توبہ کرنے والوں کے لیے چالیس وصیتیں

1۔ اس بات کو جان لیں کہ آپ مردہ تھے اللہ نے آپ کو نور ہدایت سے زندگی عطا کیا۔

اللہ کا ارشاد ہے:

﴿ أَوَمَن كَانَ مَيْتًا فَأَحْيَيْنَاهُ وَجَعَلْنَا لَهُ نُورًا يَمْشِي بِهِ فِي النَّاسِ كَمَن مَّثَلُهُ فِي الظُّلُمَاتِ لَيْسَ بِخَارِجٍ مِّنْهَا ۚ كَذَٰلِكَ زُيِّنَ لِلْكَافِرِينَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ﴾ (سورۃ الأنعام: 122)

ایسا شخص جو پہلے مردہ تھا پھر ہم نے اس کو زندہ کردیا اور ہم نے اس کو ایک ایسا نور دے دیا کہ وہ اس کو لیے ہوئے آدمیوں میں چلتا پھرتا ہے۔ کیا ایسا شخص اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے؟ جو تاریکیوں سے نکل ہی نہیں پاتا۔ اسی طرح کافروں کو ان کے اعمال خوش نما معلوم ہوا کرتے ہیں۔

2۔ اگر اللہ نے آپ کو توبہ کی توفیق دی ہے اور اس نے محرمات کا ارتکاب کرتے ہوئے آپ کی روح قبض نہیں کی تو اس پر آپ اللہ کی تعریف کریں۔

3۔ اس بات کو بخوبی جان لیں کہ اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والے کی توبہ سے بے حد خوش ہوتا ہے، حدیث نبوی ہے:

« لَلَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ عَبْدِهِ الْمُؤْمِنِ مِنْ رَجُلٍ فِي أَرْضٍ دَوِّيَّةٍ مَهْلِكَةٍ مَعَهُ رَاحِلَتُهُ عَلَيْهَا طَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَنَامَ فَاسْتَيْقَظَ وَقَدْ ذَهَبَتْ فَطَلَبَهَا حَتَّى أَدْرَكَهُ الْعَطَشُ ثُمَّ قَالَ أَرْجِعُ إِلَى مَكَانِيَ الَّذِي كُنْتُ فِيهِ فَأَنَامُ حَتَّى أَمُوتَ فَوَضَعَ رَأْسَهُ عَلَى سَاعِدِهِ لِيَمُوتَ فَاسْتَيْقَظَ وَعِنْدَهُ رَاحِلَتُهُ وَعَلَيْهَا زَادُهُ وَطَعَامُهُ وَشَرَابُهُ فَاللَّهُ أَشَدُّ فَرَحًا بِتَوْبَةِ الْعَبْدِ الْمُؤْمِنِ مِنْ هَذَا بِرَاحِلَتِهِ وَزَادِهِ» (صحيح مسلم: 2744)

’’اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا وہ آدمی (خوش ہوتا ہے) جو ہلاکت خیز سنسان اور بے آب و گیاہ میدان میں ہو، اس کے ساتھ اس کی سواری ہو، اس (سواری) پر اس کا کھانا اور پانی لدا ہوا ہو، وہ (تھکا ہارا کچھ دیر کے لیے) سو جائے اور جب جاگے تو سواری جا چکی ہو۔ وہ ڈھونڈتا رہے یہاں تک کہ اسے شدید پیاس لگ جائے، پھر وہ کہے: میں جہاں پر تھا، اسی جگہ واپس جاتا ہوں اور سو جاتا ہوں، یہاں تک کہ (اس نیند کے عالم میں) مجھے موت آ جائے۔ وہ اپنی کلائی پر سر رکھ کر مرنے کے لیے لیٹ جائے اور (اچانک) اس کی آنکھ کھلے تو اس کی وہ سواری جس پر اس کا زادراہ کھانا اور پانی تھا اس کے پاس کھڑی ہو۔ تو اللہ اپنے مومن بندے کی توبہ پر اس سے زیادہ خوش ہوتا ہے جتنا یہ آدمی اپنی سواری اور زادراہ سے خوش ہوتا ہے۔‘‘

4۔ کیا آپ کو معلوم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے سچی توبہ کرنے والوں کے گناہوں کو نیکیوں میں بدلنے کا وعدہ کیا ہے، فرمان باری تعالیٰ ہے:

