئے جن جن چیزوں کی ضرورت انسان کو آن پڑتی ہے اللہ نے ان سب چیزوں کو مہیا فرمادیا۔
سورۃ کی ابتداء میں مختلف چیزوں کی قسم کھائی گئی اور جواب قسم میں حقائق کی طرف انسانوں کو متوجہ کیا گیا تھا پھر دوبارہ آیت 23 میں اللہ عزوجل خود اپنی ذاتِ والا صفات کی قسم اُٹھاکر فرماتے ہیں کہ :
﴿فَوَرَبِ السَّمَآئِ وَالَارْضِ اِنَّـہُ لَحَقٌّ﴾
’’پس قسم ہے آسمان اور زمین کے رب کی یہ حق ہے ، یعنی یوم جزاء حق ہے وہ ضرور آئیگا۔‘‘ (جسکی طرف یہ قرآن تمیں متوجہ کررہا ہے)
اب آگے کی آیات کریمہ میں قانون مکافات کی سچائی کو ثابت کرنے کیلئے دلائل پیش فرمائے گئے جو تاریخی حیثیت سے اہمیت کے حامل ہیں۔ سب سے پہلے حضرت ابراہیم علیہ الصلوٰۃ والسلام کے حالات کا ذکر کرتے ہوئے آپؑ کو بڑھاپے میں ایک فرزند ارجمند کی ولادت کی خوشخبری دی گئی ، اس طرح اللہ نے اپنے قادر مطلق ہونے کا اظہار فرمایا ، پھر آگے چند ایسی بدبخت قوموں کا تذکرہ کیا گیا جو فسق و فجور میں مبتلا رہیں اور ان کا سب سے بڑا جرم یہ کہ اُنھوں نے اپنے حقیقی ہمدرد (انبیاء علیہم السلام) کی دعوت کو ٹھکراتی رہیں ان کا جو انجام بد ہوا وہ سب کیلئے درس عبرت ہے۔ یہاں پر یہ بتلانا مقصود ہے کہ جس طرح گزشتہ قومیں انبیاء علیہ السلام کی بات کو نہ مان کر اپنا ہی نقصان کر بیٹھیں ، ٹھیک اسی طرح حضرت محمد ﷺ کی تعلیمات سے رو گردانی کرو گے ، توحید ورسالت ، آخرت کا انکار کرو گے تو خوب یاد رکھنا تمہارا بھی وہی انجام ہونے والا ہے۔
تیسرے اور آخری رکوع کا آغاز ایک نئی شان سے ہوتا ہے۔اللہ تعالیٰ نے اپنی بے مثال کاریگری کا اظہار فرماتے ہوئے زمین و آسمان کی طرف اشارہ کرتا ہے تاکہ بند ذہنوں کو کھولے اور جو لوگ حق کو قبول کرنا چاہتے ہیں ان کے لئے راہیں ہموار ہوں۔ اپنی قدرت کی مزید نشانی کے طور پر یہ بات بھی یاد دلائی گئی کہ اللہ نے ہر چیز کے جوڑے بنائے تاکہ باہم اختلاط سے نسل انسانی کا سلسلہ (قیامت تک) جاری رہے۔ جوڑوں کی پیدائش صرف انسانوں کی حد تک محدود نہیں ہے بلکہ ہر وہ چیز جو دیکھی جاتی ہو یا جو چیزیں انسان نے ابھی دیکھی نہیں اور محسوس نہیں کی ہیں اس کے بھی اللہ نے جوڑے جوڑے بنائے ہیں۔ الغرض یہاں پر ہر چیز کا جوڑا جوڑا ہونا اس بات کی شہادت دے رہا ہے کہ یہ جو دنیا تم دیکھ رہے ہو اس کا بھی جوڑا ہے وہ ہے آخرت والی زندگی۔ اب انسان کیلئے صرف یہی ایک راستہ رہ جاتا ہے کہ وہ ایسی شان والے مالک و خالق ہی کی بندگی کی طرف دوڑے (جس کی رہنمائی اللہ کے محبوب بندے و رسول برحق محمد ﷺ فرمارہے ہیں) ۔
جو لوگ نبی ﷺ کو معاذ اللہ، کبھی ساحر اور کبھی مجنوں کہا کرتے تھے ، اس سلسلہ میں یوں فرمایا کہ آج پہلی بار یہ واقعہ پیش نہیں آیا ہے کہ اللہ کے بھیجے ہوئے رسول کی زبان سے آخرت کی توحید کی دعوت سن کر لوگ اسے ساحر اور مجنوں کہہ رہے ہیں۔ کلام کا رُخ حضرت محمد ﷺ کی طرف پھرتا ہے اور آپﷺ سے فرمایا جارہا ہے کہ
