تاریخ اہل حدیث۔ڈاکٹر بہاؤ الدین

(اشرا ک فی العقیدہ یہ ہے کہ خدا تعا لیٰ کے او صاف (رزق و روزی دینا ، او لاد عطا کر نا، زمین و آسمان میں تصرف کر نا، ) پیر و پیغمبر، جن و پری ، فر شتو ں یا اور مخلو ق میں ثا بت کر یں ، اگر چہ تھو ڑا ہی ہو۔ پس جو شخص اس بات کا اعتقا د کر ے کہ انبیاء یا ملا ئکہ یا کو ئی اور ، خدا کے سوا آ سمان سے پا نی بر سا نے میں، زمین سے دا نہ نکا لنے ، کسی کو اولاد دینے یا مار ڈا لنے یا اند ھا بہرہ کر نے یا دوسرے کو ضرر و نقصا ن پہنچا نے یا رزق و دو لت دینے کا ا ختیار ہے تو ایسا عقیدہ ر کھنے وا لہ مشرک ہے۔پس اللہ کے سوا کسی اور کو بایں طور پکار نا کہ اے شخص ! میری حا جت روا کر ، خا لص کفر ہے کیونکہ خدا فر ما تا ہے:

﴿ إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ﴾

یعنی ہم خاص تجھی کو پو جتے اور تجھی سے مدد چا ہتے ہیں ( شعرکا تر جمہ ۔ میں آ دمی سے مدد نہیں چا ہتا۔ خدا کے سوا کسی اور کی طرف میری راہ نہیں ہے )

خدا تعا لی ، جنا ب رسو ل اللہ ﷺ کے باب میں، جو صرف خلق ہی کی ہدا یت کے واسطے حق کی طرف سے آ ئے تھے ،ارشاد فر ما تا ہے : اے محمد! تم جس کو چا ہو راہ پر نہیں لگا سکتے ، لیکن خدا جسے چا ہتا ہے ہدایت کرتا ہے ۔

معلوم ہوا کہ خدا کے سوا اور کسی شخص کے ہاتھ میں ہدا یت کی با گ نہیں ہے ۔ علی ھذا ا لقیاس کسی نبی اور ولی اور فر شتے کو قیا مت میں کسی قسم کے تصرف اور د خل کی گنجا ئش نہ ہو گی تا کہ کسی کو جنت اور کسی کو دوزخ میں لے جائے ۔ حق تعا لی فر ما تا ہے:

﴿ يَوْمَ لَا تَمْلِكُ نَفْسٌ لِّنَفْسٍ شَيْئًا ۖ وَالْأَمْرُ يَوْمَئِذٍ لِّلَّهِ﴾ یعنی قیا مت کے دن کو ئی کسی کا کسی چیز میں ما لک نہ ہو گا ۔ اس دن ہر چیز کا حکم خدا ہی کیلئے ہو گا ۔ قیامت کا دن ایسا ہو لنا ک ہو گا کہ ماں با پ او لاد کو نہ پو چھیں گے ۔ اور او لاد ما ں با پ کا منہ نہ دیکھیں گے ۔ استاد شا گر دو ں سے بے گا نے ہوں ، پیر مریدو ں کے سا منے سے چلتے بنیں گے ۔ دنیا میں جن کی پیروی کی جا تی ہے وہ اپنے فر ما نبر داروں سے بیزار ہوں گے اور فر مانبر دار لو گ ان سے جن کی یہ اطاعت کرتے تھے، لڑ یں گے ۔

آ دمی جس طر ح دنیا میں اکثر اوقا ت شفاعت کا حا ل دیکھتے ہیں اسی طر ح آخرت میں شفاعت کا گمان کرتے ہیں ۔ مثلاً بادشاہ نے ایک چور کے ہاتھ کاٹنے کا اشارہ کیا ۔ وزیر یا ارکان دو لت میں سے کسی اور شخص نے اس کی سفارش کی ۔ باد شا ہ نے خیا ل کیا کہ اگر ان کی سفا رش قبو ل نہیں کرتا تو میری سلطنت کو خلل عظیم پہنچتا ہے ۔ ناچار بادشا ہ نے ان کی سفارش کی و جہ سے اپنے قصد اور ارادے کو باز ر کھا ۔ یا بادشا ہ کی بیوی اس کی سفارش کرتی ہے اور بادشا ہ اس محبوبہ کی محبت کے سبب سے اپنے پر جبر اختیار کر کے چور کی رہائی کرتا ہے ۔ سو خیا ل کر نا چا ہیے کہ ان باتو ں میں خوا ہش کا رد کر نا لاز م آ تا ہے، اور جبر پیدا ہو تا ہے ۔ قیامت کے دن اس قا در مختا ر کی جنا ب میں اس قسم کا معا ملہ کس طر ح واقع ہو نے لگا ؟ کیو نکہ لا رآد لقضائہ اس کی خوا ہش و ارادہ کو ئی پھیر نہیں سکتا ۔

