
فہرست کے مطابق یہ 34 ویں سورت ہے اور اس کا نام ’’سبا‘‘ ہے۔
اس کی آیت کریمہ 15 کے فقرے ﴿لَقَدْ کَانَ لِسَبَاٍ فِیْ مَسْکَنِهِمْ آٰیَةً﴾ سے ماخوذ ہے، اور یہ 54 آیات 6 رکوع پر مشتمل ہے۔
علماء تفسیر لکھتے ہیں کہ اس کا زمانہ نزول کسی معتبر روایت سے معلوم نہیں ہوتا لیکن اس سورہ کے انداز بیان سے محسوس ہوتا ہے کہ یہ مکی دور کے متوسط یا دور اول میں نازل ہوئی ہوگی۔ کفار و مشرکین کی طرف سے ابھی وہ ظلم و ستم میں سختی پیدا نہیں ہوئی تھی جو بعد کے مرحلہ میں ہوئی۔ لیکن اسلامی دعوت اور اس کی تحریک کو دبانے، منکرین حق کی جانب سے جھوٹ سے کام لیا جارہا تھا؛
آنحضور ﷺ کی دعوت کے متعلق بندگان خدا کے دلوں میں وسوسہ پیدا کرنے کی کوشش، آپ ﷺ کی دعوت کا مذاق اُڑانا ، بیہودہ قسم کی الزام تراشیاں ، دعوتِ توحید و آخرت پر طنز و تمسخر وغیرہ ان کا معمول بن گیا تھا۔
الغرض نبی ﷺ کی دعوتِ توحید و آخرت کے جواب میں مشرکین مکہ کا جو طرز عمل تھا ، اللہ تبارک و تعالیٰ اس کے جواب میں اپنا کلام نازل فرماتا ہے۔ کہیں تو ان کے اعتراض والے جملوں کو نقل کرکے اس کا معقول جواب دیا ہے تو کہیں پر بغیر نقل کئے اللہ نے ان کے بیہودہ سوالوں کا بھرپور جواب دیا۔ غرضیکہ اس سورت کا مختصر خاکہ جو بالائی سطور میں پیش کیا گیا ہے اگر اسے ذہن میں رکھتے ہوئے اس کا گہرائی سے مطالعہ کریں تویہ بات جو ہمارے سامنے آئے گی کہ اللہ تبارک و تعالیٰ نے حق کا انکار کرنے والوں کو جو جوابات دیئے ہیں، ان میں سمجھانے اور تذکیر (یاد دہانی کروانے) کا پہلو نمایاں ہے۔ لیکن صرف افہام و تفہیم ، تذکیر و استدلال پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا بلکہ حسب موقع و حسب ضرورت کفار کو ان کی ہٹ دھرمی کے انجام بد سے واقف کرواتے ہوے ، ڈرایا گیا۔ اور اس سلسلہ میں تاریخی واقعات سے عبرت دلائی گئی۔
سیدنا داؤد اور سیدنا سلیمان اور قوم سبا کے قصے اس غرض کیلئے بیان کئے گئے کہ ان کے سامنے یہ دونوں مثالیں تاریخی حیثیت سے موجود ہیں۔ الغرض ایک طرف حضرت داؤد ؑ اور سلیمان ؑ ہیں جن کو اللہ تبارک و تعالیٰ نے بڑی عظیم طاقتیں عنایت فرمائیں اور وہ شوکت و حشمت عطا کی جو پہلے کم ہی کسی کو ملی تھی۔ لیکن یہ سب کچھ انعام پاکر بھی ان کے اندر ذرا برابر بھی غرور و تکبر پایا نہیں گیا بلکہ وہ اپنے رب کے شکر گزار بندے بن کر رہے۔ برخلاف اس کے ایک دوسرا نمونہ بھی پیش کیا گیا جو اللہ کو ناراض کرنے والی قوم سبا کا تھا ، جب اللہ تبارک و تعالیٰ نے اپنی رحمتوں کی بارش اِن پر کی ، نعمتوں سے سرفراز کیا ، ہر طرح کا آرام نصیب فرمایا تو وہ اللہ کے احسان کو فراموش کر بیٹھی اور اپنے حقیقی منعم کو بھلادیا تو اللہ تعالیٰ ان کو پارہ پارہ کردیا یعنی ان کی اکڑ اِن کا فخر و تکبر ملیامیٹ کرکے رکھ دیا ۔ اس طرح ان کے پیچھے رہ جانے والی جو چیز تھی بس بے رونق باغ اور کڑوے کسیلے پھل دینے والی جھاڑی ،جنگلی بیری اور ان کے افسانے باقی رہ گئے۔ اس طرح قرآن حکیم کی یہ سورۃ جس میں کفار کیلئے عبرت کا سامان رکھا گیا اور بتادیا گیا کہ اب تم خود غور کرو کہ نبی رحمت ﷺ کی رسالت کو مان کر اپنی ابدی زندگی بہتر بنالینا اچھا ہے یا من مانی زندگی گزار کر اپنی بربادی کا سامان کرلینا چاہتے ہو۔؟
شکر گذار بندے اور ناشکرے بندوں کی یہ دونوں مثالیں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ جو چیز توحید باری تعالیٰ اور آخرت پر ایمان اور شکر نعمت کی بنیادوں پر قائم ہوتی ہے دراصل یہی حق ہے۔ علاوہ اس کے جو چیز بھی کفر و شرک اور انکار آخرت ، دنیا طلبی و دنیا پرستی کی بنیادوں پر پروان چڑھتی ہے اس کا آخرکار انجام خسران کے سوا کچھ نہیں ہے۔ حق و باطل میں تمیز کرنا اپنی زندگی کو پُرامن بنانا آخرت والی زندگی کو پُرسکون بنانا اب تمہارا اپنا کام ہے۔
آیت 28 میں سرور عالم رسول اللہ ﷺ کا ایک واضح تعارف یوں فرمادیا کہ ’’اور (اے نبیﷺ) ہم نے آپ کو تمام ہی انسانوں کیلئے بشیر و نذیر بناکر بھیجا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔‘‘
یعنی بتانا یہ مقصود ہے کہ آپ ﷺ صرف شہر مکہ یا اس عرب ملک یا اِسی زمانے کی حد تک مبعوث نہیں فرمائے گئے ہیں؛ بلکہ آپ کی جو بعثت ہوئی وہ تمام دنیا والوں کیلئے ، قیامت تک (آخری ) نبی کی حیثیت سے ہوئ۔ لیکن آپ کے یہ اہل وطن آپ کی قدر و منزلت نہیں جانتے اور ان کو یہ احساس نہیں کہ ان کی ہدایت کیلئے کیسی عظیم ہستی کو روانہ کیا گیا ہے کہ یہ بھلائی کرنے والوں کو بشارت دیتے ہیں اور برائی کرنے والوں کو اللہ کے عذاب سے ڈراکر خبردار و ہوشیار فرمادیتے ہیں۔
آیت کریمہ 28 کی تشریح فرماتے ہوے حضرت مولانا سید ابولاعلی مودودیؒ یوں رقمطراز ہوئے:
یعنی تم صرف اسی شہر، یا اسی ملک، یا اسی زمانے کے لوگوں کے لیے نہیں بلکہ تمام دنیا کے انسانوں کے لیے اور ہمیشہ کے لیے نبی بنا کر بھیجے گئے ہو۔ مگر یہ تمہارے ہم عصر اہل وطن تمہاری قدر و منزلت کو نہیں سمجھتے اور ان کو احساس نہیں ہے کہ کیسی عظیم ہستی کی بعثت سے ان کو نوازا گیا ہے۔
یہ بات کہ نبی ﷺ صرف اپنے ملک یا اپنے زمانے کے لیے نہیں بلکہ قیامت تک پوری نوع بشری کے لیے مبعوث فرمائے گئے ہیں، قرآن مجید میں متعدد مقامات پر بیان کی گئی ہے۔ مثلاً :
اور میری طرف یہ قرآن وحی کیا گیا ہے تاکہ اس کے ذریعہ سے میں تم کو متنبہ کروں اور ہر اس شخص کو جسے یہ پہنچے۔ (الاعراف۔ 158)
’’ائے نبی کہہ دو کہ اے انسانو، میں تم سب کی طرف اللہ کا رسول ہوں۔‘‘ (الانبیاء۔ 107)
’’اور ائے نبی، ہم نے نہیں بھیجا تم کو مگر تمام ایمان والوں کے لیے رحمت کے طور پر۔‘‘ (الفرقان۔ 1)
