سورۃ المعارج میں،اللہ کی قدرت کاملہ کا اظہار۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

کلام مجید کی یہ سورۃ ”المعارج“ مکی سورتوں میں شامل ہے،فہرست کے مطابق یہ 70 سترویں سورت ہے اور اس کا نام آیت نمبر 3 کے لفظ ’’ذی المعارج‘‘ سے ماخوذ ہے۔ اس میں 44 آیات کریمہ اور دو رکوع آے ہیں۔

یہ سورۃ بھی تقریباً وہی حالات میں نازل ہوئی جو ’سورۃ الحاقہ‘ کے وقت موجود تھے،یعنی نبی اکرم ﷺ کی مخالفت تو شروع ہوچکی تھی مگر اس میں زیادہ شدت پائی نہیں جاتی تھی۔

مذکورہ بالا سورت میں اللہ تبارک و تعالیٰ نے جو بات ارشاد فرمای ہے یہ دراصل کفار مکہ کے اس چیلنج کا جواب ہے جو اُنھوں نے حضرت محمد مصطفی ﷺ کو دیا کرتے تھے، کہ اے محمد (ﷺ) لے آؤ وہ قیامت جس سے تم ہمیں ڈراتے ہو یعنی تمہیں جھٹلاکر واقعی ہم عذاب کے مستحق ہوگئے ہیں!؟ اگر تم اس میں سچے ہیں تو قیامت کی گھڑی کیوں نہیں آتی؟

مولاناسیدابوالاعلیٰ مودودی علیہ الرحمہ، اس سورہ کی پہلی آیت:﴿سَأَلَ سَائِلٌ بِعَذَابٍ وَاقِعٍ﴾ کے سلسلہ میں لکھتے ہیں کہ

”اصل الفاظ ہیں: سَأَلَ سَائِلٌ ۔ بعض مفسرین نے یہاں سوال کو پوچھنے کے معنی میں لیا ہے اور وہ آیت کا مطلب یہ بیان کرتے ہیں کہ پوچھنے والے نے پوچھا ہے کہ وہ عذاب، جس کی ہمیں خبردی جا رہی ہے، کس پر واقع ہوگا ؟ اور اللہ تعالیٰ نے اس کا جواب یہ دیا ہے کہ وہ کافروں پر واقع ہوگا۔

لیکن اکثر مفسرین نے اس جگہ سوال کو مانگنے اور مطالبہ کرنے کے معنی میں لیا ہے۔ نسائی اور دوسرے محدثین نے ابن عباس رضی اللہ عنہما سے یہ روایت نقل کی ہے اور حاکم نے اس کو صحیح قرار دیا ہے کہ نضر بن حارث بن کلدہ نے کہا تھا:

﴿ اللَّهُمَّ إِن كَانَ هَٰذَا هُوَ الْحَقَّ مِنْ عِندِكَ فَأَمْطِرْ عَلَيْنَا حِجَارَةً مِّنَ السَّمَاءِ أَوِ ائْتِنَا بِعَذَابٍ أَلِيمٍ ﴾ (سورۃ الانفال: 32)

’’خدایا اگر یہ واقعی تیری طرف سے حق ہے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسا دے یا ہم پر درد ناک عذاب لےآ ۔‘‘

اس کے علاوہ متعدد مقامات پر قرآن مجید میں کفار مکہ کے اس چیلنج کا ذکر کیا گیا ہے کہ جس عذاب سے تم ہمیں ڈراتے ہو وہ لے کیوں نہیں آتے۔ مثال کے طور پر حسب ذیل مقامات ملاحظہ ہوں یونس، آیات 46 تا 48، الابنیاء 36 تا 41، النمل، 67 تا 72، سبا، 26 تا 30، یسین، 45 تا 52۔الملک، 24 تا 27 “۔

( حوالہ سورہ معارج حاشیہ 1 تفہیم القرآن)

