
تحفۃ الموحد ین
٭اب ہم تو حید و سنت کی اشاعت اور ردّ بدعا ت کی مہم کے دورا ن لکھی جا نے وا لی شاہ ولی اللہ محد ث دہلوی کی کتا ب تحفۃ المو حدین کا فارسی متن اور اردو ترجمہ نذ ر قا رئین کرتے ہیں۔
فصل اول :در ردّ بعض مغا لطات
در دفع اقوال آ نا نکہ از کلام اللہ و کلام الرسو ل بحیلہٗ اعرا ض مے کنند و دعوی مسلما نی مے نما ند۔ بیا نش آنکہ بعضے مے گو ئند کہ کلا م اللہ وحدیث راآں کس بفہمد کہ علوم بسیار و کتب بیشمار خوا ندہ با شد و علامہ زماں بود بجواب آنہا خدا تعالی مے فر ما ید
ھو الّذی بعث فی الامّیّین رسولاً منھم یتلوا علیھم آیاتہ و یزکیھم و یعلّمھم الکتا ب و الحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلالٍ مبین۔ (جمعہ)
اوست آنکہ بر انگیخت درمیان نا خوا ندگان رسول از ہماں نا خواندگان کہ مے خوا ند برہماں ناخوا ندگان آیات خدا پا ک مے کند ایشاں راو آموزد ایشاں را کتاب و تدبیرش یعنی رسول ہم نا خواندہ بود و اصحاب کرا مش نیز نا خوا ندہ چوں رسول اللہ ﷺ بر اصحاب آیات الہی خواندہ اصحاب آن ۔۔۔
از شرک و فساد پاک شدند۔ اگر ناخواندہ قرآن و حدیث را نمے فہمد و استعدا دشنمے دارد صحا بہ چگو نہ از معایب پاک شد ند، وا ئے بر قومے کہ دعوی، صدرہ فہمی و قاموس ، دا نی مے کنند و در فہم قرآن و حدیث خود را نادان محض مے نما یند و بعضے مے گو یند کہ بایاں متاخر ین ہستیم، برکت زبان رسو ل اللہ ﷺ کجا یا بم و سلامت قلب صحا بہ از کجا آ ریم کہ معنی قر آ ن و حد یث را دریابم؟ بجواب آنہا حق تعالی فرماید:
و آخرین منھم لمّا یلحقوا بھم۔ و ھو العزیز الحکیم۔ (الجمعہ:3)
اوہمیں است حال پسنیاں ناخواندگان راوقتیکہ لاحق شوند باصحاب و اوست غالب باحکمت۔
یعنی متاخراں خواندہ باشند یا ناخواندہ وقتیکہ مسلمان شوند و صد پیروی ا صحاب نما یند وقرآن و حدیث رابشنو ند برا ئے پاک گر دیدن آنہا ہمیں قرآن و حدیث کفایت مے کند و نیز مے فر ما ید:
و لقد یسّرنا القر آن للذکر فھل من مّدّ کرٍ (القمر :17)
و ہر آ ئینہ آسان کر دیم ما قرآن را برائے پند گر فتن۔ پس آیا ہیچ پند گیرندہ است۔ ایں چگو نہ آسانی است کہ۔ کا فیہ خواناں و شافیہ داناں در فہم معانیش اظہار عجز نمے نما یند و بد ویان عرب بہرو درمے شوند و علاوہ ازینجا بجائے فرماید:
افلا یتدبّرون القرآن (محمد)
آیا پس فکر نمے کنند قرآن را۔ اگر آساں نیست پس دراں چگونہ عمل کر دہ آید:
ام علی قلو ب اقفالھا آیا بر دلہا قفل آں دلہا است۔
یعنی باو جو دیکہ بر دل قفل ندارند چہ گمراہی است کہ تبائل ہمت نمے گما رند و نیز احادیث رسو ل اللہﷺ سخنا ن روز مرہ و سہل و قریب از فہم بودند کہ ہر اعرا بی آں را شنیدہ بکار دینی و دنیوی برآں عمل مے نمود سوائے قال و یقول دراحادیث چیزے مشکل تر نیست کہ مردماں آں گراں می دا نند و بسوئے آن التفات نمے کنند۔ خصوصاً بایں زمانہ کہ موضوع از نا موضوع ممتاز گشت و قوی از ضعیف جدا شد۔
و علی حسب مدار ج در کتب مدو ن گشت و بر ہر مطلبے علیحدہ علیحدہ باب و فصل مقرر نمودہ شد و تحقیق اینست کہ عجمی را دا نستن تر جمہ اول ضرور است بعدہ اگر بر تمام لطائف و نکاتش اطلاع نمے تواں یافت، از ادرا ک اوا مر و نوا ہی ہم نمے توں گذشت و ایں قدر برائے نجات در آخرت کفا یت مے کند و بس
(فصل اول ان لو گوں کے اقوا ل کے رد میں ہے جو کسی نہ کسی حیلہ سے کتا ب اللہ اور حد یث رسول خدا سے انکار کرتے اور منہ پھیرتے ہیں ، پھر اس پر مسلمانی کا دعوی کرتے ہیں ۔ اس کی تفصیل یہ ہے کہ بعض لو گ کہہ بیٹھتے ہیں کہ قر آ ن اور حد یث کو وہی شخص سمجھ سکتا ہے جو بہت سے علم اور بے شمار کتا بیں پڑھا ہوا اور اپنے زما نہ کا علا مہ ہو ۔ ان کے جوا ب میں اللہ تعا لی فر ماتا ہے:
﴿ ھو الذی بعث فی الامّیین رسولاً مّنھم یتلوا علیھم آیاتہ و یزکّیھم و یعلّمھم الکتاب و الحکمۃ و ان کانوا من قبل لفی ضلالٍ مّبین ﴾
خدا وہ ہے جس نے ان پڑ ھوں میں پیغمبر بھیجا، انہیں ان پڑ ھوں میں سے، پڑ ھتا ہے وہ پیغمبر ان ،ان پڑھوں پر خدا کی آ یتیں اور ان کو گناہ کے میل سے پاک کر تا اور کتا ب اور اس کی تد بیر سکھا تا ہے ۔
یعنی رسو ل خدا ﷺ بھی ان پڑ ھ اور آ پ کے اصحاب بز ر گوار بھی ان پڑ ھ تھے ۔ مگر جب رسو ل خدا نے اپنے اصحا ب کے سا منے قر آن کی آیتیں پڑھیں، تو وہ اِن کو سن کر ہر قسم کی برا ئی اور بگا ڑ سے پاک صا ف ہو گئے۔ پس اگر نا خوا ندہ آ دمی قر آ ن وحدیث نہیں سمجھ سکتا اور اس کی سمجھ کی استعداد نہیں ر کھتا، تو صحابہ برا ئی اور عیبو ں سے کیو نکر پاک صاف ہو گئے۔
اس قوم پر سخت افسوس ہے جو صدرہ سمجھنے اور قاموس جاننے کا دعوی تو کرتے ہیں، مگر قرآن و حد یث کو سمجھنے میں اپنے آ پ کو محض نادا ن ظا ہر کرتے ہیں، اور بعضے یوں کہتے ہیں کہ ہم پچھلے لوگ ہیں۔ رسو ل خدا کے زما نہ کی بر کت اور صحا بہ ؓ کے دل کی سلا متِ قلب کہاں سے لا ئیں جو قر آ ن وحد یث کے معنی بخو بی سمجھ سکیں۔ اِن کے جوا ب میں اللہ تعا لیٰ فر ماتا ہے:
﴿و آخرین منھم لمّا یلحقوا بھم و ھو العزیز الحکیم ﴾
یعنی پچھلے ان پڑ ھوں کا حا ل ہے، جبکہ وہ اپنے یاروں سے ملیں اور وہ غا لب حکمت وا لہ ہے ۔ یعنی پچھلے لوگ خوا ہ پڑ ھے ہو ئے ہوں ، یا ان پڑ ھ ہو ں، مگر جب کہ وہ مسلما ن ہو ں اور اصحا ب کے طر یقہ کی پیروی کا ارادہ کر یں اور قر آ ن و حدیث کو سنیں تو انہیں بھی پا ک کر نے کے لئے یہی قر آ ن و حد یث کا فی ہو سکتی ہیں ۔ اور فر ماتا ہے :
﴿ولقد یسّرنا القرآن للذکر فھل من مّدّکر﴾
اور البتہ ہم نے قر آ ن کو نصیحت کے واسطے آ سا ن کر دیا ، پس کیا کوئی نصیحت لینے وا لہ ہے ؟ یہ کیونکر آ سا نی ہو سکتی ہے کہ کا فیہ پڑ ھنے وا لے وا لے اور شا فیہ جاننے وا لے تو اس کے معنی سمجھنے سے عجز ظاہر کرتے اور عر ب کے جنگلی لو گ اس کی حقیقت سے بہرہ ور ہو تے ہیں ۔ اس کے علاوہ ایک جگہ یوں فر ما یا ہے :
﴿ افلا یتد بّرون القرآ ن﴾
کہ قر آ ن میں کیوں نہیں فکر کرتے ۔ پس اگر قر آ ن مجید آ سا ن نہ ہو تو اس میں فکر کیوں کر کیا جا ئے ۔
﴿أم علی قلوبٍ أقفالھا ﴾
یا ان کے دلو ں پر قفل لگے ہو ئے ہیں یعنی با و جو دیکہ دلوں پر قفل نہیں لگے ہو ئے ہیں ، پھر بھی کیسی گمرا ہی ہے کہ قر آ ن کے فکر میں زور نہیں لگا تے ۔
اسی طر ح رسو ل خدا ﷺ کی حد یثیں روز مرہ کی بول چا ل اور آ سا ن اور قریب الفہم باتیں تھیں کہ جس جنگلی نے انہیں سنا فو راً دینی اور دنیوی کا م میں ان پر عمل کیا۔ قا ل یقو ل کے علاوہ حد یث میں اور کوئی چیز بھی ز یادہ مشکل نہیں جس کی طرف آ د می مشکل اور گراں جا ن کر تو جہ نہیں کرتے ۔ خا ص کر اس زمانہ میں تو علم حد یث بہت ہی آسا ن ہو گیا ہے کہ موضوع حد یث نا مو ضوع سے ممتاز، اور قوی ضعیف سے جدا ہو گئی اور مرا تب کے موا فق کتا بوں میں جمع کر دی گئی اور ہر مطلب کے واسطے جدا جدا با ب اور فصلیں مقرر کی گئی ہیں۔ تحقیق مقا م یہ ہے کہ غیر عربی شخص کو او ل تر جمہ کا جا ننا ضروری با ت ہے ۔ پھر اگر اس کے تما م لطائف و نکات پر اطلاع نہ پا سکے تو اس کے ا حکا م و منیہا ت کے در یا فت کر نے سے بھی نہ گز رے اور اس قدر عا لم آ خر ت میں نجا ت کے لئے کفا یت کرتا ہے اور بس)
٭٭٭
رمضان المبارك شروع ہونے كى مباركباد دينا
رمضان المبارك شروع ہونے كى مباركباد دينے ميں كوئى حرج نہيں۔
نبى كريم ﷺ اپنے صحابہ كرام كو رمضان المبارك آنے كى خوشخبرى ديتے اور انہيں اس كا خيال ركھنے پر ابھارتے تھے۔
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:
«أَتَاكُمْ رَمَضَانُ شَهْرٌ مُبَارَكٌ فَرَضَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ عَلَيْكُمْ صِيَامَهُ تُفْتَحُ فِيهِ أَبْوَابُ السَّمَاءِ وَتُغْلَقُ فِيهِ أَبْوَابُ الْجَحِيمِ وَتُغَلُّ فِيهِ مَرَدَةُ الشَّيَاطِينِ لِلَّهِ فِيهِ لَيْلَةٌ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ مَنْ حُرِمَ خَيْرَهَا فَقَدْ حُرِمَ»
سیدنا ابو ہريرہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريمﷺ نے فرمايا:
’’ تمہارے پاس بابركت مہینہ آيا ہے، اللہ تعالىٰ نے اس كے روزے تم پر فرض كیے ہيں، اس میں آسمان كے دروازے كھول دئیے جاتے ہیں اور جہنم كے دروازے بند كر دئیے جاتے ہيں اور سركش قسم كے شیاطین پابندسلاسل كر دیے جاتے ہيں، اس میں ايك رات ایسى ہے جو ايك ہزار راتوں سے بہتر ہے جو اس كى بھلائى اور خير سے محروم كر دیا گیا تو وہ محروم ہے۔‘‘ (سنن نسائی: 2106)
٭٭
سیدنا اسود بن یزید کے بارے میں آتا ہے کہ
جب رمضان المبارک کا مہینہ آجاتا تو ہر چیز سے کنارہ کش ہوجاتے اور کلی طور پر تلاوت کلام پاک میں مصروف ہوجاتے ، ہمہ وقت اس میں مصروف رہتے اوردودنوں میں قرآن پاک ختم کرنے کا اہتمام کرتے۔
٭٭٭
سیدنا سعید بن جبیر کا بھی یہی معمول تھا کہ رمضان المبارک کا مہینہ آتے ہی تمام دنیوی مصروفیتوں کو ترک کردیتے اور تلاوت کلام پاک میں ہمہ تن مشغول ہوجاتے ۔
٭٭٭
تبصرہ کریں