
یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اللہ کے بندوں میں علم رکھنے والے اور نہ رکھنے والے دونوں برابر نہیں ہو سکتے، ٹھیک اسی طرح نور اور ظلمات بھی برابر نہیں ہیں اور یہ بھی حقیقت ہے کہ دنیا میں انسان اپنی جہالت، نادانی اور لاعلمی کی بناء پر روشنی کا ناقدرداں ہو کر ایک ایسی بد ترین حالت میں پہنچ جاتا ہے جہاں اسے اندھیری راہوں سے صبح وشام واسطہ پڑتا ہے جسے قرآن کی اصطلاح میں ظلمات کہا جاتا ہے۔
اللہ تبارک تعالیٰ کی یہ سنت قدیم ہے کہ وہ کبھی بھی اپنے بندوں کو ظلمات و اندھیروں سے بچانے کیلئے اپنے انبیاء کو مبعوث فرماتا رہا تاکہ اندھیری راہوں میں ٹھوکریں کھانے والی نوع انسانی کیلئے یہ چراغ راہ بن جائے، چنانچہ انسان اول سیدنا آدم سے لے کر سیدنا آنحضور ﷺ کی ذات گرامی بابرکت پر اس سلسلہ نبوت کو ختم فرما دیا۔ اب آپﷺ قیامت تک کیلئے آخری نبی ہیں اور آپ پر نازل کردہ کتاب قرآن حکیم اللہ کی طرف سے سارے اولاد آدم کیلئے خواہ یہ جہاں بھی رہتے بستے ہوں آخری ہدایت نامہ و دستور حیات ہے اور آپﷺ کی حیثیت قیامت تک کیلئے بندگی رب کا اعلیٰ ترین اور قطعی نمونہ ہے۔ اب آپﷺ کے دنیا سے تشریف لے جانے کے بعد کار نبوت کی ذمہ داری آپ کے حقیقی وارثوں کے کاندھوں پر آن پڑی ہے۔
نبی ﷺ کے حقیقی وارث علماء کرام دین متین ہیں، امت کے علماء زمین پر چراغ ہیں، اگر یہ نہ ہوں تو سارا عالم ظلم و اندھیرے میں ڈوب جاتا ہے، انہیں ورثۃ الانبیاء اسی لئے کہا گیا کہ یہ اپنے نبیﷺ کے حقیقی وارث ہیں اور نبیﷺ اپنے پیچھے مال وزر دینار و درہم اورخزانے نہیں چھوڑتے بلکہ اپنے پیچھے ایک ایسی عظیم و انمول چیز چھوڑتے ہیں جس سے اولاد ِآدم، دنیا و آخرت کی تمام بھلائیاں حاصل کرسکتی ہے جو کسی بھی انسان کو دنیا میں حاصل تمام خزانے خرچ کرنے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتی، وہ ہے’علم‘۔ اس طرح اب علماءِ کرام کا وجود دنیا کیلئے ایک چراغ کے مانند ہے، یہ جہاں بھی رہیں اطراف کا ماحول ہمیشہ روشن وجگمگاتا رہے۔
“العلماء مصابیح الأرض”
یوں ہی نہیں کہا گیا بلکہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک یہ جماعت علماء انتہائی محبوب ترین گروہ ہے اور اللہ نے ایک عَالِم کو ایک بڑے سے بڑے عابد پر فضیلت بخشی ہے، اس لئے کہ یہ لوگ اللہ کے آخری نبیﷺ کے وصال کے بعد کارنبوت کو جاری رکھنے والے ہیں۔ اللہ تعالیٰ جسے بھی کسی بھاری ذمہ داری پر فائز فرماتا ہے اس کی جوابدہی اور پوچھ بھی بہت زیادہ ہے۔ علماء کرام کو زمین پر چراغ اس لئے کہاگیا ہے کہ یہ جہاں بھی جس جگہ بھی ہو اس کے گرد و بیش کا ماحول روشن رہے، لہٰذا اب علماء کرام کی یہ اہم ذمہ داری ہے کہ جہاں رہے وہاں اپنے علم وعمل کے اجالے پھیلاتے رہے تاکہ اس کی روشنی سے دنیا منور رہے۔
