تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

اور مبا حثہ فر ید کو ٹ کے حنفی مہتمم جناب غلام دستگیر قصوری سے جنا ب نور احمد لکھوی کا ایک منا ظرہ کھیم کرن میں 3 ذی قعد 1302ھ کو ہوا تھا جس میں مسئلہ تقلید زیر بحث تھا ۔ اس مناظرے کی رو ئداد جنا ب نور احمد نے لکھ کر بعنوان اشتہار مباحثہ کھیم کر ن تحصیل قصور مورخہ 3 ذی قعد شا ئع کروا ئی تھی ۔

(فیو ض محمد یہ 184۔ 188 )

حافظ محمد لکھوی نے بھی ایک منا ظرہ جنا ب غلام دستگیر قصوری ( ف 1315ھ)سے غیر اللہ سے استعا نت کے موضوع پر کیا تھا ۔ منا ظرے میں حا فظ محمد نے فقہ حنفی کے متون کا در یا بہا دیا اور جناب غلام دستگیر قصوری کو اعترا ف حقیقت کے سوا چارہ نہ رہا ۔

( فیو ض محمدیہ۔ ص 93)

ایک دفعہ جناب غلام دستگیر قصوری نے مو ضع گھڑ یالہ ( علاقہ لاہور) جا کر اہل حدیث کو اپنی نوازشات کا نشا نہ بنا یا۔ ایک شخص کو عمل با لحدیث کر نے اور تفسیر محمد ی پڑ ھنے سے تو بہ کروا ئی ۔ اس پر جناب خدا بخش واعظ نے بذریعہ ڈا ک دس سوال انہیں روا نہ کئے جن کے جواب میںجناب نے لکھا کہ میں ایک مہینہ تک (خدا بخش کے مو ضع) رمداس میں آکر ان کا جوا ب دو ں گا ۔ ایک مہینہ ان کی آ مد کا انتظا ر کر کے خدا بخش نے یاد دہا نی کا خط لکھا۔ جس کے جواب میں قصوری صا حب خا موش رہے ۔ پھر کارڈ بھیجا گیا،پھر بھی سکو ت۔ سوا ل یہ تھے:

کو ئی آیت صریح یا حد یث صحیح مر فوع تحریر کر ں جس میں:

آ ئمہ ار بعہ میں سے ایک کی تقلیدکا حکم ہے ؛

جس میں حلت ذبیحہ لغیر اللہ ہو ؛

جس میں فا تحہ کا نام لے کر امام کے پیچھے پڑ ھنا منع کیا ہو؛

جس میں مما نعت آ مین با لجہر ہو ؛

جس میں مما نعت رفعیدین قبل اور بعدرکوع اور قعدے سے اٹھتے وقت کی ہو؛

جس میں سینہ پر ہاتھ با ند ھنے سے مما نعت ہو ؛

جس میں اشارہ سبا بہ فی التشہد کی مما نعت ہو؛

جس میں مما نعت جمعہ کی گا ئو ں میں ہو ؛

جس میں فر ما یا ہو کہ گا ئو ں میں جمعہ پڑ ھو تو ظہر بھی پڑھو۔

نیز بتا ئیں کہ تفسیر محمدی میں کیا نقص ہے جس کے پڑھنے سے آ پ نے منع کیاہے؟ (تحفہ وا عظ ۔ خدا بخش وا عظ ، ذی الحج 1313ھ ۔ مطبع وزیر ہند ۔ ص 1 حا شیہ )

٭ با ت سے بات نکل رہی ہے ، اور جنا ب خدا بخش واعظ کے متعلق پتہ چلتا ہے کہ وہ ایک مر تبہ پیر جماعت علی کے مد مقا بل بھی ہو ئے تھے لیکن پیر صا حب شرا ئط کی آ ڑ میں طر ح دے گئے تھے ۔ یہ واقعہ اخبار اہل حد یث امر تسر میں ایک قصوری بز ر گ کے خط اور اس کے ثنا ئی جوا ب میں یوں مذ کور ہے۔ چنا نچہ لکھا ہے :

مکر م بندہ مو لوی صا حب زاد الطا فکم ۔ السلام علیکم ۔

کل شہر قصور میں مر یدا ن سید جماعت علی شا ہ نے اس بات کو بڑے فخر سے مشہور کیا کہ لا ئل پور( حا ل فیصل آ باد ) میں حنفیو ں اور اہل حد یثو ں کے در میا ن مبا حثہ کی تجو یز قرار پا ئی جس میں مو لوی ثنا ء اللہ اور مو لوی ابو سعید محمد حسین بٹا لوی اور ایک مو لوی صاحب سیا لکو ٹ سے بلوا ئے گئے اور حنفیو ں کی طرف سے مفتی ولی محمد جا لند ھری اور سید جماعت علی شاہ علی پوری منا ظر بن کر تشریف لا ئے مگر مبا حثہ نہ ہوا۔ و جہ اس کی شا ہ صا حب علی پوری کے مر ید یہ بیان کر تے ہیں کہ مو لوی ثنا ء اللہ ریلوے سٹیشن سے شاہ صا حب علی پوری کا نا م سن کر امر ت سر کو وا پس ہو گئے اور اسی طر ح دوسرے مو لوی صا حبا ن اہل حدیث بھی مبا حثہ سے گر یز کر گئے وغیرہ ۔

