تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

سید احمد شہید بر یلوی ؒ

سید احمد را ئے بر یلی کے رہنے وا لے تھے اور ان کا خا ندا ن صو فیاء کا خا ندا ن تھا جس کے مور ث اعلی شاہ علم اللہ کی خا نقاہ تکیہ شاہ علم کے نام سے مشہور تھی ۔ ان کے نا نا شاہ ابو سعید، شاہ و لی اللہ کے فیض یافتگا ن میں سے تھے۔ سید ا حمد بچپن میں یتیم ہو گئے تھے ۔ رسمی علوم حا صل کئے بغیر تلاش روز گار میں لکھنئو چلے گئے لیکن وہاں شیعیت ، بدعات و غیرہ کا زور ہو نے کے باعث وہاں کی فضا سے بد دل ہو کر دہلی چلے گئے اور شاہ عبد العزیز کے دا من فیض سے وا بستہ ہو گئے اور سلو ک و تصوف میں بلند مر تبہ ہو گئے۔ پھر تلاش معا ش میں نوا ب امیر علی خا ن کی فو ج میں بھر تی ہو گئے لیکن جب نوا ب امیر علی خا ن کی پا لیسیوں سے ا ختلاف ہوا تو فو ج کی ملاز مت چھو ڑ کر 1816ء میں وا پس دہلی چلے گئے جہاں شاہ اسما عیل اور مو لوی عبد الحی بڈ ھا نوی نے آ پ سے بیعت کر لی۔(شاہ اسما عیل آ پ سے 8 سال اورمو لوی عبد الحی 10 سا ل بڑے تھے)۔

1818ء ( 1231ھ ) میں آ پ نے 25 سا تھیوں کے سا تھ پہلا تبلیغی دورہ کیا۔ ہمرا ہیوں میں شاہ اسماعیل اور مو لا نا عبد الحی کے علاوہ شاہ ولی اللہ کے بھتیجے مو لوی محمد یوسف، مولوی و جیہ الدین سہارنپوری، مولوی و حید الدین پھلتی، انکے بھا ئی حا فظ قطب الدین پھلتی،حکیم مغیث الدین سہارنپوری، شاہ ابو سعید شامل تھے ۔ آ پ کا تبلیغی قا فلہ غازی الدین نگر، مراد نگر، میر ٹھ( دس روز قیام رہا) ، بڑ ھا نہ ، پھلت (17 روز رہے )، مظفر نگر ، دیو بند ( اس علاقے میں ایک ہفتہ سے زا ئد قیام رہا )، سہارن پور ، گڈ ھ مکیٹسر ، رام پور ، بر یلی ، شاہ جہا ن پور گیا۔ اس دورے پر چار ماہ صرف ہو ئے اور قافلے کی تعداد 25 سے بڑ ھ کر 50 ہو گئی۔ پھررا ئے بر یلی میں چند ماہ قیام کیا جہاں مز ید لو گ قا فلے میں شامل ہو ئے اور تعداد 170 تک پہنچ گئی ۔ وہاں سے الہ آباد کا ر خ کیا اور راستے میں جگہ جگہ قیام کرتے ہوئے ( چار دن کا سفرایک ماہ میں طے کر کے) الہ آ باد پہنچے ۔ پھر وہاں سے کا ن پور ، بنارس ، سلطان پور ہو تے ہو ئے پھر وطن آ گئے اور را ئے بر یلی میں دو ہفتے قیام کر کے لکھنؤ تشریف لے گئے ۔ لکھنؤ میں تقریباً تین ماہ قیام رہا ۔ اس دورے میں آ پ نے سما جی اصلا ح اور رد شر ک اور بدعات کی تر دید کا خو ب کا م کیا ۔ جہاں گئے وہاں عمو ماً اپنے بعد کے لئے کسی کو نا ئب مقرر کر جاتے پھرشاہ عبد العزیز کے پاس چند روز قیام کیا اور شعبا ن 1234ھ ( 1819ء ) رائے بر یلی کے قصد سے روا نہ ہو ئے ۔ مئی جو ن کا موسم تھا۔ رام پور میں نوا ب احمد علی وا لی رام پور نے بھی بیعت کی ۔ را ئے بر یلی میں چار ماہ قیام رہا۔ جنا ب عبد الحی بڈ ھا نوی کے مسلسل وعظو ں سے بدعات اور بد اعما لیوں کی بہت اصلا ح ہو ئی ۔

