سورۃ المدثر ایک مختصر تعارف۔ مولانا محمد عبدالحفیظ اسلامی

سورہ کا نام اس کی پہلی آیت کریمہ يَأَيُّهَاالمُدَّثِّرُ سے ماخوذ ہے ۔ مذکورہ سورت میں 56 آیات کریمہ اوردو رکوع آئے ہیں۔ علماء کرام اس بات پر متفق ہیں کہ اس کانزول مکہ مکرمہ میں ہوا۔البتہ یہ مکمل سورت ایک وقت میں نازل نہیں ہوئی بلکہ اللہ تعالی نے اپنے رسول برحق کے قلب اطہر پراس کی آیات کو حسب ضرورت اتارا ہے۔

یہ مشہورسورت حضرت محمد ﷺ کےاعلان نبوت کےبعد ابتدائی عرصہ میں نازل شدہ سورت ہے؛ لیکن قبل ازیں آپ ﷺ کے پاکیزہ قلب پر(سورۃ اقراء) ﴿اِقْرَأ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِیْ خَلَقَ … مَالَمْ یَعْلَمْ﴾ تک آیات نازل ہوچکی تھیں۔اس کےبعد ایک مدت تک آپ پر وحی نازل نہیں ہوئی۔وحی کے نزول کا بند ہوجانا آپؐ کے لئے شدید غم کی کیفیت کازمانہ رہا ہے بعض اوقات آپؐ اضطراب کی حالت میں پہاڑیوں کی چوٹیوں پر چڑھ جاتے۔ ایسے موقع پر جبرئیل امین علیہ السلام آپ کے سامنے ہوتے اور کہتے کہ آپ اللہ کے نبی ہیں۔ اس طرح آپ کے قلب مبارک کوسکون حاصل ہو جاتا تھا۔

امام زہری،حضرت جابر بن عبداللہ کی روایت نقل کرتے ہیں کہ

’’رسول اللہ ﷺ نے فترۃ الوحی (وحی بند رہنے کے زمانے) کا ذکر کرتے ہوئے بیان فرمایا۔‘‘

ایک روز میں راستے سے گزر رہا تھا۔ یکا یک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی۔ سراُٹھایا تو دیکھا کہ وہی فرشتہ جوغار حرا میں میرےپاس آیاتھا۔ آسمان اور زمین کےدرمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا ہے،میں یہ دیکھکرسخت دہشت زدہ ہوگیااورگھر پہنچ کر میں نے کہا،مجھےاڑھاؤ،مجھے اڑھاؤ۔ چنانچہ گھر والوں نے مجھ پرلحاف(کمبل) اڑھا دیا۔ اس وقت اللہ نے وحی نازل کی يَأَيُّهَاالمُدَّثِّرُ ‏…پھر لگاتار،مجھ پر وحی کانزول شروع ہوگیا ۔ ‘‘ (صحيح بخاری، صحيح مسلم)

چنانچہ ابتداءمیں مذکورہ سورت کی سات7آیات نازل ہوئی پھر 8 ویں آیات کریمہ سے اس کا دوسرا سلسلہ شروع ہوتاہے، یعنی اسکے بعد نبی کریم ﷺ کی دعوت وتبلیغ علانیہ شروع ہوجاتی ہےاور ایسے میں پہلی مرتبہ حج کےموقع پرباہر سے آنے والے لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا بہترین وقت آجاتا ہے، یہ بات ہمارے ذہن نشین رہے کہ نبی محترم ﷺ کےقلب مبارک پر سورہ علق کی سب سے پہلی جوآیات کریمہ نازل ہوئی ہے۔ یہ نزول وحی کاپہلاواقعہ تھا۔ اس میں ابتدائی تعارف کروا کر آپؐ کو کچھ دن کیلئےچھوڑ دیا گیا،تاکہ آپﷺ کی طبیعت مبارک پرجوسخت اثر (بار) وحی کے اُترنے کا پڑ اہے، یہ ختم ہوجائےتاکہ آئندہ کلام الٰہی(جو بذریعہ وحی نازل ہوگا اسے) وصول کرنے اور نبوت کے فرائض سنبھالنے کیے لئےآپﷺ تیار ہوجائیں۔

محترم قارئین!

