توکل علی اللہ کا مفہوم اور اہل توکل کے شاندار واقعات

بسم الله الرحمن الرحيم

﴿‏ قُلْ هُوَ الرَّحْمَٰنُ آمَنَّا بِهِ وَعَلَيْهِ تَوَكَّلْنَا ۖ فَسَتَعْلَمُونَ مَنْ هُوَ فِي ضَلَالٍ مُّبِينٍ﴾ (سورة الملك: 29)

حمد و ثناء، اللہ رب العالمین کے لیے، جو مالک الملک، خالقِ کل اور عالمِ کل ہے، درود و سلام سرورِ انبیاء کے لیے، جو امامِ کائنات، رحمتِ کائنات اور سیدِ کائنات ہیں۔

ہمارے ایمان کا ایک لازمی تقاضا یہ ہے کہ تمام امور اور تمام کاموں میں، مشکلات میں اور تمام مصائب میں توکل،بھروسہ اور اعتماد صرف اللہ وحدہ لا شریک پر کریں۔ یہ توحید کا لازمی جز ہے، توکل ۔

﴿وَعَلَى اللَّهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُؤْمِنُونَ﴾ (سورة آل عمران: 122)

مومنوں کو چاہیے کہ صرف اللہ ہی پر توکل کریں۔

موسیٰ نے بھی پہلے پیغمبروں کی طرح اپنی قوم کو یہی درس دیا، یہی سمجھایا، یہی فرمایا۔جب ذکر ہوا فرعون کی طاقت کا، اس کے جبر و قہر کا، تو انہوں نے کہا:

﴿وَعَلَى اللَّهِ فَتَوَكَّلُوا إِن كُنتُم مُّؤْمِنِينَ﴾ (سورة المائده: 23)

اگر تم مؤمن ہو تو اللہ پر بھروسہ رکھو، اس کی طاقت فرعون کی طاقت سے کہیں زیادہ ہے۔

توکل کو ایمان کی نشانی ، ایمان کا ثبوت اور ایمان کی علامت کہا گیا ہے۔ بھروسہ اللہ پر رکھنا۔ سورۂ انفال کے شروع میں ہے:﴿ إِذَا ذُكِرَ اللَّهُ وَجِلَتْ قُلُوبُهُمْ﴾ (سورة الانفال: 2)

مومن وہ ہیں کہ جب اللہ کا ذکر ان کے سامنے آتا ہے، ان کے دلوں پر ایک ہیبت اور خوف طاری ہو جاتا ہے۔

اللہ کا نام سنتے ہی، اللہ کا ذکر آتے ہیں، ان کے دل ہیبت سے بھر جاتے ہیں۔ یہ ایک نشانی ہے، دوسری نشانی کیا ذکر فرمائی؟

﴿وَإِذَا تُلِيَتْ عَلَيْهِمْ آيَاتُهُ زَادَتْهُمْ إِيمَانًا﴾ (سورة الأنفال: 2)

جب اس کی آیتیں، اللہ کی آیتیں، قرآن کی آیتیں ان پر پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان پہلے سے زیادہ ہو جاتا ہے۔

تیسری نشانی کیا بتائی؟

﴿وَعَلَىٰ رَبِّهِمْ يَتَوَكَّلُونَ﴾ (سورة الأنفال: 2)

تیسری نشانی مؤمن کی یہ ہے کہ وہ اپنے رب پر توکل ، اعتماد اور بھروسہ کرتا ہے۔ نبی اکرم ﷺ کو بھی جن مشکلات کا سامنا تھا، جن مصائب اور تکلیفوں سے وہ گزرتے رہے، اپنے ساتھیوں کو گزرتا ہوا دیکھتے رہے۔ اپنی اذیت الگ تھی، ساتھیوں کو اذیت میں دیکھنے کی اذیت الگ تھی۔ذہنی، جسمانی ہر طرح کی اذیت اور تکلیف آپ نے سہی اور اس میں جب رب کی طرف سے حرف تسلی آیا، جب رب نے صلہ دیا تو کن الفاظ میں دیا؟ کیا کہہ کر دیا؟ اور کیا چیز بتائی ان مصائب کا مقابلہ کرنے کے لیے؟ توکل علی اللہ۔ یہی حکم دیا۔ سورۂ فرقان کو دیکھیں، اس کے آخر میں لکھا ہوا ہے:

﴿وَتَوَكَّلْ عَلَى الْحَيِّ الَّذِي لَا يَمُوتُ﴾ (سورة الفرقان: 58)

اس ذات عالی پر، اس عظیم ذات پر توکل اور بھروسہ کریں، جس کو موت نہیں آتی، جس کو زوال نہیں آتا، جو مرتا نہیں ہے، ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ زندہ ہے۔ اس پر توکل کریں۔وہی ان مشکلات میں آپ کا سہارا بن سکتا ہے اور بنے گا۔ اسی طرح سورۂ ہود ہے قرآن پاک کی،اس آیت میں بھی یہی ارشاد ہوا ہے، بارہویں پارے کی سورت میں۔

﴿وَلِلَّهِ غَيْبُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ﴾ (سورة هود: 123)

