تاریخ اہل حدیث۔ ڈاکٹر بہاؤ الدین

شاہ اسما عیل ، بلی مارا ں کی مسجد میں بھی وعظ کہتے تھے ، چو نکہ مو لوی فضل حق کو ان سے تعصب تھا ، اور وہ سر رشتہ دار محکمہ فو جداری میں تھے ، اس واسطے انہوں نے کو توا ل کو وعظ سے رو کنے کے واسطے بھیجا ۔ کو توا ل شاہ صا حب کے وعظ سے ایسا متا ثر تھا کہ رو تا ہوا شاہ صا حب کے سا منے آیا اور کہا کہ میری کیا طاقت جو وعظ سے منع کرو ں لیکن افسوس یہ ہے کہ وہ یہ حکم دیتے ہیں، میں مجبور ہو ں ۔ یہاں سے نکل کر آ پ بیا ن فر ما ئیں تو مناسب ہے۔ ( دہلی اور اس کے اطرا ف : ص 37)

تصا نیف میں منصب امامت ؛ عبقا ت؛ تقویت الایمان؛ تنویر العینین فی اثبات رفع الیدین؛ اصو ل فقہ ؛ منطق میں ایک رسا لہ ؛ صرا ط مستقیم کا کچھ حصہ؛ اوریک روزی شا مل ہیں۔ نیز سید صا حب کے مکا تب کا بڑا حصہ بھی انہیں کا لکھوا یا ہوا ہے ۔ کچھ منظو مات بھی ان سے منسو ب ہیں۔ آ پ ایک نغز گو شا عر بھی تھے ۔ ان کی شاعری فارسی اور اردو دو نوں زبا نوں میں مو جود ہے ۔ مثلاًمثنوی سلک نور ، اردو( اس میں حمد و نعت کے بعد تقویۃ ا لا یمان ہی کی تو حید کی تشریح فر ما ئی ہے ۔ کہتے ہیں :

نبی البرایا رسول کریم نبوت کے دریا کا در یتیم

حبیب خدا سید المر سلین شفیع الوری ہادی راہ دین

محمد ہے نام اسکا احمد لقب بیاں ہو سکے منقبت اسکی کب

رسالہ بے نمازاں؛مثنوی سلک نور فارسی (130شعار کی اس مثنوی میں تو حید و سنت کی تبلیغ و تر غیب ہے ۔ قا در الکلامی کا مظہر)؛ قصیدہ نعتیہ فارسی ( رسول اکرم ﷺ کی مد ح میں عمدہ اشعار کا قصیدہ قدرے مشکل بحر میں ہے ہزار حمد بر ب حکیم صا حب جود ظہور کر د کما لش ز جزر ہر مو جود) ؛ قصیدہ در مد ح سید احمد ۔

نیز آ پ کی ایک مشہور کتا ب کا نام ہے ایضا ح الحق الصریح فی ا حکام المیت و الضر یح ہے جسے یہاں نذر قارئین کیا جاتا ہے ۔( اس وقت ایضا ح الحق کے دو نسخے زیر نظر ہیں ۔ پہلا نسخہ 1301ھ کا مطبو عہ ہے اور فارسی سے اردو تر جمہ جنا ب عبد الکر یم نے کیا ہے ، دوسرا نسخہ محررہ 1356ھ امدا دالفتا ح فی توضیح الایضاح کے نام سے کتبخا نہ اشرفیہ دہلی نے شا ئع کیا تھااور متر جم جنا ب عبد ا للطیف سو نی پتی ہیں)

یا د رہے کہ بعض اہل علم کا بیا ن ہے کہ حقیقت بدعت میں ایسی کو ئی کتا ب کسی زبا ن میںآ ج تک نہیں لکھی گئی۔ تاہم بعض لو گوں کا خیا ل ہے کہ ایضاح الحق شاہ اسما عیل شہید کی تصنیف نہیں ہے ، جیسا کہ محمد حسین بٹا لوی نے اپنے ایک مخا لف کے خطاب میں کہتے ہیں : جن امور کو ایضا ح الحق میں بدعت کہا گیا ہے وہ اکثر صرا ط مستقیم میں تسلیم کئے گئے ہیں ۔ اسی و جہ سے تمہارے گروہ( ا حناف) کے ایک نا می فا ضل مولوی کرا مت علی جو نپوری نے رسالہ اطمینا ن القلو ب میں صا ف کہدیا ہے کہ ایضاح الحق مو لوی محمد اسماعیل دہلوی کی تا لیف نہیں کسی اور لا مذ ہب اور وہا بی اسما عیل کی تا لیف ہے ۔ (ماہنا مہ اشاعۃ السنہ : 7؍97) اور جوا ب میں بٹا لوی مرحو م لکھتے ہیں :

جن امور کو ایضا ح الحق میں بدعت کہا ہے ان امور کی صرا ط مستقیم میں بھی تعلیم نہیں ہو ئی ۔ یہ جناب کی خوش فہمی ہے کہ آ پ نے تعلیمات صرا ط مستقیم کو تحقیقا ت ایضا ح الحق کے مخالف سمجھ لیا ہے۔ صرا ط مستقیم کی تعلیما ت کو ایضا ح الحق میں حکم بدعت حقیقہ یا حکمیہ سے مستثنی کیا ہے اور صا ف کہہ دیا ہے کہ بعض اخص خوا ص ان امور کو ( جن کو ایضا ح الحق میں بدعت کہا گیا ہے ) بطور معا لجہ کے کر تے ہیں اور دین نہیں سمجھتے اور نہ امور دینہ کی طر ح اس کا التزا م ر کھتے ہیں ، ان کے حق میں وہ امور بدعت نہیں ہیں۔ ۔۔ اور مو لوی کرا مت علی جو نپوری کا ان تعلیمات صرا ط مستقیم کو تحقیقا ت ایضا ح الحق کے مخا لف سمجھنا اور بناء علیہ ایضا ح الحق کو کسی اسما عیل وہابی کی تصنیف قرار دینا بھی اسی نا فہمی پر مبنی ہے ۔ علاوہ ازیں اس کی بناء اس دلی عداوت پر بھی ہے جو مو لوی کرا مت علی کو گروہ اہل حد یث سے تھی اس کا ثبو ت ان کی اس تقریر میں مو جود ہے جو مجلس مذا کرہ علمیہ کلکتہ واقع 28 شعبا ن 1287ھ مطا بق 24 نو مبر 1870ء میں ان کی زبا ن سے سر زد ہو ئی ہے اور وہ رسا لہ ششمی ما ہا نہ سا ل ہشتم مجلس مذ کور میں مندر ج ہو کر شا ئع ہو چکی ہے۔ آ پ اس تقریر میں گو ر نمنٹ انگلشیہ کی بغاوت سے اپنے گروہ حنفیہ کو بری کر تے ہیں اور۔۔ فر ماتے ہیں : اور کم بخت و ہا بیو ں کا حا ل یہ ہے کہ ان کو ا صلاً اپنے دین و ایما ن کا پاس و لحا ظ بھی نہیں ہے ۔ صرف بطمع نفسا نی انہو ں نے یہ سا را مکر پھیلا رکھا ہے ۔ اور دین کے پردہ میں د نیا حا صل کیا چا ہتے ہیں ، پھر ان کو کفر اسلام سے کیا مطلب ؟ اگر آ ج یہاں کو ئی بادشاہ اسلام ہو تا تو اس سے بھی بے تکلف یہ قو م لڑ نے اور جہاد کر نے پر مستعد ہو جاتی : فلا رحم اللّہ علی أصولھم وفروعھم ۔ ان الفا ظ میں جنا ب کرا مت علی نے کو ئی دقیقہ اہلحدیث سے عداوت کا فرو گذا شت نہیں کیا ۔ان کو دا ئرہ اسلام سے خا ر ج کر کے ان کے اصو ل و فروع کو ر حمت الہی سے محرو م کر دیا ۔ ( ما ہنا مہ اشاعۃ السنہ : 7؍114) اور ڈا کٹر ابو محمد جمال الدین کہو رہ ضلع سا گر نے لکھا ہے :

ہم نے ثقا ت سے سنا ہے کہ ان ( مو لوی کرا مت علی ) کو حد یث اور عا ملا ن حد یث سے اس قدر دشمنی تھی کہ آ مین با لجہر اور رفع ید ین کر نے وا لوں کو مسجد سے نکلوا دیتے تھے ۔ ( اشاعۃ السنہ : 7؍152)

تبصرہ کریں