اس سورۃ’’مدثر‘‘کے سلسلہ میں چند تمہیدی الفاظ کو تحریر کرنے کے بعد اب ہم آگےاصل مضامین کی طرف چلتے ہیں،تاکہ اس سورہ کا ایک مختصر وجامع تعارف ہمارے سامنے آ جائے! اس کی ابتدائی 7آیات میں پہلی مرتبہ آپﷺ کو حکم عطا ہوتا ہےکہ اے چادر لپیٹنے والے، آپﷺ اٹھیں اور (لوگوں کو) ڈرائیں کہ وہ جس روش پر چل رہے ہیں, اسکا کیا کچھ انجام ہوگا۔۔۔!

حضرت علامہ پیر کرم شاہؒ لکھتے ہیں کہ

” يَأَيُّهَاالمُدَّثِّرُ کےمحبت بھرے خطاب کے بعد پہلا حکم یہ دیاکہ اٹھیے!کاہلی وبےپرواہی سے نہیں پکےعزم اورپوری سنجیدگی کے ساتھ اٹھئے۔آپکے گر دوپیش بسنے والی مخلوق غفلت کی نیند سوئی پڑی ہے،اسے خبردار کردیجئے کہ آنکھیں کھولو،اپنی روش بدلو،ورنہ عذابِ الہی نازل ہو نے ہی والاہے۔اگراپنی خیر چاہتے ہوتو اس عذاب سے بچنےکاراستہ میں تمہیں دکھاتاہوں۔وقت ضائع کئے بغیراس پرگامزن ہوجاؤ۔“ (ضیاءالقرآن)

دوسری چیز یہ کہ اب دنیا میں غیر خدا کی بڑائی کے جو چرچے ہیں اس کے مقابل حقیقی خداپرستی کی بڑائی کااعلان کر ديجئے اوراپنے لباس کو پاک وصاف (نبی کے شایان شان)رکھیئے یعنی

” آپ کونبوت کے منصب رفیع پر فائزکیا گیا ہے۔اللہ تعالیٰ نےآپ کواپنی کبریائی کےاعلان کےلئے منتخب فرما یا ہے۔آپ کے رب کاجمال اس بات کوگوارہ نہیں کرسکتاکہ آپ میلے کچیلےہوں یاآپ کے کپڑے گندےیاناپاک ہوں۔جس طرح آپکی زندگی کا مقصد مقدس ہےاسی طرح آپ کا لباس بھی اجلا صاف اورپاک ہونا چاہیے، اس کا دوسرا معنی یہ کیا گیا ہےکہ اپنے اخلاق کوبھی پاک رکھئے، اپنےدامنِ عصمت پر کسی قسم کا کوئی دھبہ لگنے نہ پائے، دشمنان حق کو انگشت نمائی کا کوئی موقع نہ دیجئے کہ ان کے اعتراضات طالبان حق کے لئے رکاوٹ نہ بن جائیں۔“ (اقتباس ض ق)

خلاصہ یہ کہ گردوپیش میں طرح طرح کی گندگیاں موجود ہیں ان سے(حسب سابق) آپ دور رہیں، اپنادامن ان سے بچائے رکھیں۔مطلب یہ کہ نبی کی بعثت کامقصد بہت ہی اعلیٰ وبلنداورمقدس ہے،اسی مناسبت سے دین حق کو پیش کر نے والی عظیم ہستی کی زندگی ہرطرح سے نفیس اور پاکیزہ ہونی چاہیے، کیونکہ آپﷺ کی حیات طیبہ، بندگی رب کا سچا و اعلی ترین اور آخری نمونہ ہے!!!۔

اورمزید یہ بھی فرمایا کہ

﴿وَالرُّجْزَ فَاهْجُرْ﴾(آیت5) اور بتوں سے (حسب سابق) دور رہئے:

یعنی عقیدہ اور عمل کی ہرظاہری وباطنی قباحت سے حسب سابق احتراز کرنے کی تاکیدہورہی ہے، مولانا محمد شفیع صاحب لکھتے ہیں کہ