زمین و آسمان کی چھپی ہوئی چیزیں کس کے علم میں ہیں؟ صرف اللہ کے علم میں جو تم سے چھپی ہوئی ہیں، اس سے چھپی ہوئی نہیں ہیں، اس کے علم میں ہیں۔ وہ سب جانتا ہے، اسی کا تو سب بنایا ہوا ہے، وہ سب جانتا ہے۔

﴿وَإِلَيْهِ يُرْجَعُ الْأَمْرُ كُلُّهُ﴾ (سورة هود: 123)

اور تمام کام اس کی طرف لوٹتے ہیں ۔

ان کا انجام، تمام کاموں کا انجام اور نتیجہ اس کے ہاتھ میں ہے۔ سبھی کام اس کی طرف لوٹنے ہیں یعنی یہ اسی کے ہاتھ میں ہے کہ کس کس طرف لے جانا ہے کام کو، اس کا نتیجہ کیا نکالنا ہے، اس کا انجام کیا ہے،اس کا اینڈ کیا ہے، وہی جانتا ہے اور وہی کرتا ہے۔ اس لیے:

﴿ فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ﴾ (سورة هود: 123)

سو جس کے ہاتھ میں سب کچھ ہے، جس کے ہاتھ میں امور کا انجام ہے، جو چھپی اور کھلی چیزوں کو جانتا ہے، پھر اسی کی عبادت کرو۔ یہ آپﷺ کو حکم دیا جا رہا ہے اور آپ کی معرفت ہم سب کو حکم دیا جاتا ہے کہ

﴿فَاعْبُدْهُ وَتَوَكَّلْ عَلَيْهِ﴾ (سورة هود: 123)

اسی کی عبادت کرو اور توکل علی اللہ یعنی اسی پر بھروسہ رکھو۔

سب کام وہی ٹھیک کر سکتا ہے، وہی کرے گا۔اسی طرح قرآن پاک کی ایک سورۂ ہے،سورۂ رعد۔ جہاں اللہ نے آپ کو یہ کہنا سکھایا، یہ کہنے یا دعا کرنے کی ترغیب دی کہ

﴿ قُلْ هُوَ رَبِّي لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ﴾ (الرعد: 30)

اپنی زبان سے اس بات کا اقرار کریں اور اعلان کریں کہ وہی ہے میرا رب، اس کے سوا کوئی معبود، کوئی قابل عبادت نہیں ہے۔

﴿ عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ مَتَابِ﴾ (الرعد: 30)

توکل، یعنی میرا بھروسہ، اسی پر ہے اور اسی کی طرف ہم سب نے جانا ہے۔ انجام بھی اسی کے پاس ہے۔

توکل کیا ہے؟ آیات قرآنی کے حوالے سے اس کی فضیلت اور تاکید آپ نے سنی۔ توکل وکالت سے ہے۔ وکیل کا لفظ اسی سے بنا اور وکیل کہتے ہیں کارساز کو، یعنی کام بنانے والا، جو اپنا یا کسی کی جگہ کام بنائے، کسی کا نمائندہ بن کر اس کا کام بنائے۔یہ ہے اس کا مفہوم،اردو میں ہم اسے کارساز کہتے ہیں، یعنی کام بنانے والا، کام کرنے والا۔

توکل کی کئی قسمیں یا پہلو ہیں، جن پر مومن کو پورا اترنا ہے۔ سب سے پہلی بات یہ ہے کہ قسمت کے لکھے ہوئے پر تسلی اور اطمینان رکھے کہ جو لکھا ہے، وہ مجھے مل کر رہے گا۔ یہ توکل کی پہلی شرط اور پہلی سیڑھی ہے۔سیڑھی کا پہلا زینہ ہے،زینے کا پہلا قدم ہے۔

جیسا کہ قرآن نے کہا،

﴿لِّكَيْلَا تَأْسَوْا عَلَىٰ مَا فَاتَكُمْ وَلَا تَفْرَحُوا بِمَا آتَاكُمْ﴾ (سورة الحديد: 23)

جو مل گیا، اس پر ضرورت سے زیادہ خوشی نہ مناؤ کہ لکھا ہوا ملا ہے، لکھے ہوئے کے بغیر نہیں ملا۔ اس پر فخر نہ کرو، تکبر اور غرور کو اپنے پاس نہ آنے دو اور جو نہیں ملا، اس پر زیادہ افسوس بھی نہ کرو۔تھوڑا بہت افسوس تو ہوتا ہے، لیکن اسے اپنے اوپر سوار نہ کر لو کہ کہیں یہ غم غالب نہ آ جائے کہ فلاں چیز مجھے نہیں ملی، میں نے کوشش کی، میں نے محنت کی، لیکن پھر بھی نہیں ملی۔ اس لیے نہیں ملی کہ وہ تمہارے لیے لکھی ہوئی نہیں تھی ۔ملنے والی چیزوں پر زیادہ خوشی نہ مناؤ اور نہ ملنے والی چیزوں پر زیادہ افسوس نہ کرو۔ یہ تعلیم دی گئی ہے مومن کو اور یہ توکل کا پہلا زینہ ہے۔