لکھنؤ میں اکبری درواز کے قریب میر مسکین کی حو یلی میں فر ما یا لیکن چو نکہ یہ جگہ پو نے دوسو اہل قا فلہ کے لئے تنگ ثا بت ہو ئی اس لئے در یا ئے گو متی کے کنارے ٹیلے والی مسجد کے قریب شیخ امام بخش سو دا گر کی حو یلی میں منتقل ہو گئے۔ مرزا حسن علی بیگ محد ث نے بھی ملاقات کی شہر کے تقریباً تمام علما مشا ئخ آ پ سے بیعت ہو ئے ۔۔ مسا جد میں تقا ریر ہو تی رہیں لیکن بعض لو گوں نے لکھنئو میں شیعہ سنی ا ختلافات کو ہوا دینے کی کو شش کی اور آپ وہاں سے چلے آ ئے ۔

سید احمد بریلوی نے گمراہ صو فیا پر سخت تنقید کی اور تصوف کو شریعت کے سا نچے میں ڈھال کر اور جادہ عمل کی شکل میں پیش کیا ۔ شاہ اسماعیل شہید اور مو لا نا عبد الحی نے(سید احمد بر یلوی کے ملفو ظات پر مبنی) صراط مستقیم نام کی کتاب لکھی جس میں اس دور کے رو حا نی امرا ض اور ان کے اصلاحی پروگرام کی تفصیلات ہیں ۔ اس میں اعلان کیا گیا کہ:

تمام رسوم ہند و سند و فارس و روم مر کہ خلاف محمد عر بی باشد یا زیادتی از طریقہ صحا بہ شود ترک می نما ید و انکار و کرا ہت براں اظہار کند۔ ( صراط مستققیم کتب خانہ اشرفیہ دیو بند صفحہ 12 )

اس کتاب میں اٹھارویں اور انیسویں صدی کے ابتدا ئی دور کے ہندوستا نی مسلمانوں کی جن خرا بیوں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے وہ اس طر ح ہیں :

1۔ شر ع کی مخا لفت اور کلام ملحدا نہ اور اشغال قبیحہ شر ک آ میز کی اشاعت ۔ 2 ۔ خدا اور رسول کے متعلق کلمات بے ادبا نہ کا صدور ۔3 ۔ مسئلہ تقدیر میں غیر ضروری قیل و قال اور بحث و جدال کا اظہار

سیداحمد اور ان کے احباب نے اس معا ملہ میں توازن اختیار کر نے کا مشورہ دیا اور وا ضح کیا کہ خدا کی ہستی اور اس کی قدرت ایسے مسا ئل ہیں کہ ان میں منطق اور دلا ئل کی مدد سے انسان کسی یقینی نتیجہ تک نہیں پہنچ سکتا اور ان مسا ئل پر ایمان بالغیب ہی عقل و سمجھ کاراستہ ہے ۔ انہوں نے اس کی بجا ئے آ یات الہی خدا کی مخلوق اور کا ئنات کے ٹھو س حقا ئق پر غور و خوض اور تلاش و تحقیق کرنے کا مشورہ دیا ۔ ان حضرات نے مرشد کی تعظیم میںمبا لغہ، قبروں پر سجدہ کر نے، اور مرادیں مانگنے، اور فضول خر چی و نذ ر نیاز سے رو کا ۔شادی بیاہ اور ختنہ کے موقع پر دھوم دھام اور فضول رسموں کی ملامت کی۔ انہوں نے خا نقا ہیت اور گو شہ گیری کے بجا ئے مجا ہدہ اور اجتما عی صلا ح و فلاح کیلئے احباب کو تیار کیا ۔ اودھ کے علاقوں میں انکی اس قدر مقبو لیت بڑ ھ گئی کہ جہاں جا تے سینکڑو ں لوگ ان کے ہمراہ ہو تے۔ اودھ کے امراء اور سجادہ نشینوں نے ان کی پذیرا ئی کی ۔ صاحب مخز ن احمدی نے لکھا ہے کہ غازی الدین حیدر کے نا ئب السلطت آ غا میر نے ان کو لکھنئو مدعو کیا اور یہ التماس کیا :

