
جنا ب عبد الحی لکھنوی کچھ آ گے چل کر فر ما تے ہیں :
و من الفقهاء من لیس لھم حظ إلا ضبط المسا ئل الفقهیه من دون المهارة فی الروایات الحدیثیةیعنی فقہاء فقہی مسا ئل کی ضبط و تحریر کی صلا حیت سے تو بہرہ ور ہیں لیکن روا یا ت حد یث میں ان کو کو ئی مہا رت نہیں۔
ایک اور مقا م پر فر ما تے ہیں:
فکم من کتاب معتمد اعتمد علیه أجلة الفقهاء مملو من الأحادیث الموضوعة و لاسیما الفتاوی فقد وضح لنا بتو سیع النظر ان أصحابھم وإن کا نوا من الکاملین لکنھم فی نقل الأخبار من المتساهلین ( النافع الکبیر لمن یطا لع الجا مع الصغیر: ص 109، مجموعہ الرسا ئل الست ، طبع لکھنؤ) ۔ یعنی فقہ (حنفیہ ) کی کتنی ہی معتبر کتا بیں ہیں جن پر جلیل القدر فقہاء نے اعتما د کیا ہے کہ وہ مو ضوع ا حا دیث سے مملو ہیں بالخصو ص فقہی فتاوی کی کتا بیں ہم بغور نظر کر نے کے بعد اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ گو ان کتا بو ں کے مصنف کا مل فقیہہ تھے لیکن احا دیث نقل کر نے میں وہ متسا ہل تھے ۔
ایک اور مقا م پر لکھتے ہیں:
إلا تری إلی صاحب الهداية من أجلة الحنفية والرافعی شارح الوجیز من أجلة الشافعیة مع کونھما ممن یشار إلیه بالأنام ویعتمد علیه الا ماجد و الامائل؟ قد ذکرا فی تصانیفھما ما لایوجد له أثر عند خبیر بالحدیث ( ا لا جو بۃ الفا ضلۃ للا سئلۃ العشرۃ الکاملۃ: ص 30 ، مجموعۃ الرسا ئل السبع )۔ کیا تم د یکھتے نہیں کہ حنفیہ میں صا حب ہدا یہ اور فقہائے شا فعیہ میں اما م را فعی ( شار ح و جیز ) دو نوں ایسے جلیل القدر فقہاء میں شمار کئے جا تے ہیں کہ جن کی علمی عظمت و رفعت کی طرف انگشت نما ئی کی جا تی ہے اور بڑے بڑے نا مور علماء و فقہاء ان کی کتا بو ں پر اعتما د کر تے ہیں ۔ لیکن ان دو نوں نے اپنی اپنی کتا بو ں میں ایسی ایسی چیز یں ذکر کی ہیں کہ علم حد یث سے با خبر شخص کے نز د یک ان کی کو ئی بنیاد نہیں ۔،
اور سنئے ! فر ما تے ہیں :
و من المعلوم إن صاحب الهداية وغیرہ من أکابر الفقهاء و مؤلف احیاء العلوم و غیرہ من أجلة العرفاء لیسوا من المحدثین ( ظفر ا لا ما نی شر ح مختصر الجر جا نی: ص 19) یہ بات معلو م و معروف ہے کہ صا حب ہدا یہ اور دیگر اکابر فقہاء اور مو لف ا حیا ء العلو م ( غزا لی ) اور دیگر جلیل القدر علماء و عر فا ء ، محد ث نہیں تھے۔
4 ۔ شا ہ ولی اللہ محد ث دہلوی نے بھی فقہاء کی اس کمزوری کا اعتراف فر مایا ہے اور اس کی و ضا حت حجۃ اللہ البا لغہ اور ا لا نصا ف و غیرہ میں فر ما ئی ہے۔