اے میرے حبیبﷺ! ان سرکشوں سے اپنا رُخ پھیر لیجئے ، یعنی اس آیت کریمہ میں دین حق کی تبلیغ کا ایک قاعدہ بیان فرمادیا گیا کہ جو لوگ حقائق و دلائل کو واضح انداز میں پیش کرنے کے باوجود شکوک وشبہات کو دور کرنے کے بعد بھی داعی حق کی بات پر لبیک نہیں کہتے تو یہ ان کی ذمہ داری ہے؛ آیت 56 میں،
انسانوں اور جنات کی پیدائش کا مقصد بیان فرماتے ہوئے یہ بات صاف طور پر فرمادی گئی کہ ان کی تخلیق کا مقصد صرف یہی ہے کہ یہ میری بندگی کریں، یعنی بتلایا گیا کہ
” اور میں نے جن و انسان کو جو بنایا ہے تو اپنی بندگی کے لیے۔“
اس کے ساتھ ساتھ ایک اور حقیقت کو کھول کر بیان کردیا گیا کہ اللہ کسی سے رزق طلب نہیں کرتا اور نہ ہی وہ اس کا متمنی ہے۔ اصل بات تو یہ ہے کہ اللہ ہی خود رزاق (رزق عطا کرنے والا) ہے اور وہ زبردست ہے یعنی اللہ کی ذات گرامی ایسی قدرت والی ہے جسے کوئی دوسری طاقت ہلا نہیں سکتی اور وہ غیر متزلزل ہستی کا مالک ہے جن لوگوں کو آخرت کا خوف دلایا گیا اور ہر طرح سے سمجھایا گیا پھر بھی اپنی روش میں تبدیلی نہیں لاتے، اپنے باطل و جاہلانہ طور طریقوں پر ہی جمے رہے ایسے لوگوں کیلئے تباہی ہے۔
یعنی اس سورت کی آخری آیت 60 میں کہدیا گیا کہ ”آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اس روز جس کا انہں خوف دلایا جارہا ہے۔“
آخرت کا ڈر خوف اور سخت دھمکی دیتے ہوے ان لوگوں کو دنیا و آخرت کی تباہی سے بچنے کا انتباہ دیا گیا۔۔۔
مفسرین کرام نے اسے روز قیامت کی تباہی و بربادی کی طرف اشارہ فرمایا اور بعض نے بدر کے میدان میں ہونے والےخسارہ کی بات بھی بتلائی۔
﴿ فَوَيْلٌ لِّلَّذِينَ كَفَرُوا مِن يَوْمِهِمُ الَّذِي يُوعَدُونَ ﴾
اگرچہ عام ہے لیکن یہاں مراد کفار قریش ہی ہیں جو رسولﷺ کے انذار کو محض دھونس خیال کرکے اسے زِچ کرنے کے لئے، مطالبہ کررہے تھے کہ اگر اس طرح کا کوئی عذاب آنا ہے تو وہ آجائے، اس کو دیکھے بغیر ہم اس کو ماننے والے نہیں ہیں۔ فرمایا کہ اس دن کے لئے جلدی نہ مچائیں۔ وہ بڑا ہی کٹھن دن ہوگا۔ اس دن کے سبب سے ان کو جن ابدی ہلا کتوں سے سابقہ پیش آئے گا ان سے ان کو کوئی پناہ نہ دے سکے گا۔
(مستفاد کتب واقتباسات: تفہیم القرآن، ضیاءالقرآن، تدبر قرآن، تفسیر مظہری اور تفسیر حقانی)
٭٭٭
علماء کا ادب واحترام
عبد الرحمن بن حرملہ اسلمی بیان کرتے ہیں کہ
’’کوئی بھی شخص سعید بن مسیب رحمہ اللہ سے سوال کرنے کی جرأت نہیں کرتا یہاں تک کہ آپ سے اجازت لے لیتا جیسا کہ حکمران سے اجازت لی جاتی ہے۔‘‘(الجامع لأخلاق الراوی وآداب السامع للخطیب: 1؍ 184)
٭٭٭
تبصرہ کریں