بڑی برکت والا ہے وہ جس نے اپنے بندے پر فرقان نازل کیا تاکہ وہ تمام جہان والوں کے لیے متنبہ کرنے والا ہو۔
یہی مضمون نبی ﷺ نے خود بھی بہت سی احادیث میں مختلف طریقوں سے بیان فرمایا ہے۔ مثلاً
بُعِثت إِلَی الأَحمَرِ وَالأَسوَدِ (مسند احمد، مرویات ابو موسیٰ اشعری)
میں کالے اور گورے سب کی طرف بھیجا گیا ہوں۔
أمّا أنا فأرسلت إلی الناس کلھم عامة وکان من قبلی إنما یُرْسَلُ إلى قومه (مسند احمد، مرویات عبداللہ بن عمرو بن عاص)
میں عمومیت کے ساتھ تمام انسانوں کی طرف بھیجا گیا ہوں۔ حالانکہ مجھ سے پہلے جو نبی بھی گزرا ہے وہ اپنی قوم کی طرف بھیجا جاتا تھا۔
وکان النبی یبعث إلى قومه خاصة وبعثت إلی الناس عامة (بخاری و مسلم، من حدیث جابر بن عبداللہ)
پہلے ہر نبی خاص اپنی قوم کی طرف مبعوث ہوتا تھا اور میں تمام انسانوں کے لیے مبعوث ہوا ہوں۔
بعثت أنا والساعة کهاتین یعنی اصبعین۔ (بخاری و مسلم)
میری بعثت اور قیامت اس طرح ہیں، یہ فرماتے ہوئے نبی ﷺ نے اپنی دو انگلیاں اٹھائیں۔
مطلب یہ تھا کہ جس طرح ان دو انگلیوں کے درمیان کوئی تیسری انگلی حائل نہیں ہے اسی طرح میرے اور قیامت کے درمیان بھی کوئی نبوت نہیں ہے۔ میرے بعد بس قیامت ہی ہے اور قیامت تک میں ہی نبی رہنے والا ہوں۔ (تفہیم القرآن سورہ سباحاشیہ47)
آگے یہ بات بھی ہمارے سامنے آتی ہے کہ کفار کے اس سوال کا جواب دیا گیا جو تمسخر کے طور (قیامت) کے بارے میں نبی ﷺ سے اکثر کیا کرتے تھے،
اللہ تعالی اسے نقل فرماتے ہوے اپنے نبی کے زبان مبارک سے یہ کہلوادیا:
”کہو تمہارے لیے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لاسکتے ہو۔“
یعنی صاف صاف کہدیا کہ قیامت کے برپا ہونے کا فیصلہ اور اس کا وقت سب اللہ کے علم میں ہے وہ مقررہ ساعت میں واقع ہوکر رہے گی، اور اس کا آنا تمہاری خواہش و مطالبہ کا تابع نہیں ہے۔
لہٰذا اس بات کی فکر کرو کہ اس دن اپنے رب کے سامنے جمع کیے جاوگے تو تم اپنے کیے پر پچھتاتے ہوے ایک دوسرے پر الزام دھریں گے….!
آگے ایک نقشہ یہ بھی پیش کیا گیاکہ ،جن لوگوں نے دنیا میں حق و باطل میں تمیز و تحقیق کے بغیر اپنے لیڈروں، سرداروں اور حاکموں وعزت مآب کہلانے والوں کے زیر اثر انکے پیچھے چلتے رہے (اور اپنے حقیقی ہمدرد و ناصح کی بات نہ مانی) اور جب اپنے ان رہنماوں کے پیچھے چلنے کے برے انجام کو اپنی آنکھوں دیکھ کر یہی لوگ اب ان رہنماوں کو کوسنے لگے کہ تمہاری پیروی ہمیں عذاب کے دلدل میں اتار رہی ہے۔
﴿لَوْلَا أَنْتُمْ لَکُنَّا مُؤْمِنِیْنَ»
اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے۔ لیکن وہاں ایک دوسرے پر الزام دینے اور کف افسوس ملنے سے کیا فائدہ…….لہٰذا دنیا ہی میں اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کی بات مان کر زندگی بسر کرنا آخرت سنوار لینا دانشمندی ہے۔ !!!