یا آ د می شفاعت کے یہ معنی سمجھتے ہیں کہ ایک شخص اپنا بد لہ لینا چا ہتا ہے، ۔ مگر دوسرے کی ممانعت کی وجہ سے بد لہ نہیں لے سکتا ۔ سو خدا کے حضور میں یہ بات ہر گز محقق نہیں ہے ۔ اس کی شا ن تو اس قسم کے صریح نقصا ن سے پا ک ہے۔ ارشاد ہے :

﴿ وَاتَّقُوا يَوْمًا لَّا تَجْزِي نَفْسٌ عَن نَّفْسٍ شَيْئًا وَلَا يُقْبَلُ مِنْهَا شَفَاعَةٌ وَلَا يُؤْخَذُ مِنْهَا عَدْلٌ وَلَا هُمْ يُنصَرُونَ ﴾

کہ اے لو گو ! اس دن سے خو ف کرو جس میں کو ئی نفس کسی نفس سے کچھ بھی کفا یت نہ کر یگا اور نہ اس کی سفا رش قبو ل ہو گی، نہ کسی سے بد لہ لیا جا ئے گا اور نہ وہ مدد دیے جائیں گے ۔

مگر بعض لو گ کہتے ہیں کہ یہ آ یت اور اس جیسی دیگر آ یتیں کا فرو ں کے حق میں اتری ہیں حالانکہ یہا ں لفظ لا نکرہ آ یا ہے ۔ جو عمو م و شمو ل پر دلالت کیا کرتا ہے ۔ پس اس شبہ کے دفعیہ میں خدا نے مو منو ں کو خطا ب کیا کہ اے ایمان وا لو! جو چیز ہم نے تم کو دی ہے اس میں سے خر چ کرو ۔ اور اس دن کے آ نے سے پہلے جس میں نہ بیع ہے ( یعنی نہ تو گنا ہ بیچ کرنیکی خرید ی جا ئے گی) اور نہ کو ئی شخص کسی کی دوستی کی و جہ سے بخشا جا ئے گا اور نہ کسی کو کسی کی سفارش نفع دے گی کیو نکہ اس قسم کی شفاعت کے قبو ل کرنے میں جبر لازم آ تا ہے ۔ پس واضح ہو گیا کہ یہ آیت مسلما نو ں کے حق میں نازل فر ما ئی ہے ۔ کس لئے کہ خطاب انہی سے ہوا ہے ۔

شفاعت کی ایک دوسری قسم بھی ہے جس میں جبر لازم نہیں آ تا ۔ اس کی مثال یوں سمجھنی چا ہیے کہ ایک خوش نو یس چور کو باد شا ہ کے در بار میں لو گو ں نے حا ضر کیا ۔ بادشاہ نے اس کے ہا تھ کا ٹنے کا حکم فرمایا ۔ مگر ایک اور شخص نے بادشاہ کے حضور میں عرض کی کہ یہ گنہ گار خط خو ب لکھتا ہے، اگر اس کے ہاتھ نہ کا ٹے جائیں گے تو اس شہر میں خوش نو یس کا و جود باقی رہے گا ۔ اس خبر کے سننے سے بادشاہ کا ارادہ خود بخود بدو ن اس کے کہ کو ئی اس پر جبر کر ے ،بد ل جا تا ہے اور کسی قسم کا جبر لاز م نہیں آ تا ۔ اتنی با ت ضرور ہے کہ ایک شخص مجر م کے و صفو ں میں سے ایک ایسا وصف بیا ن کرتا ہے جس سے بادشاہ غا فل تھا۔ خدا تعالیٰ نے فر ما یا کہ قیا مت کے دن ہماری جناب میں اس قسم کی بھی سفارش واقع نہ ہو گی ۔ چنانچہ فرمایا: اور خدا کے علاوہ ان کو پو جتے ہیں جو انہیں نہ ضرر دیتے ہیں اور نہ نفع پہنچا تے ہیں، اور کہتے ہیں کہ یہ خدا تعا لی کے پاس ہماری شفاعت کر نے والے ہیں ۔ اے محمد ﷺ تم کہدو ۔ کیا آ گاہ کرتے ہو خدا کو اس چیز سے جسے وہ آ سما ن و زمین میں نہیں جانتا ۔ خدا پا ک اور بزرگ ہے اس چیز سے کہ شریک کر تے ہیں ۔