دوسری بات خاص طور پر رزق کے بارے میں یقین رکھنا ہے۔رزق کے بارے میں یہ یقین ہو اور پورابھروسہ ہو اس بات پر کہ جو اللہ نے میرے لیے لکھا ہے، جو اللہ نے مجھے دینا ہے، وہ دے گا۔مجھے مل کر رہےگا۔ دنیا کی کوئی طاقت اس سے روک نہیں سکتی اور جو نہیں لکھا، وہ مجھے ملے گا نہیں، میں جو مرضی کرلوں۔

﴿ وَمَا مِن دَابَّةٍ فِي الْأَرْضِ إِلَّا عَلَى اللَّهِ رِزْقُهَا﴾ (سورة هود: 6)

ہر جاندار کا رزق اللہ نے اپنے ذمے لیا ہے کہ کس کو کتنا دینا ہے، تھوڑا یا زیادہ۔

“وَالرِّزْقُ مَقْسُوْمٌ وَهُوَ آتٍ عَلَى اْبنِ آدَمَ عَلَى أيِّ سِيْرَةٍ سَرَاهَا “ (حلية الأولياء:6/116)

رزق تقسیم کیا جا چکا ہے، شروع سےہی ،شروع کائنات سے ہر بندے اور جاندار کے لیے رزق تقسیم کیا جا چکا ہے۔ اس میں کوئی کمی بیشی، ترمیم، یا تبدیلی نہیں ہو سکتی،ختم ہوگئی بات۔ یہ اسے ملنا ہے،یہ اسے ملنا ہے،اتنا ملنا ہے۔

آگے فرماتے ہیں :”تَقَوَى تَقِيٍّ لَيْسَ بِزَائِدَةٍ” (حلية الأولياء: 6/116)

کسی کی نیکی یا تقویٰ اس کے رزق میں اضافہ نہیں کرے گا، ثواب میں کرے گا، لیکن رزق میں نہیں کرے گا۔ اسی طرح، گناہ گار کا فسق و فجور اس کے رزق میں کمی نہیں لائے گا۔ جو اللہ نے طے کر دیا ہے، وہی ملے گا، چاہے وہ گناہ کرتا رہے۔ اس کی سزا تو دی جا سکتی ہے، لیکن رزق میں کمی نہیں ہو گی۔

تیسری بات یہ ہے کہ تکالیف اور مشکلات میں اللہ پر بھروسہ رکھیں اور اس کی طرف رجوع کریں۔ سورہ احزاب دیکھیں۔

﴿وَلَمَّا رَأَى الْمُؤْمِنُونَ الْأَحْزَابَ قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ ۚ وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا﴾ (الأحزاب: 22)

جب مومنوں نے، صحابہ نے ایک بڑے لشکر کو دیکھا، پورے عرب سے امڈ کر آیا بہت بڑا لشکر ، مکے والے قریشی لے کر آئے ، دوسرے قبیلوں کو ساتھ ملا کر، اس وقت کے لحاظ سے اور مسلمانوں کے مقابلے میں تعداد کے لحاظ سے،دس ہزار کی تعدادبہت بڑی تعداد تھی یا اس سے بھی زیادہ تھا یہ لشکر آیا۔لیکن جب مؤمنوں نے دیکھا تو وہ گھبرائے نہیں، پریشان نہیں ہوئے،

﴿قَالُوا هَٰذَا مَا وَعَدَنَا اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ﴾ (سورة الأحزاب: 22)

’’ اللہ اور اس کے رسول نے ہمیں پہلے ہی بتا دیا تھا کہ آزمائشیں آئیں گی،دشمنوں کا اور مشکلات کا مقابلہ کرنا ہوگا۔ ‘‘

﴿ وَصَدَقَ اللَّهُ وَرَسُولُهُ﴾ (سورة الأحزاب: 22)

’’اور اللہ کی بات بھی سچ ہےاور رسول کی بات بھی ۔‘‘

﴿وَمَا زَادَهُمْ إِلَّا إِيمَانًا وَتَسْلِيمًا‎﴾ (الأحزاب: 22)

اس مشکل نے ان کے ایمان کو ،اللہ کے ساتھ ان کے تعلق کوگھٹایا نہیں بلکہ بڑھا دیا کہ کوئی بات نہیں اگر لشکر بڑا ہے، تو اللہ اس سے بھی بڑا ہے۔ یہ توکل کا ایک درجہ ہے کہ مشکلات میں اور جنگ بھی ایک مشکل ہے،بھروسہ ہتھیاروں پر نہیں افراد کی تعداد اور کثرت پر نہیں بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھے۔

