
44۔ ابو العباس ا حمد بن محمد بن ابی بکر عرف ابن خلکان ( متو فی 681ھ ) نے کہا:
“وكان محمد المذکور ثبتاً فی الحدیث عند أکثر العلماء و أما فی المغازی و السیر فلا تجهل أمامته فیھا.”
( محمد ( بن اسحاق ) مذ کور اکثر علما ء کے نز دیک حد یث میں ثقہ تھے مغازی اور سیر میں تو ان کی اما مت کے بارے میں نا سمجھی ا ختیار نہیں کی جا سکتی) ۔ ( و فیات الاعیا ن و انبا ء ابنا ء الز ما ن : 4؍ 276 )
45 : کما ل الدین ابن ہما م حنفی نے کہا :
“و ابن اسحاق ثقة علی ما هو الحق.”
( اور حق یہ ہے کہ ابن اسحاق ثقہ ہیں ) ۔ (فتح القدیر شر ح ہدا یہ : 1؍ 358 دوسرا نسخہ: 1؍ 411 )
اور ابن الجوزی کا رد کرتے ہو ئے کہا :
“أما ابن اسحاق فثقة ثقة لا شبه عندنا فی ذلك و لا عند محققی المحد ثین.”
( ابن اسحاق ثقہ ہیں ، اس میں ہمارے اور محقق محد ثین کے نز دیک کو ئی شبہ نہیں ہے ۔ ( فتح القدیر:1؍ 370 ، دوسرا نسخہ :1؍ 424 ، تیسرا نسخہ: 1؍ 301 )
46 : عبد الو ہا ب بن علی بن عبدالکا فی السبکی نے ابن اسحاق کے با رے میں کہا :
“والعمل علی توثیقه و انه امام معتمد والاعتبار بخلاف ذلك.”
’’ اور اس کی توثیق پرعمل ہے ، وہ قا بل اعتما د اما م ہیں اور اس کے خلا ف کسی بات کا اعتبار نہیں۔‘‘ ( طبقا ت الشافعیہ الکبری: 1؍ 40 ؛ دوسرا نسخہ :1؍ 65 )
47 : حا فظ ابن عبد البر اند لسی نے محمد بن اسحاق پر جروح نقل کر کے فر ما یا:
“و أما الصدق و الحفظ فکان صدوقاً حافظاً اثنی علیه ابن شهاب ….”
’’ رہا سچ اور حا فظہ تو وہ سچے تھے ، ابن شہا ب ( زہری ) نے ان کی تعریف کی۔‘‘ (جا مع بیا ن العلم و فضلہ: 2؍ 156؛ دوسرا نسخہ: 2؍ 192؛تیسرا نسخہ: 2؍ 302 ح 1124 ۔ با ب حکم فی قول العلماء بعضھم فی بعض )
48۔ عبد الر حمن بن عبداللہ بن ا حمد بن ا حمد بن اصبغ السہیلی الا ند لسی المالکی ( ف 581ھ) نے کہا :
“و محمد بن اسحاق ھذا رحمہ اللہ، ثبت فی الحد یث عند اکثر العلماء.”
( اور یہ محمد بن اسحاق ر حمہ اللہ اکثر علماء کے نزدیک حد یث میں ثبت یعنی ثقہ ہیں ۔ (الرو ض ا لا نف فی تفسیر السیرۃ النبو یہ لابن ہشا م: 11؍ 19 ۔ دوسرا نسخہ ج 1 ص 4 )
49 : ا حمد شہا ب الدین خفا جی ( ف 1069ھ )نے کہا : “وحدیثہ حسن و فو ق الحسن …”
’’ اوران کی حد یث حسن ہے اور حسن سے او پر ہے ۔‘‘ (نسیم الر یا ض فی شرح الشفا لقا ضی عیا ض: 1؍ 152)
50 ۔ حا فظ ابن الملقن نے کہا:
“و ابن إسحاق هذا….وله غرائب فی سعة ما (روی) وهو صدوق وحدیثه فوق الحسن وقد صححه جماعة .”
’’ اور یہ ابن اسحاق ۔۔ ان کی وسیع روایتوں میں غرا ئب ( بھی ) ہیں اور وہ صدوق ہیں ، ان کی حد یث حسن سے او پر ہو تی ہے اور ایک جما عت نے اسے ( ان کی حد یث کو ) صحیح کہا ۔‘‘( البدر المنیر : 3؍ 298 )
51۔ ابن نا صر الدین الد مشقی ( ف 842ھ ) نے کہا :
“کا ن بحراًمن بحور العلم صدو قاً مختلفاً جرحاً وتوثیقاً .”
