
سورۃ حم السجدۃ مکی سورت ہے، اسکا دوسرا نام فُصِلَت ہے ، اس میں 54 آیات کریمہ اور 6 رکوع آےہیں۔ مذکورہ سورت کا نام دو لفظوں سے مرکب ہے یعنی ’’حم‘‘ ، ’’السجدہ‘‘ ۔ مطلب ؛ یہ وہ سورت ہے جس کا آغاز حم سے ہوتا ہے اور ایک مقام پر آیتِ سجدہ آئی ہے۔
نبی محترم سرور عالم ﷺ کی دعوت حق کا آغاز اور بتدریج اس کا آگے بڑھنا اور اہل ایمان کی جمعیت میں روز بروز اضافہ ہونا ، یہ ایسے واقعات و مناظر ہیں جسے دیکھ دیکھ کر کفار مکہ اندر ہی اندر جلے جارہے تھے، مختلف حربہ استعمال کرتے رہے ، ان حالات میں ایک اہم وقت تحریک اسلامی کیلئے ایسا بھی آچکا جو مشرکین مکہ کے لیے بہت بڑا دھکہ تھا وہ یہ کہ حضرت حمزہ بھی حضرت محمد ﷺ کے دست حق پر مشرف بہ اسلام ہوچکے۔
غرض کہ دعوت اسلامی کی دن بدن ارتقائی کیفیت کو دیکھتے ہوئے قریش کے لوگ پریشان ہوچکے اور انھیں یہ فکر کھائے جارہی تھی کہ کس طرح اس اسلامی دعوت کے سیلاب کو روکا جائے۔ چنانچہ ایک موقع ایسا آیا کہ حضرت محمد ﷺ، مسجد حرام میں تشریف فرما ہیں اور اس وقت آپ تنہا ہی تھے۔ ایک دوسری جانب قریش کے کچھ سردار بھی بیٹھے ہوئے تھے ، اس موقع پر عتبہ بن ربیعہ نے سرداران قریش سے کہا کہ صاحبو ! اگر آپ لوگ پسند کریں تو میں جاکر محمد (ﷺ ) سے بات کروں اور ان کے سامنے چند تجاویز رکھوں، شاید کہ وہ ان میں کسی کو مان لیں اور ہم بھی اسے قبول کرلیں۔ اس طرح وہ (محمؐد) ہماری مخالفت سے باز آجائیں۔ عتبہ کی اس بات پر سب راضی ہوگئے ، اس کے بعد عتبہ فوری یہاں سے اُٹھ کر نبی کریم کے پاس جا بیٹھا ، آپؐ اس کی طرف توجہ فرمائی تو کہنے لگا۔
’’بھتیجے ، تم اپنی قوم میں اپنے نسب اور خاندان کے اعتبار سے جو حیثیت رکھتے ہو ، وہ تمہیں معلوم ہے ، مگر تم اپنی قوم پر ایک بڑی مصیبت لے آئے ہو ، تم نے (ہماری) جماعت میں تفرقہ ڈال دیا۔ ساری قوم کو بے وقوف ٹھہرایا۔ قوم کے دین اور معبودوں کی برائی کی اور ایسی باتیں کرنے لگے جن کے معنی یہ ہیں کہ ہم سب کے باپ دادا کافر تھے ، اب ذرا میری بات سنو ! میں کچھ تجویزیں تمہارے سامنے رکھتا ہوں ، ان پر غور کرو ، شاید کہ ان میں سے کسی کو تم قبول کرلو۔‘‘
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ابو ولید (کنیت) آپ کہیں میں سنوں گا ۔ اس نے کہا:
’’بھتیجے‘‘ یہ کام جو تم نے شروع کیا ہے ، اس سے اگر تمہارا مقصد مال حاصل کرنا ہے تو ہم سب مل کر تم کو اتنا کچھ دے دیتے ہیں کہ تم سب سے زیادہ مالدار ہوجاؤ۔ اگر اس سے اپنی بڑائی چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا سردار بنائے لیتے ہیں ، کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہ کریں گے۔ اگر بادشاہی چاہتے ہو تو ہم تمہیں اپنا بادشاہ بنالیتے ہیں اور اگر تم پر کوئی جن آتا ہے ، جسے تم خود دفع کرنے پر قادر نہیں ہو تو ہم بہترین اطباء بلواتے ہیں اور اپنے خرچ پر تمہارا علاج کرتے ہیں۔‘‘