﴿وَيَعْبُدُونَ مِن دُونِ اللَّهِ مَا لَا يَضُرُّهُمْ وَلَا يَنفَعُهُمْ وَيَقُولُونَ هَٰؤُلَاءِ شُفَعَاؤُنَا عِندَ اللَّهِ ۚ قُلْ أَتُنَبِّئُونَ اللَّهَ بِمَا لَا يَعْلَمُ فِي السَّمَاوَاتِ وَلَا فِي الْأَرْضِ ۚ سُبْحَانَهُ وَتَعَالَىٰ عَمَّا يُشْرِكُونَ﴾

یعنی جو چیز زمین اور آ سما ن میں ہے، خدا اسے خو ب جا نتا ہے کیو نکہ وہ عا لم الغیب ہے ۔ اور بندے اس کے مخلوق ہیں ۔ نیز وہ ہر بندہ کی بھلا ئی برا ئی خود ہی خو ب جا نتا ہے ۔ اس کے سا منے دوسرو ں کے بیا ن کرنے کی کو ئی حا جت نہیں ۔ پس اس قسم کی شفا عت میں ہر چند کہ جبر لازم نہیں آ تا لیکن اس عا لم الغیب و الشّھادۃ کی لا علمی لازم آ تی ہے ۔ ( اس کی شا ن اس سے بر تر ہے )

شفاعت کا ایک اور طر یقہ بھی ہے ، جس کی مثا ل یہ ہے کہ چار چور ایک ہی وقت میں بادشاہ کے سا منے گر فتار ہو کر آئے ۔ تین تو ان میں سے چوری اور عیاری کے فن میں نہا یت ہشیار اور سلطا نی غضب سے بے با ک تھے اور ایک ان میں پر ہیز گار آ د می تھا جو اتفا قاً شیطا ن کے مکرو فر یب میں آ کر اس بر ے فعل میں مبتلا ہو گیا تھا ۔ اب بادشاہ کے حضور میں آ نکھو ں سے آ نسو بہا تا اور گناہ کی شر مند گی سے سر او پر نہیں ا ٹھا تا ہے جس سے باد شا ہ نے معلو م کر لیا کہ

یہ بے چارہ اس بر ے فعل میں نا گہا ں گر فتار ہو گیا ہے ، اس نے چوری کا پیشہ مقرر نہیں کیا ۔ اس وقت بادشاہ کی مہر با نی گو اس کی عفو تقصیر کی طرف متو جہ ہوتی ہے مگر سلطنت کا قا نو ن اس بات کو نہیں چا ہتا کہ ایک کو بخش دیں اور دوسرو ں کے ہا تھ کا ٹیں ۔

اس وقت بادشاہ خود کو ئی سبب ڈھو نڈ تا ہے اور حاضرین در بار میں سے ایک شخص کو خفیہ اشارہ کرتا ہے کہ تو فلا ں شخص کی سفارش کر ، تا کہ میں اسے بخش دو ں ۔ اس اشارہ کے سمجھتے ہی مقر با ن مجلس میں سے وہ شخص شفاعت کی پیشانی زمین پر گھستا ہے کہ اس مجر م کا ہم سے تعلق ہے اگر آ پ اس کی تقصیر کو معا ف فر ما ئیں گے تو احسا ن پر احسا ن ہو گا ۔ یہ حا ل دیکھ کر بادشاہ بد لہ لینے سے در گذ ر کر تا ہے ۔ پس اس قسم کی شفاعت سے کو ئی جبر لازم نہیں آ تا بلکہ اس کی ر ضا اور خوا ہش اس میں تھی جو واقع ہوا ۔ سو قیا مت کے دن شفاعت کی یہ ہی صورت متحقق ہو گی جس کی طرف اللہ نے یو ں اشارہ فر ما یا ہے:

﴿مَن ذَا الَّذِي يَشْفَعُ عِندَهُ إِلَّا بِإِذْنِهِ﴾

کہ کو ن شخص ہے جو اللہ کے پاس سفارش کر ے مگر اس کی اجاز ت کے سا تھ ۔ پس جس شخص کے حق میں اجازت ہو گی اس کی سفارش جلوہ گر ہو گی اور اگر عیاذاً باللّہ ارادہء الہی کسی کے بد لہ لینے پر متعلق ہو گا تو کس کو طاقت ہو گی جو اس کے حضور میں شفاعت کا دم ما رے ۔ پس خدا تعا لی کو را ضی کر نا چاہیے جس کے ہاتھ میں شفاعت کی با گ ہے اور در حقیقت سفارش کر نے والی بھی وہی پاک اور بے پروا ہ ذ ا ت ہے چنانچہ اسی معنی کی طرف اشارہ فر ماتے ہیں:

﴿ قُل لِّلَّهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيعًا﴾

اے محمد ﷺ تم کہہ دو کہ خاص خدا ہی کے واسطے تمام سفارش ہے ۔ یعنی شفاعت بھی کسی دوسرے کے ہاتھ میں نہیں ہے ۔

یہ شفا عت کا حا ل ہے جس کی حقیقت اور کنہ سے اکثر نادان لو گ نا واقف ہیں ۔ پس مسلمان کو چا ہیے کہ پیغمبرو ں اور ولیو ں میں سے کسی کو بھی دین و دنیا کے نفع و ضرر پہچا نے پر قا در نہ جا نے ۔ چنا نچہ یہی معنی اس آ یت سے مقصود ہیں:

﴿قُل لَّا أَمْلِكُ لِنَفْسِي نَفْعًا وَلَا ضَرًّا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ ۚ وَلَوْ كُنتُ أَعْلَمُ الْغَيْبَ لَاسْتَكْثَرْتُ مِنَ الْخَيْرِ وَمَا مَسَّنِيَ السُّوءُ ۚ إِنْ أَنَا إِلَّا نَذِيرٌ وَبَشِيرٌ لِّقَوْمٍ يُؤْمِنُونَ ﴾

کہ اے محمد ! آ پ فر ما دیجئے کہ میں اپنے لئے نفع و ضرر پہچا نے کی طاقت نہیں ر کھتا مگر جو خدا نے چا ہا، اور اگر میں علم غیب جا نتا تو منفعت کی جنس سے بہت کچھ جمع کر لیتا اور مجھے کو ئی سختی نہ پہنچتی ۔ میرا کا م بجز اس کے اور کچھ نہیں کہ میں ڈرا نے وا لہ ، اور جو لو گ یقین رکھتے ہیں انہیں خوشی سنا نے وا لا ہوں ۔ خلا صہ مطلب یہ ہے کہ پیغمبر ﷺ باو جو دیکہ خدا کے رسول ہیں مگر تب بھی اپنی جا ن کو نفع پہچا نے اور ضرر سے باز رکھنے کی طاقت نہیں ر کھتے ۔ نیز حق تعا لی فر ماتا ہے کہ اے محمد ! تم کہہ دو میں ہر گز علم غیب نہیں جا نتا ۔ یہ تو محض خدا کا خا صہ ہے ۔ اگر میں علم غیب جا نتا تو بہت بھلا ئیاں جمع کر لیتا اور مجھے کو ئی بھی نقصا ن نہ پہنچتا ۔ مثلاً ۔۔۔ اگر مجھے علم ہو تا کہ جنگ ا حد میں شکست ہو گی، تو اس روز جنگ نہ کرتا ۔ تم جو ہمارے سا تھ یہ اعتقا د رکھتے ہو کہ جس وقت ہم اپنے پیغمبر کو یاد کر تے ہیں، وہ سن لیتا ہے اور ہر آ نے وا لی چیز کو یا جو نظر سے غا ئب ہے اسے خو ب جا نتا ہے، محض غلط ہے۔ میں اس قسم کا آ دمی نہیں ہوں ۔ میرا کام تو عذاب الہی سے ڈرا نا اور غیر متنا ہی نعمتو ں کی خوشخبری سنا نا ہے اور یہ بھی صرف انہی لو گوں کو جو ہماری با توں پر یقین رکھتے ہیں ۔ کو ئی اتنا بھی نہیں جا نتا کہ ہماری پیٹھ پیچھے کیا ہے اور شا م کو کیا ظا ہر ہو گا۔

نیز دوسری آ یت میں فر ماتے ہیں :

﴿وَلَا يُحِيطُونَ بِشَيْءٍ مِّنْ عِلْمِهِ إِلَّا بِمَا شَاءَ ﴾

کہ آ د می، خداکے علم میں سے کچھ بھی ا حا طہ نہیں کر سکتے، مگر اسی قدر کہ خدا نے چا ہا ۔

معلوم ہوا کہ جو چیز خدا کے علم میں ہے وہ بندہ کی نظر سے غا ئب ہے اور اس میں سے بندہ کو کچھ بھی معلوم نہیں ہو سکتا ، ہاں جس قدر خدا چا ہتا ہے، اتنا علم دے دیتا ہے ۔ پس یہ بھی خدا کے ا ختیار میں ہے نہ بندہ کے ا ختیار میں)۔

٭٭٭

تبصرہ کریں