﴿إِلَّا مَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ عَمَلًا صَالِحًا فَأُولَٰئِكَ يُبَدِّلُ اللَّهُ سَيِّئَاتِهِمْ حَسَنَاتٍ ۗ وَكَانَ اللَّهُ غَفُورًا رَّحِيمًا﴾ (سورۃ الفرقان: 70)

’’ سوائے ان لوگوں کے جو توبہ کریں اور ایمان لائیں اور نیک کام کریں، ایسے لوگوں کے گناہوں کو اللہ تعالیٰ نیکیوں سے بدل دیتا ہے، اللہ بخشنے والا مہربانی کرنے والا ہے۔‘‘

5۔ کیاآپ کو علم ہے کہ اللہ تعالیٰ سچی توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، اللہ کا فرمان ہے:

﴿إِنَّ اللَّهَ يُحِبُّ التَّوَّابِينَ وَيُحِبُّ الْمُتَطَهِّرِينَ﴾ (سورۃ البقرۃ: 222)

’’ اللہ توبہ کرنے والوں کو اور پاک رہنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔‘‘

6۔ خالص سچی توبہ کریں اور نبی ﷺ کی ایک صحابی کو کی گئی یہ نصیحت یاد رکھیں:

«إِنْ تَصْدُقِ اللَّهَ يَصْدُقْكَ»(سنن نسائى: 1953)

اگر تم سچے ہو تو اللہ تعالیٰ بھی اپنا وعدہ سچ کر دکھائے گا۔

7۔ برے دوستوں کی صحبت سے دور رہو، ان کی مجلسوں میں شریک نہ ہو، اپنے موبائل فون سے ان کا رابطہ نمبر ڈلیٹ کردو بلکہ انہیں یاد دلانے والی جو بھی چیز تمہارے پاس ہو وہ سب ختم کردو، کیوں کہ یہ تمہارے لیے زہر ہلاہل ہیں اور اگر تم نے ان کے ایسا تعامل کرنے میں کوتاہی کی تو وہ دن دور نہیں کہ وہ تمہیں اپنے راستے کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔

8۔ اللہ تعالیٰ سے ثابت قدمی کی دعا کریں اور نبی ﷺ کی اس دعا پر غور کریں:

«يَا مُقَلِّبَ الْقُلُوبِ، ثَبِّتْ قَلْبِي عَلَى دِينِكَ» (جامع ترمذى: 2140)

اے دلوں کے الٹنے پلٹنے والے میرے دل کو اپنے دین پر ثابت رکھ۔

9۔ اللہ سے خوف کے پہلو کو غالب نہ کریں اور اس بات کو جان لیں کہ اللہ تعالیٰ وسیع مغفرت والا ہے، اللہ کا ارشاد ہے:

﴿إِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ﴾ (سورة النجم: 32) بیشک تیرا رب بہت کشادہ مغفرت والا ہے۔

اور فرمایا: ﴿ وَإِنِّي لَغَفَّارٌ لِّمَن تَابَ وَآمَنَ وَعَمِلَ صَالِحًا ثُمَّ اهْتَدَىٰ﴾(سورة طہٰ: 82)

ہاں بیشک میں انہیں بخش دینے والا ہوں جو توبہ کریں، ایمان لائیں، نیک عمل کریں اور راہ راست پر بھی رہیں۔

10۔ جو بھی تمہارے پاس حرام اشیاء ہیں انہیں اپنے پاس سے ختم کردو، جیسے: تصاویر، موبائل فون کا غلط استعمال، موبائل کے حرام وفحش ویڈیوز کو ڈلیٹ کردو، یہ چیزیں تمہاری سچی توبہ کی دلیل ہیں۔

11۔ گناہوں کو چھوڑنے میں شروع میں آپ کو تکلیف محسوس ہوگی لیکن اپنے نفس سے مجاہدہ کریں اور صبر کریں، اللہ کے اس فرمان کو یاد رکھیں:

﴿وَمَن يَتَّقِ اللَّهَ يَجْعَل لَّهُ مَخْرَجًا﴾ (سورۃ الطلاق: 2)

اور جو شخص اللہ سے ڈرتا ہے اللہ اس کے لیے چھٹکارے کی شکل نکال دیتا ہے۔

12۔ جب آپ صالحین کی صحبت اختیار کریں تو یہ جان لیں کہ صالح نوجوانوں کا طبقہ معصوم نہیں ہے بلکہ ان میں اچھے، برے، بلند کردار اور بد اخلاق ہر طرح کے ہوتے ہیں تو انہیں دیکھ کر آپ بے چین اور کبیدہ خاطر نہ ہوں کیوں کہ اعتبار منہج اور دین کا ہوتا ہے شخصیات کا نہیں۔

13۔ پہلے اپنے اہل وعیال اور اپنی سوسائٹی کے ساتھ اپنا سلوک بدلیں ہدایت کی پہلی گھڑی سے ہی، کیوں کہ استقامت کا فائدہ افضل لوگوں کے لیے تبدیلی ہے۔

14۔ آپ نیک اعمال میں بہترین شروعات کرنے والے اور بلندہمت بنیں۔

15۔ سنن ورواتب کی پابندی کریں، کیوں کہ یہ تمہارے ایمان اور ثابت قدمی میں اضافہ کریں گی اور یہ آپ سے اللہ کی محبت کا سبب اور ایمان کی حلاوت حاصل کرنے کا راستہ ہے۔

16۔ سیرت رسول، سیرت صحابہ اور صالحین کے واقعات کا مطالعہ کریں، اس سے آپ کو دین پر ثابت قدمی حاصل ہوگی، اللہ کا فرمان ہے:

﴿ وَكُلًّا نَّقُصُّ عَلَيْكَ مِنْ أَنبَاءِ الرُّسُلِ مَا نُثَبِّتُ بِهِ فُؤَادَكَ ۚ﴾ (سورہ ہود: 120)

رسولوں کے سب احوال ہم آپ کے سامنے آپ کے دل کی تسکین کے لیے بیان فرما رہے ہیں۔

17۔ آپ کے توبہ کرنے کے بعد بعض لوگ آپ کا مذاق اڑائیں گے جیسے آپ کے رشتے دار، مدرسہ کے ساتھی، محلے کے دوست واحباب، تو آپ ان پر توجہ نہ دیں اور منہج صحیح (جس پر نبی اور صحابہ قائم تھے) پر استقامت کو اپنے لیے باعث عز وشرف سمجھیں۔

18۔ اپنے دل کو نرم کریں، ہاسپٹلوں میں جاکر، مردوں کے غسل میں حاضر ہوکر اور قبروں کی زیارت کرکے۔

19۔ آپ کی توبہ کو مفید بنانے والی چیز انٹرنیٹ پر موجود ایسی مفید سائٹس کا استعمال ہے جن میں بہترین نصیحتیں، مقالات اور فتاوے ہوں، اور اس کے لیے معتبر، مستند اور معروف سلفی علماء اور دعاۃ کو لازم پکڑیں۔

20۔ انفرادی عبادت کا اہتمام کریں جیسے: نفل روزے، قیام اللیل، عمرہ وغیرہ، کیوں کہ دین پر ثابت قدمی کے لیے ان عبادات کا بڑا کردار ہے۔

21۔ اپنے فارغ اوقات کو اچھے کاموں میں مصروف رکھیں جیسے: تحفیظ القرآن کے حلقات، تربیتی مجالس میں حاضری، طلب علم وغیرہ۔

22۔ تنظیم وقت کا خیال رکھیں اور ان اہداف کو پیش نظر رکھیں جو آپ کی آنے والی زندگی کو خوشگوار بنانے میں معاون ہوں اور ان چیزوں تک پہنچنے کی کوشش کریں جیسے: شادی، حفظ قرآن سے آغاز، ہر ہفتہ دروس ومحاضرات میں شرکت۔

23۔ اپنے مسائل کو تنہا حل نہ کریں بلکہ مشائخ اور علماء سے مشورے لیں۔

24۔ مجالس ذکر کو لازم پکڑیں جو تمہارے لیے مناسب ہوں۔

25۔ شیطانی راہوں سے بچیں، اللہ کا فرمان ہے:

﴿وَلَا تَتَّبِعُوا خُطُوَاتِ الشَّيْطَانِ﴾ (سورة البقرۃ: 168) اور شیطانی راہ پر نہ چلو۔

26۔ تمہارے توبہ کے بعد پیش آنے والے منکرات کی تردید میں عجلت سے کام نہ لیں، وہ منکرات چاہے تمہارے گھر میں ہوں یا تمہاری ملازمت کی جگہ میں یا تمہارے شہر میں، بلکہ حکمت سے کام کریں، اللہ کا ارشاد ہے:

﴿ وَمَن يُؤْتَ الْحِكْمَةَ فَقَدْ أُوتِيَ خَيْرًا كَثِيرًا ۗ﴾(سورة البقرۃ: 269)

اور جو شخص حکمت اور سمجھ دیا جائے وہ بہت ساری بھلائی دیا گیا۔

27۔ اپنے ماضی کے تجربات کو اپنی نئی زندگی میں کسی درس میں پیش کریں جیسے بروں کی دوستی میں تساہل آپ کو ضائع کرنے کا سبب ہے لہٰذا مستقبل میں فاسقوں کی صحبت میں تساہل سے کام نہ لیں۔

28۔ یہ جان لیں کہ ہدایت مل جانے کے بعد آپ کے ماضی کے بڑے گناہ آپ کو بڑا آدمی بننے سے مانع نہیں ہیں، غورکریں کہ عمر بن خطابؓ ہدایت سے پہلے کیا تھے اور ہدایت کے بعد کیا ہوگئے؟ حمزہ بن عبد المطلب ؓ ہدایت سے پہلے کیا تھے اور ہدایت کے بعد کیا ہوگئے؟ اعتبار توبہ کے بعد آپ کی حالت کا ہے نہ کہ توبہ سے پہلے کی حالت کا۔

29۔ ہدایت کے لیے صحیح فہم ضروری ہے، آپ کے لیے جائز ہے کہ آپ اعتدال میں رہ کر اور شرعی ضوابط کی پابندی کرتے ہوئے مباحات کی کوشش کریں۔

30۔ فتنوں کے مقامات سے دور رہیں، فتنے دو طرح کے ہوتے ہیں: شہوات اور شبہات، ابتدائی چھوٹے چھوٹے فتنوں سے اپنی حفاظت کے لیے تساہل سے کام نہ لیں، کیوں کہ یہی آپ کو آخری حد تک پہنچاسکتے ہیں۔

31۔ رحلہ ایمانیہ کا اہتمام کریں، جیسے: کسی نیک مومن بندے کے ساتھ عمرہ کا سفر۔

32۔ توبہ کرنے والوں کے واقعات پڑھیں اس سے توبہ میں آپ کو بہترین نمونے ملیں گے۔

33۔ دعوت کے اصول وشروط اور داعی کے صفات جاننے سے پہلے اور دعوت کی مشق وٹریننگ کے بغیر لوگوں کو اللہ کی طرف بلانے اور وعظ و نصیحت کا کام شروع نہ کریں۔

34۔ صحیح راستے سے علم حاصل کریں، بہتر ہوگا کہ کسی اچھے طالب علم کے پاس بیٹھیں تا کہ وہ علم کے مناسب وسیلے کی تمہاری رہنمائی کرے۔

35۔ توبہ کے متعلق احکام سیکھیں، مثال کے طور پر کہ تم نے حرام مال کسی کا لے لیا ہو تو تمہارے لیے ضروری ہے کہ تم اسے حق والے کو واپس کردو اگر وہ آدمی نہ ملے تو وہ مال اس کی طرف سے صدقہ کردو، ایسے بہت سارے مسائل ہیں جن کا صحیح جواب جاننا تمہارے لیے ضروری ہے، لہٰذا ایسے مسائل کے حل کے لیے علم حاصل کریں۔

36۔ غلو اور انتہا پسندی سے بچو اور مختصر ہی سہی اعمال صالحہ پر مداومت کرو۔

نبی ﷺ کا فرمان ہے: «أَحَبُّ الْأَعْمَالِ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى أَدْوَمُهَا وَإِنْ قَلَّ» (صحيح مسلم: 783)

اللہ تعا لیٰ کے ہاں محبوب ترین کا م وہ ہے جس پر ہمیشہ عمل کیا جائے اگرچہ وہ قلیل ہو۔ اس لیے کہ غلو کا راستہ پائیدار نہیں ہوتا۔

37۔ کثرت سے تلاوت قرآن کا اہتمام کریں تاکہ آپ کا دل حب الٰہی سے معمور رہے۔

38۔ اپنے نفس کی حفاظت کے لیے شادی کرنے میں جلدی کریں اس لیے کہ اکثر گناہ شہوات کے راستے سے انجام پاتے ہیں۔