اس وا سطے بذریعہ نیاز نا مہ ہذا آ پ سے در یا فت کرتا ہو ں کہ یہ خبر درست ہے یا درو غ ۔ اگر آ پ اس واقعہ کی تفصیل بذریعہ ا خبار اہل حد یث کے فر ما ویں تو نہایت ہی مناسب ہے مگر بالفعل مجمل طور پر بذریعہ نواز ش نا مہ بندہ کو مطلع فر ما ویں ۔ اس جگہ یہ خبر بہت مشہور ہو رہی ہے ( الراقم: محمد فتح باز خا ن )

ثنا ئی جوا ب : صو فی ہو کر جھو ٹ بو لیں تو ہمیں خوش ہونا چا ہیے کہ الحمد للہ ہم صو فی نہیں۔ میرے پاس آدمی اس روز آ یا کہ جس روز میں ایک طو یل سفر سے تھکا ما ندہ آ یا تھا۔ میں نے اس آ د می کو کہا کہ تم پھر مجھ سے ملنا ،میں اس وقت تھکا ہوا ہو ں سو چ سمجھ کر جواب دو نگا ۔ مگر وہ آ د می پھر میرے پاس نہیں آ یا۔ نہ میں مبا حثہ کو گیا ۔ بلکہ یہاں تک کہ مجھے اس مقا م کا بھی علم نہ تھا جہاں یہ مبا حثہ قرار پایا تھا۔

27 دسمبر ( 1908ء )کو مو لوی خدا بخش واعظ میرے پاس آ ئے تو انہوں نے بیان کیا کہ آ د می آ پ سے واپس ہو کر میرے پاس آ ئے ، تو میں اس کے سا تھ مقام مباحثہ کو گیا ۔میں نے چند شرا ئط پیش کیں جن کو حافظ جماعت علی اور ان کے سا تھیو ں نے نہ ما نا۔ اتنے میں سر کاری حکم پہنچا کہ مبا حثہ ایک مہینہ تک ملتوی رہے ۔

بس یہ ہے مبا حثہ کی ا صلیت جس میں را ئی کا پہا ڑ بنا یا گیا، ہاں اگر حا فظ جماعت علی یا ان کے مر یدو ں کو فخر ہے اور وہ گفتگو کر نا چا ہتے ہیں تو بندہ حا ضر ہے آ پ ہی کے زیر اہتما م قصور میں مبا حثہ ہو سکتا ہے مگر میں دعوی سے کہتا ہو ں کہ نہ حا فظ جماعت علی ہاں کر یں گے نہ مو لوی و لی محمد جا لند ھری ر خ کر یں گے کیو ں :

نہ خنجر ا ٹھے گا نہ تلوار ان سے

وہ با زو میرے آ ما ئے ہو ئے ہیں

( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 22 ذی الحج 1326ھ۔ 15 جنوری 1909ء ص 5 )

٭ اوپر مباحثہ فر یدکوٹ کی رو داد میں غلط بیانی سے متعلق با ت ہو ئی تھی، یہاںہم مباحثوں میں ا حناف کی غلط بیا نیو ں کی ایک اور مثا ل بھی پیش کئے دیتے ہیں۔ یہ مبا حثہ جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری اور جنا ب کرم الدین جہلمی کے در میا ن منعقد ہوا تھا ۔ مبا حثے کا عنوان فر قہ نا جیہ سے متعلق تھا ۔ مبا حثہ کے ا ختتام پر جناب کر م الدین نے خلاف واقعہ اپنی فتح کا ڈھنڈورہ پیٹنا شروع کیا تو ا خبار اہل حد یث میں امرتسر میں چند تحریر یں شا ئع ہو ئیں جن میں مبا حثے کے نتیجہ کے حقیقی خدو خا ل وا ضح کئے گئے ،ملا حظہ فر ما ئیں :

٭ میر پور کا جلسہ یکم دو ئم مئی کو مقرر ہوا ۔ اس میں ا حناف کو بھی مبا حثہ کے لئے دعوت دی گئی چنا نچہ علماء اہل حد یث مو لا نا ابرا ہیم میر سیالکو ٹی شیر پنجا ب مو لا نا ابو الوفا امر تسری ، مو لا نا محمد دہلوی ، مو لا نا محمدعظیم ، مو لوی نور محمد امر تسری و غیرہ تشریف لا ئے اور جلسہ بخیر و خو بی ہوا ۔ اس جلسہ کا اشتہار د یکھ کر مو لوی کر م الدین مع اپنے ایک دو ہم خیا ل مو لو یوں کے میرپور پہنچے اور مبا حثہ کی با بت اظہار خیا ل کیا، تو اہلحدیث نے اس کو غنیمت جا نا مگر مولوی کر م الدین اور ان کی جماعت نے کئی ایک لیت و لعل کئے، آ خر مو لا نا ابرا ہیم نے انکے قاصد کو کہا کہ ہم ان کو مجبور کر ینگے کہ ہمارے سا تھ بحث کر کے جاویں یہاں تک کہ جو شرط انہو ں نے کی وہ اد ھر سے تسلیم کی گئی آ خر کارمبا حثہ کیلئے دو نو ں فر یق جلسہ اہل حد یث میں جمع ہو ئے۔ حسب قرار داد لا لہ جوتی را م جی و کیل صدر جلسہ مقرر ہو ئے آ پ نے جلسہ کاانتظا م خوب ر کھا پہلی تقریر کے لئے مو لوی کر م الدین صا حب کو اجازت دی۔ مبا حثہ فر قہ نا جیہ کے مسئلہ پر تھا یعنی یہ بتا نا تھا کہ اسلا می فر قو ں میں سے فر قہ ناجیہ کو ن ہے ۔ مولوی کر م الدین کی سا ری تقریرو ں کا خلا صہ یہ ہے کہ قرآ ن مجید میں ارشاد ہے خدا فر ما تا ہے ، ہم نے زبور میں لکھ دیا تھا کہ زمین کے وا ر ث صا لح بندے ہو ں گے ۔ اس زمین سے مراد علا قہ شا م اور فلسطین وغیرہ ہے چو نکہ اس ملک کے اعلی افسر سلطان رو م ہیں اور وہ حنفی ہیں اس لئے حنفی فرقہ نا جی ہے ۔ یہ بھی کہا کہ حد یث میں آ یا ہے بڑی جماعت کی تابعداری ، بڑی جماعت ہم مقلدین کی ہے اسلئے مقلدین ہی نا جی ہیں۔

جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری نے جوا ب دیا کہ ہم تم مسلمان ہیں اور مسلما نوں کو حکم ہے کہ جب تم میں اختلاف پیدا ہو، تو رسو ل اللہ ﷺ سے اپنا فیصلہ کراؤ ۔ اس لئے ہم اپنا فیصلہ رسو ل اللہ ﷺ سے کراتے ہیں ۔

سنئے اس مسئلہ کاتصفیہ صا ف حد یث میں آ یا ہے۔ حضور ﷺ نے فر ما یا کہ جو میرے اور میرے اصحاب کے طر یق پر ہو گا، وہ نا جی ہو گا ۔

اب ہم د یکھتے ہیں کہ ا صحاب رسو ل اللہ ﷺ کی روش کیا تھی؟ کیا وہ حنفی یا شا فعی تھے ؟ کچھ بھی نہیں تھے، بلکہ سید ھے قر آ ن و حد یث پر عمل کر نے والے تھے ۔ پس جو فرقہ ان کی روش کے بر خلاف تقلید میں پھنسا ہو،وہ فرقہ جد ید ہو گا ۔ اس لئے وہ اصحاب کی روش سے الگ ہو کراس حد یث کے مطا بق فر قہ ناجیہ نہ ہو گا ۔

جنا ب ثنا ء اللہ نے فر ما یا کہ جو آ یت آ پ نے پیش کی ہے اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لو گ ملک گیری کی صلاحیت ر کھیں گے خدا ان کو زمین کی حکو مت دے گا (ڈپٹی نذ یر ا حمد نے اس آ یت کا تر جمہ یہ کیا ہے : نیک بندے زمین کی سلطنت کے وار ث ہوں گے )۔ تا ریخ دنیا بھی اسی کی شہادت دیتی ہے کہ جو قو م جنگی قا بلیت ر کھتی ہے وہ غالب آ جا تی ہے ۔ کیا مو لوی صاحب آ ج کل بھی آ پ یہ دعوی کر سکتے ہیں جب کہ بیت المقدس پر انگر یزو ں کاقبضہ ہے اور یہودیو ں کو دیا جا نا تجو یز ہو رہا ہے ، کیا آ پ ما نیں گے کہ انگر یز فرقہ نا جیہ ہیں ؟

دوسرے معنی اس آ یت کے یہ ہیں کہ جنت کی زمین کے وار ث خدا کے نیک بندے ہو ں گے ان معنی کی شہا دت دوسری آ یت سے پیش کی اور تفسیر کبیر بھی دکھا ئی۔

سواد اعظم کے متعلق جنا ب ثنا ء اللہ نے پوچھا کہ

اس میں فا عل کو ن ہے اور سواد اعظم سے مراد کو ن ہیں ؟ جنا ب کر م الدین جہلمی نے کہا:

فا عل سب لو گ ہیں اور سواد اعظم سے مراد صحا بہ کرا م ہیں ۔ جناب ثنا ء اللہ امر تسری نے فر ما یا:

بس مضمو ن صا ف ہے کہ تما م مسلما نوں کو حکم ہو تا ہے کہ ہم سب مسلمان صحا بہ کی روش پر چلیں ،وہ قرآن وحد یث پر عمل کر تے تھے اسی طر ح ہم بھی عمل کر یں ۔ یہ نہیں کہ بعد زما نہ تا بعین تبع تابعین تین سو سا ل تک مسلما ن بغیر تقلید کے گذر کر یں اور چو تھی صدی میں تقلیدی بند ش میں پھنس کر علیحدہ علیحدہ فرقہ بندی کرد یں ۔

یہ سوا ل جنا ب ثنا ء اللہ نے بار بار پیش کیا کہ ا صحاب رسو ل کا مذ ہب کیا تھا؟ اگر قر آن و حد یث ہی تھا تو بس وہی مذ ہب ناجی ہو گا ۔ اگر کو ئی اور تھا تو اسکا ثبو ت کیا ہے ۔ کیا اصحا ب رسو ل اللہ حنفی تھے ؟ حا لا نکہ حنفی شا فعی مذا ہب کی حد بندی چو تھی صدی ہجری میں ہو ئی ۔ اس کا جوا ب جنا ب کر م الدین جہلمی نے ا خیر تک نہ دیا ۔