’’ وہ علم کے سمندروں میں سے ایک سمندر ، صدوق (سچے ) تھے ان کے بارے میں جر ح و تو ثیق کے لحا ظ سے اختلا ف ہے۔‘‘( شذرات الذ ہب: 1؍ 230)
52 ۔ عبد اللہ بن اسعد الیا فعی نے کہا :
“و کا ن بحراً من بحور العلم ذکیاً حا فظاً طلابة للعلم اخباریاً نسابة ثبتاً فی الحدیث عنداکثر العلماء …”
’’وہ علم کے سمندرو ں میں سے ایک سمندر ، ذکی (ذہین و عقل مند ) حا فظ ، طا لبِ علم ، مور خ، ما ہر انساب (اور) اکثر علماء کے نز دیک حد یث میں ثقہ تھے۔‘‘ (مر آۃ الجنا ن: 1؍ 144 ۔ وفیا ت 151ھ ۔ دوسرا نسخہ جلد 1 ص 313 )
53۔حافظ نور الدین علی بن ابی بکر الہیثمی ( ف 807ھ ) نے کہا :
” رواہ الطبرانی فی الاوسط و فیه ابن اسحاق و هو ثقة مدلس وقد صرح بالتحدیث اسنادہ حسن .”
’’اسے طبرا نی نے الاوسط میں روا یت کیا اور اس میں ابن اسحاق ثقہ مد لس ہیں انہو ں نے سماع کی تصریح کر دی اور اس کی سند حسن ہے۔‘‘ ( مجمع الزوا ئد: 1؍ 221 با ب فی السواک )
54 : عبد الحی بن العماد الحنبلی نے بطور موا فقت ذہبی سے نقل کر تے ہو ئے کہا :
” وکان بحراً من بحور العلم ذکيا حافظاً طلابة للعلم اخباریاً نسابة علامة.”
’’وہ علم کے سمندرو ں میں سے ایک سمندر تھے ،ذکی، حا فظ، طا لب علم ،مو ر خ، ما ہر انسا ب ( اور ) علا مہ تھے۔‘‘ ( شذ را ت الذہب : 1؍ 230 )
55 ۔ ابو محمد حسین بن عبد الر حمن بن محمد بن علی بن ابی بکر بن علی ا لا ھد ل الشا فعی الا شعری نے محمد بن اسحاق کے بارے میں کہا :
” لاتجھل أمانته ووثقه الأکثرون فی الحدیث…”
’’ اس کے امین ہو نے سے نا سمجھی ا ختیار نہ کرو اور اکثریت نے اسے حد یث میں ثقہ قرار دیاہے۔ ‘‘ (شذرات الذ ہب: 1؍ 230 )
ان کے علاوہ اور علماء نے بھی محمد بن اسحاق کی تعریف و تو ثیق کر ر کھی ہے مثلاً :
ابن سید الناس نے اپنی مشہور کتا ب ، عیو ن ا لا ثر فی فنون المغا زی و الشما ئل و السیر ، میں ابن اسحاق پر جروح کا ذکر کر نے کے بعد ان کے دفاع پر با ب باندھا :
“ذکر الاجوبة عمارمی فیه.”
اور جرو ح کے جوا بات دئیے ۔( د یکھئے عیو ن ا لا ثر: 1؍13 )
صلاح الدین خلیل بن ایبک ا لصفدی نے انہیں ، ا حد ا لاعلام و صا حب المغازی ، کہا ۔ ( الوا فی با لو فیات۔ جلد 2 ص 133، ت 552)
اب مذ کورہ مو ثقین کے نا م تر تیب ہجا ئی سا تھ در ج ہیں:
ابن الجا رود، ابن خلکا ن، ابن العماد، ابن القطان الفاسی ، ابن القیم ، ابن المبارک ، ابن المد ینی ، ابن الملقن، ابن تیمیہ ، ابن جر یر طبری ، ابن حبا ن ، ابن حزم، ابن خز یمہ، ابن سعد ، ابن شا ہین، ابن شہا ب الزہری، ابن عبد البر، ابن عدی،ابن کثیر، ابن معین، ابن نا صر الدین ، ابن نمیر ، ابن ہمام، ابو زر عہ الد مشقی، ابو زر عہ الرازی ، ابو عوانہ ، احمد بن حنبل ، بخاری، بغوی ، بیہقی، تر مذی ، حا کم، حسین بن عبد الرحمن ا لاھدل، خطا بی، خطیب بغدادی، خفا جی، خلیلی ، دارقطنی، دغو لی، ذہبی ، زیلعی ، سبکی، سفیا ن بن عیینہ، سہیلی،شعبہ، ضیا ء المقدسی، عجلی ، عراقی ، عینی، قرطبی ، مسلم، منذری ، نووی، ہیثمی، یا فعی۔
نیز جنا ب ارشاد الحق ا ثری نے ابن علا ن ، سخاوی سیوطی ابن حجت مکی المبتدع ، شو کا نی ، نوا ب صدیق حسن خا ن ، ملاعلی قاری حنفی ، عبد الحی لکھنوی ، اور نیموی و غیر ھم سے ابن اسحاق کی تو ثیق و تعریف نقل فر ما ئی ہے ۔ (توضیح الا حکام: 1؍281۔293 )
دیو بند یو ں کی کتاب ، تبلیغی نصا ب، میں جنا ب محمد زکر یا کا ند ھلوی نے محمد بن اسحاق کے با رے میں بذ ریعہ ہیثمی لکھا ہے :
“محمد بن اسحاق و هو مدلس وھو ثقة ’’محمد بن اسحاق اور وہ مد لس ہیں اور وہ ثقہ ہیں۔‘‘ (تبلیغی نصاب:ص 595؛ فضا ئل ذکر:ص 117؛ فضائل اعما ل: ص 487)
جنا ب محمد تقی عثما نی دیو بندی نے کہا :
جہا ں تک محمد بن اسحاق کے ضعف کاتعلق ہے ان کے با رے میں حا فظ ذہبی کا یہ قو ل فیصل گذ ر چکا ہے کہ وہ رواۃِ حِسا ن میں سے ہیں ۔ حضرت شا ہ صا حب نے بھی اسی قول کو معتدل تر ین قرار دیا ہے چنانچہ خود حنفیہ بھی بہت سے مقا ما ت پر ان کی روایتو ں سے استد لا ل کر تے ہیں ۔ ( درس تر مذی : 1؍274)، ( نیز د یکھئے تکملہ فتح الملہم: 2؍ 389 ،فقرہ نمبر 3)
جنا ب ا حمد ر ضا خا ن بر یلوی نے کہا :
ہمارے علما ئے کرام قدست اسرار ھم کے نزد یک بھی را جح محمد بن اسحاق کی تو ثیق ہی ہے ۔۔ ( فتاوی رضو یہ جد یداڈیشن: 5؍ 592؛ منیر العین فی حکم تقبیل ا لا بہا مین: ص 145 )
ص 43: مستد ر ک الحا کم میں محمد بن اسحاق بن یسار کی ایک روا یت ہے جس میں آ یا ہے:
البتہ ضرور حضرت عیسی بن مر یم ناز ل ہو ں گے منصف اور اما م عا دل ہو کر اور البتہ وہ ضرور فج ( جگہ کا نا م ہے ) کے راست پر حج یا عمر ہ کے لئے جا ئیں گے اور بلا شبہ وہ میری قبر پر آئیں گے حتی کہ وہ مجھے سلا م کہیں گے اور بلا شک میں ان کے سلا م کا جوا ب دو نگا۔ (المستد ک : 2؍595 ،ح 4162 ؛ سر فراز صفدر کی کتاب، تسکین الصدور طبع چہارم :ص 340 نقلاً عن المستد ر ک: 2؍ 595 و الدر المنثور: 2 ؍ 245۔ و قا ل سر فراز خا ن ۔ قا ل الحا کم و الذہبی صحیح )
عقیدے کے مسئلہ پر اس حد یث کو نقل کر نے کے بعد سر فراز خا ن صفدر نے کہا :
اس صحیح روا یت سے بھی معلو م ہوا کہ عند القبر آنحضرت ﷺ کا صلوۃ و سلا م کاسماع متحقق ہے اور آپ کا جوا ب دینا بھی ثا بت ہے اور اس کا انکار صحیح حدیث کا انکار ہے۔ ( تسکین الصدور ۔ص 340 )
اسے کہتے ہیں دوغلی پا لیسی !! ایک ہی راوی کی حد یث جب مر ضی کے مطا بق ہو تو ، صحیح روا یت ، اور ، اس کا انکار صحیح حد یث کا انکار ہے ، اور اگر مر ضی کے خلاف ہو توپچا نوے فی صدی گروہ سے اس پر جر ح اور ، اس لحا ظ سے ان کی روا یت کا و جود اور عد م و جود با لکل برابر ہے ۔ ، سبحا ن اللہ ! یہ ہیں دیو بند کی خیا نتیں د ھو کے فرا ڈ اور دو غلی پا لیسیا ں جن کی بنیاد پر وہ دن را ت اہل حد یث کی مخالفت کر رہے ہیں ۔( یاد رہے کہ مستدر ک وا لی روا یت ابن اسحاق کی تد لیس ( عن ) کی و جہ سے ضعیف ہے )۔
٭٭٭
تبصرہ کریں