اور ایک عمومی بات یہ بھی بتلائی گئ، جو قرآن مجید کے دوسرے مقامات میں بھی آئی ہے ، وہ یہ کہ دنیا میں جب کبھی کسی بستی میں اللہ کی طرف سے ڈرانے وخبردار کرنے والا بھیجا جاتا ہے وہاں کے کھاتے پیتے لوگ یہ کہا کرتے رہے کہ جو بات تم ہمیں بتارہے ہو ہم اسے نہیں مانتے، اور انہیں اس بات کا گھمنڈ و فخر تھا کہ مال و اولاد میں ہم بہت برتر ہیں،ہمیں اب کسی قسم کا اندیشہ نہیں: ﴿وَمَا نَحْنُ بِمُعَذِّبِیْن﴾
یعنی( یہ نہیں ہوسکتا کہ ہم عذاب دیے جائیں گے)
حضرت مولانا صلاح الدین یوسفؒ نے اس کی تفسیر یوں فرمائی: ”یعنی جب اللہ نے ہمیں دنیا میں مال و اولاد کی کثرت سے نوازا ہے، تو قیامت بھی اگر برپا ہوئی تو ہمیں عذاب نہیں ہوگا۔ گویا انہوں نے دار الآخرت کو بھی دنیا پر قیاس کیا کہ جس طرح دنیا میں کافر و مومن سب کو اللہ کی نعمتیں مل رہی ہیں، آخرت میں بھی اسی طرح ہوگا، حالانکہ آخرت تو دار الجزا ہے، وہاں تو دنیا میں کئے گئے عملوں کی جزا ملنی ہے اچھے عملوں کی جزا اچھی اور برے عملوں کی بری۔ جب کہ دنیا دارالامتحان ہے، یہاں اللہ تعالیٰ بطور آزمائش سب کو دنیاوی نعمتوں سے سرفراز فرماتا ہے انہوں نے دنیاوی مال و اسباب کی فروانی کو رضائے الٰہی کا مظہر سمجھا، حالانکہ ایسا بھی نہیں ہے اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ اپنے فرماں بردار بندوں کو سب سے زیادہ مال و اولاد سے نوازتا۔“ (القرآن کریم صفحہ 1210 حاشیہ1مطبوعہ سعودی عرب)
اس سورہ کی آخری آیت کریمہ میں سب کے لیے بہترین درس ہے کہ آدمی وجود باری تعالی ،توحید، رسالت اور آخرت کے سچائی اور اسکے حق ہونے کے بارے میں ہمیشہ ہمیشہ شک وشبہ سے اپنے عقیدہ کو پاک وصاف رکھے کیونکہ جس نے بھی دین اسلام اور آخرت کی جزا وسزا کے بارے میں شک میں پڑا رہا اور اسی حالت میں مرا تو اسی کیفیت کے ساتھ کل روز جزا اٹھایا جاے گا۔ امام جلال الدین السیوطیؒ ایک روایت نقل فرمائی ہے کہ عبد بن حمید وابن ابی حاتم نے قتادہ (رح) سے روایت کیا کہ آیت ﴿إِنَّهُمْ کَانُوْا فِیْ شَكٍّ مُرِیْبٍ﴾ ( کیونکہ یہ سب بڑے شک میں پڑے ہوے تھے) فرمایا تم بچوشک سے فریب سے کیونکہ جو شخص شک کی حالت میں مرگیا تو وہ اسی حالت پر اٹھایا جاے گا اور جس کو حالت یقین پر موت آئے تو اسے یقین پر اٹھایا جاے گا۔ واللہ اعلم(درمنشور)
اللهم اهدنا الصراط المستقیم،آمین۔
(مستفاد، دیگر کتب و تفاسیر)
تاثرات حزن و ملال
(بروفات حسرت آیات مولانا کا کا سعید احمد عمری رحمہ اللہ)
کا کا سعید ہوگئے رخصت جہان سے
رونق روانہ ہوگئی جیسے مکان سے
سارے جہاں میں دھوم تھی ان کے مقام کی
وقعت بڑھی ہے ان سے بھی دارالسلام کی
تعلیم دیں کے حق میں پسینہ بہایا ہے
پیغام دینِ حق کا جہاں کو سنایا ہے
رشتہ عمل کا گہرا رہا سنتوں کے ساتھ
دعوت بھی اتحاد کی دی شفقتوں کے ساتھ
ہر ’عمری‘ غمزدہ ہے، سراپائے یاس ہے
ہر ذرہ عمر آباد کا بے حد اداس ہے
چالیس اور پانچ برس یوں ہی کٹ گئے
زوجہ کی موت ہوگئی پر یوں ہی وہ رہے