اسی ضمن میں جنا ب کر م الدین جہلمی نے شیخ عبدالقادر جیلا نی ؒکا ذکر کیا، تو جنا ب ثنا ء اللہ نے غنیۃ الطا لبین سے د کھا یا کہ حضرت شیخ کے نز د یک حنفیہ مرجیہ فر قہ ہیں، اور مر جیہ فرقہ بد عتی فرقہ ہے ۔ اس کا جواب بھی مو لوی کر م الدین نے ا خیر تک نہ دیا ۔

اس لئے اس کہنے میں کو ئی خوف نہیں کہ جنا ب ثنا ء اللہ کے اس سوا ل کا جوا ب جنا ب کر م الدین سے نہیں ہو سکا کہ حسب فر ما ن نبوی فرقہ نا جیہ وہ ہے جو صحا بہ کی روش پر قر آ ن و حد یث پر عمل کر ے، وہی فر قہ نا جیہ ہے، اس کے سوا کو ئی فرقہ نا جیہ نہیں ۔

جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری بار بار یہی فر ما تے تھے کہ اس سوا ل کا جوا ب دیجئے اور بس۔ آ پ نے بار ہا یہ شعر بھی پڑ ھا :

ادا سے د یکھ لو جاتا رہے گلہ دل کا

بس اک نگا ہ پہ ٹھہرا ہے فیصلہ دل کا

اس مبا حثہ میں انجمن اہل حد یث میر پور کی طرف سے جنا ب کر م الدین کو خط لکھا گیا کہ آ ج فرقہ نا جیہ پر بحث ہو ئی ہے، حسب قرار داد کل تقلید شخصی پربحث ہو نی چا ہیے۔ پس آ پ کل 8 بجے صبح تشریف لا ویں ( لیکن جنا ب کر م الدین نے اس معا ملے کو سال آ ئندہ پر ٹا ل دیا)۔ (ہفت روزہ اہل حد یث امرتسر 14۔ مئی 1920ء ۔ 24 شعبان 1338ھ ۔ ص 6)

٭چو نکہ جنا ب کر م الدین جہلمی نے غلط بیا نی کر تے ہو ئے منا ظرہ میں اپنی فتح کا ڈھنڈورہ پیٹا تھا ، اس لئے ایک اور بزر گ، جنا ب نور محمد واعظ امر تسری ، نے بھی لکھا : جنا ب مو لوی ( کر م الدین ) صا حب :

آپ نے مبا حثہ میر پور کے متعلق ا خبارا ت میں اپنی فتح اور اہل حد یث کی شکست شا ئع کرا ئی ہے۔ یہ تو ہر ایک کوا ختیار ہے جو چا ہے کہے مگر پبلک کو پورا علم نہ کر کر اپنا مطلب سید ھا کر نا ا نصا ف سے دور ہے۔ ہم بھی مبا حثہ میر پور میں شر یک تھے، ہم نے جو کچھ دیکھا آ پ کی تحریر بالکل اس کے بر خلاف پا ئی ۔ کیا آپ کا فر ض نہیں تھا کہ مبا حثہ میں جو سوا ل و جوا ب ہوئے ان کو سارا نہیں تو کسی قدر نقل کر تے، تا کہ آپ کی تحریرا ت د یکھنے وا لو ں کو محض تقلیدی طور پر آ پ کی فتح کا اعتقا د نہ ہو تا بلکہ یقینی طور پر وہ آپ کو فاتح سمجھتے ۔

مو لوی صا حب سنئیے! میں وہا ں کے مبا حثہ کی مجمل کیفیت سنا کر آ پ سے سوا ل کرتا ہو ں ۔ مضمو ن زیر بحث فر قہ نا جیہ تھا، آپ نے اپنی دلیل میں زیادہ زور اس آ یت پر دیا: ﴿إِنَّ الْأَرْضَ یُوْرِثُهَا عِبَادیَ الصَّالِحُوْنَ﴾ جس کا مطلب آ پ نے بیا ن کیا کہ

بیت المقدس کی زمین کے حا کم صلحاء لو گ ہو ں گے ۔ آ پ نے کہا چو نکہ ہم حنفی بیت المقدس کے حا کم ہیں، اسلئے ہمارا فرقہ نا جیہ ہے۔

اس کے مقا بلہ میں جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری منا ظر از جا نب اہل حد یث نے وہ حد یث پڑ ھی جس میں نبی کریم ﷺ نے فر مایا: «ما أنا عليه وأصحابی»

یعنی فرقہ نا جیہ وہ ہے جو رسو ل اللہ ﷺ اور ا صحا ب کرا م کے طر یق پر ہو گا ۔ مو لوی صا حب امر تسری نے سارا زور اس حدیث پر ر کھا۔

یہ تو تھیں آپ دو نوں صا حبو ں کی دلیلیں۔ اب میں بتا تا ہو ں کہ ایک نے دوسرے کی دلیل کا کیا جوا ب دیا؟ جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری نے آ پ کی دلیل کا جواب یہ دیا تھا کہ آ پ کے یہ معنی تا ریخ دنیا اور واقعات حاضرہ کے بر خلاف ہیں کیو نکہ بیت المقدس پر قبضہ صلا ح الدین ایو بی سے پہلے عیسا ئیو ں کا تھا ،آج کل انگر یزو ں کا ہے، اور تجو یز ہو رہی ہے کہ بیت المقدس کا علاقہ یہودیو ں کو دے دیا جا ئے ۔ اگر اس آیت کے مطا بق بیت المقدس پر قا بض ہو نا فرقہ ناجیہ کی پہچا ن ہے، توکیا آ پ کے نز د یک عیسا ئی اور یہودی بلکہ انگر یز بھی فر قہ نا جیہ اور صلحاء کی جماعت ہیں؟

جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری نے تو آپ کی دلیل کا جوا ب دیا، مگر انہوں نے جو حد یث پیش کر کے بار بار تین گھنٹے آ پ سے سوا ل کئے کہ بمو جب حد یث فر قہ ناجیہ وہ ہے جو ا صحا ب کرا م کے مذ ہب پر چلے، کیا اصحاب کرا م حنفی تھے یا شا فعی تھے ، یا عا مل بالحد یث تھے ؟ یہ سوال ہر بار جنا ب ثنا ء اللہ نے آ پ سے پو چھا تھا۔آپ حلفیہ فر ما ویں کہ آ پ نے اس سوا ل کا جواب کیادیا تھا؟ اسی سے ثا بت ہو جا ئے گا کہ فتح کس کو ہوئی۔

ہاں مو لوی کر م الدین صا حب ! اثنا ء مبا حثہ میں جب آ پ نے پیر ا ن پیر سید عبد القادر جیلا نی قدس سرہ کا نام غو ث اعظم کہہ کر پکارا ،تو جنا ب ثنا ء اللہ امر تسری نے پیرا ن پیر کی کتا ب غنیۃ الطا لبین سے وہ عبار ت سنائی جس میں پیر صا حب نے ایک بدعتی فرقہ مر جئہ کا ذکر کر کے فر ما یا ہے کہ مر جئہ فرقہ کی بارہ شا خیں ہیں ۔ فرقہ حنفیہ بھی اسی بد عتی فرقہ کی شا خ ہے ۔ حضرت پیران پیر کے اس فر مودہ کاآ پ نے کیا جواب دیا تھا ؟

مو لوی کر م الدین صا حب !ہم تو ابتداء سے انتہاتک شر یک مبا حثہ تھے۔ ہم حیرا ن تھے کہ آ پ ادھر ادھر کی بہت سی با تیں کرتے ہیں مگر ان دو نوں سوالوں کا جوا ب نہیں دیتے یہاں تک کہ آ خری وقت بھی گذر گیا ۔

مو لوی صا حب ! ہمیں آ پ کی فتح کے ا ظہار پر ر نج نہیں۔ یہ اگر فتح ہے تو ہماری دعا ہے کہ آ پ کو ہمیشہ ایسی فتح حا صل ہوا کر ے ، اور غا لباً پہلے بھی ہو تی رہی ہے ۔ اسی لئے آ پ اس نا کا میابی کو کا میا بی سمجھ کر خوشی منا رہے ہیں، مگر للہ فی اللہ ہمارے سوا ل کا جواب تو د یجئے کہ آ پ نے ان دو نو ں سوا لو ں کا جواب کیا دیا تھا ؟۔ میں پھر وہ سوا ل دہرا تا ہو ں تا کہ آ پ کو متو جہ کر سکو ں ۔

1۔ ا صحا ب کرا م کا مذہب کیا تھا ؟کیا وہ حنفی تھے یا شافعی یا عا مل بالحد یث ؟

2۔ حضرت پیرا ن پیر ؒنے فرقہ حنفیہ کو کیو ں بدعتی فرقہ شمار کیا ؟

امید ہے آپ مہر بانی کر کے پبلک کے انتظار کو رفع کر نے کی غر ض سے ان سوا لو ں کے جوا ب بہت جلد عنایت فر ما ویں گے۔( خا کسار نور محمد واعظ امر تسر محلہ تالا ب ٹنڈا ) ( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 21۔28 مئی 1920ء ص 17۔18 )

٭مبا حثہ میر پور کے انجا م سے متعلق ایک اور تحریر ملا حظہ فر ما ئیے۔ لکھا ہے:

3 مئی 1920ء کا دن بھی کم سے کم ریاست جمو ں کے ضلع میر پور میں ایک تا ر یخی دن ہو گا جس میں اہل حدیث اور حنفیو ں کے ما بین مبا حثہ ہوا ۔ مضمو ن بحث کا فرقہ نا جیہ تھا ۔ سوا ل کا جوا ب حنفی منا ظر ( مو لوی کر م دین جہلمی ) نے جو دیا وہ تو اس شہا دت سے ہو جو اہل حد یث مو ر خہ 11 جو ن میں چھپ چکی ہے جس کے الفاظ یہ ہیں :

بیا ن گوا ہا ن : 3 مئی کو میر پور ر یاست جمو ں میں مسلمانو ں کے دو فرقوں کے در میان مبا حثہ ہوا ، مباحثہ کا مضمو ن تھا ، فر قہ نا جیہ ۔ مو لوی ثنا ء اللہ اہل حدیث کی طرف سے بار ہا یہ سوا ل پیش ہو تا رہا کہ حدیث شریف میں آ یا ہے کہ جو میرے اور میرے اصحا ب کے طر یق پر ہوگا ، وہ فرقہ نا جیہ ہو گا۔ بتا ؤ اصحاب رسو ل کا مذ ہب کیا تھا ؟ کیا و ہ حنفی تھے ؟ حنفی شافعی مذ ہب تو چارسوسا ل بنے ہیں ، پھر وہ کیا تھے ؟ اس سوا ل کاجوا ب ہم سننے کے ہم بھی مشتاق تھے مگر مو لوی کر م دین حنفی کی طر ف سے اسکا جوا ب نہیں دیا گیا۔