آ پ کے وعظ و تز کیہ کی شہرت زما نے بھر میں پھیل چکی ہے ۔ اگر لکھنؤ کو عمو ماً او مجھ مشتاق و طلبگار کو خصوصاً تشریف آ وری سے نوازیں تو یہ امر رشتہ برداری و مروت و عا لی حوصلگی سے خالی نہ ہو گا ۔

معتمد الد ولہ کے اس خط سے سیداحمد کی اودھ میں مقبو لیت کا اندازہ ہو تا ہے ۔ مورخین رقم طراز ہیں کہ نواب اودھ کی فو ج میں بلند عہدوں پر فا ئز افراد بھی ان کے حلقہ عقیدت میں شامل تھے ۔ مثلاً فقیر محمدخان رسالدار، عبد الباقی خان قند ھاری ۔ سید صاحب نے لکھنئو میں ڈھا ئی ماہ قیام کیا اسوقت کا لکھنؤ اپنی رنگین مزا جی تو ہم پرستی اور لہو و لعب کے نقطہ عرو ج کا ہے مگر سید صاحب کی کاوش نے بہت سے لو گوں کے اندر معاشرہ کی عام روش سے کٹ کر اپنی عملی زند گی کی اصلا ح کا جذبہ پیدا کر دیا ۔ (لکھنؤ کے شعرو ادب کا معاشرتی و ثقافتی پس منظر۔ ص 123 )

سید احمد ؒ کے دوسرے تبلیغی دورے کا آ غاز شوا ل 1236ھ ( 1821ء ) تکیہ شاہ علم اللہ سے ہوا۔ سا تھیوں کی تعداد چار سو تھی۔ اس دور میں کچھ علماء نے فر یضہ حج کی معا فی کا فتوی دے رکھا تھا کہ پر تگیزوں کی بحری قزا قیوں کے باعث سفر مخدو ش ہے ۔ اس دورے کا مقصد اس غلط عقیدے کی ا صلا ح بھی تھا۔ (آ پ ڈلمئو اور الہ ہو تے ہو ئے ایک ماہ 26 روز میں بنارس پہنچے۔ 10 محر م 1236ھ کو بنارس سے دریا کے ذریعہ روا نگی ہو ئی ۔ زما نیہ ضلع غازی پور ، غازی پور ، بارہ ، بکسر ، بلیا ، چھپرا ہوتے ہو ئے دا نا پور پہنچے جہاں ایک ہفتہ قیام کیا ۔ دا نا پور سے دریا ئی سفر کر کے پٹنہ پہنچے ۔ اس شہر میں دو ہفتہ قیام رہا ۔ بہت لو گ مستفید ہو ئے ۔ پھر با ڑ ھ ، مو نگیر ، بھا گل پور قیام کر تے ہوئے مرشد آ باد پہنچے ۔ پھر ہگلی میں لنگر انداز ہو ئے، جہاں ایک ہفتہ قیام رہا ۔ پھر کلکتہ پہنچے جہاں دو ماہ قیام رہا ۔ یہاں بنگا ل کے دور دراز کے آ دمیو ں نے حا ضر ہو کر فیض حا صل کیا۔

ربیع الثا نی 1237ھ میں کلکتہ سے حج کیلئے روا نہ ہوئے۔ 28 شعبا ن 1237ھ کو مکہ میں دا خل ہوئے۔ مدینہ اور پھر مکہ سے ہو کر 15 شوا ل 1238ھ کو مکہ سے وا پس روا نہ ہو ئے اور 1239ھ کے شروع میں بمبئی پہنچے ۔ بمبئی میں 18 روز قیام رہا ۔ کثیر تعداد میں لو گو ں نے بیعت کی۔ پھر بحری راستہ سے کلکتہ آئے جہاں ایک ماہ قیام کر کے را ئے بر یلی کو چل پڑے۔ اور دو سا ل دس ماہ بعد 29 شعبا ن 1239ھ ۔ 29 ۔ اپریل 1824ء کو وطن پہنچے۔

