
پس حد یث اور فقہ کے مسا ئل کی تصنیف ان کی حاجت کے مطا بق اور طور سے ہو ئی جس کا بیا ن یہ ہے کہ ان کے پاس ا حا دیث و آ ثار تو اس قدر نہ تھے جس سے وہ اہل حدیث کے اصو ل پر استنبا ط مسا ئل فقہ کر سکتے اور علماء کے اقوا ل میں نظر اور بحث کر نی انہوں نے پسند نہ کی ۔اس امر میں وہ اپنی نسبت بد گمان رہے اور اپنے آ پ کو اس امر کے لا ئق نہ سمجھے اور اپنے آ ئمہ کے حق میں یہ اعتقا د ر کھتے تھے کہ وہ بڑے عا لی رتبہ تحقیق پر تھے اور ان کے دل ان کی طرف بہت ما ئل تھے۔ چنا نچہ علقمہ ؒنے کہا ہے کہ کیا ابن مسعودؓ سے کو ئی زیادہ مضبوط ہے ؟ ایساہی ابوحنیفہ ؒ نے ابراہیم ؒ اور علقمہ ؒکے حق میں کہا ہے کہ وہ بڑی سمجھ وا لے تھے ( یہ تمثیل بنا بر تسلیم مشہور ہے اور درحقیقت یہ قول امام ابو حنیفہ ؒسے بسند صحیح ثا بت نہیں ، چنا نچہ ہمارے ضمیمہ ا خبار سفیر ہند 1877ء میں اس کی پوری تفصیل ہو چکی ہے ، اسی نظر سے ہم نے اس قول کا تر جمہ پورا نہیں کیا ۔ (محمد حسین)
ہاں ان میں سمجھ اور تیزی طبع اور سرعت انتقا ل ذہنی اس قدر تھی کہ وہ اس سے اپنے اما موں کے اقوال سے جوا ب مسا ئل نکا ل لیتے تھے ۔ پس انہوں نے اس قا عدہ تخر یج ( بات سے با ت نکا لنا ) سے فقہ کی پٹڑی جما ئی ۔ تخر یج کی صورت یہ ہے کہ کسی ایسے شخص کے جو اقوال و مذا ہب آئمہ سے خو ب واقف ہو کر کتا ب کو یاد کر ے اور ہر مسئلہ میں حکم کی و جہ سوچ ر کھے، پس جب کسی نے کو ئی مسئلہ پو چھا تو اگر اس کتا ب میں آئمہ کا صریح قول پایا تو اس کو جوا ب میں پڑ ھ سنا یا ۔ نہیں تو کسی قو ل کے عمو م کو دیکھا اس میں وہ مسئلہ دا خل سمجھا، تو اس پر وہ حکم جاری کیا ۔ اور اگر اس قول میں کو ئی اشارہ پا یا تو اس سے مسئلہ نکا ل لیا۔ اور بعض اقوال میںکچھ اقتضاء و ایماء بھی پا ئی جا تی ہے جس سے مطلب کا سمجھنا ممکن ہو تا ہے اور بعض مسا ئل کی نظیر مل جا تی ہے جس پر وہ مسئلہ محمول ہو سکتاہے ۔ اور کبھی علماء آ ئمہ کے کسی صریح حکم سے علت نکا لتے ہیں اور اس پر اس کی نظیر کو قیاس کر تے ہیں ۔ اور بعض اما مو ں کے ایسے دو قول پا ئے جا تے ہیں جن کو بطور قیاس افترا نی یا شر طی کے ملا نے سے جوا ب مسئلہ پیدا ہوجا تا ہے ۔ اور کبھی مجتہد کے کلام میں ایسی باتیں پا ئی جا تی ہیں جو بطور مثا ل معلو م ہو تی ہیں انکی پوری حقیقت و تعریف مذ کور نہیں ہو تی ۔ پس اس مجتہدکے پیرو علماء ان با تو ں کے جا ننے میں محاورہ اہل زبا ن کی طرف ر جوع کر کے اپنی طرف سے بہ تکلف ان کی حدیں و تعریفیں مقررکرتے ہیں اور ان کی مثا لو ں کو قواعد کلیہ بنا دیتے ہیں اور کبھی ان کے اقوا ل دو معنی کے محتمل ہو تے ہیں تو وہ لو گ ایک معنی کو تر جیح دیتے ہیں کبھی ان کے دلا ئل کا بیا ن وسیاق خفی ہو تا ہے تو وہ اس کو واضح کر دیتے ہیں اور بعض اوقا ت تخریج کر نے وا لے اپنے اما مو ں کے فعل و سکو ت سے کو ئی بات نکال لیتے ہیں ۔ و علی ہذا القیاس