دستخط ۔ سر دار سنگھ سکرٹری سری گورو سبھا میر پور،

پنڈت گنپتی شر ما سنا تن د ھر م سبھا میر پور سنسکر ت ما سٹر ہا ئی سکو ل میر پور ،

حیدر علی اکبر شا ہ سکر ٹری انجمن اما میہ میر پور ،

ما سٹر مو ہن سنگھ سکر ٹری خا لصہ ینگ میں ایسوسی ایشن میر پور

اللہ داد ا حمدی اول مدرس فارسی سٹیٹ ہا ئی سکو ل میر پور و سکر ٹری انجمن احمدیہ اشاعت اسلا م میر پور ،

با بو عبد الکر یم پو سٹ ما سٹر میر پور ،

سر دار بد ھ سنگھ ہیڈ نقل نو یس عدا لت سب جج میر پور

وزیر چند ہندو صدر۔ محاسب عدا لت وزارت میر پور ،

پنڈت ہیرا نند میر پور ،

شیخ عطا محمد پنشنر ڈا کٹر اہل سنت و الجماعت میر پور۔

( نو ٹ از ا ڈیٹر اخبار اہل حد یث : مو لوی کرم الدین ان شہا دتو ں کی صحت پر شک کر یں تو یہ لوگ ا بھی ، یعنی بوقت تحر یر ستمبر 1920ء ، زندہ ہیں ان سے پو چھ سکتے ہیں ۔)

مگر مو لوی کر م الدین کی ہشیاری کے ہم قا ئل ہیں کہ آ پ کو گو وقت پر جوا ب نہ سو جھا ، تا ہم بعد میں انہوں نے کچھ نہ کچھ مرزاصا حب قا دیا نی کی طر ح جواب دے کر معتقدین کو قابو میں ر کھا ۔ مگر وہ جواب ایسا ہے کہ کو ئی اہل علم اس قسم کا جوا ب لکھنا تو کجا اپنی طرف منسوب ہو نا بھی کبھی پسند نہ کر ے گا ۔ نا ظرین اسے غور سے سنیں آ پ فر ما تے ہیں :

مو لا نا ثنا ء اللہ یہ سوا ل کر تے ہیں کہ کیا رسو ل اللہﷺ اور آ پ کے ا صحا ب حنفی تھے یا شافعی وغیرہ ؟ اگر نہیں تھے تو تم کس طر ح سچے ہو ئے ؟ واہ! کیا کہنا کیسا معقو ل سوا ل ہے۔ اس سوا ل پر ثنا ئی فر قہ جا موں میں پھو لے نہیں سما تے۔ اہل بصیرت کے نز دیک اس سوا ل سے بڑ ھ کر کو ئی بے وقوفی کا سوا ل ہو نہیں سکتا ۔ اس کی مثا ل تو بعینہ یہ ہے کہ کو ئی مو لوی ثنا ء اللہ اور اس کے متبعین کو کہے کہ چو نکہ آ پ کے والد ما جد اور جد امجد ثنا ئی نہ تھے کیو نکہ اس وقت مولوی ثنا ء اللہ پیدا نہ ہو ئے تھے ، اس لئے مو لوی ثنا ء اللہ جھو ٹے ان کے پیرو ثنا ئی کہلا نے وا لے بھی سب جھو ٹے ہیں، یا کو ئی عیسا ئی یا مو سا ئی ، ایک محمدی مسلمان کو کہے کہ چو نکہ عیسی و موسی محمدی نہ تھے اس لئے مسلما ن جھو ٹے ان کا مذ ہب بھی جھو ٹا ہے ۔

بندۂ خدا د یکھنا تو یہ ہے کہ آ نحضرت ﷺ اور آ پ کے صحا بہ کرا م کا مسلک تقلید تھا یا عدم تقلید ۔ اگر حضور ﷺ اور صحا بہ کرا م نے تقلید اور ا جتہاد کو پسند ید گی کی نگاہ سے د یکھا تو مقلد سچے ، اگر مطلق العنانی کی تعلیم دی تو غیر مقلد سچے ۔ سو حضور ﷺکو تقلید پسند تھی یا نہ ؟ صریح آیت ہے:﴿ثُمّ أَوْ حَیْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِیْمَ حَنِیْفًا﴾ ( ہم نے آ پ کو و حی کی کہ آ پ ابرا ہیم حنیف کی اتباع ( تقلید ) فر ما ئیں ۔ اگر خدا کو تقلید پسند نہ ہو تی تو حضور ﷺ کو ابرا ہیم حنیف کے ا تباع کا حکم نہ ہو تا ۔

جناب ثنا ء اللہ امر تسری ؒ لکھتے ہیں :