جنا ب علی میاں ندوی نے لکھا ہے :

بعض ایسے اسلا می احکام جو اس وقت معاشرت ورواج کے زور سے قطعاً منسو خ ہو گئے تھے اور جن کے دو بارہ را ئج ہو نے کی بظا ہر کو ئی امید نہیں تھی آپ ( سید احمد ) کی ہمت اور کو شش سے دو بارہ را ئج اور مقبول ہو ئے ۔ بیوہ کا نکا ح ثا نی شر فاء وقت کی شریعت میں کفر و ارتداد سے بڑھ کر تھا ۔ جس کی سزا اکثر قتل اور ادنی سزا مقا طعہ و اخراج تھی ۔ با رہا ایسا ہوا ہے کہ تلواریں کھنچ گئی ہیں کشت و خون کی نو بت آ گئی ہے ۔ با رہا گھر چھو ڑ کر جان بچا نی پڑی ہے اور اس جرم کا مرتکب کبھی منہ دکھا نے کے قا بل نہیں رہا ہے ۔ سید صاحب نے اس پر مسلسل و عظ فر ما ئے اور پھر خود اپنی بیوہ بھاوج سے نکا ح کر کے اس کا دروزہ کھو ل دیا اور پھر آ پ کے متبعین نے آ پ کی پیروی کی اور نکا ح بیو گان کی رسم جار ی ہو گئی ۔

اسی طر ح حج علماء کی تاویلوں سے اس فقہی عذر کی بنا پر کہ راستے میں امن نہیں ہے اور سمندر بھی ایک مانع شر عی اور من استطاع إلیہ سبیلاً کے منافی ہے، اس لئے فر ض نہیں ہے اور اس حا لت میں حج کر نا فر مان خداوندی: لا تلقوا بأیدیکم إلی التھلکۃ اپنے ہا تھوں ہلا کت میں نہ پڑو ۔ کی مخا لفت ہے ۔ کچھ وقت کیلئے با لکل متروک یا بہت ہی کم ہو گیا تھا اور ایک بہت بڑا فتنہ پیدا ہو گیا تھا ۔۔مو لا نا عبد الحی اور مولا نا اسماعیل نے اس کی فر ضیت کا فتوی دیا اور منکرین کے دلا ئل رد کئے جس کی وجہ سے علماء میں کافی ہنگا مہ پیدا ہوا ۔ لو گوں نے شاہ عبد العزیز سے دریافت کیا ۔ شاہ صاحب نے شیخین سے اتفاق کیا اور ان کی بے حد مد ح فرمائی۔ 1236ھ میں آپ نے سینکڑوں آدمیوں کے قا فلے کے ساتھ بڑے اعلان اور شان و شو کت کے ساتھ حج کیا آ پ کا یہ سفر ، حج کی بہت بڑی تبلیغ اور اس کی فر ضیت کا اعلان تھا ۔ آپ جد ھر جاتے تھے سینکڑوں آ دمی آپ کے ہمراہ ہو جا تے تھے ۔ اس سے لو گوں میں حج کا عام شوق پیدا ہو گیا اور اس کا دروازہ ہمیشہ کیلئے کھل گیا ۔ (سیرت سید احمد شہید : 2/ 540۔541)

سید احمد اور ان کے جا نشینوں کاسب سے اہل اور نتیجہ خیز کام بنگال میں احیا ئے اسلام اور اس وسیع مملکت کا بر صغیر کے اصل اسلا می مر کزوں سے دو بارہ رشتہ جوڑ نا تھا ۔آ مدورفت کی شدید مشکلات ، ہندو زمین داروں کا اثرم چیتنیہ کی وسیع ویشنو تحریک کی کا میا بی اور نئے ہندوا نہ بنگا لی ادب کی و جہ سے یہ علاقہ شما لی ہندوستان کے اسلا می مر کزوں سے الگ تھلگ ہو گیا اور مسلما نوں پر ہندوا نہ اثرات غا لب آ نے شروع ہوئے۔