”ائمہ تفسیر مجاہد، عکرمہ،قتادہ،زہری،ابن زید وغیرہ نےاس جگہ’رجز‘ کے معنی بتوں کےقراردئے ہیں اورحضرت ابن عباسؓ کی ایک روایت میں اس سے مرادہرگناہ اورمعصیت منقول ہے۔معنی آیت کے یہ ہیں کہ بتوں کو یا گناہ معصیت کوچھوڑئیے۔رسول اللہ ﷺ تو پہلے ہی سب کو چھوڑے ہوئے تھے آپ کو اس کا حکم کرنےکے معنی یہ ہیں کہ آئندہ بھی ان چیزوں سےدور رہیں اور درحقیقت یہ حکم امت کے لئےتعلیم ہےجوغائت درجہ تاکید کےلئے رسول اللہﷺ کومخاطب کرکے دیا گیا ہے تاکہ وہ سمجھیں کہ جب پیغمبر معصوم کو بھی اسکا حکم ہےتو ہمیں اس کا کیسا اہتمام کرناچاہیے۔“

سید قطب شہیدؒلکھتے ہیں کہ

’’آپﷺ نے اس حکم سے پہلے (ہی) اپنی فطرت سلیمہ کے تقاضے کے مطابق ان برائیوں کو ترک کر دیا تھا، نظریاتی، اخلاقی، رواجی اور عملی جاہلیت سےآپ پہلےسےمجتنب تھے۔‘‘

امام جلال الدین السیوطی رحمہ اللہ اس کا مطلب یہ لکھتے ہیں کہ

”آپ ﷺ کےگردوبیش سارے معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سےاپنادامن بچاکررکھو۔ “

مولانا مودودی صاحب نے اس کی تشریح فرماتے ہوے لکھا ہے کہ

’’اور گندگی سے دور رہو، گندگی سےمراد ہر قسم کی گندگی ہےخواہ وہ عقائد اورخیالات کی ہو،یا اخلاق واعمال کی،یاجسم و لباس اوررہن سہن کی مطلب یہ ہےکہ،..معاشرے میں طرح طرح کی جو گندگیاں پھیلی ہوئی ہیں ان سب سے اپنا دامن بچا کر رکھو۔‘‘

علامہ پیر محمد کرم شاہ صاحب مختصروجامع تحریر فرماتے ہیں کہ

” کیونکہ ایک مبلغ کا کلام، اسوقت تک موثر نہیں ہوسکتا جب تک وہ خود ان برائیوں سے منزہ ومبرہ نہ ہو۔فرمادیا وہ تمام گناہ جو اللہ تعالی کی ناراضگی اور عذاب کا باعث بنتے ہیں،جن میں سب سے بڑا گناہ بتوں کی پرستش ہے، ان سے کنارہ کش رہیے ورنہ لوگ آپ پر زبان طعن دراز کریں گے اور تبلیغ کی کوششیں نتیجہ خیزثابت نہ ہوں گی۔‘‘(اقتباس)

آیت6 میں ایک اور اہم تعلیم یہ دی گئی کہ آپﷺ دنیوی فائدہ کوخاطر میں لائےبغیراخلاص کےساتھ خلق خدا کی اصلاح کا کام کیجئے یعنی نبوت کاجوکام آپ کررہے ہیں، یہ اپنی جگہ ایک بہت بڑااحسان ہے کہ آپ کےذریعہ سےلوگوں کو ایمان کی دولت اور ہدایت کا سامان فراہم ہورہا ہے،مگر آپ اس کااحسان لوگوں پر مت رکھئے۔

خلاصہ کلام یہ کہ احسان جس پر بھی کیجئے بے غرضانہ کیجئے۔آپﷺ کی عطا اور بخششیں،سخاوت حسن سلوک یہ محض اللہ کے لئے ہو،آپ کا رب خود آپ کو اس کا اجر عظیم اوراجرغیر ممنون عطا فرماے گا۔ پھر آگےآیت7میں ایک اہم بات کی تعلیم دی جارہی ہے جو داعی حق کیلئےبےحدضروری ہے۔۔۔ فرمایا رسالت کے فرض کی انجام دہی میں جوکچھ بھی مشکلات اور مصائب درپیش ہوں گی اسے محض اپنے رب کی رضا کی خاطر صبرکےساتھ برداشت کیجئے۔