اسی طرح نبی اکرم ﷺ کی مثال، بدر کے میدان میں دیکھیں۔بدر اس کی اولین مثال ہے۔ تعداد میں مقابلہ نہیں تھا،ہتھیاروں میں مقابلہ نہیں تھا، لیکن آپﷺ نےکیا کیا، صفیں آراستہ کیں،ساتھیوں کو تیار کیا اورکہا کہ میرے لیے ایک چھپر سا بنادو،ایک سایہ سا بنادو، اسے عربی میں عریش کہتے ہیں، صحابہ نے بنادیا،آپ وہاں کھڑے ہوگئے، اللہ سے مانگنے کےلئے، اللہ ہی پر بھروسہ کرتے ہوئے دعا کی۔ آپ نے ساتھیوں کو تیار کیا اور اللہ سے مانگتے رہے، رو رو کر دعا کرتے رہے۔ آپ کے جانثار ساتھی حضرت ابوبکر صدیق کا کبھی ایک پاؤں میدان جنگ میں ہوتاتھا اور کبھی جھونپڑے میں، آپ کو دیکھنے آتے تھے کہ آپ کس حال میں ہیں۔آپ کی دعاؤں کاسلسلہ کیسے چل رہا ہے اور پھر انہوں نے کہا کہ اے اللہ کے حبیب اور ہمارے حبیب! اتنا نہ روئیں، اللہ یقیناً آپ کی سنے گا۔ آپ نے اس اہم موقع پر اللہ ہی سے مانگا اور اسی نے مدد کی۔ اسی طرح فتح مکہ کے موقع پر اللہ پر توکل تھا اور اللہ تعالیٰ نے کامیابی دی تو کیا فرمایا؟

«اَلْحَمْدُ لِلَّہِ الَّذِیْ نَصَرَ عَبْدَہُ» (مسند احمد:3856) اللہ نے اپنے بندے کی مدد کی ہے، میں اس کا شکر ادا کرتا ہوں۔

اس تقویٰ کے کچھ مدارج ہیں، یعنی درجات ہیں، کم، درمیانہ، زیادہ۔ یا اس طرح سمجھ لیں کہ ایک عام مومن کا تقویٰ ہے، ایک عام مؤمن کا توکل ہے اور ایک خاص مؤمنوں کا تقویٰ اور توکل ہے اور تیسرا درجہ بہت ہی خاص، اخص الخواص، یعنی بہت ہی اونچے لوگ جو ایمان اور عمل میں ممتاز ہیں۔ تیسری قسم کا توکل ان کا ہے۔

توکل کا پہلا درجہ جو سب مومنوں کے لیے ضروری ہے، اور اس کی وضاحت امام غزالی نے ’منہاج العابدین‘ میں کی ہے:

آدمی کو یقین ہو، دلی، قلبی یقین کہ رزق، عزت اور حاجتوں، ضرورتوں کا پورا ہونا، دعاؤں کا پورا ہونا صرف ایک اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ یہ پہلا درجہ ہے۔ اس کے ساتھ یہ یقین بھی کہ اللہ کو کسی کام کے لیے اسباب کی ضرورت نہیں ہے،وہ اسباب کا محتاج نہیں ہے۔ ہم انسان محتاج ہیں کہ کسی بھی کام میں کامیابی کے لیے طریقے اختیار کرنے پڑتے ہیں، دنیاوی اسباب اکٹھے کرنے پڑتے ہیں۔ ان میں محنت بھی شامل ہے، کوشش بھی، مال بھی، اور دیگر چیزیں بھی شامل ہیں۔ اللہ کو ان کی ضرورت نہیں ہے۔

﴿ إِنَّمَا أَمْرُهُ إِذَا أَرَادَ شَيْئًا أَن يَقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ﴾ (سورة ياسين: 82)

اس کا معاملہ تو یہ ہے کہ وہ جب کسی کام کا ارادہ کرتا ہے تو کہتا ہے ’ہو جا‘ اور وہ ہو جاتا ہے۔

اللہ کو اسباب کی ضرورت نہیں ہے لیکن انسان کو ہے۔اس لئے اسباب کو چھوڑیں نہیں ، اسباب اختیار کریں، دنیاوی وسائل اور کامیابی کے طریقے اختیار کریں، لیکن ان پر اعتماد نہ کریں۔ یقین یہ رکھیں کہ کامیابی اللہ سے ہے۔ یہ توکل کا پہلا درجہ اور پہلی قسم ہے، علماء کی زبان میں بات کریں تو اسے ’تَرْكُ الْاِعْتِمَادِ عَلَی الْأَسْبَابِ‘ کہا گیا ہے۔ یعنی اسباب پر اعتماد نہ کرو، بلکہ اللہ پر کرو۔

جیسے مشہور ہے کہ ایک شخص مسجد میں آیا اور اپنی سواری کو، اونٹ کو باہر چھوڑ دیا۔ نبی کریم ﷺ کو پتہ چلا تو آپ نے فرمایا: اس کا گھٹنا باندھ کر آؤ۔ لیکن توکل گھٹنا باندھنے پر نہیں، اللہ پر کرو کہ وہ اس کی حفاظت کرے گا۔

حضرت یعقوب نے بیٹوں کو کیا کہا ،سورۂ یوسف دیکھیں ، جب وہ بھائی کی تلاش میں گئے۔ پہلے تو یہی سمجھتے تھے کہ وہ دنیا سے چلا گیا ہے، لیکن جب یعقوب کو کچھ آثار نظر آئے، جب بیٹے ایک سفر کر کے آئے اور وہاں ان سے کہا گیا کہ اس کے سگے بھائی کو بنیامین کو اگلی دفعہ لے آنا،اس طرح کی باتیں سنیں تو آخر نبی آپ بھی تھے،صاحب عقل وفراست بھی تھے،تو انہوں نے کہا کہ مسئلہ کوئی ہے،یوسف ہے دنیا میں ،اللہ اسے ملائے گا،انہوں نے کہا۔