انیسویں صدی میں اسلا می بنگال کی رو حا نی علیحد گی کا خا تمہ ہوا اورہندوانہ اثرات کا جادو ٹو ٹا ۔ اس کا ایک سبب کلکتہ کا انگریزی دار الحکو مت اور شما لی ہندوستان کی سمندری بندر گاہ ہو جا نا تھا ، لیکن اصل و جہ نئی اسلامی تحریکیں تھیں ، جن میں سے سب سے بار آور کو ششیں سید احمد کے معتقدین کی تھیں ۔ ان میں سے پہلی ( فرا ئضی ) تحریک خا لص مقا می نو عیت کی تھی ۔ اس کا آ غاز حا جی شریعت اللہ نے کیا ۔ وہ بنگال کے ضلع فرید پور میں ہو ئے ۔ ابتدا ئی تعلیم کے بعد (1802ء کے قریب ) مکہ معظمہ چلے گئے اور کو ئی بیس سال بعد وا پس آئے ۔ ان کے قیام حجاز کے دوران میں وہا بی ایک زما نے میں حر مین پر قا بض ہو گئے اور حا جی صاحب کو نجد کی اس اصلا حی تحریک سے با خبر ہو نے کا موقع ملا ۔ وا پسی پر آ پ نے دینی اصلا ح اور ارشاد وہدایت کا بیڑہ اٹھا یا ۔ ہندوا نہ رسموں کی مخا لفت کی ۔ فرائض کی ادا ئیگی اور گنا ہوں سے تو بہ پر زور دیا جس کی و جہ سے ان کی تحریک کو فرائضی تحریک ( اور ان کے پیرئوں کو تو بار بھی ) کہتے ہیں ۔ آ پ کے بعد آ پ کے صاحبزادے حا جی محمد محسن ( عر ف دو د ھو میاں ) نے تحریک کو زیاہ منظم کیا۔ وہ 1819ء میں پیدا ہو ئے ۔ ابتدا ئی تعلیم کے بعد حج کو گئے اور وا لد کی وفات کے بعد ان کے جانشین ہو ئے ۔ مشرقی بنگال کے مختلف حلقے بنا ئے ۔ ان میں اپنے خلفاء نامزد کئے اور ہندو زمین دار جو مشرکا نہ ٹیکس مسلمان مزارعوں سے و صول کرتے تھے ( مثلاً در گا پو جا کے موقع پر ) ان کے خلاف مسلمانوں کو منظم کیا ۔ ہندو زمینداروں نے بھی ان کے خلاف جھو ٹے سچے مقد مات دائر کئے اور انہیں کئی دفعہ جیل جا نا پڑا ۔ انکی وفات 1860ء میں ہو ئی۔

حا جی محمد محسن کی مساعی سے تحریک کا دا ئرہ وسیع ہو گیا ، لیکن ان کے زما نے میں کئی الجھنیں بھی پڑ یں اور فرا ئضی جما عت سے عام مسلما نوں کے اختلافات بڑ ھ گئے ، زیادہ اختلاف جمعہ اور عیدین کی نمازوں کے متعلق تھا ۔ فرا ئضی کہتے تھے کہ ہندوستان دار الحر ب ہو گیا ہے اس لئے یہاں نماز جمعہ جا ئز نہیں ۔ عام مسلمان جمعہ اور عیدین پڑ ھتے تھے ۔ اس اختلاف نے بسا اوقات ہنگاموں اور فسادات کی صورت اختیار کر لی ۔ فرا ئضیوں نے عام مسجدوں کو چھو ڑ کر اپنے جماعت گھر قا ئم کئے اور دو نوں جماعتوں میں کثرت سے تلخ مبا حثے ہو ئے ۔