بات دراصل یہ کہ مخبر صادق ﷺ اپنی دعوت میں اس بات کا ذکر فرمایا کرتے تھے کہ ایک دن قیامت آنے والی ہے! ، آخرت کی زندگی یقینی ہے!۔

نیک بندوں کیلئے جنت ہے اور بدکار و نافرمان لوگوں کے لئے جہنم کا عذاب ہے۔ آپﷺ کے ان ارشادات کا ، کفار مکہ مذاق اُڑایا کرتے تھے لہٰذا اس سورت میں ان لوگوں کو تنبیہ اور نصیحت فرمائی، تاکہ یہ ہوش میں آئیں اور اپنی فکر و نظر میں صالح تبدیلی لائیں۔ چنانچہ ابتدائی طور پر یہ بات واضح کردی گئی کہ جو لوگ عذاب مانگتے ہیں یہ (عذاب کا انکار کرنے والوں پر) بالضرور واقع ہوکر رہے گا اور جب یہ آجائے اس وقت اسے دفع کرنے والا کوئی نہیں جس کا ذکر آیت کریمہ (2) میں اس طرح آیا کہ

﴿ لِّلْكَافِرِينَ لَيْسَ لَهُ دَافِعٌ ﴾

(وہ سن لے) یہ تیار ہے کفار کے لئے، اسے ٹالنے والا کوئی نہیں ۔آیت کریمہ (3) میں اللہ تعالی کی اپنی قوت و عظمت کا مضمون ہے جو صرف دو جملوں:

﴿ مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ‎﴾ میں بیان ہوا کہ دیکھو یہ (نافرمانوں کےلیے جو ، تکلیف دہ گھڑی آنے والی اسے بھیجنے والی کوئی ضعیف یا معمولی ہستی نہیں ہے! بلکہ﴿ مِّنَ اللَّهِ ذِي الْمَعَارِجِ‎﴾ یہ اللہ کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے…..!!!

حضرت علامہ پیر محمد کرم شاہ علیہ الرحمہ لکھتے ہیں کہ

’’یہ عذاب نازل کرنے والا کوئی کمزور اور ضعیف شخص نہ ہوگا جس کو نیچا دکھا سکتے ہیں، بلکہ یہ عذاب اللہ جل مجده کی طرف سے ہوگا۔ وہ اللہ تعالی جو مَعَارِج کا مالک ہے۔ ‘‘

لفظ ”معارج“ کا خلاصہ فرماتے ہوے لکھتے ہیں:

”مَعَارِج عروج سے ہے۔عروج کا معنی بلند ہونا،اونچا ہونا ہے اس سے اسم آلہ معراج اور مِعرَج ہے۔ اسی کی جمع مَعَارِج اور مَعَارِیج ہے۔ ان کا معنی سیڑھیاں، زینے جن کے ذریعہ انسان اوپر چڑھتا ہے۔ حضرت ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: معارج سے مراد آسمان ہے؛ کیونکہ وہ بھی زینوں کی طرح درجہ بدرجہ ایک دوسرے کے اوپر ہیں۔‘‘

“قال ابن مسعود ذی المعارج أی ذی السموات .”

یا معارج سے مراد وہ مراتب و مدارج ہیں جو فرشتوں کو عطا کئے گئے ہیں اور جب معارج کی نسبت اللہ تعالی کی طرف ہوتو اس سے مراد وہ شان اور وہ عظمت ہے جو اسکی شان اقدس کی شایان ہے۔“

اور روح سے مراد ’’جبریل امین ہیں۔‘‘ (ضیاءالقرآن حاشیہ 2 )

اور آگے ارشاد فرمایا کہ

﴿‏ تَعْرُجُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ إِلَيْهِ فِي يَوْمٍ كَانَ مِقْدَارُهُ خَمْسِينَ أَلْفَ سَنَةٍ ﴾ (سورۃ المعارج: 4)

ملائکہ اور روح اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں، ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے)