﴿اذْهَبُوا فَتَحَسَّسُوا مِن يُوسُفَ وَأَخِيهِ ﴾ (سورة يوسف: 87)

دوسرے ،تیسرے سفر کی یہ بات ہے،جاؤ جاکے یوسف کو اور اس کے بھائی کو تلاش کرو ،جس کو اس نے اپنے پاس رکھ لیا ہے ۔ ایک نصیحت بھی کی کہ

﴿لَا تَدْخُلُوا مِن بَابٍ وَاحِدٍ وَادْخُلُوا مِنْ أَبْوَابٍ مُّتَفَرِّقَةٍ﴾ (سورة يوسف: 67)

دس بھائی اکٹھے نہ جائیں، اتنے بیٹے، اتنے جوان بیٹے، اکٹھے نہ جائیں کہ کہیں نظر نہ لگ جائے کہ بلکہ شہر کے مختلف دروازوں سے داخل ہونا،ایک دروازے سے نہ داخل ہونا،۔ یہ ایک تدبیر تھی کہ لوگوں کی نظر میں نہ آئیں۔ لیکن آگے کیا فرمایا؟

﴿وَمَا أُغْنِي عَنكُم مِّنَ اللَّهِ مِن شَيْءٍ ﴾ (سورة يوسف: 67)

یہ ایک تدبیر ہے، لیکن کوئی تدبیر اللہ کے فیصلے کا مقابلہ نہیں کر سکتی ۔

﴿ إِنِ الْحُكْمُ إِلَّا لِلَّهِ﴾ (سور يوسف: 67)

اللہ کا حکم چلتا ہے، فیصلہ اسی کا چلتا ہے، وہی کامیاب ہے، ہر چیز پر اس کا فیصلہ ہی حاوی ہے ۔

﴿عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ ۖ وَعَلَيْهِ فَلْيَتَوَكَّلِ الْمُتَوَكِّلُونَ﴾ (سورة التوبة: 129)

یہاں بھی آخر میں یہی فرمایا کہ چونکہ فیصلہ اسی کا چلنا ہے، اس لیے تدبیر اختیار کرو، لیکن بھروسہ اور توکل واعتماد اسی پر رکھو۔

توکل کے بارے میں یہ سمجھنا بھی ضروری ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں کہ اسباب کو ترک کر کے بے دست و پا ہو کے،ہاتھ پاؤں توڑ کے بیٹھ جانا کہ اللہ نے کرنا ہے تو کرتا رہے،وہ خود ہی کرے گا۔ جیسے بندوق کو دھوپ میں رکھ لو کہ وہ خود ہی چل جائے گی، یہ بے وقوفی ہے۔ یہ توکل نہیں ہے۔ اس سلسلے میں ایک حکایت میں نے ایک دفعہ بیان کی تھی۔

اور وہ یہ تھی کہ ایک مالدار تاجر کا، کامیاب تاجر کا بیٹا کاہل تھا، سست تھا، اور کسی کام میں دلچسپی نہیں لیتا تھا۔ باپ نے اسے سمجھایا، اس نے کہا: ’’جی آپ خود ہی بتاتے ہیں کہ رزق اگر دینا ہے تو اللہ نے دینا ہے، سب کام اللہ نے کرنے ہیں، تو وہ دے گا ہمیں، ہم کام کریں یا نہ کریں۔‘‘ اس نے کہا: ’’نہیں ایسا نہیں ہے، انسان کو کوشش کرنی پڑتی ہے، نتیجہ اس کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔‘‘ مال تجارت اسے دیا، قافلے کے ساتھ روانہ کیا کہ جاؤ ،جا کے تجارت کا کام کرو ۔ وہ گیا اور قافلہ آگے چلا گیا۔ وہ قافلے کو چھوڑ کے کچھ دنوں کے بعد واپس آگیا۔ پوچھا، کیا ہوا؟‘ اس نے کہا: ’’جنگل میں میں نے ایک منظر دیکھا جس نے میرے خیالات کو اور میرے توکل کو اور مضبوط کر دیا۔‘‘پوچھا، کیا منظر دیکھا؟اس نے کہا: ’’جی، ہم جا رہے تھے، رات کے وقت دیکھا کہ لومڑی بوڑھی ہے، بیمار ہے، حرکت بھی نہیں کر سکتی اور وہ پڑی ہوئی ہے ایک درخت کے نیچے۔ تو میں نے سوچا کہ یہ جو درس میرے ابا دیتے ہیں اور لوگ دیتے ہیں، مولوی دیتے ہیں کہ اللہ سب کو دیتا ہے اور اللہ کے ذمے سب کا رزق ہے، دیکھتے ہیں کہ اس کو کیسے دے گا؟ یہ تو ہل بھی نہیں سکتی، ادھر ادھر جا سکتی ہے، کچھ تلاش بھی نہیں کر سکتی۔‘‘ ہمارے قافلے کا قریب ہی پڑاؤ تھا ، تو رات کے وقت یہ دیکھنے کے لیے میں جاگ رہا تھا، میں نے دیکھا کہ کچھ فاصلے پہ ایک شیر نے شکار کیا۔ اپنا پیٹ بھرا اور جو بچا ہوتا ہے، چھوڑ کے چلا گیا۔ یہی شیر کی عادت ہے کہ وہ بچے ہوئے کو چھوڑ کے چلا جاتا ہے۔ تھوڑا فاصلہ تھا، لومڑی مشکل سے گھسٹ گھسٹ کر اس چھوڑے ہوئے گوشت کے پاس پہنچی اور اس نے بھی اپنا پیٹ بھر لیا۔ تو اس نے کہا کہ میرا یقین کامل ہو گیا، پہلے سے بھی پختہ ہو گیا کہ اللہ بیمار کو، اپاہج کو، معذور کو، ہل چل نہ سکنے والے کو بھی دیتا ہے، تو مجھے دے گا، گھر میں بیٹھتے ہیں، اللہ خود ہی دے گا۔تو باپ نے اس کا بڑا عقل و فہم والا جواب دیا۔ اس نے کہا کہ ’’ٹھیک ہے، ایسا ہوتا ہے، اللہ سب کو دیتا ہے، لیکن میں چاہتا ہوں تم بیمار لومڑی نہ بنو، بلکہ شیر بنو، خود بھی شکار کرو، خود بھی کھاؤ اور دوسروں کو بھی کھلاؤ۔ تو توکل کا مطلب ہاتھ توڑ کے بیٹھنا نہیں۔‘‘

