
ان سب مذا ہب کے اختلاف کے بہت سبب ہیں جن کا حصر و شمار ممکن نہیں ۔ ازانجملہ علمو ں اور سمجھو ں کا مختلف ہو نا اور نصو ص ( قر آ ن و حد یث ) کے الفا ظ ونظم تر کیب کے لحا ظ سے کئی معنو ں کا محتمل ہونا۔ وغیرہ ذلک۔ حا فظ ابن القیم ؒنے امام ابن حز م ؒ سے نقل کیا ہے جس کا خلا صہ یہ ہے کہ کبھی انسا ن کو حدیث یاد ہو تی ہے مگر فتوی دینے کے وقت اس کا دھیا ن نہیں ہو تا ۔ پس وہ اس لئے حد یث کے برخلاف فتوی دیتا ہے اور یہی امر کبھی قر آ ن کی نسبت پیش آتا ہے۔ کیا تجھے معلوم نہیں کہ حضرت عمر ؓنے ازوا ج مطہرا ت سے بڑ ھ کر مہر مقرر کر نے سے منع کیا تو ایک عورت نے آ پ کو خدا کا یہ قو ل کہ تم نے جو عورتوں کو بہت مال مہر میں دیا ہو تو ان سے واپس نہ لو، یاد دلا یا جن سے انہوں نے اپنا قو ل چھو ڑ دیا اور ( توا ضعاً ) یہ بھی فر ما یا کہ مجھ سے سبھی لو گ علم میں زیادہ ہیں ۔ اسی طر ح حضرت عمر ؓنے ایک عورت کو ، جس نے چھ مہینے کا بچہ جنا تھا، بعلت زنا سنگسار کرنے کا حکم دیا تو حضرت علی مر تضی ؓنے خدا کا یہ قو ل کہ بچے کا حمل اور دو د ھ پلا نا ڈ ھا ئی برس ہو تا ہے معہ اس قو ل کے : ما ئیں اپنی او لاد کو دو برس دود ھ پلا ئیں جو پورا دو د ھ پلا نا چا ہیں ،۔ یاد دلا یا اور یہ جتا یا کہ پہلے قول میں چھ مہینے کم سے کم مدت حمل کا ذکر ہے۔ پس انہوں نے اس حکم ر جم سے رجوع فر ما یا اور آ پ ؓ نے عینیہ بن حصن پر جب اس نے آ پ کی جنا ب میں گستاخی و سختی کی، حملہ کر نا چا ہا یہاں تک کہ حار ث بن قیس نے خدا کا قو ل ۔ جا ہلوں سے در گزر کرو ؛ یاد دلا یا تو آپ ؓنے اس سے در گذر کیا اور آ پ ؓ نے آنحضرت ﷺ کے فو ت ہو جا نے کو تعجب سمجھ کر اس سے انکار کیا یہاں تک کہ ان کے سا منے قول خدا وندی : (اے محمد ) تو بھی مر نے وا لا ہے اور وہ بھی مر نے والے ہیں ۔ پڑ ھا گیا ۔ اس پر انہوں نے اس انکار واصرار سے رجوع فر ما یا ۔ یہ آ یت تو آ پ کو معلوم تھی و لیکن اس بھاری امر ( آ نحضرت ﷺ کی وفات) کے سبب آ پ اس کو بھو ل گئے تھے ۔ اور کبھی کو ئی عا لم ( مسئلہ کی ) دلیل ر کھتا ہے مگر اس میں تجو یز نسخ یا تخصیص و غیرہ تا ویل کرتا ہے اور اس میں شک نہیں کہ آنحضرت ﷺ کے اصحا ب سے سب کو ئی ان باتوں پر مطلع نہ ہو تا جو آ نحضرت ﷺ سے صادر ہو ئیں کیو نکہ وہ اپنی معا ش و غیرہ امور میں مشغول رہتے اور آنحضرت ﷺ کی خد مت میں بعض حا ضر ہو تے ، بعض نہ ہو تے ۔ جب آ نحضرت ﷺ فو ت ہو ئے اور ابوبکر ؓ ان کے خلیفہ ہو ئے تو جب ان کے پاس کو ئی قو ل خدا اور رسو ل نہ ہو تا تو آپ اور لو گوں سے پو چھتے پھر اگر ان کے پاس کوئی قول خدا اور رسو ل پا تے تو اس کی پیروی کرتے ور نہ اجتہاد کرتے اور کبھی خدا و رسول کا قو ل اس شخص کے پاس ہو تا جو وہاں حا ضر نہ ہو تا تھا ، مثلاً جنبی کیلئے تیمم کا حکم عمار ؓ و غیرہ کو معلوم تھا اور حضرت عمر ؓ و ابن مسعود ؓ کو نا معلوم، مسح موزہ کا جواز حضرت علی ؓ وحذیفہ ؓکے پاس تھا اور حضرت عا ئشہ ؓ اور ابن عمر ؓ ابی ہریرہ ؓ سے ، باو جو دیکہ یہ مدینہ کے رہنے وا لے تھے ، مخفی تھا۔ پوتے کو بیٹے کے سا تھ چھٹے حصے کا وار ث کر نا حضرت ابن مسعود ؓ کو معلوم تھا اور حضرت ابو موسی اشعری کو نا معلوم۔ کسی کے گھر جا نے کیلئے تین دفعہ اذن چا ہنے کی حد یث حضرت ابو موسی و ابو سعید خدری و ابی بن کعب کو معلوم تھی اور حضرت عمر فاروق ؓسے مخفی ۔ حیض وا لی عورت کو طوا ف فر ض کے بعد طواف ر خصت کے سوا ئے مکہ سے کو چ کرنے کا جواز حضرت ابن عباس ؓ و ام سلیم کو معلوم تھا اور حضرت زید بن ثا بت کو نا معلوم ۔ متعہ کا منسو خ ہو نا اور گد ھے کا حرا م ہو نا حضرت علی کو معلوم تھا اور حضرت ابن عباس ؓپر پو شیدہ ۔ چا ندی سو نے کی بیع میں نسیہ ( قر ض ) کا عدم جواز عمر فاروق ؓ و ابو سعید ؓ و غیرہ کو معلوم تھا اور طلحہ ؓ و ابن عباس ؓ پر مخفی ۔ اور اس کی مثالیں اور بہت ہیں ۔ صحابہ گذر گئے تو ان کے نا ئب تابعی مجتہد ہو ئے جو ان سے علم حا صل کئے ہو ئے تھے وہ سبھی علموں اور فہموں میں مختلف تھے اور وہ سب بقدر اپنے علم کے فتوی دیتے اور کسی کو خدا نے اس کی طاقت سے بڑ ھ کر مکلف نہیں کیا اور سب اس فتوی میں خدا کی طرف سے ثوا ب پا تے ۔ ٹھیک فتوی دیا تو دو ثواب ، ور نہ ایک۔ اور کبھی کسی کوحد یثیں باہم متعا ر ض پہنچتیں تو وہ ایک حد یث کی طرف کسی وجہ تر جیح کی نظر سے ما ئل ہو تا اور دوسرا اسی حد یث کی طرف جس کو اس نے چھو ڑ دیا تھا اور و جہ سے ما ئل ہو تا۔ اس کی مثا لیں بھی بہت ہیں ۔
ان و جو ہات سے بعض علماء نے بعض آ یات و حدیث کو تر ک کیا ہے اور ان کے ہمسروں نے ان کا خلاف کیا ۔ انہوں نے احا دیث کو لے لیا جن کو پہلو ں نے ترک کیا تھا اور پہلو ں نے ان حد یثو ں کو لے لیا جن کو انہوں نے تر ک کیا، نہ اس لئے کہ عمداً نصو ص ( آیات و حد یث ) کا خلاف کر یں ( بلکہ ان و جو ہات سے جن کو ہم بیا ن کر چکے ہیں ) اور کسی کو دلیل صحیح ( آیات و حد یث ) بلا تعا ر ض و غیرہ موا نع عمل کے پہنچ جا ئے تو اس کو اس دلیل کا تر ک کر نا بجز عناد یا تقلید باقی نہ رہا ۔ صحا بہ اس طر یق پر تھے ۔ کلام ابن القیم جو اس نے ابن حز م سے نقل کیا تھا تمام ہوا ۔ اور ابن القیم نے اپنے استاد ابن تیمیہ ؒسے نقل کیا ہے کہ جملہ عذرات ان آئمہ کے جنہوں نے کسی حد یث کو تر ک کیا ہے تین قسم ہیں ۔ او ل : اس حد یث کو کلام رسو ل نہ سمجھنا ۔ دوسرا: اس حد یث کے وہ معنی نہ سمجھنا جو معنی اس حد یث پر عمل کرنے وا لے نے سمجھے ہیں ۔ تیسرا : اس کو منسو خ سمجھ لینا ۔ ان عذرا ت کی شا خیں کئی قسم ہیں ۔ ازانجملہ یہ کہ اس شخص کو حد یث نہیں پہنچی اور اس نے قیاس کیا اور اس کا قیاس اس حد یث مترو ک کے موا فق ہوا ، اور کسی اور حد یث کے مخالف ۔ یہی سبب ہے اکثر ان اقوا ل علماء سلف کا جو نصو ص کے مخا لف ہیں ، کیو نکہ سبھی ا حا دیث رسو ل پر کسی کو ا حا طہ حاصل نہ تھا اس با ب میں تو خلفاء راشدین، جو رسو ل اللہ ﷺ کے حا لات سے بہت وا قف تھے ، خصو صاً صدیق اکبر ( جو رسو ل اللہ ﷺ سے کم ہی جدا ہو تے تھے ) کے حا ل سے معلوم کر ے ۔ صدیق اکبر ؓپر دادے کی میرا ث مخفی رہی ۔ اور ان کو مغیرہ بن شعبہ و عمرا ن بن حصین و محمد بن مسلمہ نے بتلا ئی ۔ حضرت عمر ؓپر عورت کو خا وندکی دیت سے وا ر ث کر نے کی حد یث مخفی رہی یہاں تک کہ ایک جنگل کے رہنے وا لے نے ان کو اس کی خبر دی اور آ پ پر مجو س سے جز یہ لینے کی حد یث مخفی رہی یہاں تک کہ عبد الر حمن بن عو ف ؓنے بتا ئی ۔ اور آ پ پر وبا کی زمین میں جا نے سے ممانعت مخفی رہی اور وہ بھی عبد الر حمن بن عو ف ؓ نے بتا ئی ۔ اور آ پ پر آ ند ھی کی حد یث مخفی رہی ( یعنی وہ حد یث جس میں یہ بیا ن ہے کہ آ ند ھی آ نے کے وقت کیا کہیں) جو ابو ہریرہ ؓنے بتا ئی اور آ پ انگلیو ں کے خون بہا میں اختلاف رکھتے تھے ۔ اس با ب میں ابن عباس ؓ ، ابی موسی اشعری ؓکے پاس یہ علم تھا کہ آ نحضرت ﷺ نے فر ما یا ہے کہ بڑی انگلی اور چھو ٹی انگلی خون بہا میں برا بر ہیں۔ پس آ پ ؓنے اس کو قبو ل کیا ۔ اور امیر معا ویہ ؓ نے بھی اس پر عمل کیا جب ان کو ایسا علم ہوا اور آ پ کے بیٹے عبد اللہ احرا م حج کے وقت خوشبو لگا نے کو جا ئز نہ سمجھتے اور طوا ف فر ض سے پہلے ر می جمار کے بھی قا ئل نہ تھے اور یہ امور آ نحضرت ﷺ سے صحیح ہو چکے ہیں ۔ اور آپ مسح موزہ میں تعیین مدت کے قا ئل نہ تھے حا لا نکہ صحیح حد یث میں تعیین آ چکی ہے اور حضرت علی مر تضی ؓو ابن عباس ؓاس عورت حا ملہ کی نسبت جس کا خا وند فو ت ہو جا ئے عدت دو نوں عد توں ( و ضع حمل اور چار مہینے دس دن ) سے جو دور ہو تی تجو یز کرتے حا لا نکہ آ نحضرت ﷺ سے صحیح ثا بت ہو چکا ہے کہ اس کی عدت و ضع حمل ہے ۔ اور زید بن ثا بت ؓ اور ابن عمر ؓ و غیرہ کا اعتقا د تھا کہ جس عورت کا بلا زفا ف خا وند مر جا وے اور مہر مقرر ہو، اس کو مہر لینا نہیں آ تا، حا لا نکہ آ نحضرت ﷺ سے صحیح ثا بت ہو چکا ہے کہ آ نحضرت ﷺ نے اس عورت کو پورا مہر دلا یا ہے اور یہ با ب ( مخفیات صحا بہ ) فرا خ ہے۔ اور جو اس قسم کی باتیں صحا بہ کے سوا اور لوگوں سے منقو ل ہیں وہ شمار سے بڑ ھ کر ہیں ۔ پس جب امت کے زیادہ جا ننے وا لے اور بڑے مجتہدو ں پر بعض ا حا دیث مخفی رہیں تو ان کی نسبت کیا خیا ل کر نا چا ہیے جو ان کے بعد ہو ئے ۔ پس جو شخص یہ سمجھے کہ سبھی حد یثیں اما موں کو یا کسی خا ص امام کو پہنچ گئی ہیں تو اس نے سخت خطا کی ۔ ابو عمرو ابن عبد البر نے کہا ہے آنحضرت ﷺ کے بعد کو ئی ایسا شخص نہیں ہوا جس پر آ نحضرت ﷺ کی بعض حد یثیں مخفی نہ رہی ہو ں اور یہ حدیثو ں کے دفتر ( کتا بیں ) گذر جا نے آ ئمہ کے بعد تا لیف ہو ئی ہیں اور ان میں بھی سب حد یثو ں کا منحصر ہو جا نا ممکن نہیں ہے ۔ اور یہ بھی نہیں ہو تا کہ جس کے پاس یہ سب کتابیں مو جود ہوں اس کو سبھی کچھ، جو ان میں ہے ، یاد ہو تا ہے ۔ اور متقد مین کے دفتر تو ان کے سینے ہی تھے اور وہ خوب جا ننے وا لے تھے ۔ ازانجملہ یہ سبب ہے کہ حد یث تو کسی شخص کو پہنچی مگر بسند صحیح نہ پہنچی ۔ سند صحیح سے وہ کسی اور کو پہنچی۔ وہ حد یث اسی شخص کے حق میں لا ئق سند ہے جس کو سند صحیح سے پہنچے ، نہ اس کے حق میں جس کو بسند صحیح نہیں پہنچی ۔ اسی وا سطے بہت سے اما موں نے بعض ا حا دیث کے ما ننے کو صحیح ہو نے کی شرط پر معلق کیا ہے اور کہا ہے کہ فلاں مسئلہ میں ہمارا یہ قو ل ہے اور اس کے خلاف میں حد یث مروی ہے ( جو ہمارے نز دیک صحیح نہیں ہے ) اگر یہ حد یث ثا بت ہوجاوے تو یہی ہمارا قول ہے ۔ اس کی مثا لیں نہا یت کثرت سے ہیں ۔
اور ابن قیم نے کہا ہے کہ ا ختلاف کے بہت سے اسباب ہیں ۔ ازانجملہ یہ کہ ایک مجتہد ایک راوی کو ضعیف سمجھتا ہے دوسرا اس کو ثقہ خیا ل کرتا ہے ازانجملہ یہ کہ ایک مجتہد ایک راوی کو عا دل کی حد یث میں شر ط لگا تا ہے جو دوسرا نہیں لگا تا ۔ ازانجملہ یہ کہ وہ معنی حد یث کو نہیں جا نتا ، یا تو اس لئے کہ اس حدیث کے الفا ظ اس کے نز دیک کم استعمال ہیں یا اس لئے کہ وہ مشتر ک المعنی یا مجمل ہے ۔ یا یہ کہ وہ ظاہری معنی حقیقی اور معنی مجازی دو نوں پر محمو ل ہو نے کے متحمل ہے۔ اور ازانجملہ یہ کہ وہ کسی حد یث کو عام جا ن کر اس میں کسی خا ص فرد کے دا خل ہو نے کا یقین نہیں رکھتا ۔ یا تو اس لئے کہ وہ اس فرد کی حقیقت اور بقیہ افراد سے اس کی مما ثلت و مشا بہت کا علم نہیں رکھتا یا اس لئے کہ وہ اس میں اپنے دل میں شبہ رکھتا ہے یا اس کو کسی و جہ خصو صیت سے حکم عا م سے خا ر ج کرتا ہے اور ازانجملہ یہ کہ وہ اس حدیث کو جو عام نہیں ہے، عا م سمجھتا ہے یا اس حد یث کو جو مقید ہے، مطلق خیا ل کرتا ہے اور اس کی قید سے غا فل ہے۔ اور ازانجملہ یہ کہ وہ لفظ حدیث کا حکم متنا ز عہ فیہ پر دلا لت کر نا نہیں ما نتا ، یا تو اس لئے کہ اس کے عرف شر ع میں معنی نہیں جا نتا اس لئے خلاف معنی پر محمو ل کرتا ہے یا یہ کہ عر ف شر ح میں اس حد یث کے دو معنی ہیں وہ اس حد یث سے ایک معنی لیتا ہے، دوسرا دوسرے معنی۔ یا وہ حد یث خا ص کو عا م سمجھتا ہے یا عا م کو خا ص اور مطلق کو مقید کرتا ہے اور مقید کو مطلق ۔ اور ازانجملہ یہ کہ اس حد یث کے معا ر ضہ (مقا بلہ ) میں اور حد یث اس کے مساوی یا اس سے زیادہ قوی پا ئی جا تی ہے۔ اور تعا ر ض کے کئی اقسا م ہیں۔
ابن القیم نے کہا ہے کہ جس شخص کو خدا ہدا یت کرتا ہے وہ حق بات کو لے لیتا ہے جہاں کہیں ہو اور جس کے پاس ہو ، اور نا حق کو رد کر تا ہے خواہ وہ کیسے شخص کے سا تھ ہو ۔ ایسا شخص تمام مخلو ق سے زیادہ عا لم ہے اور سب سے زیادہ ہدا یت پر ہے اور سب سے زیادہ راست گو ۔ ایسے لو گ باہم اختلاف بھی کرتے ہیں تو ان کا ا ختلاف ر حمت ہے اور ہدا یت اور یہ ا ختلاف کر نا ایک دوسرے کو اپنی را ئے سے جس کو اپنے نزدیک صوا ب سمجھتا ہے اطلاع دیتا ہے ۔ پس اگر ان سبھی مختلف آ راء کا آ پس میں مقا بلہ کیا جا وے اور ان سب کو کتا ب اللہ و سنت رسو ل پر پیش کیا جا وے اور اپنی نظر کو جو ان آ راء لگا تے ہیں تعصب اور حمیت وپاسداری سے مجر د کریں اور اپنی وسعت اور قصد طاعت خدا اور رسول کو پورا خر چ کر یں تو ان اقوا ل و آراء سے جو صوا ب اور جو قریب صوا ب ہے کم مخفی رہے ۔ اس قسم کا ا ختلاف آپس میں عداوت پیدا نہیں کرتا اور نہ کلمۃ ا لاسلام میں تفر قہ و پرا گند گی بہم پہنچاتا ہے ۔
میں ( محمد حیات ) کہتا ہوں کہ جب کہ ( سب کا ) معبود، عبادت کا حکم دینے وا لہ ایک ہے اور رسو ل (دین اسلام لا نے وا لہ ) ایک ہے اور دین ( اسلام) ایک ،اور یہ سبھی علماء اتباع دین کا ارادہ رکھتے ہیں اور اس میں اپنی طرف سے قصور نہیں کرتے اور ہر ایک کے لئے فضا ئل و کما لا ت حا صل کرتے ہیں اور خدا تعا لی نے فر ما یا ہے کہ
تم اہل ذکر سے پو چھ لو اگر تم کو علم نہیں ہے ، پھر ایک شخص کے لئے تعصب کر نا اور اسی قو ل پر جمے رہنا کس لئے ہے ۔
حا فظ ابن حجر نے لسا ن المیزا ن میں امام طحاوی سے نقل کیا ہے کہ انہوں نے کہا ہے: کیا جو کچھ ابو حنیفہ نے کہا ہے، میں اسی کا قا ئل ہوں؟ ( ایسی ) تقلید (ایک شخص کی ہر بات میں ) تو وہی کرتا ہے جو متعصب یا بے سمجھ ہو تا ہے ۔ یہ کلمہ طحاوی کا مصر میں ا ڑ گیا اور ضر ب المثل ہوا۔ اور مذ ہب مجتہد وہ ہو تا ہے جو اس نے کہا پھر اس سے ر جو ع نہیں کیا ۔ اور ایک مجتہد سے دو قول مختلف کا سر زد ہو نا بجز اس کے کہ وہ ایک قول سے ر جوع کرے ، ممکن نہیں مگر اس صورت میں کہ ان دو نوں میں اس کو تردد ہو ۔ اور یہ بھی ا حتما ل ہے کہ مجتہد نے پہلے ایک قو ل کہا ہو، پھر اس سے دوسرے قو ل کی طرف ر جوع کیا ہو پھر اس قو ل سے پہلے قو ل کی طرف ر جوع کیا ہو ، اس کی مثا ل مجھے اقوا ل مجتہدین سے کو ئی معلوم نہیں اور کسی امام کے شا گرد اور رفیق اس کے سبھی مذ ہب کو نہیں جا نتے اور یہ امر ظا ہر ہے۔
ا ئمہ مذا ہب کے شا گر دو ں کے با ہمی اختلاف کا غا لباً یہ سبب ہوا ہے کہ بعض شا گر دو ں نے اما م کا مذہب اس قول کو جا نا جس کو دوسرے نے نہ ما نا اور بعض نے اما م کے پہلے قو ل کو جس سے امام نے رجوع کیا تھا ۔ امام کا مذ ہب سمجھ لیا اور اسی پر فتوی دیا ۔ اور دوسرے قو ل کو ( جس کی طرف ر جوع کیا تھا ) معلوم نہ کیا ۔ اور بعضو ں نے امام کا کو ئی قول نہ پا یا بلکہ امام کے اقوا ل ومسا ئل پر قیاس کر کے اسی قیاس کو مذ ہب امام قرار دیا اور دوسرے شا گر دو ں نے اس قیاس میں خلا ف کیا ۔ پس کبھی یہ صوا ب کو پہنچا، کبھی وہ مصیب ہوا۔ اور بسا اوقا ت قو ل اما م کے معنی سمجھنے میں انہوں نے ا ختلاف کیا اور یہ ا ختلاف کا دروازہ نہا یت فرا خ ہے اور یہ نہیں ہے کہ جو بات کو ئی امام کے قو ل سے نکال لے وہی امام کا مذہب بن جا ئے ۔ بلکہ کبھی وہ استنباطی بات مذ ہب اما م کے موا فق ہو تی ہے اور کبھی مخا لف پڑ تی ہے اور یہ منا سب نہیں ہے کہ
جو اقوا ل و مسا ئل اما م کے اقوا ل سے نکا لے گئے ہیں۔ ان اقوا ل کو امام کی طرف منسو ب کیا جاوے اور ان کو یقیناً اقوال و مذا ہب امام ٹھہرا یا جا وے ، کیونکہ احتمال ہے کہ
اگر ان اقوا ل کو اما م کے سا منے پیش کیا جاتا تو بعض اقوا ل کو امام قبو ل کرتا اور بعض اقوا ل کو رد کر دیتا۔ اس کی نظیر یہ ہے کہ جو مسا ئل مجتہدو ں نے آنحضرت ﷺ کے اقوا ل سے استنبا ط کئے ہیں اور ان کو قطعاً آنحضرت ﷺ کے اقوا ل نہیں ما نا جا تا۔ تا ہم ان کا شریعت ہو نا بھی محتمل ہے ۔ ابن تیمیہ ؒ نے کتا ب منہاج السنہ میں کہا ہے کہ تو دو جما عتوں مختلف مذاہب یا دو شخصو ں میں سے ایک کو ایسا پا وے گا کہ وہ اس علمی با ت کو جس کی خود خبر دیتا ہے جھو ٹ نہیں سمجھتا ۔ لیکن جو دوسری جماعت یا دوسرا شخص حق سنادے خواہ وہ خبر ( حد یث و اثر ) سے معلو م ہوا ہو یا نظر ( فکر و قیاس ) سے اس کو قبو ل نہیں کرتا جو اپنا فر یق عقلی یا نقلی بات کہے اس کو ما نتا ہے اور جو دوسرا فر قہ کہے اس کو رد کرتا ہے ۔
کلام ابن تیمیہ تمام ہوا ۔ مصنف ایقا ف کہتا ہے کہ یہ بات اہل مذا ہب کے پیروا ن خصو صاً ہمارے زما نہ (۱۱۶۳ھ) میں بہت ہے ۔ ان کو تم دیکھو گے کہ وہ بجز اس بات کے جو اپنے مذا ہب وا لوں سے منقو ل پا ویں گے خوا ہ وہ قو ل امام ہو خوا ہ نہ ہو اور کسی با ت پر اعتما د نہ کریں گے ۔
فا ئدہ ۔ مجھے معلوم ہوتا ہے کہ اکثر مسا ئل جو اصو ل فقہ میں مذ کور ہیں آ ئمہ کے اقوا ل سے ما خو ذ و مستنبط ہیں ۔ اسی طور پر کہ بعض پیرو آ ئمہ کے اکثر مسا ئل امام کو ایک قا نو ن کی طرف ر جوع ہو تے دیکھتے ہیں، تو وہ اس قانون کو ان مسا ئل اور ان کے نظا ئر و امثا ل کیلئے اصو ل قرار دیتے ہیں و علی ہذا القیاس ۔ پھر کبھی پچھلا پیرو، پہلے کے موا فق ہو تا ہے اور کبھی مخا لف اور کبھی اس کی تقلید کر لیتا ہے اور کبھی پہلا مصیب ہو تا ہے اور کبھی پچھلا صوا ب پر پہنچتا ہے اور ا ختلاف میں انصا ف کر نا بہتر ین او صا ف ہے اور اتفاق کی طرف رجوع کر نا افتراق سے بہتر ہے اور خدا تعا لی حق وصواب کو خو ب جا نتا ہے اور اسی کی طرف سب کا با ز گشت ۔و صلّی اللّہ علی محمّد و آ لہ و اصحا بہ اجمعین
تبصرہ کریں