عتبہ یہ باتیں (بکواس) کرتا رہا اور آپ ﷺ خاموش سنتے رہے۔ پھر حضوؐر نے فرمایا ، ابوولید ! آپ کو جو کچھ کہنا تھا کہہ چکے ؟ اس نے کہا ’’ہاں ۔ ‘‘
آپؐ نے فرمایا اچھا ، اب میری سنو ! اس کے بعد آپ ﷺ نے بسم اللہ الرحمن الرحیم پڑھ کر اسی سورت کی تلاوت شروع کی اور عتبہ اپنے دونوں ہاتھ پیچھے زمین پر ٹیکے غور سے سنتا رہا۔ آیت سجدہ ( 38) پر پہنچ کر آپ ﷺ نے سجدہ کیا ، پھر سر مبارک اُٹھاکر فرمایا:
’’اے ابو ولید ! میرا جواب آپ نے سن لیا، اب آپ جانیں اور آپ کا کام۔‘‘
قدیم سیرت نگار محمد بن اسحاق نے مشہور تابعی حضرت محمد بن کعب القرظؒی کے حوالے سے مذکورہ قصے کو تفصیل سے نقل کیا ہے۔ علاوہ ازیں اس قصے کو متعدد دوسرے محدثین کرام نے بھی حضرت جابرؓ بن عبداللہ سے بھی مختلف طریقوں سے نقل فرمایا ہے۔ اگرچہ کہ اس میں تھوڑا بہت لفظی فرق ہے۔
ہند و پاک کے مفسرین کرام نے بھی اپنی تفاسیر میں اس واقع کو نقل کرنے کا اہتمام فرمایا ہے۔ الغرض اس سورہ حم السجدۃ کے زمانہ نزول اور اس وقت کے حالات سے واقفیت کے بعد اس کا جو موضوع ہے اور جو مضامین آئے ہیں، اس کی طرف کچھ اشارہ کیئے جاتے ہیں تاکہ مذکورہ سورۃ کے تفصیلی مطالعہ کے موقع پر کلام الٰہی سے مراد الٰہی سمجھنے میں آسانی ہو۔ عتبہ نے نبی ﷺ کے سامنے جو بات رکھی تھی ، دراصل اس کی یہ ساری بکواس غلط مفروضے کی بنیاد پر تھی اور یہ (معاذﷲ)۔ آپﷺ کی نیت اور آپ کی عقل پر حملہ تھا۔
اس طرح کی بیہودہ باتوں پر جب مخالف لوگ اُتر آئیں تو اہل ایمان کا کام ان بیہودہ باتوں کا جواب دینا نہیں ہے بلکہ اپنے موقف پر قائم رہتے ہوئے اپنی جو بات کہنی ہے ، وہ دلیل کے ساتھ کہہ دے ، جس طرح محمدعربی ﷺ نے عتبہ کے سامنے قرآن کی آیات سنا کر اپنی بات رکھدی، اور وہ (لاجواب) اٹھ کر چل دیا۔
اس سورۃ مبارکہ میں عتبہ کی باتوں پر التفات نہ فرماتے ہوئے اللہ تبارک و تعالیٰ نے اصل مخالفت کو موضوع بحث بناتے ہوئے سورہ مذکورہ کو نازل فرمایا ، جو قرآن مجید کی دعوت کو نیچا دکھانے کیلئے اور دعوت حق کو دبانے کیلئے کفار مکہ کی طرف سے بڑی بے شرمی و بداخلاقی اور ہٹ دھرمی کے ساتھ کوشش کی جارہی تھی۔
اس طرح ان اندھی اور بہری مخالفت کے جواب میں اللہ تبارک و تعالیٰ اپنے کلام پاک کے ذریعہ بات سمجھائی:
پہلی چیز اس سورۃ میں جو بات بتلائی گئی وہ یہ کہ قرآن حکیم اللہ ہی کی طرف سے نازل کردہ کلام اور عربی زبان ہی میں ہے اور اس میں حقائق کو صاف صاف بیان کردیا گیا ہے۔ جاہل لوگ اس سے فائدہ حاصل نہیں کرتے مگر سمجھدار لوگ اس کی روشنی کو دیکھ بھی رہے ہیں اور اس سے نفع بھی اُٹھارہے ہیں۔ حقیقت تو یہ ہیکہ یہ اللہ کی رحمت ہی ہے جو اس نے اپنے بندوں کیلئے یہ قرآن اُتارا اور وہ شخص بدبخت ہے جو اسے زحمت سمجھتا ہے۔ اس سے فائدہ اُٹھانے والوں کیلئے خوشخبری اورہے، اس سے روگردانی کرنے والوں کو اللہ سے ڈرنا چاہئے۔ نبی ﷺ پر یہ ذمہ داری نہیں ہے کہ جو لوگ اپنے دلوں پر غلاف چڑھالیں، اپنی بات ان کے دل میں اُتار دیں۔ جو لوگ حق سننا چاہتے ہیں۔ یقینا ان کیلئے نبیؐ کی بات کارگر ہوکر رہتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ خواہ تم اپنے اوپر غلاف چڑھالو ، اپنے کان آنکھ بند کرلو مگر یاد رکھنا تمہارا خدا صرف ایک ہی ہے ، تمہاری ضد سے حقیقت بدل نہیں سکتی۔ بھلائی کا بدل اچھائی سے، بُرائی کا انجام تباہی ہے۔ تمہیں اس بات کا احساس بھی ہے کہ تم شرک و کفر کس کے ساتھ کررہے ہو ؟ خبردار تمہاری یہ غداری اسی ہستی کے ساتھ ہے جو زمین و آسمان کا خالق ہے۔ منکرین حق کو نوٹس دی گئی کہ اگر تم حق کا انکار کرتے رہے تو عذاب کے اچانک ٹوٹ پڑنے کے مستحق بن رہے ہو ، جس طرح عاد و ثمود پر آکر رہا ، دنیا کا عذاب ہی آخری عذاب نہ ہوگا آخرت کا عذاب جہنم کی آگ بھی ہے۔ سورت کے اختتام پر یہ بتلا یا گیا کہ اسلام کے خلاف جو بڑے بڑے چٹان سامنے موجود ہیں ، اسے پاش پاش کرنیکا ہتھیار صرف یہی ہے کہ اخلاق حسنہ سے کام لیا جائے ، مضمون کے آغاز میں مکہ کے حالات کا کچھ ہلکا ذکر کیا گیا ہے، اسے ذہن میں رکھ کر آیت 34، 35، 36ان تین آیات کا مطالعہ سارے عالم کے داعیان اسلام و تحریکات اسلامی کے لیے بہت ضروری ہے جن میں نبی کریم ﷺ کو، اور آپکے واسطے سے آپ کے پیروں (اہل ایمان کو) یہ ہدایت دی گئ ہے؛ پہلی بات یہ کہ
﴿ وَلَا تَسْتَوِي الْحَسَنَةُ وَلَا السَّيِّئَةُ ۚ ادْفَعْ بِالَّتِي هِيَ أَحْسَنُ فَإِذَا الَّذِي بَيْنَكَ وَبَيْنَهُ عَدَاوَةٌ كَأَنَّهُ وَلِيٌّ حَمِيمٌ﴾
یعنی مشکل سے مشکل حالات کا موقع ہے دعوت دین کے تمام راستے بظاہر بند دکھائ دے رہے ہیں، ہر طرف مخالفت کابازار گرم ہے، چوطرف ایک ہلڑ مچی ہے، دعوت اسلام کے لیے اِدھر اللہ کے نبی رحمتؐ اپنی زبان حق کھو لیں، اُدھر سے اتنا شور شرابہ کہ کوئ آپ کی بات سن نہ سکے، ایسے نازک حالات میں آنحصور ﷺ کو یہ نسخہ بتایا گیا کہ اے نبؐی ، نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اس نیکی سے دفع کرو جو اس سے بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئ تھی وہ جگری دوست بن گیاہے۔ یعنی اس طرح کے عمل کا جو نتیجہ نکلے گا وہ یہ کہ بدترین دشمن بھی آخر کار جگری دوست بن جاے گا۔۔۔۔اس لیے کہ یہی انسانی فطرت ہے۔ گالی کے جواب میں آپ خاموش رہ جائیں تو بیشک یہ ایک نیکی ہوگی، مگر گالی دینے والے کی زبان بند نہ کرسکے گی۔لیکن اگر آپ گالی کے جواب میں دعاے خیر کریں تو بڑے سے بڑا بے حیا مخالف بھی شرمندہ ہوکر رہ جاے گا اور پھر مشکل ہی سے کبھی اس کی زبان آپ کے خلاف بد کلامی کے لیے کھل سکے گی۔ دوسری بات