مولانا مودودی رحمہ اللہ اس سلسلہ میں عام فہم تشریح یوں فرمائی کہ ”روح سے مراد جبریل ہیں اور ملائکہ سےالگ انکا ذکر، ان کی عظمت پر دلالت کرتا ہے۔ سورة شعراء میں فرمایا گیا ہے کہ

﴿‏نَزَلَ بِهِ الرُّوحُ الْأَمِينُ0‏ عَلَىٰ قَلْبِكَ ﴾

’’اس قرآن کو روح امین لے کر تمہارے دل پر نازل ہوئے ہیں۔‘‘

اور سورة بقرہ میں ارشاد ہوا ہے:﴿ققُلْ مَن كَانَ عَدُوًّا لِّجِبْرِيلَ فَإِنَّهُ نَزَّلَهُ عَلَىٰ قَلْبِكَ﴾ ’’کہو کہ جو شخص جبریل کا اس لیے دشمن ہو کہ اس نے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے۔‘‘

ان دونوں آیتوں کو ملا کر پڑھنے سے معلوم ہوجاتا ہے کہ روح سے مراد جبریل ہی ہیں۔

”یہ سارا مضمون متشابہات میں سے ہے جس کے معنی متعین نہیں کیے جاسکتے۔ ہم نہ فرشتوں کی حقیقت جانتے ہیں، نہ ان کے چڑھنے کی کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں، نہ یہ بات ہمارے ذہن کی گرفت میں آسکتی ہے کہ وہ زینے کیسے ہیں جن پر فرشتے چڑھتے ہیں۔

” سورة حج، آیت 47 میں ارشاد ہوا ہے:

’’ یہ لوگ تم سے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے رب کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔‘‘

سورة السجدہ، آیت نمبر 5 میں فرمایا گیا ہے:

’’ وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے، پھر (اس کی روداد) اوپر اس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے ۔‘‘

اور یہاں عذاب کے مطالبہ کے جواب میں اللہ تعالیٰ کے ایک دن کی مقدار پچاس ہزار سال بتائی گئی ہے، پھر رسول اللہ ﷺ کو تلقین کی گئی ہے کہ جو لوگ مذاق کے طور پر عذاب کا مطالبہ کر رہے ہیں ان کی باتوں پر صبر کریں اور اس کے بعد فرمایا گیا ہے کہ یہ لوگ اس کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ ان سب ارشادات پر مجموعی نگاہ ڈالنے سے یہ بات واضح ہوجاتی ہے کہ لوگ اپنے ذہن اور اپنے دائرہ فکر و نظر کی تنگی کے باعث خدا کے معاملات کو اپنے وقت کے پیمانوں سے ناپتے ہیں اور انہیں سو پچاس برس کی مدت بھی بڑی لمبی محسوس ہوتی ہے۔ لیکن اللہ تعالیٰ کے ہاں ایک ایک اسکیم ہزار ہزار سال اور پچاس پچاس ہزار سال کی ہوتی ہے اور یہ مدت بھی محض بطور مثال ہے، ورنہ کائناتی منصوبے لاکھوں اور کروڑوں اور اربوں سال کے بھی ہوتے ہیں۔“ (ت ق، حاشیہ 3تا،5)

عبد بن حمید نے حسن سے روایت کیا کہ وہ دن ان (نیک بندوں) پر ایک فرض نماز کی طرح ہوجائے گا۔ یعنی وہ پچاس ہزار کا دن ایک فرض نماز کے پڑھنے کے وقت کے برابر ہوجائے گا۔

ابن ابی حاتم والحاکم وبہیقی نے البعث میں ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے مرفوعا روایت کیا ہے کہ

’’قیامت کا دن ایمان والوں پر صرف اتنا لمبا ہوگا جتنا ظہر اور عصر کے درمیان وقت ہے۔‘‘ (حاشیہ 26 اور 27، تفسیر درمنشور،امام جلال الدین السیوطی)

پھر آگے حضرت محمد ﷺ کی طرف رؤ سخن ہے کہ آپ ان (منکرین) کی طرف سے مذاق اُڑائے جانے پر صبر کیجئے۔