تخر یج اس فعل کانام ہے اور اس بات کو جونکا لی جا تی ہے، قول مخر ج ( نکا لی ہو ئی بات ) کہا جاتا ہے ۔اور اس کو یوں بھی کہا جاتاہے کہ یہ بات فلاں مجتہد کے مذہب یا قول یااصو ل سے نکالی ہو ئی ہے اور ان لوگوں کو جو ایسی بات نکالتے ہیں مجتہد فی المذہب کہا ہے (یہ بھی ایک اصطلا ح ہے اور جو ابن کما ل پاشا نے مجتہدین کے سا ت طبقہ ٹھہرا ئے ہیں اور ازان جملہ مجتہد فی المذہب کو دوسرے طبقہ میں اور اہل تخر یج کو چو تھے طبقہ میں شمار کیا ہے اور ہر ایک کو جدا گا نہ منصب دیا ہے وہ خا ص اس کی اصطلا ح ہے جس میں کو ئی آ ئمہ سلف سے اس کا پیشوا نہیں ہے ۔ علا مہ ہارون حنفی نے کتا ب نا ظورۃ الحق میں ابن کمال پا شا کا پورا تعقب کیا ہے اور اس کی کلام کو نقل کر کے صا ف فر ما دیا ہے :
بعید عن الصّحة بمراحل فضلاً عن حسنه فإنّه تحکمات باردة و خیالات فارغة… الخ
اور محقق حنفی مولوی عبد الحی لکھنوی نے بھی اپنے بعض رسا ئل میں علا مہ ہارون کا توا فق کیا ہے اور ابن کما ل پا شا کی تقسیم و تجو یزکو رد کر دیا ہے ۔ (محمد حسین) اسی طور پر اجتہادکر نا اس شخص کے قو ل میں مراد ہے جس نے کہا ہے کہ جس نے کتا ب مبسو ط یاد کر لی وہ مجتہد ہے ، یعنی اگر چہ اس کو ایک روا یت حدیث کا بھی علم نہ ہو ۔ اس طور سے تخر یج سب مذاہب میں ہو چکی ہے پس جس مذ ہب کے لوگ مشہور ہو ئے اور قضا و فتوی ان کے سپر د ہو ئے اور ان کی تصنیفیں لو گو ں میں مشہور ہو ئیں وہ مذاہب اطراف زمین میں پھیل گئے اور جس مذ ہب کے لوگ گو شہ نشین و گم نا م ہو ئے نہ کہیں کے قا ضی ہوئے نہ مفتی بنے اور لو گ ان کی طرف را غب نہ ہوئے وہ مذا ہب ایک زما نہ کے بعد بے نشا ن ہو گئے ۔ ( ما ہنا مہ اشاعۃ السنہ ضمیمہ نمبر 10۔ ص65۔76)
اس کے بعد حجۃ اللہ البا لغہ کے باب حکاية حال النّاس قبل المأة الرّابعة و بعدهاکی وہ عبارت ملا حظہ کر یں جسے ہم مع تر جمہ تا ریخ اہل حد یث جلد اول کے صفحات 127 تا 134 پر نقل کر چکے ہیں ۔ ان عبارات پر تبصرہ کر تے ہو ئے ضمیمہ اشاعۃ السنہ جلد 1 میں جناب محمد حسین بٹا لوی لکھتے ہیں کہ شاہ ولی اللہ کے اس کلام سے جو فوا ئد و نتا ئج مستفاد ہیں وہ خواص پر مخفی نہیں تا ہم عا مہ نا ظرین کیلئے ان کا بیا ن مناسب ہے ۔ وہ فوا ئد بہت ہیں، لیکن اس مقام میں آٹھ قواعد کے بیا ن پر اکتفا کیا جاتا ہے:
1 ۔ صحا بہ کرا م ، آ نحضرت ﷺ کے اقوا ل و افعا ل پر عمل کر نے میں قواعد و مسا ئل فقہیہ کے پا بند نہ تھے، اور نہ آنحضرت ﷺ نے انکو یہ قواعد و مسا ئل بتا ئے ہیں ۔ (یہ قواعد و غیرہ بعد میں تجو یز ہو ئے ہیں) اس با ب میں ان کیلئے بجز اپنی سمجھ و طما نیت قلب کے اور کوئی دستور العمل نہ تھا ۔
2 ۔ بعض صحا بہ کا بعض ا حا دیث پر عمل کر نے نہ کر نے میں ایسے طور پر ا ختلاف ہوا ہے کہ اس اختلاف سے ان کو تا رک ا حا دیث نبوی و منکر نبی نہیں کہا جا سکتا ۔ اور نہ وہ اختلاف ایک دوسرے کی تکفیر و تضلیل کاباعث ہواہے ۔
3۔ ایسا ہی ا ختلاف تا بعین میں بعض ا حا دیث کے عمل و تر ک میں ہوا ہے ۔
4 ۔ مجتہدین کا بعض ا حا دیث کے عمل و تر ک میں بھی اختلا ف اسی قسم سے ہوا ہے ۔
5۔ اہل حدیث و اہل الرا ئے کا با ہمی ا ختلاف بھی نیک نیتی سے ہوا ہے ۔ اہل حد یث نے جو آ راء ر جا ل کو چھوڑ کر حد یث و آ ثار پر فتوے دینے کا التزا م کیا ہے یہ ان کا کمال اتباع ہے ۔ اہل را ئے نے جو حد یث پر فتوے دینے اور اس کے بیا ن سے تو قف کیا ہے اور بجا ئے اسکے اقوال و اجتہاد و سلف کو پیش کر نا یا ان اقوال سے با ت نکا ل کر پیش کر نا مناسب سمجھا ہے ، یہ بھی نیک نیتی اور خدا پرستی سے خا لی نہیں ہے اوربعض آ ثار سلف بھی اس روش کے مو ید ہیں ۔
6 ۔ اہل حد یث نے علم و عمل بالحد یث کا پورا پورا سا مان بہم پہنچا دیا ہے اور تصنیف و تالیف و تصحیح و تضعیف و جر ح و تعدیل و معا ر ضہ و تطبیق کا کوئی دقیقہ باقی نہیں چھو ڑا، اور اہل را ئے نے اپنے اصول کے مطا بق عمل کر نے کیلئے فقہ ومسا ئل اجتہادی کو جمع کر دیا ہے ۔ لہٰذا فر یقین کو اپنے اپنے اصو ل پر بے تر دد عمل ممکن و میسر ہے ۔
7۔ صرف ایک مذ ہب کی تقلید محض چار سو برس بعد شروع ہو ئی ہے ۔ پہلی اور دوسری صدی میں تو اس کا نام و نشا ن بھی نہ تھا ۔ تیسری صدی میں کچھ کچھ میلا ن مذا ہب فقہ کی طرف شروع ہوا، تا ہم چوتھی صدی تک خا لص تقلید مذ ہب وا حد کا روا ج نہیں ہوا ۔ چوتھی صدی کے بعد جو ہوا، سو ہوا۔
8 ۔ چو تھی صدی کے بعد فر یقین کے اکثر لو گ جادہ اعتدا ل سے خا ر ج ہو گئے ۔ نہ اہلحد یث اصول و روش اہل حد یث پر رہے ، نہ اہل تقلید مجتہدین کے چا ل پر رہے ۔ فریقین سے علوم کم ہو گئے اور بجا ئے اس کے نفسا نی جھگڑے پھیل گئے ۔
ان فوائد سے نتا ئج بھی بہت نکلتے ہیں، پر ازان جملہ اس مقا م میں دو کا بیان ضروری ہے ۔
او ل یہ کہ جن باتو ں کو ہمارے وقت کے اہل حد یث نا جا ئز اور دین اسلام سے خار ج سمجھتے ہیں ( جیسے کسی حدیث کو کسی و جہ سے نہ ما ننا ، یا کسی عا لم کے قو ل واجتہاد پر چلنا ) وہ باتیں مطلقاً اور بہر حا ل نا جا ئز اور دین سے خار ج نہیں بلکہ انہی صورتو ں سے جن کا اثر و وجود زمانہ صحا بہ میں پا یانہیں گیا اور جن باتوں کو ہمارے وقت کے اکثر مقلدین مذاہب ضروری جانتے ہیں ( جیسے ہرمسئلہ میں کسی خا ص عالم کی پیروی و تقلید کر نا ، یا کسی حد یث پر بلاوساطت مجتہد مذ ہب عمل نہ کر نا ) یہ باتیں ضروری نہیں ۔ پہلی صدیو ں میں ان باتو ں کا نام نشا ن بھی نہ تھا ، پھر ضروری ہو نا کہاں ؟