پیش نظر ترقی تھی’دار السلام‘ کی
آئی نظر بلندی جو ان کے مقام کی
ہر لب پہ بس دعا ہے یہی آج بالیقیں
کر رحمتوں کی بارشیں تو ربّ عالمیں
کا کا سعید عمری کو جنت مقام دے
جنت میں بھی خدا انہیں دار السلام دے
پس ماندگان کو مولیٰ تو صبر جمیل دے
کر دولتِ سکوں عطا ، اجرِ جزیل دے
’کا کا‘ تمام عمر رہے وقفِ جامعہ
فرزند ’انیس‘ اب ہوئے سالارِ قافلہ
اب دور ہوگئے ہیں ہر اک کاروبار سے
وابستہ جامعہ سے ہیں پورے وقار سے
خدمت میں لگ گئے ہیں پدر کی طرح پسر
عقبیٰ سے ہیں جڑے ہوئے، دنیا سے دور تر
’کا کا عمر‘ نے کی تھی کبھی نشاۃِ جدید
کاکا سعید نے دی ترقی اسے مزید
بیش از ہزار طلبہ کا اب انتظام ہے
سب کا یہیں سے نظمِ قیام و طعام ہے
سچ ہے ہر اک کے محسن وم مشفق سعید تھے
ہر فرقِ ایں و آں سے بہت وہ بعید تھے
کا کا نے جامعہ کے لیے بھی کیے سفر
اتنے کہ کیفیت میں تھے بہ صورتِ سقر
پیش نگاہ ضرورت ’دار السلام‘ تھی
آٹھوں پہر تھی ، روز و شب و صبح و شام تھی
ابنائے جامعہ کی جو سوچی ہے تربیت
محسوس کی اسی میں سدا امن و عافیت
معمار بے شمار مساجد کے تھے سعید
جو مسجدیں بنائیں، رہی ہیں وہ رشکِ دید
کاکا سعید عالم و فاضل تھے بے مثال
یکتائے فکر وفن تھے نہیں اس میں قیل و قال
ثاقب دعا یہ بار گہِ حق میں ہے سدا
’کاکا سعید عمری‘ کو فردوس ہو عطا!
ڈاکٹر عبدالرب ثاقب عمری، بر منگھم
٭٭٭٭
برمنگھم کے حاجی محمد اسلم چودھری بھی داغ مفارقت دے گئے
جمعیۃ اہل حدیث برطانیہ کے قدیم اور مخلص کارکن حاجی محمد اسلم چودھری 96 سال کی عمر میں داغ مفارقت دے گئے۔ انا للہ وانا الیہ راجعون
مرحوم کے پسماندگان میں اہلیہ محترمہ، فرزند علی اصغر اور 4 بیٹیاں شامل ہیں۔ 28 جون 2025 کو مسجد محمدی الم راک برمنگھم میں مولانا محمد عبد الہادی العمری نے ان کی نماز جنازہ ادا کی اور برمنگھم میں تدفین عمل میں آئی۔ دوست واحباب، اقارب، علماء وقائدین کی کثیر تعداد شریک نماز جنازہ تھی۔ قاری ذکاء اللہ سلیم ناظم اعلیٰ نے مرحوم کی خوبیوں پر خطاب کیا۔ یہ وسیع وعریض مسجد اپنی تنگ دامانی کا شکوہ کر رہی تھی، مرحوم اس مسجد کے ٹرسٹی تھے اور اس مسجد کی تعمیر میں ان کا بھی بڑا حصہ رہا ہے۔ اللہ کریم اسے ان کے حق میں صدقہ جاریہ بنائے۔ آمین
مرحوم ہمیشہ مسجد کے کئر ٹیکر کی طرح زندگی بھر مسجد کی خدمت کرتے رہے۔ بڑے ہی اچھے اخلاق اور ہمدرد قائد تھے۔ جنازہ میں مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، حافظ حفیظ الرحمٰن، حاجی عبد الغفور امیر جمعیۃ ومسجد ہذا کونسلر محمد ادریس، حاجی محمد صدیق، چوہدری محمد اکرم، چودہدری محمد سلیمان، ابو حمزہ مدنی، برادر راجا عقیب، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور کثیر احباب موجود تھے اور جناب علی اصغر سے اظہار تعزیت کر رہے تھے۔ ہر ایک کی زبان پر ان کے اعلیٰ اخلاق و کردار کا تذکرہ تھا۔ زبان خلق کو نقارۂ خدا سمجھو
بار دنیا میں رہو غمزدہ یا شاد رہو
ایسا کچھ کر کے چلو یاں کے بہت یاد رہو
تبصرہ کریں