﴿ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا ‎﴾

اصل بات یہ ہے کہ(منکرین حق) لوگ عذاب الٰہی کو دور سمجھتے ہیں اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔ بہ الفاظ دیگر یہ لوگ اسے بعید از امکان سمجھتے ہیں اورہمارے نزدیک وہ قریب الوقوع ہے۔ قاضی ثنا اللہ پانی پتی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ ﴿ فَاصْبِرْ صَبْرًا جَمِيلًا ‎﴾ ’’پس اے محمد(ﷺ) تکذیب کفار پر خوبی کے ساتھ صبر کرو۔‘‘

کافروں کی طرف سے سوال (اورمطالبہ عذاب) ۔۔۔ سے تنگ دل نہ ہوں اور ان پر عذاب آنے کی جلدی نہ کریں۔

اس وقت مطلب یہ ہوگا کہ آپ صبر کریں، عذاب ان کو بہالے جائے گا۔ عذاب کا وقت قریب ہے۔ (تفسیر مظہری)

آگے کا مضمون قیامت کے ہولناکیوں کے تذکرہ سے لبریز ہے اور اس میں یہ بتلایا گیا ہے کہ یہ (منکر قیامت ) لوگ آپ ﷺ سے قیامت لےآنے کی جلدی کررہے ہیں۔ یہ ان کی ہنسی و کھیل ہے۔ ہاں ان کو یہ بات یاد رکھنی ہے کہ وہ دن بڑا ہی سختی والا ہوگا ! کیونکہ یہ چیز ہی ایسی ہے اس دن مجرمین کا بُرا حشر ہوگا؛ یعنی ان کی حالت ایسے موقع پر یہ ہوگی کہ

”اور کوئی جگری دوست کسی جگری دوست کا حال نہ پوچھے گا۔“ (سورۃ المعارج: 10)

یعنی یہ ایسا نازک موقع ہوگا کہ ہر شخص کو اپنی ہی فکر لاحق رہے گی ، کسی اور کی خیریت معلوم کرنے کا کسی کو ہوش ہی نہ رہے گا، حلانکہ یہ ایک دوسرے کو دکھا ے جائیں گے۔ بلکہ ہر ہر مجرم یہ تمنا کرےگا کہ کاش

﴿يَوَدُّ الْمُجْرِمُ لَوْ يَفْتَدِي مِنْ عَذَابِ يَوْمِئِذٍ بِبَنِيهِ ‎0‏ وَصَاحِبَتِهِ وَأَخِيهِ 0 وَفَصِيلَتِهِ الَّتِي تُؤْوِيهِ 0 وَمَن فِي الْأَرْضِ جَمِيعًا ثُمَّ يُنجِيهِ﴾

(سورة المعارج: 11۔14) یہ اپنے پسندیدہ اور دل کو پیارے لگنے والے بچوں اور اپنی چہیتی بیوی اور اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو تک فدیہ میں دے کر اللہ کے عذاب سے بچنے کی کوشش کریں گے صرف اتنا ہی نہیں بلکہ اگر اس کا وہاں بس چلے تو جتنے لوگ زمین میں ہیں سب کو فدیہ دے کر چھٹکارا پالینے سےبھی دریغ نہین کریں گے ؛ پھر آخر کار کیا ہوگا۔۔۔؟ فرمایا:

﴿كَلَّا إِنَّهَا لَظَىٰ ﴾(سورۃ المعارج:15) ،مگر مشرک پھر بھی اپنی اس سعی میں ناکام ہوکر رہے گا۔

اصل میں ہیاں’’کلا ‘‘ لفظ ہی مشرک کو بھڑکتی آگ سے بچنے کی تمنا سے روکنا مقصود ہےکہ ہرگز انکی تمنا پوری نہیں ہوگی وہ تو بھڑکتی ہوئ آگ ہے۔ مستفاد (تفسیر مظہری)