دو م ( جو نتیجہ اول کی فرع ہے ) یہ کہ اس وقت کے اکثر اشخا ص فر یقین ( اہلحد یث و اہل تقلید ) اپنے اپنے اسلا ف کی روش و ا صول سے نا واقف ہیں اور چو تھی صدی کے ضدی لو گو ں کی روش پرہو گئے ہیں ۔ ایک دوسرے کو ان با تو ں کے سبب برا جانتے ہیں جن باتوں سے برا جاننا ان کے اصو ل مذہب کا اقتضاء نہیں ہے ۔ بناءً علیہ میں فر یقین کی خدمت میں التماس کرتا ہوں کہ اپنے اپنے اسلا ف کی روش ا ختیار کر یں ۔ میرے اہل حد یث بھا ئی صرف اردو متر جم کتب حدیث سے چند احادیث کا تر جمہ پڑ ھ یا سن کر، باوجودیکہ ان کو حدیث کے الفا ظ تک پڑ ھنے نہیں آتے ، ہر کسی کو بعض ا حا دیث کے تر ک عمل یا خلاف سے مشر ک و منکر حد یث نہ کہہ د یا کر یں جب تک کہ اس حدیث کے متعلق امور ذیل کی تحقیق نہ کر لیں ۔
1۔ وہ حد یث جس کا کوئی خلاف کرتاہے صحیح بھی ہے یا نہیں ۔
2 ۔ اس حد یث کی صحت مخالف کے نزدیک بھی مسلّم ہے ؟یا اس میں اسکو کو ئی محد ثا نہ جر ح و کلام ہے ۔
3 ۔ اس کے معنی یقیناً وہی ہیں جو ہم سمجھتے ہیں یا اس میں اور معا نی کا بھی ا حتما ل ہے۔
4 ۔ اس حد یث کا مخالف اس کے مقا بلہ میں کسی اور حدیث ار جح یا مساوی سے متمسک ہے یا محض را ئے اس کا متمسک ہے ۔
اور یہ سو چ لیں کہ بعض ا حا دیث کا خلاف و ترک عمل تو صحا بہ و تا بعین سے بھی ہوا ہے پھر ان کو مشرک ومنکر رسو ل نہیں سمجھا گیا، مبادا بعض مقلدین کا بعض احا دیث کو تر ک کرنا اسی قسم سے ہو اور انہی وجو ہا ت سے ہو جو صحابہ و تا بعین کے تر ک عمل کے لئے بیان کی گئی ہیں ۔
اور میرے حنفی بھا ئی جو تا لیفا ت متاخر ین علماء ( جن میں اقوا ل آ ئمہ مذا ہب بھی صرف نام کو ہیں چہ جائے کہ ان کے مستندا ت کتا ب و سنت سے بھی ان میں ہو ں ) پڑ ھ کر فقیہ بن بیٹھے ہیں ، ان کتا بوں یا اپنے اا ئمہ کے برخلاف حد یث پر عمل کر نے وا لو ں کو دین و مذہب سے خار ج نہ سمجھیں اور یہ سو چیں کہ اپنی سمجھ کے موا فق حد یث پر عمل کر نا وہ کام ہے جوپہلی اور دوسری صدی کے لو گ عموماً اور تیسری اور چوتھی صدی کے اکثر لو گ کر تے چلے آئے ہیں اور اس کاخلاف خیر القرو ن میں پا یا نہیں گیا ۔ زمانہ صحا بہ وتابعین بلکہ ا ئمہ مجتہد ین میں کسی عا می یا عالم کو حکم نہیں ہوا کہ وہ کسی خا ص شخص یا خا ص کتا ب کا پا بند رہے اورکسی حدیث پر بلامرا جعت و وسا طت مجتہد عمل نہ کر ے ۔ پھر اس کا م کے مر تکب دین سے خارج کیو نکرہو سکتے ہیں؟
٭٭٭
تبصرہ کریں