اس جوا ب کی معقو لیت کے ہم تو کیا غا لباً سا رے ناظرین اہل حدیث قا ئل ہو ں گے ۔ ہا ں جو صا حب اس جوا ب کو نا معقو ل سمجھیں وہ ذرا اتنا تو سو چ لیں کہ سوا ل بھی کتنا سنگین ہے۔ پھر ایسے سنگین سوا ل کا جواب اس سے ا چھا کیا ہو سکتا ہے ؟ یہ تو بے انصا فی ہو گی کہ سوا ل کی نو عیت نہ جا نیں اور جوا ب کی نو عیت پر اعترا ض کر یں ۔ کیا سچ ہے :

کہہ دیا بس کہ تیری آہ میں تاثیر نہیں

یہ نہ دیکھا کہ کلیجے میں ہے روزن کیسا

بہر حا ل اس جوا ب کے چار حصے ہیں :

1 ۔ حنفی کہلا نا ایسا ہے جیسے ثنا ئی کہلا نا۔

2 ۔ حنفی شا فعی و غیرہ کہلا نا ایسا ہے جیسے محمدی مسلما ن کہلا نا ۔

3 ۔ صحا بہ کرا م کو تقلید کا حکم تھا ۔

4 ۔ بلکہ خود رسو ل اللہ ﷺ کو سیدنا ابرا ہیم کی تقلید کا حکم ہوا تھا ،

الجوا ب : 1۔ بیشک ہم ما نتے ہیں کہ دو نوں نسبتیں یکساں ہیں یعنی حنفی اور ثنا ئی ۔ اسلئے ہم دو نو ں فر یقوں کی خد مت میں التماس کر تے ہیں کہ حنفی ، حنفی کہلا نا چھو ڑ دیں اور ثنا ئی ، ثنا ئی کہلا نا تر ک کر دیں ۔ لیکن حنفی کہلا نے وا لے تو ہم نے بکثرت د یکھے ہیں، ثنا ئی کہلانے وا لا ہم کو کوئی نہیں ملا ۔ مو لوی کر م الدین کو ایسے لو گ ملے ہوں جوحنفیو ں کی طر ح خود کو ثنا ئی کہلا تے ہیں تو ہمیں بھی ایسے لو گو ں کی زیارت کرا دیں ۔ ہا ں مخا لف اگر ان کو ثنا ئی کہتے ہو ں تو ان مخالفوں کو رو ک دیں کہ ایسا مت کہا کرو۔

2 ۔ اس جوا ب میں تو مو لوی صا حب نے سوا ل کو مزید قو ت بخشی ہے جس کے لئے سا ئل ان کا شکر گذار ہے۔بے شک سیدنا موسی اور سیدنا عیسی اور ان کی امتیں محمدی نہیں کہلا تے تھے مگر مسلما ن محمدی کہلا تے ہیں ، کیو ں ؟ اس کی و جہ یہ ہے کہ ان کو بعد سیدنا موسی اور سیدنا عیسی کے ایک ایسا رسول ملا ہے جو ان دونوں سے ا فضل اور جا مع ہے ۔ یہاں تک کہ مسلمان نبوت موسی اور نبوت عیسی کے بھی اسلئے قائل ہیں کہ حضور ﷺ نے ان کی نبوت کی شہادت دی ہے۔ آ پ غور کر یں کہ جن پیغمبرو ں کا نا م اس آ خری پیغمبر نے نہیں بتا یا ہم مسلمان ان کو تعیین کر کے نبی نہیں مانتے ۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ اسلام اور عیسویت دو جدا دین ہیں ۔ اسی و جہ سے علم میراث میں ایک کا وار ث دوسرا نہیں ہو تا ۔ تواب سوال یہ ہے کہ کیا حنفیو ں شا فعیو ں کی بھی مثا ل بھی یہی ہے ؟ کہ وہ نبی کریم ﷺ کی نبوت بضمن اما مت امام ابوحنیفہ﷫ ما نتے ہیں ؟ اور امام صا حب کو نبی کریمﷺ سے افضل جا نتے ہیں ۔ اگر یہ ہے، توپھر یہ بھی ان کا ما ننا مشکل نہ ہوگا کہ محمد یو ں اور حنفیو ں میں اختلاف دینین کا ہے ، اور اس پر یہ کہنا بھی ممکن ہے کہ ان دو نوں کا با ہمی توار ث نہ ہو جیسے محمد یو ں اور عیسا ئیو ں کا نہیں ۔ اس طرح بیشک ان کا حق ہے کہ محمدی کی بجا ئے حنفی یا شا فعی کہلائیں ، مگر ہمیں معاف ر کھیں کیو نکہ ہمارا یہ اعتقا د نہیں۔ ہم اما م ابو حنیفہ یا امام شافعی﷭ کا یہ رتبہ نہیں ما نتے کہ نبوت محمد یہ ان کی و جہ سے تسلیم ہے ۔ ایسا عقیدہ آ پ کو مبارک ہو۔

3 ۔ صحا بہ کرا م کو تقلید کا حکم کہنے سے ثا بت ہو تا ہے کہ جنا ب کرم الدین اور ان جیسے اور مقلد منا ظر تقلید کے معنی نہیں جا نتے، اور با و جود نہ جاننے کے تقلید تقلید پکارے جا تے ہیں ۔ اس لئے بہتر ہے کہ ان سے منا ظرہ کے وقت حسب قواعد منا ظری پہلے تقلید کی تعریف در یافت کی جا ئے ۔

تقلید کی صحیح تعریف ہے : “أخذ القول من غیر معرفة دليله.” یعنی کسی حکم کو کسی عا لم سے سن کر بغیر معلو م کر نے دلیل کے قبول کر لینے کا نا م تقلید ہے ۔ ( جمع الجوا مع لا بن سبکی)

اس تعریف کو ملحو ظ ر کھ کر کو ئی صاحب ہم کو کو ئی ایسی روایت بتا دیں جس میں صحابہ کرا م کو بغیر دلیل کے حکم ما ننے کا کہا گیا ہو۔( ہفت روزہ اہل حد یث امرتسر۔ 3 ستمبر 1920ء ص1۔2 )

٭ جناب ثنا ء اللہ امر تسری، جنا ب کر م الدین سے متعلق ایک اور واقعہ یوں بیا ن کر تے ہیں :

مو لوی کر م دین جہلمی ہمارے ایک پرا نے مہر با ن ہیں۔ کچھ دنو ں سے آ پ حا فظ جماعت علی شا ہ علی پوری کے زیر سا یہ آ گئے ہیں، تب سے آپ کو مذہب اہل حدیث اور جماعت اہل حد یث سے دوری بلکہ نفرت ہو نی شروع ہو گئی ہے ۔ آپ اہل حد یث ہی کے خلاف نہیں بلکہ جماعت دیوبند کے بر خلاف بھی کچھ نہ کچھ کر تے رہتے ہیں ۔ چنا نچہ ہر سا ل آ پ ایک جلسہ حنفیہ کے نا م سے جہلم میں کر تے ہیں۔ پچھلی دفعہ ( یعنی 1920ء میں)یہ جلسہ ان تا ریخو ں میں تھا جن میں اہل حد یث کا نفر نس کا جلسہ ملتا ن میں ہو رہا تھا، اس لئے نہ جماعت اہل حد یث کو فر صت تھی، نہ احناف جہلم نے دعوت دی،ور نہ صرف جنا ب ابوالقاسم سیف بنارسی کو بھیج دیا جا تا جو بفضلہ کا میا ب ہو کر آ تے ۔ مگر بعد جلسہ بڑی تعلی سے شا ئع کیا کہ ہمارے جلسہ میں اہل حد یث نہ آ ئے بلکہ یہ بھی لکھا کہ مو لوی ابرا ہیم میر،اور ثنا ء اللہ کو اہل حد یث ان جہلم نے بصد الحا ح بلا یا، آ د می بھیجا، لیکن وہ کسی طر ح ہمارے مقا بلہ میں نہ آ ئے ، حا لا نکہ محض غلط ہے۔

اس دفعہ جلسہ حنفیہ 7،8۔9 ۔ اکتو بر 1921ء کو ہو نا تھا۔ ہم منتظر تھے کہ ہم کو بھی بلا وا ہو گا، مگر نہ ہوا تو میں نے از خود ایک تار مو لوی کر م دین مہتمم جلسہ حنفیہ کے نا م ۔ 7 ۔ اکتو بر کو دیا کہ : آ پ ہم کو منا ظرہ کے لئے وقت دے سکتے ہیں؟ بذ ریعہ اطلاع دیجئے ۔

میں نے یہ سمجھا تھا کہ 7 ۔ کے تا ر کا جواب زیادہ سے زیا دہ 8۔ اکتو بر کی شا م تک آ جا ئے گا، تو میں شا م کو سوار ہو کر 9۔ اکتو بر کی صبح کو جہلم پہنچ جا ؤنگا ۔مگر افسوس ہے کہ مو لوی کر م الدین کی طرف سے ہمارے تار کا جوا ب نہ آ یا۔ کیوں ؟

میر پور ( ریاست جمو ں ) میں ایک دفعہ بھو لے سے مجبور ہوکر سا منے آ گئے تھے ۔ آ د می ہشیار اور تجر بہ کار ہیں ۔ اندازہ کر گئے۔

ہر کہ با فو لا د با زو پنجہ کر د سا عد سیمیںِ خود را ر نجہ کر د

خیر ہمیں بھی آ ج کل اس قسم کے مبا حثا ت کا شوق نہیں، لیکن اس جلسہ کے صدر اعظم چو نکہ حافظ جماعت علی شا ہ ہو ئے ہیں اس لئے ہمارابھی جی چا ہا تھا کہ چلیں اسی بہا نہ سے شا ہ صا حب کی بھی زیارت ہو جا ئے گی، مگر دو نوں صا حب بھا نپ گئے اور خا موشی ہی میں اپنی بہتری سمجھی۔

تعجب ہے حا فظ جماعت شاہ صا حب بنگلور و غیرہ دور دراز علا قو ں میں جا تے ہیں تو بلند آ واز سے کہا کر تے ہیں کہ لا ؤ ثنا ء اللہ کو ۔ بلکہ سا تھ ہی مرزا صاحب قادیانی کی طر ح پیش گو ئی بھی جڑ دیا کر تے ہیں کہ وہ کبھی نہیں آ ئے گا ۔ لیکن جب اپنے و طن میں آ تے ہیں اور یہ خا کسار بھی و طن میں ہو تا ہے تو : خمو شی معنئے دارد کہ در گفتن نمی آید ۔ پر عمل کر تے ہیں ۔

( ہفت روزہ اہل حد یث امر تسر 14 ۔ اکتو بر 1921ء ص 13 )

تبصرہ کریں