﴿وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا الَّذِينَ صَبَرُوا وَمَا يُلَقَّاهَا إِلَّا ذُو حَظٍّ عَظِيمٍ﴾
یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر ان لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں، اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر ان لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔
اسکی عام فہم تشریح فرماتے ہوے مولانا سید ابوالاعلی مودودیؒ لکھتے ہیں:
”یعنی یہ نسخہ ہے تو بڑا کار گر، مگر اسے استعمال کرنا کوئ ہنسی کھیل نہیں ہے ۔ اس کے لیےبڑا دل گردہ چاہیے۔ اس کے لیے بڑا عزم، بڑا حوصلہ،بڑی قوت برداشت،اور اپنے نفس پر بہت بڑا قابو درکار ہے۔ “
”یہ قانون فطرت ہے۔ بڑے ہی بلند مرتبہ کا انسان ان صفات سے متصف ہوا کرتا ہے، اور جو شخص یہ صفات رکھتا ہو اسے دنیا کی کوئی طاقت بھی کامیابی کی منزل تک پہنچنے سے نہیں روک سکتی۔‘‘
یہ کسی طرح ممکن ہی نہیں ہے کہ گھٹیا درجے کے لوگ اپنی کمینہ چالوں،ذلیل ہتھکنڈوں اور رکیک حرکتوں سے اس کو شکست دے دیں۔“ (تفہیم القرآن)
تیسری بات یہ آئی کہ
﴿وَإِمَّا يَنزَغَنَّكَ مِنَ الشَّيْطَانِ نَزْغٌ فَاسْتَعِذْ بِاللَّهِ ۖ إِنَّهُ هُوَ السَّمِيعُ الْعَلِيمُ ﴾
” اگر کبھی شیطان اشتعال دلائے تو خدا سے پناہ مانگ لو، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔“
یعنی ، اگر دین اسلام کے احکام پر چلتے ہوے ؛اسکی تبلیغ کے موقع پر یا شریعت کے کام سے، شیطان روکنا
پھیرنا چاہے یا احسن طریقہ پر برائی کو دفع کرنے کی سعی میں رکاوٹ کھڑا کرے، دل میں وسوسہ پیدا کرے تو ایسے موقع پر ، ”فاستعذ باللہ“ یعنی اللہ کی پناہ طلب کرلی جاے،کیونکہ وہی سب کچھ جاننے اور سب کی سننے والا ہے اور وہی ہے جو پناہ کے طلب گاروں کو اپنی پناہ میں لے لیتا اور انکے دلوں میں صبر وسکون اور اطمینان کی ٹھنڈک پیدا فرادیتا ہے۔۔۔ اللہ تبارک و تعالی نے (محمدعربیﷺ کو بھیج کر، اہل عرب کی مادری ”عربی“ زبان میں نازل کردہ قرآن کے ذریعہ) ہر طرح سے ان ناواقف راہ لوگوں کو صراط مستقیم پر لانے کا سامان کردیا اب دنیا کا ہر فرد بشر خوب جان لے اور فیصلہ کر لے کہ دنیا وآخرت کی سرخروی چاہتا ہے! یا دنیا کی ذلت اور آخرت کی رسوائی کا سوداگر بننا چاہے گا۔
مگر یاد رکھنا اللہ تعالی اپنے نبیﷺ کی دعوت حق کی رات دن کی جدوجہد کو دیکھ رہا ہے اور تمہارے انکار حق وبدروش چالبازیوں پر نظر رکھے ہوے ہے ۔
﴿ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ﴾
’’کیایہ کافی نہیں کہ آپ کا رب ہر چیز پر گواہ ہے۔“
اس آیت کی دلنشین تشریح فرماتے ہوے محمد کرم شاہؒ صاحب لکھتے ہیں کہ
” اے محبوب! ان گم کردہ راہ انسانوں کو راہ ہدایت پر چلانے کے لیےجس خلوص جان سوزی اور استقامت سے آپ شب وروز کوشیش فرمارہے ہیں اور جس ہٹ دھرمی،عناد،کج فہمی اور ایذا رسانی کا طریقہ انہوں نے اختیار کر رکھا ہے یہ دونوں باتیں ہم جانتے ہیں ہم انکا مشاہدہ کررہے ہیں۔ ہم آپکے دشمنوں کو ناکام کریں گے۔! ‘‘ (ضیاءالقرآن)
