تقسیم وراثت۔ مولانا محمد عبد الہادی العمری

المعروف یہ اصطلاح قرآن مجید میں مختلف مناسبتوں سے استعمال ہوتی ہے۔ عقائد، عبادات، دعوت وتبليغ، لین دین، اخلاقیات اور معاملات وغیرہ وغیرہ، ہر جگہ اور ہر مسئلہ میں معروف پر عمل کرنے کی اہمیت ہے۔ منکر سے بچنے کی تاکیدکی گئی، ان میں سے ایک اہم مسئلہ وراثت کی تقسیم کا ہے۔

وراثت اور میراث یعنی کسی شخص کے انتقال کر جانے کے بعد اس کی متروکہ جائیداد، نقدی، زیورات وغیرہ کی تقسیم کہ شرعی طور پر کون کب کتنے حصہ کا وارث بنے گا، اس کی تفصیل قرآن مجید اور احادیث صحیحہ میں بتائی گئی ہے، اسی کے مطابق جملہ دولت تقسیم کرنا معروف یعنی پسندیدہ عمل ہے۔اس میں کمی بیشی منکر نا پسندیدہ عمل ہے۔ اس مسئلہ کا تعلق حقوق العباد کے ساتھ ہے جو کہ بہت ہی نازک اور اہم ذمہ داری ہے، اس کی کمی بیشی کرنے والا گناہ کبیرہ کا مرتکب ہوگا۔ اگر کوئی شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی ہڑپ کرلے تو قیامت کے دن سات گنا طوق اس کے گلے کا پھندا بنا کر ڈالا جائے گا ۔

رسول اللہ ﷺنے فرمایا :

«مَنْ أَخَذَ شِبْرًا مِنَ الأَرْضِ ظُلْمًا، فَإِنَّهُ يُطَوَّقُهُ يَوْمَ القِيَامَةِ مِنْ سَبْعِ أَرَضِينَ» (صحیح بخاری : 3198؛صحیح مسلم : 1610)

لیکن دیکھا گیا کہ تقسیم وراثت کا مسئلہ انتہائی نازک اور ذمہ دارانہ عملی زندگی میں ہونے کے باوجود عملی زندگی میں بڑا پر بیچ اور کٹھن بنا دیا گیا۔ بظاہر دین پسند لوگوں کی اکثریت بھی اس مسئلہ میں غفلت اور بے حسی کا شکار ہے۔ الا ماشاء اللہ

جو حقیقی متقی ہیں وہ حکم الٰہی سمجھتے ہوئے قرآن و سنت کی تعلیمات کے مطابق بلا چون و چرا حصے وارثین کے درمیان تقسیم کر دیتے ہیں، ورنہ اس میں طرح طرح کی رکاوٹیں کھڑی کی جاتی ہیں ۔

سورۃ النساء کی آیت 7 تا 14 میں حصوں کی تفصیل بتائی گئی، ان میں چند نکات بہت ہی غور طلب ہیں ۔ کہا گیا:

﴿فَرِيْضَةٌ مِّنَ اللهِ﴾

یہ اللہ عزوجل جو احکم الحاکمین ہے، جو زمین و آسمان کا حقیقی وارث ہے، اس کی طرف سے مقرر کئے گئے حصے ہیں، نہ کہ عام آدمی یا ادارہ کی جانب سے مقرر کردہ حصے ہیں اور نہ ہی یہ اختیاری مسئلہ ہے جو ہماری صوابدید پر چھوڑا گیا ہو کہ جب چاہیں جیسے چاہیں تقسیم کر لیں ۔ بلکہ کہا گیا: ﴿تِلْكَ حُدُوْدُ اللهِ﴾

کہ یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حد بندیاں ہیں، ان سے سرمو انحراف یا تجاوز کرنا اپنے ایمان و عمل کو داؤ پر لگاتے ہوئے برباد کرنا ہے اور ایسا شخص روز قیامت رسوا کن عذاب جہنم میں داخل کیا جائے گا۔

﴿ وَمَن يَعْصِ اللَّهَ وَرَسُولَهُ وَيَتَعَدَّ حُدُودَهُ يُدْخِلْهُ نَارًا خَالِدًا فِيهَا وَلَهُ عَذَابٌ مُّهِينٌ﴾ (سورۃ النسا: 14)

اتنی سخت اور رونگٹے کھڑی کر دینے والی آیت کے باوجود اس مسئلہ میں بے پرواہی برتی جاتی ہے ، اس اہم ترین حکم ربانی کو اکثر مسلمان بھلا بیٹھے، وراثت کی غیر منصفانہ تقسیم کے سبب ہی کورٹ کچہری میں سینکڑوں مقدمات زیر التوا ہیں، اور ان منکرات کے باعث قریبی رشتہ دار ایک دوسرے کے دشمن بلکہ جان کے درپے ہو جاتے ہیں اور بسا اوقات خون خرابے تک نوبت پہنچتی ہے۔ بہت کم گھرانوں میں شرعی تعلیمات کی روشنی میں وراثت تقسیم کی جاتی ہے۔حصوں کی وضاحت سے پہلے فرمان الٰہی ہے:

﴿يُوْصِيْكُمُ اللهُ﴾

یہ الله تعالىٰ کی وصیت ہے، یعنی اللہ جو خالق اور رب العالمین ہے اس نے یہ حصے مقرر فرمائے ہیں ۔ یہاں وصیت کا لفظ بہت اہمیت رکھتا ہے۔

یہ تاکیدی حکم بھی ہے اور اس میں رحمت اور شفقت کا پہلو بھی ہے کہ یہاں نہ طاقت ور کا زور نہ ہی کمزور کی بے بسی ہم سب کے خالق نے عدل و حکمت کے ساتھ ہر ایک کے لیے حصہ مقرر فرمایا ۔ چاہے وارث طاقت ور ہو یا کمزور یا کوئی امیر ہویا غریب ہو یا عمر رسیدہ یا کمسن کوئی رکاوٹ یا عذر نہیں۔ رسول اکرمﷺ کی طرف سے صحابہ کرام کو اس مسئلہ کے متعلق معلومات حاصل کرنے کی تاکید کی جاتی، اور خلفاء راشدین کے عہد زریں میں حصوں کی تقسیم میں کبھی کوئی الجھن پیش آتی تو کبار صحابہ سیدنا ابو بکر، سیدنا عمر دیگر سینئر صحابہ کرام سے باقاعدہ مشورہ کیا کرتے کہ کہیں اتفاقیہ بھی کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو جائے۔

تقسیم وراثت میں حائل چند بڑی رکاوٹیں

لا علمی: کچھ لوگ اس حکم سے ہی نا واقف ہیں۔ حالانکہ اس کی تاکید کا حکم قرآن مجید اور احادیث میں موجود ہے، لیکن عموماً عوامی اجتماعات، خطبات جمعہ اور وعظ و نصیحت کی محفلوں میں اس عنوان پر گفتگو بہت کم کی جاتی ہے۔

دین بیزاری اور آخرت فراموشی

دینی احکام سے عدم دلچسپی اور بعض مسائل ،نماز روزه و غیره کی تو پابندی اور عمل کرنے کا شوق لیکن باقی مسائل خصوصاً حقوق العباد سے تغافل ، اس کا مظاہرہ عموماً ان لوگوں کی طرف سے ہوتا ہے جو کسی حدتک بعض دینی احکام پر عمل کرتے دکھائی دیتے ہیں، ان کی نماز، روزوں کی وجہ سے وہ دیندار متصور ہوتے ہیں جبکہ بہت سے دینی احکام کو وہ نظر انداز کر دیتے ہیں۔

حالانکہ حقوق العباد کا مسئلہ انتہائی اہمیت رکھتا ہے، کسی کی حق تلفی اپنی آخرت کی ناکامی اور پچھتاوے کا سبب بنے گی۔

حرص

مال و دولت کی لالچ بسا اوقات حلال و حرام کے فرق سے انسان کو غافل کر دیتی ہے، نتیجہ میں ایسے لوگ قرآنی الفاظ میں مردوں کا تک مال سمیٹ کر کھا جاتے ہیں:

﴿وَتَأْكُلُونَ التُّرَاثَ أَكْلًا لَّمًّا﴾(سورۃ الفجر : 19)

ایسا شخص چاہتا ہے کہ اپنے بھائی بہنوں کے بجائے ساری دولت پرمیرا قبضہ ہو۔

حسد

افراد خاندان میں باہمی حسد اور بغض ایک خطر ناک بیماری ہے، جو قریبی رشتہ داروں کے درمیان گھن کی طرح سرایت کر جاتی ہے۔دوسروں کو نیچا دکھانے یا حق سے محروم کرنے کے لیے آدمی نہایت اوچھی حرکتوں پر اتر آتا ہے، پھر خونی رشتہ دار ہی ایک دوسرے کو رسوا کرنے کے درپے ہو جاتے ہیں۔

مداخلت بےجا

تقسیم وراثت میں بسا اوقات غیر متعلقہ افراد کی بیجا مداخلت رکاوٹ اور بگاڑ کا سبب بنتی ہے۔

حالات کا شکوہ اور عذر

فیملی میں کوئی خوشحال تو کوئی تنگدست، کوئی طاقتور تو کوئی کمزور ، کوئی عمر رسیدہ تو کوئی کمسن ہوتا ہے، اس کو بنیاد بنا کر وارثین کو محروم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے۔

عام طور پر یہ چند ایسے عوامل ہیں جو رکاوٹ بنتے یا بنائے جاتے ہیں۔

ان میں کوئی بھی مانع وراثت نہیں۔حالا نکہ تقسیم وراثت میں تا خیر سے مسائل مزید پیچیدہ اور الجھن کا شکار ہوتے ہیں۔

وصیت

اللہ تعالیٰ نے وراثت کے مسئلہ میں یہ ایک خاص مد رکھی ہے کہ اگر صاحب مال وارثین کے علاوہ کسی دوسرے شخص کو مرنے کے بعد کچھ نوازنا چاہے تو وہ اس سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔وصیت کرتے ہوئے دو باتیں پیش نظر رہیں:

جن کا حصہ مقرر نہیں ، ان کے لیے وصیت کر سکتا ہے، جیسے دور کے رشتہ دار، دینی ادارہ وغیرہ۔لیکن جن کا شرعی حصہ مقرر ہے ان کے لیے مزید وصیت کر کے نہیں نوازا جا سکتا، کیونکہ ان کا حصہ مقرر ہے وہ انہیں ملے گا۔ فرمان نبوی ﷺ ہے:

«إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ أَعْطَى كُلَّ ذِي حَقٍّ حَقَّهُ، فَلَا وَصِيَّةَ لِوَارِثٍ» (سنن ابو داؤد: 3565؛ جامع ترمذی: 2120)

کہ اللہ نے حقدار کا حصہ خود ہی مقرر فرما دیا، اس کے لئے وصیت نہیں۔‘‘

وصیت کی حد ایک تہائی ہے یعنی کسی نے تین لاکھ روپیے اپنے پیچھے چھوڑے، وہ ایک لاکھ روپے تک وصیت کر سکتا ہے، ساری رقم ایک لاکھ روپے کسی ایک ہی آدمی یا ادارہ کو دی جا سکتی ہے یا کئی افراد اور اداروں میں تھوڑی تھوڑی کرکے تقسیم کی جاسکتی ہے۔ باقی دو تہائی یعنی دو لاکھ روپے اس کے شرعی وارثین میں تقسیم ہوں گے، تاکہ وارثین محروم نہ ہو جائیں ، وصیت کرتے ہوئے وار ثین کو نقصان پہنچانا درست نہیں۔ فرمان نبوی ﷺ ہے :

« إِنَّكَ أَنْ تَذَرَ وَرَثَتَكَ أَغْنِيَاءَ، خَيْرٌ مِنْ أَنْ تَذَرَهُمْ عَالَةً يَتَكَفَّفُونَ النَّاسَ» (صحیح بخاری 1295؛ صحیح مسلم : 1628)

کہ تم اپنے پیچھے وارثین کو خوشحال چھوڑو، بہتر ہے کہ انہیں کنگال کر کے چھوڑو کہ وہ لوگوں کے دھکے کھاتے پھریں ۔

ہاں اگر کوئی اپنی زندگی میں کسی کو کچھ دینا چاہے تو دے سکتا ہے۔ اپنی صوابدید ہے، اس پر مذکورہ قانون لاگو نہیں ہوگا ، بشر طیکہ دوسروں کے ساتھ نا انصافی نہ ہونے پائے۔

فرمان نبوی ﷺ ہے:

«فَاتَّقُوا اللَّهَ وَاعْدِلُوا بَيْنَ أَوْلاَدِكُمْ»

’’اللہ سے ڈرو اور اپنی اولاد کے درمیان انصاف کرو۔‘‘ ( صحیح بخاری : 2587؛ صحیح مسلم: 1623)

وصیت تحریری صورت میں ہو تو بہت ہی مناسب ہوتا ہے، بعد میں کسی قسم کی غلط فہمی یا شک و شبہ سے بچا جا سکتا ہے۔ نیز اگر کسی مسئلہ میں وصیت کرنے کا ارادہ ہو تو اس میں تاخیر مناسب نہیں۔جلد اس پر عمل کرنا چاہیے، کیونکہ کل کیا حالات پیش آئیں گے کوئی نہیں جانتا۔

«مَا حَقُّ امْرِئٍ مُسْلِمٍ لَهُ شَيْءٌ يُوصِي فِيهِ، يَبِيتُ لَيْلَتَيْنِ إِلَّا وَوَصِيَّتُهُ مَكْتُوبَةٌ عِنْدَهُ» (صحیح بخاری: 2738؛ صحیح مسلم: 1627)

رسول اکرم ﷺ نے وصیت کے مسئلہ میں عجلت کا حکم دیتے ہوئے فرمایا کہ

’’وہ وصیت کا ارادہ کرنے کے بعد دو راتوں کا بھی انتظار نہ کرے مگر اس کی وصیت تحریری شکل میں تیار ہونی چاہئے ۔‘‘

٭٭٭

تبصرہ کریں