تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

تر جمہ عبارت حجۃ اللہ البا لغہ :

اورقا ضی شریح ؓسے روا یت ہے کہ حضرت عمر ؓ بن الخطا ب نے انہیں تحریر کیا تھا کہ قر آ ن مجید میں سے جو حکم تم کو معلوم ہو تو اس کے موا فق فیصلہ کر نا ، ایسا نہ ہو کہ لو گ تم کو ایسا کر نے سے باز ر کھیں ، اور اگر ایسا مسئلہ پیش ہو جس کا حکم قر آ ن مجید میں نہ ملے تو حد یث کو تلاش کر کے اس کے موا فق فیصلہ کر نا اور اگر کو ئی حد یث نہ ہو تو پھر اتفاقی بات کو دیکھ جس پر اکثر لو گ متفق ہو ں اس کو لے ۔ اور اگر ایسی بات ہوجس میں کسی نے کچھ نہ کہا ہو، تو پھر خواہ اس کو اپنی را ئے سے فیصلہ کر ۔ خواہ اس میں سا کت رہ۔ اور سکوت تیرے حق میں مفید اور بہتر ہے ۔

اور حضرت ابن مسعود نے کہا کہ پہلے ہم ایسے زمانہ میں تھے کبھی ہم کو فیصلہ کر نے کی ضرورت نہ پڑتی اور نہ ہم اس کے لائق تھے ، اب تقدیر سے یہ وقت آپہنچا ہے جو تم دیکھتے ہو۔ سو اب جس کو کوئی مقد مہ پیش آوے وہ کتاب اللہ کے موا فق فیصلہ کرے اور جس امرکا حکم کتا ب اللہ میں نہ ہو، اس میں حد یث کے موا فق فیصلہ کر ے ۔ اور اگر حد یث بھی نہ ملے تو پہلے صا لحین کے فیصلہ کے موا فق کر ے ۔ اور اپنی را ئے و قیاس سے کچھ نہ کہے، کیو نکہ حرا م ظاہر ہے اور حلا ل بھی ظا ہرہے اور دونو ں کے بیچ میں شبہ کی چیز یں ہیں ۔پس جس میں شبہ ہو ، اسے چھو ڑ دے اور جو بلاشبہ ہو، اسے لے لے ۔

اور جب کو ئی ابن عباس ؓ سے مسئلہ پو چھتا تو اگر آپ وہ مسئلہ قر آ ن میں پا تے تو بیا ن فر ما تے اور اگر قرآ ن میں نہ پاتے تو رسو ل اللہ ﷺ کی حد یث پڑ ھ سنا تے اور اگر حد یث بھی نہ ملتی تو حضرت ابو بکر یا حضرت عمر کا قول نقل کرتے ۔ اگر یہ بھی نہ پاتے توپھر اپنی را ئے سے بیان فر ما تے۔ ابن عباس ؓ نے فر مایا ہے کہ تمہیں اس میں خوف نہیں آتا جو تم کہتے ہو کہ رسو ل اللہ ﷺ نے یہ فر مایا اور (اس کے مخا لف ) فلاں کا یہ قول ہے ۔

قتادہ ؒنے کہا کہ ابن سیرین ؒ نے ایک شخص کو رسول اللہ ﷺ کی حد یث سنا ئی اور دوسرے نے کسی کا قول بیا ن کیا تو ابن سیرین نے کہا میں تو رسول اللہ ﷺ کی حد یث سناتاہو ں اور تو کہتا ہے کہ فلاں کا یہ قول ہے ۔عمر بن عبد العزیز ؒنے لکھا کہ جو امر کتا ب اللہ میں ہو ، اس میں کسی کی را ئے مقبو ل نہیں اور آئمہ کی را ئے اس میں مقبو ل ہے جس میں کتا ب اللہ و سنت رسو ل اللہ کا کو ئی حکم نہ ہو ۔

اعمش ؒنے کہا کہ ابراہیم ؒنے یہ مسئلہ بیا ن کیا کہ مقتدی ( جب کہ امام کے پیچھے تنہا ہو ) امام کے با ئیں طرف کھڑا ہو، اورجب میں نے سمیع کی زیا رت کی تو حد یث سنا ئی کہ رسو ل اللہ ﷺ نے ابن عباس کو اپنی دا ہنی طرف کھڑا کیا تھا تو پھر انہوں نے اس حد یث کو لے لیا ۔ اور شعبی کے پاس کو ئی شخص مسئلہ پو چھنے کو آ یا تھا تو انہوں نے اس کے جوا ب میں ابن مسعود کا قو ل سنا یا ، اس نے کہا تم اپنی را ئے سے بتا ؤ ، تو وہ حاضرین کو کہنے لگے کیا تم اس شخص سے متعجب نہیں ہو تے کہ میں ابن مسعود کا قول سنا تا ہو ں اور یہ میری را ئے پو چھتا ہے ، میرا دین میرے اعتقا د میں اس ( را ئے سے فتوی دینے ) سے مقدم ہے بخدا اگر میں دوسرے کے قول پر فتوی دینے سے مستغنی رہوں تو مجھے اس سے پیا را ہے کہ اپنی را ئے سے کچھ کہو ں ۔ یہ تمام آ ثار دار می نے اپنی کتا ب میں نقل کئے ہیں ۔

