تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

یعنی شیطا ن نے وعدہ کیا ہے کہ میں تیرے بندوں سے بایں طور حصہ مقرر کروں گا کہ ہر برس وہ سو روپئوں میں سے اس قدر خدا کے غیر کی نیاز چڑھائیں، یا ہر برس اتنا غلہ فلاں بز ر گ کے نام پر علیحدہ کریں اور ان کے دلوں میں با طل آرزو ئیں ڈا لی ہیں ۔ مثلاً یہ مضمو ن سمجھا یا ہے کہ جو شخص ان بزرگوں کی نیاز ادا کر ے گا تو یہ بز ر گ اس کی ضرور شفاعت کرکے جنت میں دا خل کریں گے۔ نیز شیطان یہ حکم کرتا ہے کہ لو گ خدا کی پیدا ئش کو اسی طر ح بد ل ڈا لتے ہیں کہ اپنے آ پ کو خوا جہ سرا بنا لیں، یا دا ڑ ھی کو منڈوا ڈا لتے، یا کسی اور طر ح اپنی شکل پلٹ لیتے ہیں نعو ذ با للہ منھا ۔ پس یہ سب شیطا ن کے داؤ ہیں کہ اوروں کو ثوا ب عطا کر نے کے بہانے سے آ دمیو ں کے دلوں میں شر ک ڈا لتا اور اپنے وعدوں کے پورا کر نے میں کو شش کرتا رہے ۔ دیکھئے اگر لو گوں سے قر آ ن مجید کے ختم کا ثوا ب طلب کرتے ہیں تو وہ اس کے دینے میں کچھ بھی تا مل نہیں کرتے ۔ ایک رو پئہ ما نگنے پر ہزاروں حیلے پیدا کرتے ہیں ۔ پس ان لو گوں کے دلوں میں آ خرت کا ثوا ب کو ئی وقعت نہیں رکھتا کیو نکہ بے تکلف اوروں کو بخش دیتے ہیں۔ ایک حد یث میں آ یا ہے کہ قیامت کے دن ایک شخص کی نیکی اور بدی میزا ن عدا لت میں برابر اتریں گی ، حکم ہو گا کہ ایک بھلا ئی اور لے آ کہ تیری نیکی زیادہ ہو جائے اور جنت کا مستحق ہو ۔

پس یہ شخص ہر ایک عزیز کے آ گے التجا کا ہاتھ لے جا ئے گا ۔ مگر ماں باپ اور بیوی ، بچے ایک بھلا ئی تک دینے سے انکار کر دیں گے ۔ غر ض کہ ایک نیکی ڈھونڈے نہ ملے گی ۔ آ ج کیا شو خ چشمی اور بے خو فی ہے کہ ہزاروں نیکیو ں کے بخشنے میں بھی دریغ نہیں کرتے ۔ مگر بات یہ ہے کہ یہ لو گ اعمال کی قدر اور آخرت کا خو ف نہیں رکھتے ۔ بلکہ اعما ل کو نہا یت ضعیف اور ہلکا جا نتے ہیں ۔

اب ثوا ب کے بخشنے کی حقیقت سمجھنی چا ہیے ۔ بعض علماء کہتے ہیں کہ ایک شخص کا ثوا ب بخشنا دوسرے شخص کو نہیں پہنچتا اور اس پر دلیل خدا تعا لی کا قو ل:

﴿لَهَا مَا کَسَبَتْ وَ عَلَیْهَا مَا اکْتَسَبَتْ﴾ ہے ۔

یعنی ہر ایک کے لئے اسی چیز کا نفع ہے جو اس نے کما یا اور خا ص اسی پر ضرر ہے جو ان سے حا صل کیا ۔ علاوہ ازیں اور بہت سی آ یات و احا دیث اسی معنی پر دلا لت کرتے ہیں اور یہ قیاس کے بھی مخا لف ہے کہ جب ابھی تک جنا ب الہی میں عمل کا قبو ل ہو نا اور نہ ہو نا ظاہر نہیں ہوا ، اور جزا اس شخص کے ہا تھ میں نہیں ہے تو دوسروں کو کیا بخش سکتا ہے ۔ اور بعض علماء جیسے امام ابو حنیفہ ؒ کے نز دیک بد نی اعما ل کا ثوا ب جیسے نماز روزہ وغیرہ دوسروں کو نہیں پہنچتا ،ہاں عبادت ما لی کا ثواب جیسے کہ کھا نا کھلا نا ، کنواں کھو دنا ، پل بنوا نا ، جو محض خدا کے واسطے ہو، آ دمیوں کے بخشنے سے دوسروں کو بھی ثوا ب بایں قیاس پہنچتا ہے کہ تمام علماء متفق ہیں کہ قرضداروں کے قر ض ادا کر نے سے اموا ت (مردوں) کے عذا ب آ خر ت سے رہا ئی ہو تی ہے اور منقو ل ہے کہ پیغمبر ﷺ سے کسی صحا بی نے در یا فت کیا کہ میری ماں مر گئی ہے ، میں اس کے لئے کو ئی ایسی چیز کر نا چاہتا ہوں جو اس کے کام آ ئے ۔ حضرت ﷺ نے کنواں کھو دنے کا ارشاد فر مایا ۔

لیکن تمام اہل علم اس بات پر متفق ہیں کہ اپنے کا موں کا اوروں کو ثوا ب بخشنا بہت سے متوا تر صحا بیوں سے منقو ل نہیں ہے باو جو دیکہ وہ حضرات ماں ، با پوں اور بزر گو ں سے اس در جہ محبت کرتے اور ان کے حقوق اس قدر پہچا نتے تھے جس قدر کہ ہم نہیں پہچا نتے، مگر اس فعل کا عمل میں لا نا اکثر حضرات سے ثابت نہیں ہوا جیسا کہ اس زما نہ کے لو گ اس فعل کو بکثرت کیا کرتے ہیں ۔ نیز سارے علماء کا اتفاق ہے کہ مردوں کو اعما ل کا ثوا ب بخشنے میں اگر نفع ہے ، تو بھی بہت ہی تھو ڑا ہے ۔ اگر کو ئی آ دمی زند گی میں ایک پیسہ خرچ کر ے تو اس کے پیچھے لا کھ پیسو ں کے خر چ کرنے سے بہتر ہے ۔ اسی طر ح اگر کسی آ دمی نے اپنی ساری عمر کو دنیا کے حا صل کر نے میں ضا ئع اور بر باد کر ڈا لا اور کو ئی بھی بھلا کام نہ کیا ، جس کی و جہ سے خدا اس سے نا را ض ہے تو ممکن نہیں کہ اس کے مر نے کے پیچھے اور لو گ اعمال خیر بجا لا ئیں اور وہ اس کو آ خرت کے عذا ب سے چھڑا لیں ۔ بلبل شیراز یوں نغمہ سرا ہو تا ہے ۔ ( فارسی شعر کا اردو تر جمہ) :

سا ما ن عیش اپنی قبر میں آ پ بھیج کیو نکہ کو ئی کسی کے کام نہیں آ تا ، تو آ پ مر نے سے پہلے بھیج ۔

اس کے علاوہ یہ بات بھی ہے کہ اگر چہ اعمال کا ثوا ب بخشنا درست ہے لیکن شر ک کا مو جب بھی ہے کیو نکہ عوام الناس تمیز نہیں کرتے ۔ ہم ان عباد توں کا ثوا ب بز ر گوں کو بخشتے ہیں یا خود بزر گوں کی قربت اور رضامندی کے واسطے عبادت کرتے ہیں، یوں ہی انجام کار غیر خدا کے نام کی عبادت کر نے لگتے ہیں اور مشر ک بن جا تے ہیں ۔ چو نکہ اس زما نہ میں اعما ل شرک کی کثر ت ہے، لہذا خا ص لو گوں کو مناسب ہے کہ اس قسم کے کاموں سے غفلت اور چشم پوشی کریں تاکہ شر ک کا دروازہ بند ہو جا ئے اور یہ بات ثا بت ہو چکی ہے کہ اپنے اعما ل غیر کو بخشنے کی ضرورت نہیں اگر اس میں فائدہ خیا ل کیا جا سکتا ہے تو بہت ہی تھو ڑا سا ۔