اس کے بعد کا مضمون دو گروہ کے تذکرہ کے ساتھ آگے بڑھتا ہے یعنی دو طرح کے لوگوں کے کردار اور ان کے نتیجے بیان فرمائے گئے۔

پہلا گروہ مجرمین کا ہے جو حق سے منہ موڑ کر اپنی من مانی کی ہوگی اور مال و دولت جمع کرکے رکھا (بخل سے کام لیا) ایسے لوگوں کے لئے جہنم کی بھڑکتی آگ ہے، ﴿نَزَاعَةً لِلشَوَی﴾وہ ،(ظالموں کے) گوشت پوست کو نوچ لے گی:

﴿تَدْعُو مَنْ أَدْبَرَ وَتَوَلَّىٰ﴾ (سورۃ المعارج:17) پکار پکار کر اپنی طرف بلاے گی،ہر اس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری یعنی جو دنیا میں حق سے فراری اختیار کی،اللہ کے رسول کی ہدایات کی پرواہ نہ کی تھی! انکی ایک اور بیماری کا بھی ذکر ہوا، وہ یہ کہ ﴿وَجَمَعَ فَأَوْعَىٰ ﴾ مال جمع کرنا سنبھال و سینت کر رکھنا وغیرہ، یہ دراصل انسان کے دنیا پرست ہونے اور لالچی پن و مرضِ بخل کو ظاہر کرتاہے، پھر آگے تین آیات میں یہ بات آئى ہے:1۔ ﴿إِنَّ الْإِنسَانَ خُلِقَ هَلُوعًا﴾ (سورۃ المعارج: 19)

ان میں نوع انسانی کی عام اخلاقی کمزوری کا ذکر ہے کہ وہ ﴿ هَلُوعًا﴾ یعنی وہ حریص، جو حلال وحرام کی تمیز نہ کرے، چاہے جس طرح بھی اخلاقی پستی انسانی شرافت کو پامال کرنا پڑے، ہر حال میں وہ مال ودولت جمع کرنے میں منہمک ہوکر مادی اشیاء سےچپکے رہتا ہے۔!

2۔ ﴿ إِذَا مَسَّهُ الشَّرُّ جَزُوعًا﴾ (سورۃ المعارج: 20)جب اسے تکلیف پہنچے تو سخت گھبرا جانے والا۔ اسکا دوسرا نقص یہ کہ وہ ”جَزُوع“ ہے یعنی اسکی گھبراہٹ و بے صبری کا عالم یہ کہ اسکی زندگی میں جب مصائب کی گھٹا چھانے لگے تو اسکے اوسان خطا ہونے لگتے ہیں اور امید کی کوئ کرن نظر نہیں آتی۔

اس کا تیسرا نقص یہ کہ ﴿ وَإِذَا مَسَّهُ الْخَيْرُ مَنُوعًا﴾ (سورۃ المعارج: 21)اور جب اسے دولت ملے تو حد درجہ بخیل ہوجا تا ہے۔!

یعنی نعمت پاتے ہی بخل میں مبتلا ہوکر اپنے نزدیک یہ سمجھنے لگتا ہے کہ اس پر صرف اسی کا حق ہے۔!

نتیجتاً نوع انسانی کی ”خدمت“ اور دنیا کےاخلاقی وروحانی”بگاڑ“ کو دور کرنے کے لئے مال خرچ کرنے سے کترانے لگ جاتا ہے۔ اور یہ انسانی کمزوری اور اخلاقی افلاس اور بخالت اسی وقت دور ہوسکتی ہے، جب آدمی الٰہی و نبوی تعلیم پر عمل پیرا ہوجاے۔ یہاں سے آیت کریمہ (35) تک اسکی تفصیل بیان فرمادی گئ؛ جسکا آغاز نماز پڑھنے والوں کے ذکر سے ہوتا ہے اور نماز کی حفاظت پر ختم ہوتا ہے۔