اور تر مذ ی نے روا یت کی ہے کہ ہم و کیع کے پاس تھے جب اس نے اہل را ئے میں سے ایک شخص کو کہا کہ رسو ل اللہ ﷺ نے اشعار کیاہے اور ابو حنیفہ کہتے ہیں وہ مثلہ ہے ( جیتے کا کا ن ناک کا ٹنا ) ۔ اس شخص نے جوا ب دیا ،ابرا ہیم نخعی بھی کہتے ہیں کہ اشعار مثلہ ہے، تو ان پر وکیع نہا یت غصہ سے کہا کہ میں رسول اللہ ﷺ کی حدیث سنا تا ہوں اور تو ابراہیم کا قول نقل کر تا ہے۔ پس تیری سزا یہی ہے کہ قیدکیا جائے یہاں تک کہ اس قو ل سے باز نہ آوے ۔

اور ابن عباس و عطا و مجا ہد و ما لک بن انس و غیرہ نے فر ما یا ہے کہ سوا ئے آ نحضرت ﷺ کے کو ئی شخص ایسا نہیں ہے کہ جس کے قو ل کو ا ختیار اور ردّ نہ کر سکیں۔ حا صل یہ کہ جب انہو ں نے فقہ کو ایسے قواعد پر بنا یا تو ہر مسئلہ میں جو ان سے پہلے یا انکے زما نہ میں کہا گیا ہو، کو ئی حد یث مرفوع متصل یا مو قو ف صحیح یا حسن یا ضعیف لا ئق عمل یا شیخین و غیرہ خلفاء کا ا ثر یا کسی مجتہد یا قا ضی کا فیصلہ یا عمو م و ایماء نص کا استنبا ط ( غر ض کچھ نہ کچھ ) ان کو مل جا تا تھا ۔ اس و جہ سے ان کو حدیث پر عمل کر نا آ سا ن ہو گیا ۔ ان لو گو ں میں عظیم الشا ن و کثیر الروا یۃ اور بڑے محد ث و فقیہ احمد بن حنبل و اسحاق بن را ہویہ تھے ۔

اور اس طور پر فقہ بنا نا بہت سی جمیعت احا دیث و آ ثار پر مو قو ف ہے ۔ یہاں تک کہ امام احمد بن حنبل سے کسی نے پو چھا کہ فتوی دینے کیلئے انسا ن کو ایک لاکھ حد یث کا فی ہے ؟ آ پ نے فر ما یا نہیں ہے ۔۔۔ آ خر کہا گیا کہ پانچ لا کھ کا فی ہے ؟ آ پ بولے ہاں امید کرتا ہوں۔ ایسا ہی غائۃ المنتھی ( کتا ب کا نام ہے ) میں بیا ن کیا گیا ہے ۔ اس سے آ پ کی مراد ان اصو ل و قواعد کے موا فق فتوی دینا ہے جن کا بیا ن او پر ہو چکا ہے ۔ ان کے بعد خدا تعا لی نے اور ( محد ث ) لو گو ں کو پیدا کیا ۔ انہوں نے دیکھا کہ ہم سے پہلے محد ثو ں نے حدیث کو جمع کر دیاہے اور قواعد اہلحدیث کے موا فق فقہ کی بنا بھی قا ئم کر دی ہے تو انہوں نے اور علوم حدیث کیلئے فار غ ہو کر اہتما م کیا جیسے حد یث صحیح کو جس پر اکا بر اہل حد یث (امثا ل یز ید بن ہارو ن و یحی بن سعید و احمد بن حنبل و اسحاق بن را ہو یہ ) کا اتفاق ہو غیر سے علیحدہ و متمیز کر نا ، اور ان ا حکا می و فقہی احادیث کو جن پر مجتہدین و فقہا ئے بلاد نے اپنے مذہب کی بنا قا ئم کی ہے ا کٹھا کر نا، اور ہر ایک حد یث پر اس کے موا فق حکم لگا نا، اور شا ذ و نادرحد یثو ں کو ،جن کو پہلو ں نے روا یت نہیں کیا یا ان کی خا ص اسنادو ں سے تعر ض نہیں کیا، اور ان میں اتصال یا علو اسناد یا فقیہ کی فقیہ سے یا حا فظ الحد یث کی حا فظ الحدیث سے روا یت پا ئی جا تی ہے یا ایسی ہی اور علمی مطلب ان کو بیا ن کر نا ۔