آج الحمد اللہ نبیﷺ کے یہ وراث ہزاروں، لاکھوں کی تعداد میں ہندوستان کے علاوہ یورپ امریکا برطانیہ کے علاوہ ساری دنیا میں پائے جاتے ہیں اور ہرسال ہمارے مدارس اسلامیہ میں یہ علم کے مینار ڈھل ڈھل کر نکلتے ہیں تاکہ دنیا میں مقاصد نبوت و کار نبوت جاری رہے۔ یہ سلسلہ بڑے ہی اہتمام سے جاری ہے اور انشاء اللہ روز قیامت تک جاری رہے گا۔
حالات حاضرہ کا جائزہ لینے سے معلوم ہوگا کہ اس وقت پوری دنیا میں بالخصوص ؛ ہندوستان جو کہ اولاد آدم کا پہلا گھر و مقام کی حیثیت سے اسے فخر حاصل ہے، کیونکہ ایک خدا کی بندگی اسی کی پوجا وپرستش اور عبادت کا سب سے پہلے اسی دھرتی پر پاٹھ پڑھایا گیا تھا کہ تمہارا خدا ایک خدا ہے، تم سب اسی کے بندے ہو، جو کچھ ہدایات خدا تعالیٰ کی طرف سے آتے رہیں اس پر مکمل طور پر کار بند ہوجاو۔ لیکن دنیا میں پاے جانے والے ممالک کے حالات یہ بتا رہے ہیں کہ ہر طرف ظلمات ہی ظلمات کابول بالا ہے، روشنی کو ظلمات اور ظلمات کو انوار سمجھا جارہا ہے ۔ لوگوں کی اکثریت اندھیری راہوں پر گامزن ہے، اللہ کی اتاری ہوئی روشنی اور اس کے علم کو ناقدری کی نگاہوں سے دیکھا جارہا ہے، ضلالت و جہالت کی مختلف شکلیں روز بروز نمودار ہوتے جارہی ہے، جو لوگ امن کی راہ پر چلنے اور چلانے کی بات کرتے ہیں تو منکرآخرت لوگ ان کی راہ میں کانٹے بچھاتے نظر آرہے ہیں اور سب سے بڑا اندھیرا اور ظلم بلکہ ظلمات یہ ہے کہ خدائے واحد لاشریک کے ساتھ علانیہ بغاوت صبح و شام ہورہی ہے، آخر ایسا کیوں؟
آج شیطان ملعون پرانے مشرکانہ عقائد و اعمال کو نیا لبادہ پہنا کر اولاد آدم کے سامنے پیش کررہا ہے،باطل طاقتیں اسلام کے خلاف کچھ اس طرح کی نامسعود حکمت عملیاں اپنائے ہوئے ہیں جو بظاہر نظر نہیں آتیں۔
زر پرستی علانیہ ہورہی ہے،مقابلہ حسن کے حسین نام پر قوموں کی بیٹیاں برہنہ کردی جارہی ہیں، جہیز کی لعنت کی بنا پر سینکڑوں خواتین کو تیل ڈال کر آگ لگائی جاری ہے اور دیگر طریقوں سے ان معصوموں کی جان لی جارہی ہے،دختر کشی کا عمل بھی ہورہا ہے،خواتین و لڑکیوں کی عزت و آبرو لوٹی جارہی ہے،زنا بالجبر کے واقعات عام سی بات ہوکر رہ گئی ہے،فحاشی و زنابالرضا اور عریانیت انسانی سماج میں پائی جارہی ہے،بناو سنگھار کے بیجا اظہار کی کوششیں صنف نازک کو تباہی کی طرف لے جارہی ہے مخلوط تعلیمی ادارہ جات نے نوجوانوں کو اخلاقی پستی کی طرف ڈھکیل رہے ہیں،صرف بڑی عمر ہی کے نہیں بلکہ نوجوان طبقہ بھی شراب نوشی و دیگر نشیلی اشیاء کا عادی ہوچکا ہے۔ علاوہ ازیں،اونچی ذات نیچی ذات کے احمقانہ مفروضے قائم ہوگئے ہیں۔ اسلام سے قبل کا وہی سودی نظام پوری شدت کے ساتھ نافذ ہوچکا،جس کی بدولت سرمایہ دار طبقہ غریبوں کا خون چوس رہا ہے،انسانوں کے بنیادی حقوق سلب کرلئے جارہے ہیں اور جس طرح ایام جاہلیت میں بڑے بڑے طاقتور قبیلوں کی اجارہ داری قائم ہوچکی تھی ٹھیک اسی طرح ایک دوسرے انداز سے طاقتور ممالک اور گروہ اپنی اجارہ داری قائم کرچکے۔ اور ریاستوں کا بھی یہی کچھ حال ہے۔