جنہیں خوش نصیب بندوں میں شمار کیا جاے گا، جن کے اندر یہ اور یہ اعلیٰ کردار ہوں گے۔ مثلاً اللہ کے خوف کے ساتھ زندگی بسر کی ، آخرت کو حق جانا ، نماز کی پابندی کی ، اپنے مال سے راہ للہ، خدا کے مستحق بندوں کی مدد کی اور ان کا حق ادا کیا ۔ بدکاریوں سے اپنی زندگی کوپاک رکھا اورامانت میں خیانت نہیں کی ہوگی۔

یعنی جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس و خیال کرتے ہیں، اپنی گواہیوں کے معاملہ میں کمی بیشی نہیں کرتے اور نہ اسے چھپاتے ہیں اور ان کی ایک خاص بات کا ذکر کیا گیا کہ

یہ اپنی نمازوں کی حفاظت کرتے ہیں یعنی یہ صرف نماز ادا ہی نہیں کرتے بلکہ اس کے پورے احترام وآداب کے ساتھ لازمی طور پر (اپنے اہل عیال کے ساتھ) اہتمام کرتے ہیں، گویا کتاب وسنت پر چل کر اپنے اندراعلیٰ صفات پیدا کرنے والے لوگ: ﴿أُولَٰئِكَ فِي جَنَّاتٍ مُّكْرَمُونَ﴾ ’’ عزت و اکرام کے ساتھ جنت کے باغوں میں رہیں گے۔‘‘ (سورۃ المعارج:35)

خلاصہ یہ کہ انسان کےاندرجو نقائص وکمزوریاں پائی جاتی ہیں، یہ سب اعمال صالحہ پر چلنے اور کتاب و سنت کا پابند ہونے سے دور ہوجاتے ہیں۔ پھر آگے کی آیت میں ( ان بد نصیب لوگوں کا ذکر ہوا جو، دعوت وتبلیغ اور تلاوت قرآن کی آواز سن کر) نبی ﷺ کامذاق اڑانے اور آوازے کسنے کے لیے چاروں طرف سے دوڑ پڑتے ہیں، کیا ان میں سے ہرایک یہ طمع کرتا ہے کہ وہ(ایمان وعمل صالحہ کے بغیر)نعمتوں بھری جنت میں داخل کیا جاے گا۔۔۔؟ نہیں نہیں یہ تو (انکی)

’’ایں خیال است ومحال است و جنوں‘‘

’’ خودساختہ تمنا ہے!!! جنت کے مستحق تو حقیقت میں وہی لوگ ہیں جنکے اوصاف حمیدہ کا اوپر ذکر ہوا۔

اختتامی طور پر آیت کریمہ 41 میں، بظاہر نبی کریم ﷺ سے خطاب ہے، لیکن اس میں کفار کو جھنجوڑا گیا کہ یہ لوگ، آپﷺ کا مذاق اُڑانے کیلئے چاروں طرف سے ٹوٹ پڑ رہےہیں، انہیں یہ بات خوب یاد رکھنی چاہئے کہ اگر نبی (ﷺ) کی بات نہ مانو گے تو تمہاری جگہ اللہ تعالیٰ دوسروں کو اُٹھائے گا یعنی اللہ جب چاہے تمہیں ہلاک کرسکتا ہے اور تمہاری جگہ کسی دوسری قوم کو اُٹھا سکتا ہے جو تم سے بہتر ہوں۔

اس سلسلہ میں، حضرت مولانا شبیر احمد عثمانی رحمہ اللہ لکھتے ہیں کہ

’’یا یہ مطلب ہوکہ ان کفار مکہ کو ہنسی ٹھٹا کرنے دیجئے،ہم خدمت اسلام کے لئے اس سے بہتر قوم لے آئیں گے چنانچہ ’’قر یش‘‘ کی جگہ اس نے ”انصار مدینہ“ کو کھڑا کردیا۔اور مکہ والے پھر بھی اس کےقابوسےنکل کر کہیں نہ جاسکے۔آخر (انہیں) اپنی شرارتوں کے مزے چکھنے پڑے۔“ (تفسیر عثمانی)