پس ان جیسے کا موں سے شر ک کا دروازہ کھو لنا کیا ضرور ہے؟ اور تھوڑے سے فا ئدے کے خیا ل پر ہزاروں مسلما نوں کو دو ز خ کا رستہ دکھا نے سے کیا فائدہ ہے ۔ قبرو ں کے دیکھنے سے ہر چند کہ اپنی مو ت یاد آ تی ہے اور دنیا سرا ئے معلوم ہو تی ہے مگر پھر بھی جناب رسالت مآ ب ﷺ نے پہلے پہل سب کو منع فر ما یا کہ کو ئی شخص قبر کی زیارت نہ کر ے ۔ اور اس کے سا منے جا کر کھڑا نہ ہو ، صرف اس واسطے کہ اس زما نہ کے آ دمی قبرو ں کی تعظیمیں حد سے زیادہ بجا لا تے تھے، لیکن جب جا ہلیت کا زما نہ گذر گیا اور مو حد آ دمی پیدا ہو ئے اور قبرو ں کی تعظیمیں مو قو ف کر دیں تب بھی صرف مردو ں ہی کو قبور کی زیارت کی اجازت ہو ئی ، لیکن عورتو ں کو وہی ممانعت باقی رہی ۔ و جہ یہ کہ عورتیں ناقص العقل ہو تی ہیں ۔ وہ قبروں پر جا کر بالضرور کو ئی خلاف شرع تعظیم یا نو حہ کریں گی ۔ اور نو حہ کر نے وا لی عورت کے حق میں وعید عذا ب آخرت وارد ہو ئی ہے ۔

اگر کسی شخص کو منظور ہو کہ ہم سے انبیاء اور اولیاء یا پیروں یا مجتہدوں یا ماں باپ کو کسی قسم کا فا ئدہ پہنچے تو اسے اس طریقہ سے بہتر اور کو ئی طریقہ نہیں کہ محض خا لص خدا کے واسطے پہلے کام اور عبادت بجا لا ئے اور دل سے فرمان الہی کا مطیع ہو کر عبادتوں کا ثواب کسی کو نہ بخشے بلکہ خود بھی ان کا ثوا ب نہ چا ہے، ہاں دل میں صرف اس قدر خیال کر ے کہ ہم نے محض اپنے مالک کی ر ضا مندی اور خوشنو دی کے واسطے یہ کام کیا ہے ۔ اس کی مزدوری ہمیں در کار نہیں، بلکہ اس کی ر حمت و عنا یت ہماری بخشش کے واسطے کا فی ہے جیسا کہ خوا جہ حافظ فر ماتے ہیں :

( فارسی شعر کا اردو تر جمہ):

تو گدا ؤں کی طر ح مزدوری کی شرط پر بند گی نہ کر، کیونکہ سردار بندہ پروری کا طر یقہ آپ جا نتا ہے۔

اس طر یق پر خدا تعا لی اس مسلمان کو بہت سا اجر دے گا اور اس کے حقداروں کو بھی ثوا ب پہنچائے گا کیونکہ صحیح حد یث میں آ یا ہے کہ اولاد کے اعما ل کا ثوا ب باپ دادا کو بدوں بخشے پہنچتا ہے ، اور کرنے وا لے کا ثواب بھی کم نہیں ہوتا ۔

اسی طر ح شا گردوں کے اعما ل کا ثوا ب علم ظا ہری کے استا دوں یعنی عالموں اور مجتہدوں اور علم با طنی کے مرشدوں یعنی پیرا ن طر یقت کو پہنچتا ہے ۔ پس منا سب ہے کہ آ دمی اپنے پرورد گار کا فر مانبر دار ہو کیو نکہ جب اللہ اس بندہ سے را ضی ہو گا اور اپنی بار گاہ کا مقبول بنا ئے گا تو اس بندہ کے حقداروں کے احوا ل سے کہ اس کا دل ان کی بخشا ئش کے سا تھ متعلق ہے، بالکل غفلت نہ کریگا )۔