(مستفاد کتب و اقتباس: احسن البیان از مولانا صلاح الدین یوسف، تدبر قرآن امین احسن اصلاحی، عروۃ الوثقٰی ،علامہ عبدالکریم اسری اور سراج البیان علامہ محمد حنیف ندوی)
٭٭٭
پیغامِ بیداری
وہ جس کے دم قدم سے دین حق کا بول بالا ہے
خدا اس کا نگہباں ہے وہی اللہ والا ہے
جہاں قرآن نے توحید کے سانچے میں ڈھالا ہے
وہیں سنت نے ہر ایک موڑ پر ہم کو سنبھالا ہے
نہالِ آرزو خونِ جگر سے ہم نے پالا ہے
اور اپنے عزم سے ظلمت کا سینہ چیر ڈالا ہے
رسول اللہؐ آتے جب بھی جھرمٹ میں صحابہؓ کے
تو یوں محسوس ہوتا ، چاند کے اطراف ہالا ہے
جہاں سے چھٹتا جاتا ہے اندھیرا کفر و باطل کا
کہ پھر جلوہ فگن اسلام کا ہر سو اجالا ہے
بہ صد شوق و عزیمت منزلِ مقصود کی جانب
ہمارا قافلہ پھر جادہ پیما ہونے والا ہے
جو مسجد میں نمازی ہے تو ہے میداں میں وہ غازی
مسلماں کا تو ہر اک کام دنیا سے نرالا ہے
مسلماں لشکرِ طاغوت سے گھبرا نہیں سکتا
کہ وہ مردِ مجاہد ہے، دلاور ہے ، جیالا ہے
نہیں اسلام میں اس امتیاز و فرق کی لعنت
کہ یہ عربی ہے وہ عجمی ہے، یہ گوراوہ کالا ہے
ٹھہر سکتا نہیں حق کے مقابل ایک لمحہ بھی
جسے باطل کہا جاتا ہے وہ مکڑی کا جالا ہے
ہوا نخلِ تمنا بارآور ، تب کہیں جاکر
رہِ حق میں جو پھوٹا پاؤں کا اک ایک چھالا ہے
وہ دھوکہ دے نہیں سکتا وہ دھو کہ کھا نہیں سکتا
جہاں ہوشیار ہے مؤمن وہیں وہ بھولا بھالا ہے
اُسی کا قطرہ قطرہ بن گیا ہے بحر بے پایاں
جو ہم نے بادۂ توحید کا ساغر اچھالا ہے
کبھی چلتے رہے پیہم، کبھی دل تھام کر بیٹھے
رہِ حق میں ہراک ارمان یوں ہم نے نکالا ہے
بنام ملت بیضاء ہے یہ پیغام بیداری
کوئی سوچے تو یہ حماد کا دلدوز نالا ہے
ابولبیان حماد رحمہ اللہ
٭٭٭
بدشگونی شرکِ اصغر ہے!
بدشگونی یعنی کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شریعت میں سختی سے ممنوع ہے۔ چنانچہ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اکرمﷺ نے فرمایا: ’’بدشگونی لینا شرک ہے، بدشگونی لینا شرک ہے، بدشگونی لینا شرک ہے۔‘‘
جامع ترمذی کے شارح مولانا عبدالرحمٰن مبارک پوری فرماتے ہیں:
آپ کا فرمان’بدشگونی شرک ہے’ یعنی لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ بدشگونی (کسی چیز کو منحوس سمجھنا) نفع لاتی ہے یا نقصان دور کرتی ہے تو جب اُنھوں نے اسی اعتقاد کے مطابق عمل کیا تو گویا اُنھوں نے اللہ تعالیٰ کے ساتھ شرکِ خفی کا ارتکاب کیا اور کچھ لوگ یہ کہتے ہیں کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو شخص یہ عقیدہ رکھے کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ کوئی اور چیز بھی نفع یا نقصان کی مالک ہے تو اسنے شرکِ اکبر کا ارتکاب کیا۔‘‘
تبصرہ کریں