لہٰذاان کو اپنے حال پر چھوڑ دیجئے۔ کھیل میں پڑا رہنے دیجئے یعنی ان کے تمسخر کو خاطر میں نہ لایئے ~کیونکہ یہ لوگ قیامت ہی کی ذلت و رسوائی پر بضد ہیں تو انھیں اپنے ناپاک مشغلوں میں مبتلا رہنے دیں یہ خود اپنا بُرا انجام اپنی آنکھوں سے دیکھ لیں گے۔

یعنی ﴿خَاشِعَةً أَبْصَارُهُمْ تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ ذَٰلِكَ الْيَوْمُ الَّذِي كَانُوا يُوعَدُونَ﴾

انکی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی،﴿تَرْهَقُهُمْ ذِلَّةٌ﴾ ذلت ان پر چھا جاےگی، اس لئے وہ اپنی نظروں کو اوپر اٹھا نہ سکیں گے یہ وہ دن ہوگا جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے وہ ضرور پوراہوکر رہے گا۔“ (سورة المعارج: 44)

حاصل کلام: سورۃالمعارج میں مشرکین اور منکرین آخرت کے لئے بہت بڑا درس عبرت ہے! ہم سب اللہ کریم سے رحم وکرم کی امید کے ساتھ ،دعا کرتے ہیں:تَوَفَّنِیْ مُسْلِمًا وَّ أَلْحِقْنِیْ بِالصَّالِحِیْنَ۔ آمین

٭٭٭

امام کی تلاش

پچھلے دنوں ایک مسجد میں نئے امام کی تلاش جاری تھی۔ چند کمیٹی ممبران ایک مفتی صاحب کے پاس چلےگئے۔ رسمی سلام و دعا کے بعد مفتی صاحب نے آنے والوں سے آنے کا مدعا پوچھا :کیسے آنا ہوا؟

مسجدکمیٹی: بس آپ کی زیارت کے لیے حاضر ہوئے تھے،آپ جیسے بزرگوں کی صحبت نصیب ہونا بھی سعادت کی بات ہے-

مفتی صاحب:ماشاء اللہ! اللہ خوش رکھے۔ پھر بھی اگر کوئی کام ہے تو بتا دیں کیونکہ مجھے کسی کام سے باہر جانا ہے۔

مسجدکمیٹی:جی بس آپ سے ملنا بھی تھا اور ایک عرصے سے ہمارا آپ کے ہاں آنا جانا ہے تو ہم نےچاہا کہ ہم اپنی مسجد کےلیے امام صاحب بھی آپ ہی کے پاس سے لے جائیں۔

مفتی صاحب: پہلے امام صاحب کہاں ہیں؟

مسجدکمیٹی:انہیں فارغ کر دیا ہے۔

مفتی صاحب:کیوں؟

مسجدکمیٹی: ٹائم نہیں دیتے تھے؟

مفتی صاحب: کیا مطلب؟

مسجدکمیٹی: جی وہ نماز کے لیے ٹائم پر نہیں آتے تھے اور چھٹیاں بھی بہت کرتے تھے؟

مفتی صاحب:ٹائم پر کیوں نہیں آتے تھے؟

مسجدکمیٹی: جی وہ اِدھر اُدھر ٹیوشن پڑھانے نکل جاتے تھے پھر نماز پہ کبھی ایک منٹ رہتا تو پہنچتے اور کبھی بالکل عین جماعت کےٹائم پر پہنچتے تھے اور کبھی پہنچتے ہی نہیں تھےروز کسی نہ کسی نماز کی چھٹی کر لیتے تھے۔

مفتی صاحب:وظیفہ کیا دیتے ہیں؟

مسجدکمیٹی:جی ان کو آٹھ ہزار (8000)دیتے تھے اور اب آپ کے امام صاحب کو دس ہزار دیں گے۔