فصل پنجم در بیا ن ملحق بہ عبادات:

با ید دا نست کہ سوا ئے شا رع ؑ اقوام دیگر تعظیما تے کہ برائے خدا مقررنمودہ اند اگر شخصے آن را تعطیماً پیش غیر اللہ ادا نما ید مشر ک مے شود ۔ چرا کہ ایں ہمہ ملحق بہ عبا دت اند۔ مثلاً شخصے پیش بزر گے یا قبر ے بیک پا استادہ شود، یا سر خود را زیر کندہ پا ئے خود را با لا کشدبشر ک جلی گر فتار خواہد شد، یا تعظیمے جد ید اخترا ع نما ید کہ سوائے خدائے لا ئق قدر بز ر گان نیست البتہ مشر ک خواہد شد چنا نکہ مر د ماں بسوئے قبور قد مے چند مے رو ند و باز ایستاد مے شو ند و کج شدہ باز پس مے آ یند و بہ طر ف آ ن قبر پشت نمے کنند بلکہ بہ طرف پشت گامے نہند و باز آ یند و امثا ل ایں ہم بر یں قیاس با ید کر د بعضے مر د ماں مے گو ئند کہ ما یاں بز ر گاں را شر یک خدا نمے دا نیم و حل مشکلات از ایناں نمے خوا ہیم بلکہ ایشا ن مقر با ن بار گاہ الہی ہستند ، ما را ہم قریب از خدا خوا ہند کر د با عث ہمیں است کہ تعطیما ت ایشا ں زیادہ از حد بجا ئے آ ریم بجوا ب ایشا ں حق سبحا نہ و تعا لی مے فر ما ید و الّذین اتّخذوا من دونہ اولیاء ما نعبد ھم الّا لیقرّ بونا الی اللّہ زلفی۔ انّ اللّہ یحکم بینھم فیما ھم فیہ یختلفون ۔ انّ اللّہ لا یھدی من ھو کاذب کفّار۔ آ نا نکہ دوست گر فتہ اند بجز خدا گفتند کہ عبادت نمے کنیم ایشا ں را مگر برا ئے اینکہ کنند ما یاں را بسو ئے خدا در مر تبہ قر ب۔ ہر آ ئینہ خدا حکم مے کند میان ایشا ں آ نچہ کہ اختلاف دار ند، ہر آ ئینہ خدا راہ نمی نما ید کسے را کہ درو غ گو ئے کا فر است ۔

یعنی در میان موحداں و مشرکاں اختلاف است ۔ موحداں مے گو یند کہ ایں اعما ل شر ک است۔

از خدا دور مے افگند و مشر کاں مے گو یند کہ ایں تعظیما ت بز ر گا ن مو جب قر ب خدا است ۔ خدا تعا لی فر مود کہ ما حکم مے کنیم در میا ن ا ختلاف شما یاں و قو ل فیصل مے گویم، مشر کا ں کا ذب اند در قو ل خود مے گو یند کہ ما تعظیم و عبا دت بز ر گان نمے کنیم مگر برا ئے اینکہ ما را از خدا قریب مے کنند بلکہ عبادت بزرگاں بر ائے دفع بلائے نمایند و بزرگاں را قادر برفع حوائج میدانند و غیر اللہ دوست داشتن و عباد تش کر دن آ دم را کا فرمے کند ، چگو نہ مو جب قرب الہی خواہد شد وہدایت بدست خدا است و او تعالی ہدایت نخواہد کرد ایں مشرکا ن دروغ گو را کہ مے گو ئند قر یب کر دن از خدائے تعا لی با ختیار بز ر گا ن است :

﴿إنک لا تھدی من أحببت و لکنّ اللّہ یھدی من یّشاء﴾ فرا مو ش مے کنند

تبصرہ کریں