فرا ئضی تحریک نے فرید پور ڈھا کہ باریسال کی مذ ہبی زند گی میں ایک نئی حر کت پیدا کر دی ۔ لیکن اس تحریک کا ایک خاص مقا می ر نگ تھا ۔ اس نقص کی تلافی سید صاحب کی تحریک نے کی اور صرف چند اضلاع نہیں بلکہ تمام اسلا می بنگال کو متا ثر کیا ، بنگا لے کی طرف سید صاحب کی خاص نگہ التفات تھی ۔ ان کے ایک مرید، ضلع نوا کھا لی کے مو لوی امام الدین تھے، وہ شاہ عبد العزیز کے شا گرد تھے ۔ قیام لکھنؤ کے دوران میں سید صاحب سے بیعت کی اور پھر واقعہ با لا کو ٹ تک مر شد کی خد مت میں حا ضر رہے ۔ سید احمد کے بنگا لے سے تعلقات 1824ء میں زیادہ استوار ہو گئے ۔ جب وہ تین چار مہینے کلکتے میں مقیم رہے اور مشرقی بنگال کے اہل درد مسلمان ان سے آ کر ملے ۔ انہوں نے اپنی مذہبی اور معاشر تی زبو ں حا لی بیان کر کے سید احمد سے در خواست کی کہ وہ اس علاقے میں تشریف لے جائیں۔ لیکن انہوں نے جواب دیا کہ ۔ یہ ملک بہت وسیع ہے ۔ اگر برس دو برس ہمارا رہنا ہو تا تو ہم تمہارے ملک کا دورہ کرتے ۔ اب جہاز کھلنے کا زما نہ قریب آ یا ۔ اب زیادہ ٹھہر نا نہیں ہو سکتا ۔ ۔ لیکن آپ نے اپنے دو منتخب بنگا لی خلفاء مو لوی امام الدین اور صو فی نو ر محمد کے ذمہ یہ کام لگا یا کہ وہ بنگالی مسلما نوں کی دینی تعلیم کا انتظام کریں۔ ( سیرت سید احمد شہید ۔ علی میاں۔ ص 293)

حج کے بعد سیداحمد جہاد میں مشغول رہے ۔ اس دوران میں بھی بنگال کی طرف ان کی توجہ رہی اور انہوں نے مو لوی عنا ئت علی عظیم آ بادی کو چند آ دمیوں کے ساتھ کارزار جہاد سے بنگال کی طرف روانہ کیا ۔ چنا نچہ انہوں نے کئی سال نہا ئت محنت اور جا نفشا نی سے ارشاد و ہدا یت اور تنظیم مسا جد کا سلسلہ جاری رکھا ۔ مو لوی عنا ئت علی کا دا ئرہ عمل مر کزی بنگال کے اضلاع ما لدہ ، را جشاہی، جسور و غیر ہ تھے ۔ مشرقی بنگال میں سید صاحب کے جن مریدوں نے معر کے کا کام کیا ۔ وہ نوا کھا لی کے مو لوی امام الدین اور چٹا گا نگ کے صو فی نور محمد تھے ۔ صو فی صا حب1824ء میں سید صاحب کے قیام کلکتہ کے دوران میں ان کے مرید ہو ئے ۔ جہاد میں شریک ہو ئے ۔ پھر وا پس آکر چٹاگانگ میں ارشاد و ہدا ئت میں مشغول ہو ئے ۔ 1858ء میں وفات پا ئی ۔۔۔

حا جی شریعت اللہ حاجی محمد محسن مو لوی کرا مت علی جو ن پوری صو فی نور محمد چا ٹگا می کے علاوہ اور متعدد اہل ہمت ہوں گے جنہوں نے اس احیا ئی اور اصلا حی تحریک میں حصہ لیا ۔ اور بنگال کا نقشہ بدل دیا ۔ ( مو ج کو ثر ۔ص 57۔ 61 ) ۔

سید احمد بر یلوی بقول مسعود عالم ندوی اپنے آ پ کو حنفی مع التر جیح با لحدیث الصحیح کہا کرتے تھے اور تحریک کاعام ر جحان شاہ اسماعیل کی و جہ سے کھلی سلفیت اور صر یح اہل حدیثیت کا تھا ۔ و لا ئت علی، عنائت علی، اسا طین ستھا نہ، نواب اولاد حسن قنو جی، مو لوی محمد علی رامپوری، مو لوی حیدر علی را مپوری، مو لوی عبد الحق نیو تنوی بنارسی، سب اہل حدیث تھے اور سید احمد شہید کے دو نوں فاضل خواہر زادے مو لا نا سید عرفان اور مو لا نا سید مصطفی بھی صریح قسم کے اہل حدیث تھے ۔ اس کے بعد اس خا ندان میں مو لا نا سید محمد طلحہ ٹو نکی اور مو لا نا سید ابو الخیر برق حسنی بھی خالص اہل حدیث تھے ۔ مگر حکیم عبد لحی لکھنوی کی تربیت صو فیا اور مقلدین کے ذریعہ ہو ئی اور فر نگی محل کے اثرات انہوں نے قبول کئے ۔ انہوں نے قاری عبد الر حمن پا نی پتی جو سید نذیرحسین کو خارجی، را فضی اور اسلام سے خا رج قرار دیتے تھے اپنا امام و ممدوح بنا یا ۔ پھر اس خا ندان کی منہج سلف سے دوری میں روز افزوں تر قی ہو تی رہی ۔ ( ما ہنا مہ التو عیہ ، دہلی ، اگست 1989ء)

شاہ محمداسماعیل شہید

جناب غلام رسو ل مہر کی تحقیق کے مطابق شاہ اسما عیل 12 ربیع ا لاول 1193ھ ( 29 ۔ اپریل 1779ء ) کو اپنی ننھیا ل پھلت ضلع مظفر نگر میں پیدا ہو ئے ۔ آ پ کے وا لد شاہ عبد الغنی 16 ر جب 1203ھ ( 12 ۔ اپریل 1789ء ) کو فو ت ہو گئے تو شاہ عبد القا در نے آپ کو اپنے دا من تر بیت میں لے لیا اور بقول سرسید، بجا ئے فر زندو ں کے پرورش کیا ۔ ۔ شاہ عبد القادر کی ایک ہی بیٹی تھی جس کاعقد شاہ رفیع الدین کے فر زند عبد الر حمن عرف مصطفی سے ہوا تھا۔ ان کے ہا ں بھی صرف ایک بیٹی پیدا ہو ئی جس کا نام کلثو م تھا ۔ شاہ عبد القادر نے کلثو م کا نکا ح شاہ اسماعیل سے کیا ۔ اس طر ح شاہ اسماعیل ، شاہ عبد القادر کے حقیقی بھتیجے ، اور ان کی نواسی کے خا وند تھے۔

آ پ نے شاہ عبد القادر، شاہ رفیع الدین اور شاہ عبد العزیز سے پڑ ھا۔ فہیم و ذکی تھے ۔ پندرہ سال کی عمر میں رسمی تعلیم سے فار غ ہو گئے ۔ معقو ل کی بیشتر کتا بوں پر حا شئے لکھے ۔ ایک رسالہ منطق میں لکھا ۔ اس میں شکل اول کے بعید الطبا ئع اور شکل را بع کے ابدہ البدیہا ت ہو نے کا دعوی کیا۔ سر سیداحمد کے بقو ل اس کے دلا ئل کی قوت ار سطو کو بھی معر ض حیرت میں ڈا ل دیتی ۔۔ سہ شنبہ اور جمعہ کو شاہی مسجد میں وعظ فر ماتے اور نماز جمعہ کے لئے ایسی کثر ت ہو نے لگی جیسے عید گاہ میں نماز عید ین کے لئے ہوا کر تی تھی۔ (تقاریر کے ا ثر سے) مسلما نوں کا آ ئینہ با طن مصفا اور مجلی ہو گیا اور وہ راہ حق میں اس طر ح سر گر م ہو ئے کہ ہر شخص بے اختیار چا ہنے لگا کہ اس کا سر فی سبیل اللہ فدا ہو اور اس کی جا ن دین محمدی کے کام آئے ۔ ( آثار الصنا دید بحوا لہ تا ریخ و سیاست، و حیا ت ولی ص 358۔ منقو ل از جماعت مجا ہدین۔ ص 119)

تبصرہ کریں