مفتی صاحب:امام صاحب فیملی کے ساتھ رہتے تھے؟

مسجدکمیٹی:نہیں اکیلے تھے ،ہمارے پاس فیملی رہائش کی سہولت نہیں ہے، اب کوشش کر رہے ہیں۔

مفتی صاحب:آپ جانتے ہیں کہ اس منصب کی ابتدا سید المرسلینﷺ نے کی اور خلفائے راشدین نے اسے پروان چڑھایا۔خلفائے راشدین بَیَکْ وقت حاکم بھی تھے اور امام بھی۔ ان کے بعد منصبِ امامت والے انہی کے نائبین کہلاتے ہیں۔اسی لیے مصلائے امامت کو مصلائے رسول اور منبرِ مسجد کو منبرِ رسول بھی کہتےہیں۔اب خود ہی سوچیں کہ یہ کتنا مقدس منصب ہے اور اس کی کتنی قدر ہونی چاہیے۔ آج کل لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ امام صاحب چوبیس گھنٹے مسجد میں موجود رہیں اور ہم جو بھی کہیں امام صاحب وہی کریں لیکن دوسری طرف لوگوں کی حالت یہ ہے کہ انہیں اتنا بھی وظیفہ نہیں دیتے جس سے ان کی ضروریات پوری ہو سکیں۔آج اس دور میں سرکاری طور پر ایک مزدور کا وظیفہ بھی چودہ ہزار (37000)مقرر ہے لیکن لوگوں کی کم ظرفی تو دیکھیں کہ جس منصب کا رتبہ ملک کے صدر و وزیر اعظم سے بھی اعلیٰ ہے اسے ایک مزدور کے برابر بھی اہمیت نہیں دیتے، ارے میرے نزدیک تو امام وقرآن کی قدر یہ ہے کہ امام صاحب جوصرف نمازِ فجر میں ہمیں قرآن سناتے ہیں اگر صرف ایک نماز پر انہیں ہم ایک لاکھ روپے وظیفہ دیں تو یہ بھی کم ہے۔

اور یہاں اس مقام کی قدر یہ هے کہ لوگ سات آٹھ ہزار دے کر سمجھتے ہیں کہ ہم ان پر بڑا احسان کرتے ہیں اوراگر ان کا اپنا بیٹا 30 ،40 ہزار بھی کماتا ہو پھر بھی انہیں کم نظر آتا هے اور انہی امام صاحب سے دعا کرائیں گے کہ بچے کی کوئی اچھی جاب لگ جائے، حیرت و افسوس کا مقام ہے۔

لوگوں کا خیال ہے کہ امام صاحب اپنی ضروریات پوری کرنے کے لیے نہ ٹیوشن پڑھائیں نہ کچھ اور کام کریں صرف ان کے سامنے ہاتھ باندھ کر کھڑے رہیں۔

کیا وہ انسان نہیں ہیں؟

کیا ان کے بیوی بچوں کی ضروریات نہیں ہیں؟

کیا وہ اپنے بیوی بچوں کو خوشیاں دینے کے مستحق نہیں ہیں؟

آج لوگوں کو امام نہیں ایک نوکر اور غلام کی تلاش ہے، مہربانی فرما کر تشریف لے جائیں اور دوبارہ میرے پاس آنے کی ضرورت نہیں۔

یہ کہہ کر مفتی صاحب چل دیۓ اور کمیٹی ممبران دیکھتے رہ گئے۔

حاصلِ کلام : اصل مسئلہ امام کی کمی نہیں، قدر کی کمی ہے۔ہمیں امام نہیں، اپنا رویہ بدلنے کی ضرورت ہے۔اگر مسجدیں آباد دیکھنا چاہتے ہیں، اگر اپنی نسلوں کی دینی حفاظت چاہتے ہیں، تو ائمہ کرام کی عزت، کفالت اور دلجوئی کو اپنی اولین ذمہ داری سمجھیں۔

اللہ تعالیٰ ہمیں منصبِ امامت کی صحیح قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔

تبصرہ کریں