مذکورہ بالا آیات کریمہ میں جوفرمان باری تعالیٰ نازل ہوا ، اس کے عین مطابق نبی ﷺ نےاس پر کامل عمل فرماتےہوئے لوگوں کے سامنے اسلام کی دعوت حق،صبر کےساتھ پیش فرمائی اورآپﷺ پر پےدرپے نازل ہونے والی قرآنی آیات کو لوگوں تک پہنچانے کا کام جاری رکھا۔ اس کےردعمل کے طور پر مشرکین مکہ کے اندرکھلبلی مچ گئی اور اتنے میں حج کا زمانہ آتا ہے،نبی ﷺ کی دعوت کا انکارکرنے والوں میں یہ تشویش پیداہوگئی کہ اب کیا کریں، کیونکہ سارے عرب سے حاجیوں کے گروہ آئیں گے اور محمدﷺ حاجیوں کی قیام گاہوں تک پہنچیں گے اور آنے والوں سے ملاقاتیں کریں گے اور قرآن جیسا کلام سنائیں گے، تو عرب میں ہر گوشےتک انکی دعوت پہنچ جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔

اسی خیال کے تحت سرداران قریش نےایک مجلس اپنے اہم ترین مشاورتی مرکز (دارالندوہ) میں بلائی اور اس میٹنگ میں ائمۂ کفرکے درمیان یہ بات طے ہوئی کہ آنے والےحج کےموقع پر حجاج کےآتے ہی محمد(ﷺ) کےخلاف پروپگنڈہ شروع کر دیا جائے۔ پھر ایک منصوبے کے مطابق حج کےزمانےمیں قریش کے وفود حاجیوں کے درمیان پھیل گئے اور اُنھوں نے آنے والے زائرین کو خبردار کرناشروع کر دیا کہ یہاں ایک ایسا شخص اُٹھ کھڑا ہے جو بڑا جادوگر ہے اور اس کاجادو خاندانوں میں تفریق ڈال دیتا ہے۔ اس سے ہوشیار رہنا!

خدا کا کرنا دیکھئےکہ اس مکروہ عمل کاجونتیجہ برآمد ہوا، وہ یہ تھا کہ خود قریش والوں نے داعی اعظم محمد ﷺ کانام سارے عرب میں مشہورکردیا۔ مندرجہ بالا واقعات کا مطالعہ ہمارے لئے آگے کی آیات کو سمجھنے میں آسانی پیدا کرتا ہے۔ اس سورت کا دوسرا حصہ یعنی آیات کریمہ 8 تا سورت کے ختم تک اسی بات پر حسب ضرورت بھرپور بیان کیا گیا جس کا خلاصہ مختصر طور پر درج ذیل تحریر کیا جاتاہے۔

آیت کریمہ8تا10میں حق کا انکار کرنے والوں کو یہ خبر پہنچائی گئی کہ آج تم لوگ جو کچھ دعوت اسلامی کے خلاف کررہے ہو ،اس کا بُرا انجام روز قیامت دیکھ کر رہو گے۔

آیت مبارکہ 11تا 25 تک میں اللہ تعالیٰ نے ایک منکر حق (ولید بن مغیرہ، دور جاہلیت میں قریش کے سردار،قبیلہ بنومخزوم کارئیس اورعرب کے انتہائی مالدار اور بااثر ترین لوگوں میں سے ایک تھا۔وہ اسلام کا شدید ترین دشمن، رسول اللہ ﷺ کا مخالف تھا) کے رویہ کا تذکرہ کرتے ہوئے فرمایا،جو اللہ کی عطا کردہ نعمتوں سے مالا مال تھا مگر اس نےحق کےدشمنوں کا ساتھ دیا۔حالانکہ وہ محمدﷺ اور قرآن کی صداقت کا قائل ہوچکا تھا مگر محض اس نے اپنی چودھراہٹ اور وجاہت کوخطرہ سمجھتے ہوئے حق کا ساتھ دینے سے رہ گیا۔ اگرچہ کہ اس کا اپنا ضمیر اسے ملامت کررہا تھا۔ ضمیر سے لڑجھگڑ کرآخرکار وہ یہ بات بناکر لایا کہ لوگوں کو دعوت اسلام و نبیؐ سے دور کرنے کاصرف یہی ایک طریقہ ہے کہ محمد (ﷺ) کےمتعلق یہ (جھوٹ) بولا جائے کہ ﴿إِنْ هَذَا إِلَّا سِحْرٌ يُّؤْثَرُ﴾ یہ جادو ہے اس کتاب کا لانےوالا جا دو گر ہے اور قرآن کے بارے میں کہتا کہ