سلامتی کے نام سے اٹھنے والی ہر آواز کو دبانے کیلئے ہر طرح کی کوششیں کی جارہی ہیں، نبیؐ کے ناقدرے اور دیگر مشرکین،آقائے نامدار،سرکار دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان اقدس میں گستاخیاں کرنے کیلئے نت نئے طریقہ اپنائے ہوئے ہیں۔ مسلمانوں کے قبلہ اول پر ناجائز قبضہ ہوچکا، وہاں کے اصلی باشندوں کو جیل نما علاقہ تک محدود کردیا گیا، اور جب چاہے بم باری کرتے ہوئے ان کے گھروں کو تباہ و برباد کردیا جارہا ہے۔ غرضکہ تاریخی مسلم عبادت گاہوں پر بری نظریں رکھی جارہی ہیں۔
مسلمانوں کے تشخص کو ختم کرنے کی دنیا بھر میں کوششیں کی جارہی ہیں اور ملت اسلامیہ کی حالت یہ ہوچکی کہ ان کے ہاتھ جو کہ لوگوں کو کچھ دینے کیلئے بنائے گئے تھے لیکن یہی ہاتھ اب صاحب اقتدار لوگوں کے سامنے کچھ تحفظات کیلئے پھیلائے جارہے ہیں یہ اور اس طرح کی دیگر باتیں مسلمانوں کو بحیثیت خیر امت لمحہ فکر دے رہے ہیں۔
اب جہالت جدیدہ تو جہالت قدیمہ کو پیچھے چھوڑ چکی ہے
حکومت و اقتدار کی خواہش میں ناجائز طریقے اختیار کرنا ذخائر سم و زر کی حرص، بے روک ٹوک جنسی خواہشات کی تکمیل، زن و مرد کی مخلوط تہذیب،عریانی و بے حیائی، جوا شراب نوشی، وطن پرستی و قوم پرستی، جیسے انسانیت سوز اعمال موجب فخر و ناز تھے۔ انسانوں پر انسانو ں کی حکومت تھی۔ یہ حالت صرف عربوں کی ہی نہیں تھی بلکہ کم و بیش پوری دنیا کا یہی نقشہ تھا۔
ذرا غور سے دیکھئے، تو معلوم ہوگا کہ آج کی نام نہاد مہذب اور ترقی یافتہ دنیا کی بھی وہی حالت ہے۔ مذہبی دنیا ہو کہ لا مذہب دنیا، ان کے معاشرے ان کی تہذیب، ان کے اخلاق و معاملات، ان کی حکومت اور سیاست کا جائزہ لیجئے تو صاف نظر آتا ہے کہ جہالت قدیمہ سے بڑ ھکر جہالت جدیدہ اپنا رنگ دیکھارہی ہے۔ چپہ چپہ پر فتنہ و فساد کی جو آگ بھڑک رہی ہے،انسان انسان ہی سے بد ظن و خائف ہے۔ مزدوروں اور سرمایہ داروں کی جو کشمکش ہے مخلوط تہذیب کے جو حیا سوز کارنامے ہیں،انسانوں پر انسانوں کی حکومت کی جو تباہ کاریا ںہیں یہ تمام جہالت ہی کی ہنگامہ آرائی ہے۔
جہالت قدیمہ بھی الٰہی تعلیم کو بھول جانے کا قدرتی رد عمل تھا اور جہالت جدیدہ بھی الٰہی تعلیم سے اعراض و روگرداں ہونے کا رد عمل ہے، یہ ترقی یافتہ دنیا دراصل ترقی یافتہ جہالت ہے۔ (مستفاد کتاب اسوہ حسنہ از حضرت علامہ صفوۃ الرحمن صابر )
آج تمام انسانیت کو یہ یقین دلانے کی شدید ضرورت ہے کہ نوع انسانی کی فلاح و کامیابی صرف اسلام میں ہے۔ اگر ہمارے علماء کرام اس بات کو عوام تک پہنچانے میں کامیاب ہوجائیں تو نفرتیں کدورتیں کم سے کم ہوتے چلے جائیں گے۔ علماء کا معاشرتی مقام اور قومی کردار کے سلسلہ میں علامہ یوسف القرضاوی یوں رقم طراز ہوئے :