5۔ اما م ا حمد کا یہ قو ل پہلے گذر چکا ہے کہ ا صحا ب ابوحنیفہ کو حد یث میں کو ئی بصیر ت اور مہا ر ت حاصل نہیں ہے ۔
6 ۔ ان کے علاوہ اور بھی کئی علماء نے فقہاء کی حد یث دانی کے بارے میں اسی انداز کے تبصرکئے ہیں جنہیں اختصار کے پیش نظر ہم نقل کر نے سے گر یز کر رہے ہیں ۔
بہر حا ل مذ کورہ اقتبا سا ت سے وا ضح ہو تا ہے کہ فقہاء بالخصوص فقہا ئے حنفیہ محد ث نہیں ہیں۔ لہذا ان کی مبینہ فقا ہت بھی محل نظر ہے کیو نکہ اجتہاد و تفقہ علم حد یث میں کا مل مہارت کے بغیر ممکن نہیں ۔ اس کے بر عکس محد ثین علم حد یث میں کا مل مہار ت رکھتے ہیں ۔ وہ نر ے دوا فرو ش ( عطار ) نہیں ہیں ، طبیب یعنی فقیہ بھی ہیں اجتہاد و تفقہ کی صلا حیتو ں سے پوری طر ح بہرہ ور ۔ گو یا محد ثین ہی اس مر تبہ علیا پر فا ئز ہیں کہ وہ بیک وقت بلند پا یہ محد ث بھی ہیں اور دقیقہ رس فقیہ بھی ، نہ کہ فقہا ئے مقلدین کہ جن کی فکری کا وشو ں کا محور و مبنی صرف اپنے خا نہ ساز ا صو ل و قواعد اور اپنے اسا تذہ و آ ئمہ مذ ہب کے چند مخصو ص اقوا ل و آ را ء ہیں۔
خلا صہ بحث
ا حنا ف کے اس تیسرے گروہ کی با بت بات کچھ لمبی ہو گئی ہے ، لیکن دوسرے گروہ کی طر ح اس کے طرز فکر و عمل کی و ضا حت بھی نہا یت ضروری تھی ، اس کے بغیر اہل حد یث اور ا حناف کے ما بین فقہی اختلافات کی نو عیت وا ضح نہیں ہو تی ۔ خلا صہ اس اہم مبحث کا یہ ہے کہ ا حناف کی اپنے طرز عمل کے اعتبار سے تین قسمیں ہیں :پہلی قسم اما م ابو حنیفہ ،ان کے تلا مذہ خا ص اما م محمد و قا ضی ابو یوسف اور دیگر وہ حضرات ہیں جو ان آ ئمہ ثلا ثہ کی را ہ پر چلنے وا لے ہیں۔ ان حضرات نے قر آ ن و حد یث کے نصو ص کے ا حترا م اور تقدس کو ملحو ظ ر کھا ہے اور نصوص کے مقا بلے میں اپنے اجتہاد کو نہ صرف یہ کہ اہمیت نہیں دی بلکہ اس سے بر ملا ر جوع کا ا ظہار کیا۔ ر حمھم اللہ
ان کی با بت ہمارا عقیدہ ہے کہ اگر ان سے کو ئی اجتہادی غلطی ہو ئی ہے تو یقیناوہ معذور و ما جور ہیں ، ان سے اہل حد یث کا کو ئی ا ختلا ف بھی نہیں ۔ یہ اپنے فکر و عمل کے اعتبار سے عا مل بالحد یث ہیں مقلد ہر گز نہیں بلکہ انہو ں نے دوسرو ں کو بھی اپنی تقلید سے روکا ہے ۔
احناف کادوسرا گروہ وہ ہے جو اما م ابو حنیفہ کی تقلید کا دعوی کرتا ہے اور بیشتر مسا ئل میں ا حا دیث صحیحہ کے مقا بلے میں فقہا ئے احنا ف کی فقہی و اجتہادی آ را ء کو زیادہ اہمیت دیتا ہے ۔ا حا دیث کو کھلم کھلا رد نہیں کرتا بلکہ ان کی حجیت کا اعترا ف کر تا ہے نقد و تحقیق حد یث کے جو اصو ل وضوا بط محد ثین نے مقرر فر ما ئے ہیں ان کو تسلیم کر نے کا دعوی کرتا ہے جیسا کہ جنا ب سرفراز صفدر کا ایک اقتباس ہم پہلے نقل کر آ ئے ہیں جس میں جر ح و تعدیل کے مسلمہ ا صو لو ں کے ما ننے کا ا ظہار ہے لیکن عملی طور پر اس کا رو یہ اس کے برعکس ہے اور بہ لطا ئف الحیل ا حا دیث صحیح سے گر یز و انحرا ف اور ضعا ف و مرا سیل سے استنا د کر نا اس کا شیوہ ہے تا کہ کسی نہ کسی طر یقہ سے فقہی مسئلہ صحیح ثابت ہو جا ئے۔
اس گروہ کے قو ل و عمل کے اس تضاد کی و ضا حت ہم کر آ ئے ہیں اس تضا د و تنا قض عمل ہی نے ا ختلا فا ت کی خلیج کو وسیع اور اس کی شد ت و حد ت کو تیز کیا ہوا ہے۔
ذرا غور فر ما ئیے ایک راوی جس کی بیا ن کردہ حد یث سے فقہ حنفی کے کسی مسئلے کی نفی ہو تی ہے ، اسوقت وہ راوی ضعیف قرار پاتا ہے اور جب اسی راوی کی کسی روایت سے فقہ حنفی کے کسی مسئلہ کاا ثبا ت یا اس کی تائید کا کوئی پہلو نکلتا ہے تو وہ راوی ثقہ ہو جا تا ہے۔
ایک روایت ، جس کے کسی ایک جز ء سے حنفی مسئلہ ثابت ہو تا ہے اور اس کے د یگر حصو ں سے اہل حدیث کے مسا ئل کا ا ثبا ت ہو تا ہے تو اس کے ایک جز ء کو ما ن لیا جا تا ہے اور دوسرے حصوں کو رد کر دیا جا تا ہے حا لا نکہ حد یث ایک ہے ، سند ایک ہے ، راوی ایک ہے ، اگر وہ صحت اسناد کی و جہ سے قا بل حجت ہے تو اس سے ثا بت شدہ سا رے ہی مسا ئل صحیح ہو نے چا ہیں نہ کہ اس کا کو ئی ایک مسئلہ۔
ایک حد یث کسی محد ث نے اپنی کتا ب میں در ج کر نے کے سا تھ ہی و ضا حت کردی کہ اس میں فلاں فلاں راوی سخت ضعیف ہے یا فلا ں راوی مجہو ل ہے یا اور کسی علت قا د حہ کی و ضا حت کر دی ، صا حب کتاب (محد ث ) تو و ضا حت کر کے بری الذ مہ ہو گیا کہ لوگ اس سے استد لا ل نہیں کر ینگے اور و ضا حت سے ا صل مقصود بھی یہی ہو تا ہے لیکن ، شیخ الحد یث ، کے منصب پر فا ئز حضرا ت اس منکر روا یت سے استدلا ل کر لیتے ہیں اور راوی کے ضعف کی صرا حت کو گول کر جا تے ہیں۔ ا ختلا فی مسا ئل میں یہ لطیفے عا م ہیں ، کیا یہ معرفت حد یث کے اصو ل و ضوا بط کو ما ننا ہے ؟ یا علمی اما نت و دیا نت کے مطا بق ہے یاعلماء کے شایا ن شان ہے ؟
اگر یہ دوسرا گروہ علمی دیا نت و اما نت کے تقا ضو ں کو صحیح طور پر برو ئے کا ر لا ئے اور عند المحد ثین صحت و ضعف حد یث کے ا صو لو ں کو عملی طور پر اپنا لے تو یہ ا حنا ف کے پہلے گروہ کے ، جن میں ان کے ائمہ بھی شامل ہیں ، بہت قریب آ جا ئیں گے اور پھراہل حدیث اور احناف کے ما بین فقہی ا ختلا فا ت کی شدت و وسعت بھی بہت حد تک کم ہو سکے گی ۔ کاش کہ ایسا ہوسکے۔
تیسرا گروہ ،یہ آ خر الذ کر ہے جسکی تفصیل ہم نے پیش کر دی ہے ، اس میں آپ نے ملا حظہ فر ما یا ہو گا کہ یہ گروہ واشگا ف الفاظ میں صحیح ا حا دیث کا انکار اور غیر ثابت شدہ ضعیف احادیث کو تسلیم کر نے کا اعلا ن کر رہا ہے ۔ اور یہ صرف اعلا ن ہی نہیں ہے اس کا عمل بھی اس کے عین مطا بق ہے ۔ یہی نہیں بلکہ ا حا دیث کا استخفاف اور ان کے ساتھ استہزا ء بھی اس گروہ کا شعا رہے جس کی ایک مثا ل ،12 مسا ئل ، کے مو لف شیخ الحد یث ، کا درج ذیل اقتباس ہے ملا حظہ فر ما ئیے :
اگر سنت اور حد یث ایک چیز ہے تو تم ( اہل حد یث ) سینکڑو ں سنتو ں کے تا رک ہو ،حد یث میں ہے کہ ایک عورت نے نبی پاک ﷺ کے فر ما نے پر با لغ آدمی کو اپنادود ھ پلا یا۔ (صحیح مسلم : 1؍ 469) غیر مقلد مرد و زن سب اس دودھ پینے پلا نے کی سنت سے محرو م ہیں ۔ حد یث میں ہے کہ نبی پا ک ﷺ نے کھڑے ہو کر پیشا ب کیا ( بخاری۔ ص35 ) لیکن غیر مقلد مردو زن اس سنت کے تار ک ہیں ۔ نبی پاک ﷺ نے وضو کے بعد اپنی بیوی کے بوسے لئے ، پھر آ کر نماز پڑ ھا ئی ( تر مذی ۔ص 25 ) نبی پا ک نے اپنی نواسی اما مہ کو کند ھو ں پر ا ٹھا کر نماز پڑ ھی (بخاری: ص 74 ) ۔ غیر مقلد اپنی بچیو ں کو مسجد میں لاتے ہیں ، نہ ان کو کند ھو ں پر ا ٹھا کر نماز پڑ ھتے ہیں ۔ اللہ آ پ ( اہلحد یث ) لو گو ں اپنی مردہ سنتو ں کو زندہ کر نے کی توفیق دے۔ ( کتا ب ، بارہ مسائل:1؍16)
اس ، شیخ الحد یث و التفسیر ، کی جسارت ملا حظہ فر ما ئیں وہ حد یث یا سنت کہہ کر باقا عدہ حوا لو ں کے سا تھ مذکورہ اعما ل پیش کر رہا ہے ، جن سے اسلا م کے ، دین آ سا ن ، ہو نے کا ثبو ت ہو رہا ہے جیسا کہ نبی ﷺ کا فر مان ہے : الدین یسر (صحیح بخاری : ص 39)
شر یعت اسلا میہ کی یہ خو بی اس ، شیخ الحد یث ، کی آ نکھ میں کا نٹا بن کر کھٹک رہی ہے اسی لئے استہزا ء کے طور پر ان خو بیوں کا ذکر کر رہا ہے ،حا لا نکہ یہ سب واقعات صحیح ا حا دیث سے ثا بت ہیں اور ان کا مطلب یہ ہے کہ بوقت ضرورت یہ ا فعا ل کئے جا سکتے ہیں، شرعاً ان کی اجاز ت ہے ۔ نبی ﷺ نے ان کا جواز بتلانے کے لئے مذ کورہ اعما ل حسب ضرورت ا ختیار فرما ئے ، جس کا مقصد یہی ہے کہ کبھی ضرورت پڑ ے تو مذ کورہ اعما ل نبوی کی روشنی میں ان کا کر نا جا ئز ہو گا۔ ا لحمد للہ ہم اہل حد یث کا یہی عقیدہ ہے کہ مذ کورہ اعما ل چو نکہ صحیح ا حا دیث میں بیا ن ہو ئے ہیں توامت بھی جب ضرورت پڑ ے ان پر عمل کر سکتی ہے ۔
تبصرہ کریں