﴿إلا قول البشر﴾ (آیت 25) یہ تو ایک انسانی کلام ہے! اسکے لئے اللہ تعالی آیت 26 میں فرماتے ہیں :

﴿سَأُصْلِيهِ سَقَرَ﴾، اس طرح کا تکبر اور جھوٹ پراپنی زبان کھو لنے والےکے لئےسخت عذاب میں جھونکا جانا ہے، یعنی میں عنقریب اس کو سقر میں داخل کروں گا۔

پھر آگے آیات27، 28، 29، 30 میں نبی ﷺ سے بظاہر خطاب ہے، لیکن اصل اسکے مخاطب منکرین حق ہیں،جس میں ان کےلئے سخت قسم کا ڈراوا ہے،چنانچہ فرمایا کہ

”آپﷺ جانتے ہیں کہ وہ سقر کیا ہے؟ (وہ) کچھ باقی رکھے گی نہ کچھ چھوڑے گی۔‘‘

مولانا محمد عبدالعزیز﷫ اس کی توضیح فر ماتے ہوئے لکھتے ہیں کہ

”وہ آگ جلاکر خاکستر کردے گی مگر پھر بھی اس کا پیچھا نہ چھوڑے گی۔ اس پر نئی نئی تازہ کھال پیدا ہوتی رہے گی اور آگ اسے جلاتی رہے گی ہمیشہ ہمیشہ کے لئے یہی عمل جاری رہےگا،جس کا ذکر سورہ نساء کی آیت 56 میں ہوا ۔“(مطالب قرآن حکیم مع سہل ترجمہ)

اورمزید فرمایا:

’’ جلاکر بدن کو خاکستر کردے گی، (ہیت بگاڑ دےگی) ان پر 19 اُنیس پہرہ دارہیں۔یہ بات بھی بتلائی گئی کہ کس طرح کے لوگ اس میں داخل کئے جائیں گے اور کون سے اعمال انسان کو دوزخ کا مستحق بناتے ہیں۔آگے یہ بھی واضح کردیا گیا کہ ، دوزخ سے لوگوں کو اچھی طرح ڈرایا جا چکا ہے۔

اب جس کا جی چاہے اس سے ڈر کر بھلائی کے راستے پرآگے بڑھے اور جس کا جی چاہے پیچھے ہٹ جاے مگر خوب یاد رکھنا، ہر شخص اپنے اعمال کے بدلے میں رہن ہےیعنی”رہن کا استعارہ بہت معنی خیز ہے۔ ایک شخص اگر کسی سے کچھ قرض لے اور قرض دینے والا اپنے حق کی ادائیگی کےلئےضمانت کے طور پراس کی کوئی چیز اپنے پاس رہن رکھ لےتوجب تک وہ قرض ادا نہ کردے اس وقت تک فکِ رہن نہیں ہوسکتا، اگر مدت مقررہ گزر جانے پر بھی وہ فکِ رہن نہ کرائے تو شئے مرہونہ ضبط ہوجاتی ہے۔انسان اور خدا کے درمیان معاملہ کی نوعیت کو یہاں تشبیہ دی گئی ہے“۔(مستفاد ت ق)جنت والوں کاذکر بھی ہوا کہ وہ بہشت کے باغوں میں(خُوش وخُرم) ہوں گے! آگے آیات میں کفار کےحقیقی مرض کی یوں نشاندہی کی گئی کہ یہ آخرت سے نڈر ہوگے۔۔۔ آگے کل8 آیات کریمہ40تا47میں اہل جنت اوراہل دوزخ کے درمیان کے مکالموں کا نقشہ یوں پیش کیا گیا کہ

”جنتی لوگ جہنم میں رہنے والے مجرمین سے پوچھیں گے کہ

تمہیں کیاچیز دوزخ میں لے گئی؟وہ کہیں گے ہم نماز پڑھنےوالوں میں سےنہ تھے اورنہ ہم مسکینوں کوکھانا کھلاتے تھے(ایک بڑا جرم) ہم اہل باطل کےساتھ مل کر حق سے انکار کرتے تھے یعنی، بیہودہ فکر والوں کے ساتھ بیہودہ باتیں ہم بھی سوچتے تھے اورانصاف کےدن کو جھٹلاتے رہے یہاں تک کہ(اسی مذموم وقبیح حالت میں) موت آگئی اور جہنم میں داخل ہوگئے۔