دوسری قسم یا توکل کا دوسرا درجہ یہ ہے کہ کوئی مشکل ہو، تکلیف ہو، بیماری ہو، تکلیف ہو، مصیبت ہو، مشکل ہو، دوسروں کے سامنے اس کا ذکر بھی نہ کریں۔ یہ ان کے اور مالک کے درمیان معاملات ہیں۔ یعقوب کی بات:

﴿إِنَّمَا أَشْكُو بَثِّي وَحُزْنِي إِلَى اللَّهِ﴾ (سورة يوسف: 86)

میں اپنے غم کا اظہار صرف اللہ کے سامنے کرتا ہوں ، لوگوں کے سامنے نہیں۔ یہ توکل کا دوسرا درجہ ہے۔

اس کے بعد تیسرا درجہ یہ کہ اسباب اختیار کریں یا نہ کریں، لیکن یہ اسباب نظروں سے گر جائیں، نظر میں ان کی اہمیت ہی نہ رہے کہ یہ بھی کچھ کر سکتے ہیں۔یہ اعلیٰ درجے کا توکل ہے، اس کے بارے میں نبی کریم ﷺ نے فرمایا:

«لَو أَنَّكُمْ تَتَوَكَّلُونَ عَلَى اللهِ حَقَّ تَوَكُّلِهِ، لَرَزَقَكُمْ كَمَا يَرْزُقُ الطَّيْرَ، تَغْدُو خِمَاصًا وَتَرُوحُ بِطَانًا» (مسند أحمد: 205)

’’اگر تم اللہ پر اس طرح پورا توکل کرو ، جس طرح توکل کرنے کا حق ہے، تو وہ تمہیں بھی اس طرح رزق دے جس طرح پرندوں کو دیتا ہے۔‘‘

پرندوں کو کس طرح دیتا ہے؟ آپ نے وضاحت فرمائی کہ صبح نکلتے ہیں خالی پیٹ اور کچھ پتہ نہیں ہوتا کہ کیا ملے گا، کہاں سے ملے گا۔ شام کو آتے ہیں، ان کے معدے، ان کے پیٹ بھرے ہوتے ہیں۔ کچھ نہ کچھ انہیں ملا ہوتا ہے،اچھا خاصہ ملاہوتاہے، کہیں سے بھی ملے۔ ایسے متوکلین جو اعلیٰ درجے کے ہیں، ان کے بارے میں ایک حدیث میں آپﷺ نے یہ بھی فرمایا کہ میری امت میں سے ستر ہزار اور ستر ہزار کی تعداد کثرت پر دلالت کرتی ہے کہ ایک کثیر تعداد لوگوں کی بغیر حساب کے جنت میں جائیں گے اور آپﷺ نے فرمایا یہ لوگ ہیں، پورا توکل کرنے والے۔جوفالیں نہیں لیتے، بد فالی اور نیک فالی کا شکار نہیں ہوتے، سب کچھ اللہ پر چھوڑ دیتے ہیں۔ حضرت عکاشہ صحابی مجلس میں موجود تھے، انہوں نے فوراً کہا: ’’اللہ کے رسول، میرے لیے دعا کریں، مجھے اللہ ان ستر ہزار میں شامل فرما دے۔‘‘

آپﷺ نے فرمایا:

«أَنْتَ مِنْهُمْ» (صحیح مسلم:218)

تو انہی میں سے ہے، یعنی ، بات ہو گئی۔ بعد میں کسی نے کہا تو آپﷺ نے فرمایا:’’ عکاشہ اس میدان میں آگے بڑھ گیا، اس نے پہلے درخواست کی، اس کے لیے میں نے دعا کر دی۔ اب ہر ہر ایک کے لیے تو نہیں کروں گا۔‘‘

