
تعزیتی مراسلہ
بر وفات حسرت آیات پروفیسر سینیٹر ساجد میر رحمہ اللہ
از طرف مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ
بنام محترم جناب ڈاکٹر حافظ عبد الکریم ﷾ ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان
عزت مآب ڈاکٹر علی محمد ابو تراب﷾ قائم مقام مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان، ملکی وصوبائی ذمہ داران مرکزیہ
السلام عليكم ورحمة الله وبركاته
حضرت علامہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر رحمہ اللہ کی وفات حسرت آیات جملہ اہل حدیث کے لیے بالعموم اور مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے لیے بالخصوص ایک ناقابل فراموش صدمہ ہے۔
إنا لله وإنا إليه راجعون، اللهم اغفرله وارحمه وأدخله الجنة الفردوس.
یقیناً آپ جیسے اعلامِ امت اور عہد ساز شخصیات کا دنیا سے رخصت ہو جانا جہاں دنیا کی بے ثباتی کی واضح علامت ہے، وہیں قرب قیامت کی نشانی بھی ہے۔
حضرت پروفیسر صاحب رحمہ اللہ کی زندگی دعوت قرآن وسنت کی آبیاری، مسلک اہل حدیث کی بے لوث خدمت اور ہر سٹیج پہ بے باکی کے ساتھ حق گوئی کا استعارہ تھی۔ آپ عالم اسلام ہی میں نہیں بلکہ دنیا بھر میں بسنے والے حاملین کتاب وسنت میں مسلک اہل حدیث کی پہچان تھے۔ آپ اہل حدیث کا وقار اور فخر تھے۔
مسلک وجماعت کے لیے آپ کی خدمات جلیلہ اور کارنامہ ہائے رفیعہ تاریخ کا ایک سنہری باب ہیں۔ اتحاد امت سے لے کر وحدت جمعیت تک آپ کی مخلصانہ کاوشیں اور ان تھک محنتیں اپنی مثال آپ ہیں۔
علامہ احسان الہی ظہیر رحمہ اللہ کی شہادت کے بعد آپ نے جہد مسلسل، حکمت، دانش مندی اور اخلاص کے ساتھ بکھری ہوئی جماعت کو ایک لڑی میں پرویا، جماعتی ساتھیوں کے شکستہ دلوں کو نئی اُمنگ اور حوصلہ دیا اور جماعت کے مرجھائے ہوئے چمن کو آشنائے بہار کیا۔امیر جماعت کی حیثیت سے جہاں آپ نے جمعیت کو مضبوط ومستحکم بنایا وہیں دیگر جماعتوں کے ساتھ کسی مداہنت کے بغیر اعتدال وتوازن کو قائم رکھتے ہوئے اور جماعت ومسلک کے وقار کو مقدم رکھتے ہوئے پوری وسعت نظری سے ہمیشہ اتحاد کا پرچار کیا۔ اسی طرح اللہ تعالیٰ کی جانب سے آپ کو اس پُرفتن دور میں بھی حق بات کہنے، قبول کرنے اور اس کی تائید کرنے کا ایسا عظیم حوصلہ ودیعت کیا گیا تھا کہ اس حوالے سے سبھی نے آپ کو بے باک اور بے لوث پایا۔
بلا شبہ گوناگوں خصوصیات سے متصف آپ کی شخصیت میر کارواں کی حیثیت سے نگہ بلند سخن دل نواز جان پرسوز کی عملی تعبیر بنی رہی۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو حقیقی معنوں میں مفتاح الخیر (خیر کی کنجی) اور مغلاق الشر (شر کا تالا) بنایا تھا۔
آپ کی للہیت سے معمور نجی زندگی، درد دل سے بھری جماعتی زندگی، بے داغ سیاسی زندگی اور با اصول سماجی زندگی نہایت قابل رشک ہے۔
عجز وانکسار، تواضع، اپنائیت، تحمل مزاجی اور حسن اخلاق کوئی آپ سے سیکھے۔ سادگی اس قدر رشک آمیز کہ سلف صالحین کی یاد تازہ کردے۔ جماعتی اور حکومتی اعلیٰ عہدوں، ملک وبیرون ملک عظیم مقبولیت اور علم وبصیرت کے باوجود اپنی گفتگو، کردار اور رویہ سے کبھی بھی تعلی وتفاخر کا مظاہرہ نہیں کیا بلکہ ہمیشہ بڑوں کے ساتھ احترام واکرام اور چھوٹوں کے ساتھ محبت وشفقت آپ کا شیوہ تھی۔
آپ میں جلال بھری کم گوئی اور حکمت بھری حق گوئی دونوں صفات کا توازن پایا جاتا تھا۔ انہی خصال حمیدہ کی بنا پہ آپ کو شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے مسلمانان میں ایک خاص مقبولیت عطا ہوئی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ائمہ حرمین، شیوخ الحدیث، علمائے کرام اور سیاستدانوں سے لے کر عوام تک آپ کی رحلت کی وجہ سے پیدا ہو جانے والے خلا کو محسوس کیا جا رہا ھے۔ إنا لله وإنا إليه راجعون
آپ کی وفات کے صدمے سے ہر اہل حدیث کی آنکھیں نم ہیں اور آپ کے سانحہ ارتحال کے غم میں مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے ساتھ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ برابر کی شریک ہے۔ إن العين لتدمع وإن القلب ليحزن ولا نقول إلا ما يرضي ربنا.
ہم بارگاہ الٰہی میں دست بستہ فریاد کناں ہیں کہ وہ حضرت ساجد میر رحمہ اللہ کی حسنات کو شرف قبولیت عطا فرمائے، آپ کی بشری لغزشوں سے درگزر فرمائے، آپ کی مرقد کو نور سے بھردے، اسے جنت کا باغیچہ بنا دے اور جماعت کو ان کا نعم البدل عطا فرما دے۔ آمین یا رب العالمین۔
مولانا شعیب احمد میر پوری
امیر مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ
قاری ذکاء اللہ سلیم
ناظم اعلیٰ مرکزی جمعیت اہل حدیث برطانیہ
تبصرہ کریں