اس طرح ان کے چار 4 بڑے بڑے جرم گنوائے گئے۔ اور انکے لئےدوزخ سے چھٹکارا دلانے والی سفارش کی بھی نفی فرمادی گئی، یعنی جو صفات مذکورہ کا حامل ہوگا، اسےکسی کی شفاعت بھی فائدہ نہیں پہنچائے گی، کیونکہ سفارش کے مستحق تو وہ ہوتے ہیں جو اللہ پر ایمان لاتے ہیں اورایمان کی وجہ سے ہی یہ شفاعت کے قابل ہوں گے۔(انکا یہ اخروی خسارہ) اسوجہ سے ہوگا کہ انہوں نےدنیاہی کوسب کچھ سمجھ بیٹھے۔ یہی وجہ ہے کہ یہ لوگ قرآنی تذکیرو نصیحت Fleeing from Guidance سے اس طرح بھاگتےہیں جیسے شیر سے ڈر کرجنگلی گدھے Wild ass بدحواس Demented ہوکر بھاگتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ ایمان کی راہ پر ایک قدم بھی آگے نہیں بڑھا پاتے۔۔۔۔

آیت51 میں منکرین قرآن کی حیلہ بازیوں کاذکرہوا کہ

”ان میں سے ہر ایک چاہتا ہے کہ ان کو موسومہ Divine scriptures کھلاہوا آسمانی صحیفہ دیا جائے۔‘‘ (جس میں لکھا ہوکہ محمدﷺ ہی اللہ کے پیغمبر ہیں ان کی پیروی کی جائے) جواب میں فرمایا کہ ایساہرگزنہیں ہوسکتا؛ انکی یہ باتیں دراصل آخرت سے بالکل بےخوفی کی وجہ سے ہے۔ان کا یہ مطالبہ ہرگز پورا نہیں ہوسکتا،اور صاف کہ دیا گیا کہ یہ تو بلا شبہ ایک نصیحت ہے! یعنی سورہ کےختم پرقرآن کا واضح اور دوٹوک اندازمیں تعارف پیش کیا گیا کہ اس کےنزول کا مقصدہرایک کےلئے تذکیر، نصیحت اورآگاہی/Advice Guidance ہے۔

اب جس کا جی چاہے وہ اپنے لئے سلامتی والا سیدھا راستہ منتخب کر لے۔

آخر میں یہ ایک اہم بات نوع انسانی کو یاد رکھناچاہیے کہ قرآن کے بارے میں غلط فہمی کا وہ شکارنہ ہوں۔کیونکہ قرآن کریم تو پند ونصیحت ہے۔ یہ غافلوں کوخبردار کرنے کے لئے نازل ہوا ہے۔ ڈنڈے کے زور سے ”By force“ کسی کو اسلام قبول کرنے پر مجبور کرنا Absolutely not اسکا ہرگز مقصد نہیں۔ ہاں حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی سے تقویٰ کیا جائے..،اب اگر کوئی نافرمانی کی روش ترک کردے اور بغاوت کو چھوڑ کر فرمان برداری اختیار کرلے تو ایسے شخص کیلئے اللہ تعالیٰ اپنا دامن رحمت کشادہ کردیتا ہے۔

آخری آیت میں نوع انسانی کے سامنے یہ بنیادی بات رکھدی گئ کہ اگر کسی سے ڈرنا ہے تو صرف اللہ ہی کی ذات سے ڈرنا چاہیے اور اپنے گناہوں کی معافی بھی صرف اسی سے چاہی جاے۔ اور ”جن کے اندر خدا کا خوف ہوگا اس سے فائدہ اٹھائیں گے اور مغفرت کے اہل ٹھہریں گے۔ رہے وہ جن کے سینے خوف خدا سے خالی ہیں وہ اس سے محروم ہی رہیں گے اور جب وہ اس سے محروم رہیں گے توخدا کی مغفرت سے بھی محروم رہیں گے۔“ اقتباس تدبر قرآن)

٭٭٭

منقبت در شان حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

میدان کارزار میں شوکت علیؓ کی ہے

میرے دل و نگاہ میں عظمت علیؓ کی ہے

بچوں میں سب سے پہلے مسلماں ہوئے علیؓ

دین محمدی سے یہ نسبت علیؓ کی ہے

مومن وہ آدمی ہے بہ قولِ رسول پاکؐ

جس آدمی کے دل میں محبت علیؓ کی ہے

عثمان غنیؓ کے بعد خلافت ملی انہیں

سیرت میں یادگار خلافت علیؓ کی ہے

اللہ کے رسولؐ کے کاتب بھی تھے علیؓ

پاکیزہ اس لیے بھی کتابت علیؓ کی ہے

تلوار میں ہے برق کا انداز اے اخی!

اور گفتگو سراپا صداقت علیؓ کی ہے

کفار جستجو میں تھے پیارے رسولؐ کی

بستر پہ شب گذاری یہ ہمت علیؓ کی ہے

اللہ کے رسولؐ نے پرچم انہیں دیا

خیبر کی فتح شان شجاعت علیؓ کی ہے

میں بھی ہوں اک محب علیؓ بالیقیں نسیم !

دل میں مرے بھی گہری عقیدت علیؓ کی ہے

جناب محمد فاروق نسیم، برمنگھم

☆☆☆

ڈڈلی میں توسیع مسجد !

مسجد ہے مسلماں کے لئے ایسے ضروری

جیسے کہ ہے مچھلی کے لئے پانی ضروری

جس طرح کسی بھوکے کو روٹی ہے ضروری

بیمار کو جیسے کہ دوائی ہے ضروری

مسجد ہے سب سے اچھی جا ارشاد نبیؐ ہے

مسجد میں اپنا دل لگا ارشاد نبیؐ ہے

خوش ہوتے ہیں مسلماں مسجد میں آکے یوں

خوش ہوتے ہیں پرندے قفس سے نکل کے جوں

توسیع کے بعد کتنی رفیع ہوگئی مسجد

واللہ خوبصورت وقیع ہوگئی مسجد

اخلاص سے جنہوں نے لگایا ہے اپنا زر

ایسے ہی تابناک ہوئے اس کے بام و در

جس نے خدا کے گھر میں لگایا ہے مال وزر

فردوس میں بنائے گا اللہ اس کا گھر

احباب ’ڈڈلی‘ کو مبارک خدا کا گھر

ان کی دعا وسعی نے دکھایا ہے یہ اثر

الله نسلِ نَو کو نمازی بنادے تو

بے دین جو ہیں ان کو بھی دینی بنادے تو

مرکز بنے یہ سنت و توحید کا خدا

ثاقب کی ہے اور سارے ہی لوگوں کی یہ دعا !

ڈاکٹر عبد الرب ثاقب ڈڈلی

٭٭٭

سست لوگ فکر اور غم میں مبتلا

امام ابن القیم رحمہ اللہ نے فرمایا: ’’اسی لیے آپ دیکھتے ہیں کہ سست لوگ اکثر فکر، غم اور اداسی میں سب سے زیادہ مبتلا ہوتے ہیں۔ وہ حقیقی خوشی یا مسرت محسوس نہیں کرتےلیکن جو لوگ متحرک اور محنتی ہوتے ہیں – چاہے وہ کوئی بھی کام کریں، وہ اس کے برعکس ہوتے ہیں۔ اور اگر ان کی محنت کسی ایسے کام میں ہو جس کے اچھے نتائج اور فائدہ مند انجام کا انہیں علم ہو، تو اس کام کو کرنے میں انہیں جو خوشی اور تحریک ملتی ہے وہ اور بھی زیادہ ہوتی ہے اور اللہ ہی کامیابی دینے والا ہے۔ اسی لیے کہا جاتا ہے کہ محبت روح کو حرکت دیتی ہے اور شدت سے طلب کرنے پر مجبور کرتی ہے۔‘‘

ابن القیم (رح) نے فرمایا:’’جو لوگ سست ہوتے ہیں، ان میں عام طور پر فکریں، پریشانیاں اور غم زیادہ پائے جاتے ہیں۔ وہ اپنی حالت میں شاذ و نادر ہی خوشی اور مسرت پاتے ہیں، اس کے برعکس ان لوگوں کے جو اپنے معاملات میں کوشش اور محنت کرنے کے پابند ہوتے ہیں۔‘‘(روضۃ المحبین: ص 168)

تبصرہ کریں