39۔ لوگوں کے پیش آمدہ مسائل کو حل کرنے میں توازن برقرار رکھیں، ہر حق والے کو اس کا حق دلانے کی پوری کوشش کریں۔

40۔ صرف اہل علم سے فتویٰ لیں بعض ایسے نوجوانوں کے فتاوے سے بچیں جن کے تو بہ کیے ہوئے ابھی چند مہینے نہیں گزرے ہوتے ہیں اور جہالت ابھی ان سے ختم نہیں ہوتی ہے، بہت سارے توبہ کرنے والوں نے بعض ایسے تائبین سے سوال کیے جو علم میں ابھی راسخ نہیں تھے تو وہ ان کی گمراہی کا سبب بن گئے۔

41۔ آپ کی ایک ذمہ داری یہ بھی ہے کہ وہ مقامات جو اس سے پہلے آپ کی گمراہی کا سبب بنے ہیں ان کے بارے میں لوگوں کو آگاہ کردیں جیسے: جادوگر کی جگہ یا جو آدمی منشیات کی تجارت کرتا تھا وغیرہ۔

42۔ یقین رکھیں کہ تنہائی کے گناہ بری عادتوں کی طرف لوٹنے کا سبب ہیں اور تنہائی کی نیکیاں ثابت قدمی کا سبب ہیں۔

ہم اللہ سے سوال کرتے ہیں کہ اللہ آپ کو دین پر ثابت قدم رکھے اور آپ کو اپنے سماج کا بہترین قدوہ بننے کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

٭٭٭

نحوست کی نفی کرنے والے، بغیر حساب جنت میں

اللہ تعالیٰ پر توکل کرنے والے لوگوں کے بارے میں رسولِ اکرمﷺنے فرمایا:

” مجھے میری اُمت کے بارے میں بتایا گیا کہ یہ آپ کی اُمت ہے، ان میں ستر ہزار ایسے ہیں جو پہلے جنت میں جائیں گے، ان پر کوئی حساب اور عذاب نہیں ہوگا۔نبی اکرمﷺنے فرمایا: میں نے پوچھا کہ یہ کس وجہ سے بغیر حساب اور عذاب کے جنت میں جائیں گے؟ تو جبریل نے جواب دیا:

’’(ان کی صفت یہ ہے کہ) وہ اپنے جسم کو داغتے نہیں، نہ ہی دم کرواتے ہیں، نہ کسی چیز کو منحوس سمجھتے اور وہ اپنے ربّ پر توکل کرتے تھے۔‘‘ (صحیح بخاری: 6157)

مندرجہ بالا حادیث میں بلا حساب جنت میں جانے والے لوگوں کے اوصاف کا ذکر ہے، ان میں ایک خوبی یہ ہے کہ وہ کسی چیز کو منحوس نہیں سمجھتے اور ان میں توکل کا مادہ بدرجہ اتم موجود ہے۔

2. نبی کریم ﷺ کا فرمانِ اقدس ہے:

’’کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شرک ہے، کسی چیز کو منحوس خیال کرنا شرک ہے۔‘‘ (مسند احمد: 4؍410)

3. قرآن میں ہے: ﴿ما أَصابَ مِن مُصيبَةٍ فِى الأَر‌ضِ وَلا فى أَنفُسِكُم إِلّا فى كِتـٰبٍ مِن قَبلِ أَن نَبرَ‌أَها﴾ (سورة الحديد: 22)

’’ کوئی مصیبت نہ زمین پر پہنچتی ہے اور نہ تمہاری جانوں پر مگر وہ ایک کتاب میں ہے، اس سے پہلے کہ ہم اسے پیدا کریں۔‘‘

4۔ اسی طرح ایک حدیث میں رسول اللہﷺنے توکل کے بارے فرمایا:

’’جان لو! اگر لوگ اس بات پر جمع ہوجائیں کہ وہ تمھیں کچھ فائدہ پہنچائیں تو وہ کچھ فائدہ نہیں پہنچا سکتے، مگر وہی جو اللہ نے تمہاری تقدیر میں لکھ دیا ہے اور اگر لوگ اس بات پر جمع ہو جائیں کہ وہ تمھیں کچھ نقصان پہنچائیں تو وہ تمھیں کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتے مگر وہی جو اللہ نے تم پر لکھ دیا ہے۔‘‘

تبصرہ کریں