توکل کا فائدہ کیا ہے؟

اس سے ایمان مضبوط ہوتا ہے۔ یہ ایمان کا نتیجہ بھی ہے اور ایمان کی بنیاد بھی۔ اس سے ایمان مضبوط تر ہوتا ہے۔ دوسرا، اللہ پھر کارساز بنتا ہے، جب اس کو کارساز دل سے مان لو، کام بنانے والا مان لو، تو وہ کام بناتا ہے۔ توکل کا یہ فائدہ ہوتا ہے اور تیسرا، نفسیاتی فائدہ ہے۔ نفسیاتی فائدہ یہ ہے کہ اس سے انسان میں Self-Confidence خود اعتمادی آتی ہے، خود اعتمادی اس میں آتی ہے کہ میرا اللہ میرے ساتھ ہے، میں نے اللہ پر اعتماد اور بھروسہ کیا ہے، وہ یقیناً میری مدد فرمائے گا۔

توکل کے سلسلے میں اسوہ حسنہ نبی کریم ﷺ کے طریقوں سے ملتا ہے، آپ جب بھی گھر سے نکلتے، ایک دعا پڑھ کے نکلتے ۔ دعا کیا ہے؟

«بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلتُ عَلَى اللهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللهِ» (جامع ترمذى: 3426)

یاد کر لیں، آسان ہے۔ آگے بھی ہے لیکن وہ نہ بھی آتی ہو، اتنے الفاظ بھی کافی ہیں: بسم اللہ، اللہ کے نام سے، اللہ کا نام لے کر نکلتا ہوں اورتوکلت علی اللہ ، میرا بھروسہ اللہ پر ہے، بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلتُ عَلَى اللهِ۔ ہر ایک کو یہ یاد کرنی چاہیے گھر سے نکلتے ہوئے۔ اور پھر آپ آگے فرماتے ہیں:

«اللَّهُمَّ أَعُوذُ بِكَ أَنْ أَضِلَّ، أَوْ أُضَلَّ، أَوْ أَزِلَّ أَوْ أُزَلَّ، أَوْ أَظْلِمَ أَوْ أُظْلَمَ، أَوْ أَجْهَلَ أَوْ يُجْهَلَ عَلَيَّ» (سنن أبي داؤد: 5094)

’’یا اللہ، میں تیری پناہ میں آتا ہوں اس بات سے کہ میں کسی کو گمراہ کروں یا کوئی مجھے گمراہ کرے، میں پھسل جاؤں یا کوئی مجھے پھسلا دے، میں کسی پر زیادتی کروں یا کوئی مجھ پر زیادتی کرے، میں جہالت کا مظاہرہ کروں یا مجھ پر کوئی جاہلانہ حملہ کرے۔‘‘

یہ دعا کر کے نکلتے ہیں۔ کیسی عجیب اور کیسی مفید دعا ہے! لیکن اگر ساری یاد نہ ہو تو یہی کہہ دیں :

بِسْمِ اللہِ تَوَکَّلْتُ عَلَی اللہِ

اور آپﷺ نے فرمایا : جو کوئی اس طرح پڑھتا ہے، تھوڑی سی دعا بڑھا کرپڑھ لے۔ اسے «بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلتُ عَلَى اللهِ، وَلَا حَوْلَ وَلَا قُوَّة إِلَّا بالله» (جامع ترمذى) کہہ دیں، یہ بھی آسان ہے:

«بِسْمِ اللهِ تَوَكَّلتُ على اللهِ، وَلاَ حَوْلَ وَلَا قُوَّة إِلَّا بالله» (جامع ترمذى: 3427)

آپ نے فرمایا جو اس طرح کہتا ہے، اسے کہا جاتا ہے۔ اگرچہ وہ سنتا نہیں، لیکن اسے کہا جاتا ہے، آپﷺنے بتایا کہ اسے کہا جاتا ہے۔ فرشتہ کہتا ہے:«هُدِیْتَ، وَکُفِیْتَ وَوُقِیْتَ» (أبو داؤد: 5095) ’’تو نے ہدایت والی بات کی ہے، بڑی اچھی بات کی ہے، تیرے لیے کافی ہو گیااللہ اور تو شر اور مصیبت سے بچا لیا گیا۔‘‘

یہ کہنے کی وجہ سے۔ عملاً یہ تو زبانی بات تھی، آپ نے عملاً توکل کیا، کہاں کہاں کیا؟ کیسے کیسے کیا۔ طائف میں تکلیف آئی، گھیراؤ ہوا، پتھر بازی ہوئی، سنگ زنی ہوئی، تو کیا کہا؟«إِلَیْكَ أَشْکُوْ ضعْفَ قُوَّتِیِ» (معجم طبراني: 14/139)