وہ لوگ یہ آ ئمہ ہیں : بخاری ، مسلم ، ابو دا ؤد ، عبد بن حمید ، دا ر می ، ابن ما جہ ، ابو یعلی ، تر مذی ، نسا ئی، دارقطنی، حا کم ، بہیقی ، خطیب بغدادی ، دیلمی ، ابن عبد البر ، اور ان کے امثا ل و اقرا ن ۔ ان سب میں ہمارے خیال میں بڑے وسیع العلم اور تصنیف سے خلا ئق کے نفع رسا ں اور مشہور چار اشخا ص ہیں جو باہم قریب زمانہ تھے: او ل امام ابو عبد اللہ بخاری ، ان کا مقصو د صحیح ا حا دیث کو جو مشہور اور متصل اسا نید ہوں ، دیگر اقسا م سے چھانٹنا اور ان سے فقہ و سیرت و تفسیر کو استنبا ط کر نا تھا۔ پس انہو ں نے اس مدعا کیلئے اپنی کتاب جا مع صحیح ( مشہور صحیح بخاری ) بنا ئی اور اس میں اپنی وہ شر ط پوری کر دکھائی ۔ ہم کو خبر ملی ہے کہ ایک نیک آ د می نے آنحضرت ﷺ کوخوا ب میں دیکھا تو آنحضرت ﷺ نے فر مایا تجھے کیاہوا ہے تو محمد بن ادریس کی فقہ سے مشغول ہے اور میری کتا ب کو چھو ڑ رہاہے ۔ اس نے عر ض کی یا رسو ل اللہ ﷺ آ پ کی کتا ب کو ن سی ہے ۔ آ پ ﷺنے فر ما یا میری کتا ب صحیح بخاری ہے ۔

مجھے اپنی عمر ( دینے وا لے ) کی قسم ہے صحیح بخاری نے وہ شہر ت و قبو لیت پا ئی ہے جس سے فو قیت نا متصور ہے ۔

دوسرے امام مسلم نیشا پوری ہیں انہوں نے اتفاقی حدیثو ں کو ( جو متصل و مر فوع ہیں اور ان سے احکام استنبا ط کئے جاتے ہیں ) چھا ٹنے کا قصدکیا اور ا حا دیث کو قریب الفہم کر نا اور ان سے استنبا ط کر نا اور ان سے استنبا ط مسا ئل کو آسا ن کر دینا چا ہا ۔ پس اپنی کتا ب کو عمدہ تر تیب سے مر تب کیا اور ہر حد یث کی سبھی اسناد کو ایک جگہ جمع کیا، تاکہ اس سے متو ن ا حا دیث کا اختلا ف اور ان کی سندو ں کا تعدد صا ف طور پر معلو م ہو، اور مختلف حد یثو ں کو باہم موا فق کر دیا تا کہ جسکو محاورہ عر ب سے واقفیت ہو اس کو حدیث سے دوسری طر ف ر جوع کر نے کیلئے کو ئی عذر باقی نہ رہے۔

تیسرے امام ابو دا ؤد سجستا نی ہیں ۔ ان کا قصد یہ تھا کہ ان ا حا د یث کو جن سے فقہاء نے استد لا ل کیاہے اور وہ ان میں دائر و سا ئر ہیں اور ان پر علماء دیار نے ا حکا م کی بنا ڈالی ہے ، یکجا کر دیں ۔ پس انہو ں نے اپنی سنن (ابو دا ؤد ) میں صحیح، حسن، ضعیف ( جو عمل کے لا ئق ہو ) جمع کر دیں اور ابو دا ؤد نے کہا ہے کہ میں نے اپنی کتا ب میں ایسی حد یث کو ئی وارد نہیں کی جس کے مترو ک العمل ہو نے پر سب کا اتفاق ہو اور ان احادیث کو جو ضعیف ہیں ضعیف بتا دیاہے اور جس میں کو ئی علت قا د ح صحت ہے اس کو ایسے طور سے بیان کر دیا ہے کہ جس کو اس فن میں غور کر نے والے پہچانتے ہیں ۔ ہر حد یث کا تر جمۃ البا ب وہ مسئلہ مقرر کیا ہے جو کسی نہ کسی نے اس حد یث سے استنبا ط کیاہے اور کسی نہ کسی کا وہ مذ ہب ہے ،۔ اسی نظر سے امام غزا لی نے فر ما یا ہے کہ اس کی کتا ب مجتہد کیلئے کا فی ہے ۔

چو تھے امام ابو عیسی تر مذی ہیں ۔ انہوں نے شیخین (بخاری و مسلم) کے طریق کو پسند و اختیار کیا کہ جو کچھ وارد کیا اس کا حال بیا ن کر دیا، مبہم نہ چھو ڑا اور طر یق ابو دا ؤد کو بھی لے لیا ہے کہ ہر مسئلہ اور ہر حد یث کو جس کا کو ئی قا ئل و متمسک ہوا ہے جمع کر دیا۔ اس طرفہ پر یہ طرہ بڑ ھا دیا کہ مذ ہب صحا بہ و تا بعین اور مجتہد ین کو بھی ذکرکر دیا ۔ پس کتا ب جا مع (ترمذی ) تصنیف کی اس میں ا حا دیث کی سندو ں کو باختصار وارد کیا، ایک اسناد کو پورا بیا ن کر دیا باقی کو مختصراً و اشارۃً۔ اور ہر حد یث کا حا ل بیان کر دیا کہ وہ صحیح ہے یاحسن یا ضعیف ہے یا منکر، اور و جہ ضعف کو بھی سا تھ ہی بیا ن کر دیا تا کہ طالب حد یث کو بصیرت حا صل ہو اور وہ لائق اعتبار کو غیرلا ئق سے تمیز کر ے ۔اور جس راوی کے نام جا ننے کی ضرورت تھی، ان کا نام بتا دیا۔ اور جس کی کنیت جا ننے کی حا جت تھی اسکی کنیت بتادی ۔ اور کسی طر ح کا خفا اہل علم کیلئے باقی نہ رہنے دیا۔ اسی نظر سے اس کتا ب کے حق میں کہا گیا ہے کہ وہ مجتہد کیلئے کا فی ہے اورمقلد کیلئے تقلید سے مغنی ۔

اور ان لو گوں کے مقا بلہ میں امام مالک اور سفیان کے زما نہ میں اور ان کے بعد ایسے لو گ بھی ہو ئے ہیں جو استنبا ط (اجتہادی ) مسا ئل بتا نے میں اور فتوی دینے سے نہ ڈر تے اور یہ خیال کرتے کہ دین کی بنا فقہ ( و اجتہاد ) پر ہے اس کی اشاعت ضرور چا ہیے اور آ نحضرت ﷺ سے حد یث روا یت کر نے سے ڈرتے۔ شعبی کا قول ہے کہ آنحضر ت ﷺ سے ورے کسی اور کا قو ل بیا ن کر نا مجھے پسند ہے کیو نکہ اس میں کمی بیشی بھی ہو جا ئے تو اسی پر ہو گی، نہ کہ رسو ل اللہ ﷺ کی بات پر ۔ ابراہیم کا قول ہے کہ میں جواب مسا ئل میں صرف یہ کہدو ں کہ عبد اللہ نے یوں کہاہے، تو مجھے بہت پسندہے ۔ اور ابن مسعودؓ جب حدیث آنحضرت ﷺ سے روا یت کر تے تو آپ کا چہرہ ( کمی بیشی ہوجانے کے خوف سے ) متغیر ہو جا تا ۔ اور یہ کہتے کہ آ نحضرت ﷺ نے ایسا فر ما یا ہے یا مثل اس کے اور کچھ ۔ حضرت عمر ؓ نے جب ایک جماعت انصار کو کو فہ میں بھیجا تو ان کو فر ما دیا کہ تم کو فہ پہنچو گے تو لو گ تمہارا آنا سن کر تمہارے پاس آ ویں گے اور آ نحضرت ﷺ کی حد یثیں پو چھیں گے ۔ پس آ نحضرت ﷺ سے روا یت حد یث کم کر نا ( یعنی سو چ سمجھ کر کہ جو ٹھیک یاد ہو وے ، روا یت کر نا، جو منہ میں آ وے نہ کہد ینا )۔ابن عو ن نے کہاہے جب شعبی کے پاس کو ئی سوال آ تا تو وہ ڈر جاتے۔ اس کے جوا ب میں یوں کہتے کہ ابراہیم کا قول اس میں یہ ہے۔ ان سب آ ثار کو دارمی نے روا یت کیا ہے۔

تبصرہ کریں