مجموعی طور پر آج بھی علمائے دین اور امت کے درمیان محبت و احترام کا مضبوط رشتہ قائم ہے، عمومی طور پر امت اور علماء کے درمیان کوئی منافرت اور دوری پیدا نہیں ہوئی۔ امت آج بھی علمائے دین کے گرد جمع ہوتی، ان کی بات کو وزن دیتی اور ان کی آواز پر لبیک کہتی ہے۔ اور یہ کیفیت ہر ملک کے اندر موجود ہے۔ اگر کہیں عوام کسی عالم دین سے دور رہتے ہیں تو اس کا بھی کوئی سبب ہوتا ہے۔ عوام عموماً اس عالم سے دور ہوتے ہیں جس کے بارے میں سمجھتے ہوں کہ وہ دنیا کی خاطر اپنا دین فروخت کرتا ہے۔ لیکن جس عالم دین پر لوگوں کو بھرپور اعتماد ہو اس کے ساتھ لوگوں کا رشتہ اور تعلق بڑا سنجیدہ شائستہ اور مضبوط ومستحکم ہوتا ہے۔
اللہ کا شکر ہے کہ علمائے حق ہمیشہ موجود رہے ہیں اور ان کو معاشرے میں ایک برتر مقام حاصل رہا ہے۔ اور ہم نے ہر ملک میں اس کیفیت کا مشاہدہ کیا۔
حقیقی عالم تو وہ ہے جو اپنے علم کو اللہ تعالیٰ کی خوشنودی ورضاکا ذریعہ بنائے۔ وہ اللہ تعالیٰ کے پیغام کو مخلوق تک پہنچاتا ہے۔ وہ اس معاملے میں اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتا۔ ہم نے ’’ عالمی اتحاد برائے علمائے مسلمین‘‘ کا سلوگن اس آیت کو بنایا ہے۔
﴿اَلَّذِیْنَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّہِ وَیَخْشَوْنَهُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَداً إِلَّا اللَّہَ ﴾(سورة الاحزاب)
’’ جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے۔‘‘
اور فطری بات ہے کہ ایساحقیقی عالم تکلیفوں سے دوچار ہوگا۔ اسے پس دیوار زنداں بھی جانا پڑے گا، گرفتار یوں کا سامنا بھی ہوگا، اور بھی طرح طرح کی ایذائیں اور مصیبتیں اسے پہنچائی جاسکتی ہیں۔ اللہ کا ارشاد ہے۔
﴿وَمَا أَرْسَلْنَا مِن رَّسُولٍ إِلاَّ بِلِسَانِ قَوْمِهِ لِیُبَیِّنَ لَهُمْ﴾ ( سورہ ابراہیم:4)
’’ہم نے اپنا پیغام دینے کیلئے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے، اس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ انہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔‘‘
میں اس آیت کی تفسیر یہ کرتا ہوں کہ ایک عالم دین نہ صرف انگریزی میں بات کرتا ہے، اطالوی سے اطالوی میں بات کرتا ہے بلکہ خواص سے خواص کی زبان میں اور عوام سے عوام کی زبان میں، شہریوں سے شہری زبان میں، دیہاتیوں سے دیہی زبان میں بات کرتا ہے کیونکہ ان تمام طبقوں کی اپنی اپنی زبانیں اور محاورے ہوتے ہیں۔ پندرہویں صدی کے لوگوں اور اکیسویں صدی کے لوگوں کی زبانوں میں بہت فرق واقع ہوگیا ہے۔ کیونکہ کئی صدیاں گزر چکی ہیں۔ بہرحال ضروری ہے کہ عالم دین ہر قوم اور طبقے سے ان کی زبان میں بات کرے۔ عالم دین کی یہ ذمہ داری بھی ہے کہ وہ صاف شفاف دعوت پیش کرے، لوگوں کو دین سکھائے، انہیں دین کے اوپر یکجا کرے، منتشر کرنے کا ذریعہ نہ بنے، تعمیری جدوجہد کرے، تخریبی سرگرمیوں کا حصہ نہ بنے، اللہ تبارک وتعالیٰ نے جو کچھ نازل کیا ہے اس کو ہرگز نہ چھپائے۔ ایک عالم کی یہ ذمہ داری ہے کہ لوگوں سے حق نہ چھپائے خواہ وہ امیر ہوں یا غریب، طاقتور ہوں یا کمزور، حکمرا ں ہوں یا عوام، وہ اللہ تبارک وتعالیٰ کا پیغام بلا کم وکاست پہنچائے۔ جیسا کہ اللہ تبارک وتعالیٰ نے فرمایا:
﴿الَّذِیْنَ یُبَلِّغُونَ رِسَالَاتِ اللَّہِ وَیَخْشَوْنَهُ وَلَا یَخْشَوْنَ أَحَداً إِلَّا اللَّہَ وَکَفَی بِاللَّہِ حَسِیْبا﴾ (سورۃ الاحزاب:39)(اقتباس)
اب ایسا محسوس ہونے لگا ہے کہ ہم عملی طور پر پھر سے اپنے نقطہ آغاز پر واپس جاچکے ہیں۔ جب جناب رسول اللہ ﷺ نے صفا پہاڑی پر مکہ والوں کو جمع کرکے اپنے خطاب اور دعوت کا آغاز “أیها الناس” سے کیا تھا۔ ہمارا اصل خطاب کسی قوم، علاقہ یا طبقہ سے نہیں ہے بلکہ نسل انسانی سے ہے۔ اور آج جب وطن وقوم، رنگ ونسل اور زبان وعلاقہ کے فاصلے سمٹتے چلے جارہے ہیں اور ایک گلوبل ہیومن سوسائٹی قائم ہورہی ہے، ہمیں دین کی بات اسی ’زیروپوائنٹ‘سے کرنا ہوگی اور اسے موثر بنانے کیلئے وہی کردار پیش کرنا ہوگا جسے صحابہ کرام نے دنیا کے سامنے پیش فرمایا تھا۔
اصل بات یہ ہے کہ دین کی بات کرنے، وحی الٰہی اور آسمانی تعلیمات کی طرف نسل انسانی کو بلانے اور قرآن و سنت کا معاشرتی ماحول قائم کرنے کی محنت میں ؛ علماء تنہا نہیں ہیں، بلکہ مسلمانو کی ایک قابل لحاظ کثیر تعداد ان کی (آواز حق) پر لبیک کہنے تیار ہے صرف انہیں جگانے اور انکا اصل نصب العین یاد دلانے والے چاہیے۔ ان مجموعی حالات پر ایک نظر ڈالنے کے بعد اب میں یہ عرض کرنا چاہوں گا کہ ہمارے کرنے کے کام کیا ہیں جو محنت وکاوش کے بغیر ہونہیں سکتے۔
حاصل کلام
کتاب وسنت کی روشنی میں علماء کرام کی اہمیت اور معاشرے کو ان کی ضرورت اور ان کی ذمہ داری اور جوابدہی پر راقم الحروف نے کچھ لکھنے کی جسارت کی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ
چراغ اس وقت تک روشن رہے گا جب تک اس میں تیل ڈالا جاتا رہے گا، عالم دین کو زمین کا چراغ اس لئے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنے علم کی بدولت زمانے کو روشن کرتے رہتا ہے اور یہ بات سارے جہاں میں مشہور ومعروف ہے کہ عالِم کی موت ایک عالَم کی موت کے برابر نقصان کا باعث ہوتا ہے، حقیقت بھی یہی ہے کہ روشنی گل ہوجائے چراغ بجھ جائے بعد از کیا ہوگا؟ ہر طرف اندھیرا ظلمات کا دور دورہ وغیرہ اسی لیے اسلام میں عالم کو بہت اہمیت د ی گئی ہے۔
اب سارے عا لم کو ان ہی علماء کرام کی ضرورت آن پڑی ہے کہ موجودہ نفرت کی فضاء جوچاروں طرف پھیل چکی ہے، اس نفرتی ماحول کو الفت ومحبت میں تبدیل کرنا ان ورثۃ الانبیاء سے ممکن ہے، کیونکہ یہ منہج انبیاء کو خوب سمجھتے ہیں امید کی جاتی ہے کہ دنیا ہرریاست میں انسانیت وخیر خواہی، اور انسانوں کو امن وسکون عطا کرنے الٰہی ونبوی تعلیمات کو ذریعہ بناتے ہوئے صحابہ کرام کے جذبہ اعلائے کلمۃ اللہ کے پیش نظر اپنے دلپسند ملک کے برادران کو اللہ تعالیٰ کے احکام سنائیں، نبیﷺ کی ذات گرامی بابرکت کو محسن انسانیت کی حیثیت سے پیش کریں، اس سلسلہ میں تمام علماء حق کا ایک وفاق’وفاق العلماء‘ کے نام سے بناکر اتحاد واتفاق سے کام کرنے کی شدید ضرورت ہے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں