تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

اب یہ کو ن سا ا صو ل یا ضا بطہ ہے ؟ یا یہ کہا ں کا انصاف اور تحقیق ہے کہ ایک ہی را وی کی حد یث جب اس سے اپنی فقہ یا اپنے کسی مز عو مہ عقیدے کا اثبا ت ہو تو اس کی بیا ن کر دہ روایت، صحیح روا یت، اور اس کا انکار ، صحیح حد یث کا انکار ، قرار پا ئے اور اپنی فقہ یا مر ضی کے خلاف ہو، تو بعض آ ئمہ جر ح کے یکطرفہ اقوال نقل کر کے اور آئمہ جر ح وتعدیل کی اکثر یت کے اقوا ل تعدیل کو نظر انداز کر کے یہ فیصلہ دینا کہ ، اس لحاظ سے ان کی روا یت کاو جود اور عدم وجود با لکل برا بر ہے ۔، فیا للعجب

اس گروہ کے نز دیک حد یث تب قا بل حجت ہے جب اس سے ان کا کو ئی فقہی مسئلہ یا ان کا خود سا ختہ عقیدہ و مسلک ثا بت ہو تا ہو ، چا ہے وہ روا یت مسلمہ اصول تحقیق کی رو سے پا یہ اعتبار سے ساقط ہو ،لیکن جو حد یث اس کے بر عکس ہو ، چا ہے وہ سند کے اعتبار سے کیسی ہی اعلی در جے کی ہو ، وہ ان کے نز د یک نا قابل اعتبار ہے ۔چنا نچہ صحیحین( بخاری و مسلم ) کی روایا ت سے ، جن کی صحت پر علماء و فقہائے امت کا اتفاق ہے ،جا ن چھڑا نے کے لئے ان کے ثقہ راویو ں کو مجرو ح ثا بت کر نا اور تیسرے چوتھے در جے کی کتب ا حا دیث سے یکسر ضعیف اور ناقال اعتبار روایات سے استد لا ل کر کے اپنے مز عو مہ عقا ید اور مسا ئل فقہ کوثا بت کر نا اس گروہ کا دل چسپ مشغلہ ہے ۔ اور اس میں اما نت و دیا نت علمی کا جس طر ح خون کیا جا تا ہے اور خوف خدا سے بے نیازی کا جس دیدہ دلیری سے ارتکا ب کیا جا تا ہے وہاں سر پیٹ لینے کو جی چا ہتا ہے ۔ جی چا ہتا ہے کہ علمی بد دیا نتی اور خوف خدا سے بے نیازی کی ایک آد ھ مثا ل بھی مز یدو ضا حت کے لئے پیش کر دی جا ئے ( مثا لیں تو بہت ہیں لیکن طوا لت کے پیش نظر زیا دہ مثا لیں پیش نہیں کی جا سکتے ) ملا حظہ فر ما ئیں:

اہل حد یث اور ا حناف کے در میا ن ایک اختلا فی مسئلہ مر د وعو رت کی نماز میں فرق ہے ۔ اہل حد یث کہتے ہیں جو فرق ا حا دیث سے ثا بت ہیں مثلاً عورت بغیر سر ڈھا نپنے نماز نہ پڑ ھے ، اما م کے بھو ل جا نے کی صورت میں مرد سبحا ن اللہ کہیں اور عو رت تا لی بجا کر امام کو متنبہ کر ے و غیرہ ۔ باقی نماز کے ا حکا م میں عورت صلوا کما ر أیتمو نی ا صلّی ، کے تحت مردو ں ہی کی طرح نماز ادا کر ے گی۔سینے پر ہا تھ با ند ھنا ، رفع الیدین کند ھو ں کے برا بر تک کر نا ، ر کوع ، سجود ، التحیات ( تشہد ) میں بیٹھنے کی کیفیت وغیرہ ۔ ان تما م ار کا ن کی ادا ئیگی میں مرد اور عورت کے در میا ن کسی قسم کا فرق کسی صحیح مر فوع متصل روا یت سے ثا بت نہیں ہے ۔ علمائے ا حنا ف ان تما م با تو ں میں فرق بیان کر تے ہیں اور دل چسپ بات یہ ہے کہ یہ فرق کو ئی تین با تو ں میں ، کو ئی پانچ با تو ں میں اور کو ئی اس سے بھی زیادہ باتو ں میں بیا ن کر تے ہیں، لیکن ان میں سے کو ئی بھی فرق کسی مر فوع حد یث سے ثا بت نہیں ، لیکن چو نکہ مذ کورہ فروق فقہ حنفی میں بیا ن ہوئے ہیں اسلئے علمائے ا حنا ف ان کے کر نے پر اس طرح ا صرار کر تے ہیں جیسے یہ نصو ص شر یعت سے ثابت ہیں حا لا نکہ ایسا قطعاً نہیں ۔

جب علمی د لا ئل کے ذریعہ سے عورتو ں کا حنفی طر یقہ نماز ثا بت کر نے کا مسئلہ آ تا ہے تو اس میں علمائے احناف با لعمو م دو طر یقے ا ختیار کر تے ہیں ۔ ایک تو یہ کہ اس کے لئے یکسر ضعیف اور نا قا بل حجت روا یات سے استد لا ل کر تے ہیں ، اور یہا ں علمی اما نت و دیا نت کا خو ن کر کے صریحاً دھو کہ دہی کا ارتکا ب کر تے ہیں، یعنی ضعیف اور منکر روا یات کو صحیح باور کرا یا جا تا ہے ، جیسے مثلاً ایک کتاب ، خوا تین کا طر یقہ نماز، کے عنوان سے مطبوع ہے جو ایچ ایم سعید کمپنی کرا چی کی شائع کردہ ہے ،مو لف کا نا م جنا ب عبد الر ؤف سکھروی نا ئب مفتی جا مع دارالعلو م کرا چی، ہے ۔ اس میں چھ سا ت حد یثیں ، حد یث رسو ل کے نا م سے درج کر کے حنفی طر یقہ نماز کا اثبا ت اور اسکی فضیلت ثا بت کی گئی ہے ، لیکن ان میں سے ایک بھی حد یث پایہ ثبوت کو نہیں پہنچتی ۔ اور اس سے بھی زیادہ تعجب خیز امر یہ ہے کہ جن کتا بو ں سے ( جو تیسر ے چو تھے در جے کی کتا بو ں میں شمار ہو تی ہیں اور جن میں کثرت سے ضعیف اور منکر روا یا ت ہیں ، بصرا حت محققین و محد ثین ) وہ حد یثیں نقل کی گئی ہیں وہا ں ان کے ضعف کی صراحت مو جود ہے مثلاً مجمع الزوا ئد کی ایک حد یث کا حوا لہ ہے ، اس کے آ گے مو لف کی طرف سے اس کی سند کے با رے میں صرا حت ہے کہ اس میں ایک راویہ ام یحی ہے لم اعرفھا ، میں اس کو نہیں جا نتا ، اور یہ مسلمہ اصو ل ہے کہ مجہو ل راوی کی روایت نا مقبو ل ہے ۔ دو روا یتیں سنن الکبری بیہقی کے حوا لے سے ہیں ، وہاں یہ صراحت مو جود ہے کہ ان میں فلا ں فلا ں راوی ضعیف ہیں لا یحتج با مثا لھما۔ ان جیسے راو یو ں کی حد یث قا بل حجت نہیں ہوتی۔( د یکھئے مجمع الزوا ئد ۔جلد 2 ص 103۔ السنن الکبری للبیہقی جلد 2 ۔ ص 222۔223 طبع قدیم ۔ طبع جدید جلد 2 ص314۔315) لیکن مؤلف مذ کور نے ایک نہا یت ذمہ دار علمی منصب پر فا ئز ہونے کے باو جود روا یا ت تو وہا ں سے لے لیں لیکن مؤلفین کے ضعف کی صرا حت اور راویو ں کی حیثیت عر فی کو با لکل گو ل کر گئے ہیں ۔ یہ اما نت و دیا نت کی کون سی قسم ہے اور زہد و تقوی کا کو ن سا انداز ہے ؟ باقی بھی جتنی روا یا ت یا فقہی دلا ئل بیا ن کئے گئے ہیں ان سب میں اسی قسم کی اما نت و دیا نت کا مظا ہرہ کیا گیا ہے۔ ھدا ھم اللہ

بد قسمتی سے بر صغیر پا ک وہند کے علما ئے ا حناف کی اکثر یت بیشتر ا ختلا فی مسا ئل میں یہی رو یہ ا ختیار کر تی ہے جس سے ا ختلا فا ت کی شدت اور گر ما گر می برقرار ہے ۔

دوسرا طر یقہ عورتو ں کے حنفی طر یقہ نماز کے ا ثبا ت کے لئے جو بعض علمائے ا حناف ا ختیار کر تے ہیں وہ عقل و قیاس کااستعما ل ہے یعنی وہ یہ کہتے ہیں کہ عورتوں کا طریقہ نماز جو فقہ حنفی میں بیا ن کیا گیا ہے وہ عقل و قیاس کی بنیاد پر ہے۔ اور وہ بنیاد کیا ہے، یہ کہ اس میں عورت کے لئے پردہ زیادہ ہے ۔ یعنی یہ طریقہ، استر ، ( زیادہ با پردہ) ہے ۔ فی الحا ل اس بحث کو چھو ڑ ئیے کہ عبادات تو تو قیفی ہیں اور تو قیفی مسا ئل میں قیاس ہو سکتا ہے یا نہیں ؟ یہا ں صرف دوسرا طر یقہ استد لا ل بیا ن کر نا مقصود ہے ، اس میں گو یا یہ اعترا ف ہے کہ فقہ حنفی میں عورتو ں کا طر یقہ نماز جو مر دو ں سے مختلف بیا ن کیا گیا ہے ، وہ کسی صحیح حد یث سے ثابت نہیں ۔ اس سے یہ بات بھی معلو م ہو ئی کہ علمائے ا حنا ف کا یہ گروہ امین و دیا نت دا ر اور دھو کہ دہی سے پا ک ہے ، گو فقہی جمود ان کے اندر بھی موجود ہے ، اسی لئے دلا ئل نہ ہو نے کے با و جود فقہ حنفی کے اس مسئلے سے ر جوع کی تو فیق ان کو بھی نہیں ملی ، بلکہ وہ پھر بھی اس کو قر آ ن و حد یث کے مطا بق ہی سمجھے اور اپنے عوا م کو باور کرا رہے ہیں۔

اب یہ سوا ل ہے کہ علمائے ا حناف کا یہ دوسرا گروہ کون سا ہے ؟ یہ عر ب کے علما ئے ا حنا ف یعنی ملک شام سے تعلق ر کھنے وا لے ہیں ، اس وقت تین کتا بیں ہمارے سا منے ہیں ، جو تین عرب حنفی علماء کی ( عر بی میں ) تحریر کردہ ہیں۔ تینوں کا مو ضوع یہ ہے کہ فقہ حنفی کے سا رے مسا ئل قر آ ن و حد یث کے مطا بق ہیں اور اس کوثا بت کر نے کے لئے انہو ں نے اس پر اپنا پورازور صرف کیا ہے ۔لیکن عجیب با ت ہے کہ اس دعوی اور کوشش کے با و جودتینو ں حنفی علماء نے مسئلہ زیر بحث میں ایک مر فوع حدیث بھی پیش نہیں کی ، ان میں سے بعض نے پانچ فرق اور کسی نے تین فرق بیا ن کئے ہیں اور دلیل صرف یہ دی ہے کہ یہ طر یق ، استر ، ( زیادہ با پردہ ) ہے ۔ ان کتا بو ں کا مکمل تعا رف اور ان کے ضروری اقتباسا ت حسب ذیل ہیں تا کہ ہماری بات کی صداقت کو ئی پر کھنا چا ہے تو پر کھ سکتا ہے۔

پہلی کتا ب کا نا م ہے الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجد ید ۔ صیا غۃ جد یدہ و میسرۃ للا حکام الشرعیۃ علی مذ ہب الا ما م ابی حنیفہ مع ذکر الد لیل من الکتا ب و السنہ ( 5 جلد یں ) کتا ب کے نا م کا تر جمہ حسب ذیل ہے : فقہ حنفی ، نئے قا لب میں ، اما م ابو حنیفہ کے مذ ہب کے مطا بق ، شرعی ا حکا م کی تسہیل و آ را ئش نو ،کتاب و سنت کے دلائل کے ساتھ ۔ مصنف کا نا م عبد الحمید محمود طہماز۔ مطبوعہ الدار الا میہ بیرو ت طبع او لی 1998ء۔

اس کتا ب کے مو لف نے مردو عورت کی نماز کے درمیا ن پانچ فرق بیا ن کئے ہیں۔ وہ لکھتے ہیں ( ہم صرف تر جمہ پیش کرتے ہیں ):

نماز کی پہلی سنت ، تکبیر تحریمہ سے پہلے رفع الیدین کرنا ، مرد کا نوں کے برا بر تک دو نوں ہا تھ ا ٹھا ئیں، اور عور ت کند ھو ں کے برا بر تک ، اس لئے کہ اس میں عورت کیلئے زیادہ پردہ ہے۔،

بر صغیر کے علمائے ا حناف چھا تی تک ہا تھ ا ٹھا نا بیا ن کرتے ہیں ،ان صا حب نے کند ھو ں تک بیا ن کیا ہے۔ بہر حا ل دلیل کے طور پر مصنف نے جو حد یث پیش کی ہے اس کا تر جمہ حسب ذیل ہے :

ما لک بن حو یر ث سے روا یت ہے کہ رسو ل اللہ ﷺ جب اللہ اکبر کہتے تواپنے دو نو ں ہا تھ اپنے کانوں کے برا بر تک ا ٹھا تے۔ ( صحیح مسلم ۔ ص 391 ۔ الفقہ الحنفی فی ثوبہ الجد ید۔ جلد 1 ص 215)

یہ دلیل تو مردو ں کے رفع الیدین کر نے کی ہو گئی، لیکن عورتیں کس دلیل کی رو سے کند ھو ں تک رفع الیدین کر یں ؟ یہ دلیل فا ضل مصنف نے پیش نہیں کی۔

دوسرا فرق : نماز کی چو تھی سنت یہ ہے کہ مرد اپنا دایاں ہا تھ با ئیں ہا تھ پر نا ف کے نیچے ر کھے اور عورت اپنے ہا تھ اپنی چھاتیو ں کے نیچے سینے پر ر کھے بغیر ہاتھوں کے پکڑ ے ، بلکہ ہتھیلی کے او پر ہتھیلی ر کھے، اس لئے کہ اس میں اس کے لئے زیادہ پردہ ہے ۔

اس کی دلیل میں حسب ذیل حد یث کی ہے :

سہل بن سعد بیا ن کر تے ہیں کہ لو گو ں کو حکم دیا جا تا تھا کہ نماز میں مرد اپنا دا یاں ہا تھ اپنے با ئیں باز و پر ر کھیں ( بخاری: رقم حد یث 740 )

اس حد یث میں مر د کے لئے اس حد تک تو دلیل ہے کہ وہ حا لت قیا م میں اپنا دا یا ں ہا تھ اپنے با ئیں با زو پر ر کھے ، لیکن وہ یہ ہا تھ جسم کے کس حصے پر ر کھے ؟ اس کی کو ئی صرا حت نہیں ۔ اس کیلئے فا ضل مصنف نے مسنداحمد اور ابو دا ؤد کے حوا لے سے زیر نا ف والاحضرت علی کا ا ثر نقل کیا ہے لیکن اس بات کی خود ہی صرا حت کر دی ہے کہ اس کی سند میں کچھ گفتگو ہے ۔ و فی سندہ مقا ل ( الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجد ید جلد 1 ص 217 ) ۔ لیکن عورت کے لئے ہا تھ با ند ھنے کا جو طر یقہ بیا ن کیا گیا ہے اس کی کو ئی دلیل سوا ئے استر ( زیادہ با پردہ ) ہو نے کے اور کو ئی بیا ن نہیں کی ۔

تیسرا فرق : مرد ر کوع میں مضبو طی سے اپنے ہا تھو ں سے اپنے گھٹنو ں کو پکڑ لے اور کمر کو تو ڑ ے، یعنی اسے ہموا ر رکھے، نہ وہ او نچی ہو نہ نیچی ۔ ایک روا یت میں ہے کہ اپنے دو نو ں ہا تھ اپنے گھٹنو ں پر مضبو طی سے رکھ لے ، ایک اور روا یت میں ہے کہ اپنی انگلیا ں کشادہ کر لے ۔ یہ سا رے ا حکا م مردو ں کے لئے ہیں۔ لیکن عو رت اپنے ہا تھو ں کی انگلیو ں کو کشا دہ کر ے ، اپنے گھٹنے پکڑ ے ، بلکہ اپنی انگلیو ں کو ملا لے اور اپنے ہاتھو ں کو اپنے گھٹنو ں پر ر کھے اور اپنے گھٹنو ں کو خم دے اور اپنے با زؤوں کو اپنے ساتھ ملا کر ر کھے ۔ اس لئے کہ اس میں اس کے لئے زیادہ پرد ہ ہے۔ ( الفقہ الحنفی ۔۔ جلد 1 ص 221 )

چو تھا فرق : مر د کے لئے سجد ے کی کیفیت بیا ن کرنے کے بعد لکھا ہے :

لیکن عورت سجدہ سمٹ اور د بک کر کر ے ، اپنے پیٹ کو اپنی را نو ں کے سا تھ ملا لے اور اپنے با زؤوں کو بھی پہلوؤں کے سا تھ ملا لے ۔ اس لئے کہ عورت کے معاملے کی بنیاد ستر ( پر دے) پر ہے ۔بنا بریں اس کے حق میں وہ طر یقہ سنت ہے جو سب سے زیادہ پر دے وا لا طر یقہ ہے ۔

(اس کی دلیل یہ مرسل روا یت ہے جو پہلے گذر چکی ہے، جسے اما م بیہقی نے بھی منقطع حد یث کہہ کر نقل کیا ہے) ۔ یز ید بن ابی حبیب ( تا بعی ) بیا ن کر تے ہیں کہ نبی کر یم دو عورتو ں کے پاس سے گز رے جو نماز پڑھ رہی تھیں۔ آ پ ﷺ نے فر ما یا ، جب تم سجدہ کرو تو اپنا کچھ گو شت ( یعنی پیٹ ) زمین سے ملا لیا کرو، اس لئے کہ عورت اس معا ملے میں مرد کی طر ح نہیں ہے۔ ( ابو دا ؤد فی المرا سیل ۔ الفقہ الحنفی : 1؍ 223)

پانچوا ں فرق : آ خری تشہد میں بیٹھنے کی بابت حضرت ابو حمید سا عدی کی حد یث میں بیا ن کیا گیا ہے کہ نبی ﷺ اپنا با یا ں پیر آ گے کو نکا ل لیتے اور دا یا ں پیر کھڑا ر کھتے اور اپنی سر ینوں پر بیٹھ جا تے۔ اس کو تورّک کر کے بیٹھنا کہتے ہیں ۔ یہ صحیح بخاری کی روا یت ہے لیکن الفقہ الحنفی ۔۔ کے مو لف نے اسے مضطر ب ا لاسناد و المتن کہہ کر رد کر دیا ہے گو یا ان کے نز دیک مرد آ خری تشہد میں بھی تشہد او ل ہی کی طر ح بیٹھے ۔ اس کے بعد وہ لکھتے ہیں :

لیکن عورت آ خری تشہد میں تو رّک کرکے اپنے چو تڑوں پر بیٹھے ( یعنی جس کو صحیح حد یث کے با و جود مردوں کے لئے رد کر دیا گیا ہے ، اب اسے عور تو ں کے لئے عقل کی بنیاد پر ثا بت کیا جا رہا ہے ) اور را ن کو را ن پر ر کھ لے اور اپنے پیرو ں کو دا ئیں چو تڑ کے نیچے سے با ہر نکا ل لے ، اس لئے کہ یہ اس کے لئے زیادہ با پردہ ہے۔ ( الفقہ الحنفی : ج 1 ص 226 )

اس حنفی عا لم نے عورت کے لئے پانچ فرق بیا ن کئے ہیں اور کسی بھی فرق کے لئے کو ئی حد یث سرے سے پیش ہی نہیں کی ۔ صرف سجد ے کی کیفیت کے لئے ایک مرسل روا یت پیش کی ہے جو محد ثین کے نزدیک ناقا بل حجت ہو تی ہے ۔ علاوہ ازیں اس روایت میں ایک راوی سا لم بھی مترو ک ہے اس اعتبار سے اس کی سند بھی ضعیف ہے ۔ پھر اس میں صرف یہ کہا گیا ہے کہ تم سجد ے میں کچھ گو شت زمین کے سا تھ ملا لیا کرو ۔ ان ا لفا ظ کا صحیح مفہو م کیا ہے ؟ یہ وا ضح ہی نہیں ہو تا ۔ لیکن عورت کے سجد ے کے لئے جو تین با تیں بیا ن کی گئی ہیں اور کی جا تی ہیں کہ :

1 ۔ عورت جھک کر سجدہ کر ے ۔

2 ۔ اپنے پیٹ کو اپنی را نو ں کے سا تھ ملا لے ۔

3 ۔ اپنے بازؤو ں کو جمع کر لے ۔

کیا یہ تینو ں با تیں ، کچھ گو شت زمین کے سا تھ ملا لو ، میں آ تی ہیں ؟ آ تی ہیں، تو کس طر ح آ تی ہیں ؟ اس کی وضا حت مطلو ب ہے ۔

بہر حا ل ہم عر ض کر رہے ہیں کہ الفقہ الحنفی فی ثو بہ الجد ید کے مو لف نے چار فروق کے لئے یہ تو تسلیم کر لیا کہ ان کے پاس ان کی کو ئی دلیل کتا ب و سنت میں مو جود نہیں ہے۔ اگر ہو تی تو ضرور پیش کر تے ، کیو نکہ ان کا تو مقصد تا لیف ہی فقہ حنفی کے ہر مسئلہ کو کتاب و سنت کے مطا بق ثا بت کر نا ہے ۔ ان چارو ں باتو ں کے ا ثبا ت کے لئے انہیں یہ عقلی سہارا لینا پڑا ہے کہ عورت کے لئے یہ کیفیتیں استر ( زیادہ با پردہ) ہیں لیکن ا ن کو یہ تو فیق نہیں ملی کہ پہلے وہ اعترا ف کر تے کہ ان چا رو ں ( بلکہ پا نچو ں ) مسئلو ں کے لئے کتاب و سنت میں کو ئی دلیل نہیں ہے لیکن ہماری عقلوں نے یہ تجو یز کیا ہے کہ عورت ان مسئلو ں میں اس طر ح عمل کرے کیو نکہ ان میں ان کے لئے زیادہ پردہ ہے۔

کیا عقل و قیاس کی بنیاد پر کسی چیز کو فر ض و وا جب وسنت و مستحب قرار دیا جا سکتا ہے ؟ ہم حنفی علماء سے پو چھتے ہیں کہ جس چیز کی با بت قر آ ن و حد یث میں کوئی حکم اور کو ئی صراحت نہ ہو ، کیا اسے عقل و قیاس کی بنیاد پر فر ض ووا جب یا سنت و مستحب قرار دیا جا سکتا ہے ؟ اگر کیا جا سکتا ہے تو اس کی کیا دلیل ان کے پاس ہے ؟ اور اگر نہیں کیا جا سکتا تو انہو ں نے آ خر کس بنیاد پر یہ فرق تجو یز کیا ہے ؟

ا حناف کے پاس صرف سجد ے کی کیفیت میں ایک مرسل ( اور وہ بھی ضعیف و منقطع ) روایت ہے اور وہ بھی نہا یت مبہم ۔ اس میں وہ ساری کیفیات ہر گز نہیں آ تیں جو عو رت کے لئے ضروری قرار دی جا تی ہیں ۔ سجد ے کی یہ کیفیا ت بھی گو یا خانہ ساز ہیں جن کی کو ئی دلیل ان کے پاس نہیں ۔

دوسری کتا ب کا نا م ہے، الفقہ ا لحنفی و ادلتہ ( حنفی فقہ اور اس کے دلا ئل ) ، اس کے مو لف کا نا م ہے الشیخ اسعد محمد سعید الصا غر جی ۔ مبطوعہ دا ر الکلم الطیب ۔ یہ کتا ب تین جلدو ں میں دمشق بیرو ت سے 2000ء میں بار اول شا ئع ہو ئی ہے ۔ اس کتا ب میں عورت کے لئے تین فرق بیا ن کئے گئے ہیں :

1۔ مرد اپنے ہا تھ نا ف کے نیچے ر کھیں اور عورت ہتھیلی پرہتھیلی چھاتی کے نیچے ر کھے (ص 173) ۔

2 ۔ عورت سجدہ جھک کر کر ے اور اپنا پیٹ اپنی را نوں کے سا تھ ملا لے ، اس لئے کہ اس کے لئے اس میں زیادہ پردہ ہے ۔( کتاب مذکور،ص 174 )۔

3 ۔ عورت اپنی با ئیں سرین پر بیٹھے اور اپنا با یاں پیر دائیں سیرین کے نیچے سے نکا ل لے اس لئے کہ یہ طر یقہ اس کے لئے زیادہ با پردہ ( استر ) ہے ۔( کتا ب مذکور ، ص 175 )۔

دیکھ لیجئے ! اس حنفی عا لم نے بھی ان فروق کے لئے کتاب و سنت سے کو ئی دلیل پیش نہیں کی حا لا نکہ اس کتا ب کا مو ضوع بھی فقہ حنفی کے مسا ئل کے قر آ نی وحد یثی دلا ئل بیا ن کر نا ہے ۔

٭٭٭

تبصرہ کریں