تیرے پاس ہی شکایت کرتا ہوں، تیری طرف رجوع کرتا ہوں، ان سے بچا مجھے۔ اس سے پہلے جب ابو طالب پر قوم کا دباؤ بڑھا، کہ حمایت چھوڑو اپنے بھتیجے کی، یہ ہمارے بتوں کو برا کہتا ہے کہ ان کے قبضے میں کچھ نہیں ہے۔ اس نے کہا کہ کچھ Compromise کر لو، تو آپ نے کہا تھا کہ سورج اور چاند بھی اتار کے لے آئیں، میرے ہاتھوں پہ ان کا بوجھ ڈال دیں، میرے جسم پر ڈال دیں، «مَا أَنَا بِتَارِكِهَا» (صحيح بخارى: 774) میں اپنی ڈیوٹی نہیں چھوڑوں گا۔ یہ کیا تھا ؟ یہ اللہ پر بھروسہ تھا، توکل تھا، جس نے آپﷺ سے یہ کہلوایا۔

ہجرت کے وقت بھی گھر کا محاصرہ تھا ، تلواریں بے نیام تھیں، خون پینے کے لیے مقدس خون۔ لیکن آپ شاهت الوجوہ کہتے ہوئے گھر سے نکلے، اللہ تعالیٰ نے بینا لوگوں کو اندھا کر دیا۔ وہ نہیں دیکھ سکے، انہیں نہیں پتہ چلا، آرام سے نکل آئے۔ یہ اللہ پر توکل تھا۔غار ثور میں ساتھی نے کہا:

«لَوْ أَنَّ أَحَدَهُمْ نَظَرَ إِلَى قَدَمَيْهِ أَبْصَرَنَا تَحْتَ قَدَمَيْهِ» (صحيح مسلم: 6169)’’دشمن ہمارے اوپر پہنچ گیا ہے، میں نے وہ جگہ دیکھی ہے، اس کے اوپر، چھوٹی سی غار کے اوپر جگہ، دشمن وہاں تک پہنچ گیا ہے تو عرض کیا کہ وہ نیچے تھوڑا جھک کے اپنے قدموں کی طرف دیکھیں تو ہم انہیں نظر آ جائیں گے۔‘‘

سید المتوکلین، دنیا بھر میں توکل کرنے والوں کے سردار، ہمارے نبی اکرم ﷺ نے کیا فرمایا؟

«مَا ظَنُّكَ يَا أَبَا بَكْرٍِ بِاِثْنَيْنِ اللهُ ثَالِثُهُمَا» (صحيح بخارى: 3653)

ابوبکر، ان دو بندوں کے بارے میں تمہارا کیا خیال ہے جن کا تیسرا اللہ ہے، ان کو کیسے کوئی پکڑے گا؟ دیکھتے رہیں نیچے، کیسے ہمیں پکڑیں گے، کیسے ہمیں دیکھیں گے۔پھر ایک موقع پر رسول کریمﷺ پر توکل کی آیت کریمہ آ ئی۔

﴿يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ ۖ وَإِن لَّمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ﴾ (سورة المائدة: 67)

اے رسول، پہنچا دے جو اللہ کی طرف سے آپ پر نازل ہوا۔ نہیں کریں گے، نہیں پہنچائیں گے تو حق رسالت ادا نہیں ہوگا اور لوگوں کی پرواہ نہ کریں۔ اللہ آپ کی حفاظت کرے گا۔ آپﷺنے خیمے کا پردہ ہٹایا، پہرے پر جو صحابی کھڑے تھے، آپ ﷺنے فرمایا:’’جاؤ اپنے اپنے خیموں میں آرام کرو۔ اس نے میری حفاظت کا ذمہ لے لیا۔‘‘

ایک اور سفر میں الگ خیمے میں آرام کر رہے تھے، دوپہر کا وقت، سب اپنے اپنے خیموں میں تھے۔ ایک بدو آیا، اس نے آپ ہی کی تلوار اتاری، جو ساتھ ہی لٹکی ہوئی تھی، اتاری۔ وہ بہادر آدمی تھا، اس نے آپﷺ کو جگایا، سوتے ہوئے پر وار نہیں کیا۔ جگایا اور کہا: “مَنْ یَّعْصِمُكَ مِنِّیْ.” (السلسلة الصحيحة: 2489) ’’ بتاؤ محمد ﷺ، تمہیں مجھ سے کون بچائے گا؟’’توکل کی بات، آپ نے ایک لفظ میں جواب دیا، فرمایا: ’’اللہ۔‘‘ اللہ اور اس جوش سے، اس جذبے سے، اس توکل سے، اس اعتبار سے کہا کہ اس کا ہاتھ کانپا اور تلوار نیچے گر گئی۔ آپ نے وہی تلوار اٹھائی، آپ نے فرمایا: ’’اب تمہیں کون بچائے گا؟‘‘ وہ تو مومن نہیں تھا، وہ تو متوکل نہیں تھا۔ اس نے کہا: ’’آپ مہربانی فرمائیں گے تو بچوں گا ورنہ کوئی صورت نہیں۔‘‘ تو آپ نے فرمایا: ’’جاؤ، چپکے سے نکل جاؤ۔‘‘ یہ ہے وہ توکل جس کی مثالیں آپ نے قائم کی ہیں۔ اللہ تعالیٰ ہمیں ایمان کی دولت اور توکل سے سرفراز فرمائے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں