عمدۃ الأحکام؛ نماز میں قرأت کے متعلق(قسط45) فضل الرحمٰن حقانی

نماز میں قرأت سے متعلق

حدیث نمبر : 97

عَنْ البراء بن عازب رضي الله عَنْه : «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَصَلَّى الْعِشَاءَ الآخِرَةَ، فَقَرَأَ فِي إحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ بِـ(التِّينِ وَالزَّيْتُونِ) فَمَا سَمِعْتُ أَحَداً أَحْسَنَ صَوْتاً – أَوْ قِرَاءَةً – مِنْهُ ﷺ ».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب القراءة في العشاء، برقم 769، ومسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة في العشاء، برقم 177- (464))

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا براء بن عازب سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ ایک سفر میں تھے آپ نے عشاء کی نماز پڑھائی۔دونوں میں سے کسی ایک رکعت میں سورہ التین والزیتون پڑھی میں نے آپ ﷺ سے زیادہ کسی کو خوبصورت آواز یا خوبصورت قرآت کرتے ہوئے نہیں سنا۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : كَانَ : وہ تھا ۔

فِیْ سَفَرٍ : سفر میں ۔

2 : صَلّٰى الْعِشَآءَ : عشاء کی نماز پڑھی ۔

3 : اِحْدَى الرَّكْعَتَيْنِ : دو رکعتوں میں سے ایک رکعت۔

4: أَحْسَنَ صَوْتاً: آواز کے اعتبار سے زیادہ خوبصورت۔

5: قِرَاءَةً : قرآن مجید پڑھنا۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ عشاء کے ایک سے زائد نام ہیں اس کا ایک نام عشاء اخرۃ یعنی آخری عشاء اس نام سے ظاہر ہوتا ہے کہ مغرب کا دوسرا نام عشاء اولی یعنی پہلی عشاء ہے۔ اسی طرح اس کا نام عتمہ یعنی اندھیرے میں پڑھی جانے والی نماز بھی ہے ۔ اور اس کا مشہور نام عشاء ہے۔

2۔ بخاری و مسلم کی بعض روایات میں اسی سورت کی قرات کی ساتھ مطلق عشاء کی نماز کا بھی ذکر ہے یعنی حالت اقامت میں بھی بعض دفعہ رسول اللہ ﷺ مختصر قرات فرماتے یعنی آپ سورت والتین والزیتون پڑھتے ۔ اور بعض دوسری روایات میں دوسری رکعت میں سورت انا انزلناہ فی لیلۃ القدر کی قرات کا ذکر ہے۔

3۔ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی قرات کو بھی یاد رکھتے کہ کونسی سورت آپ نے پڑھی یا آپ نے قرآن مجید کا کتنا اور کہاں سے حصہ پڑھا اس سے ان کی نماز کے خشوع وخضوع اور توجہ کے کمال کا پتا چلتا ہے۔

4۔ عشاء کی نماز میں مختصر قرات کرنا بھی سنت و مستحب ہے خصوصاً سفر میں ۔

5۔ سفر کے دوران مسافروں کی رعایت کرتے ہوئے امام کا نماز میں قرات مختصر کرنا مستحب اسی طرح باقی معاملات میں بھی مسافروں کا خصوصی لحاظ رکھنا چاہیے کیونکہ سفر میں تھکاوٹ ہوتی اور سفر میں مسافر کو سفر کے لیے زیادہ وقت کی ضرورت ہوتی ہے۔

6۔ نماز کی قرات میں آواز کو بغیر تکلف اور تصنع کے خوبصورت کرنا مسنون اور مستحب عمل ہے اس سے اپنا اور باقی نمازیوں کا خشوع وخضوع بڑھتا ہے اور نماز میں خشوع وخضوع کی بہت اہمیت ہے۔ لیکن قرات میں بہت تکلف یا بناوٹ درست نہیں ہے کیونکہ یہ اخلاص اور خشوع وخضوع کے خلاف ہے۔

نماز میں قراَت سے متعلق

حدیث نمبر : 98

عَنْ عائشة رضي الله عَنْها : «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ بَعَثَ رَجُلاً عَلَى سَرِيَّة.ٍ فَكَانَ يَقْرَأُ لأَصْحَابِهِ فِي صَلاتِهِمْ، فَيَخْتِمُ رضي الله عَنْه (قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ) فَلَمَّا رَجَعُوا ذَكَرُوا ذَلِكَ لِرَسُولِ اللهِ ﷺ. فَقَالَ : «سَلُوهُ لأَيِّ شَيْءٍ يصْنَعُ ذَلِكَ؟» فَسَأَلُوهُ فَقَالَ : لأَنَّهَا صِفَةُ الرَّحْمنِ عَزَّ وَجَلَّ، فَأَنَا أُحِبُّ أَنْ أَقْرَأَ بِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللهِ ﷺ : «أَخْبِرُوهُ : أَنَّ اللهَ تَعَالَى يُحِبُّهُ».

(رواه البخاري، كتاب التوحيد، باب ما جاء في دعاء النبي ﷺ أمته إلى توحيد اللَّه تبارك وتعالى، برقم 7375، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب فضل قراءة قل هو اللَّه أحد، برقم 813)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک شخص کو لشکر کا قائد بنا کر بھیجا وہ اپنے ساتھیوں کو نماز پڑھاتا تھا اور ہر رکعت قُلْ هُوَ اللّٰهُ أَحَدُ پر ختم کرتا جب وہ واپس لوٹے تو انہوں نے اسکا تذکرہ رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں کیا۔آپ نےفرمایا اس سے پوچھو کہ یہ ایسا کیوں کرتا ھے؟ انہوں نے اس سے پوچھا تو اس نے کہا اس میں رحمن عزوجل کی صفت ہے اور میں پسند کرتا ہوں کہ اسے پڑھوں، رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:اسے بتاؤ کہ اللہ اس سے محبت کرتا ہے۔ (صحیح بخاری ؛ صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : بَعَثَ : بھیجا ۔

2 : سَرِيَّةُ: لشکر عموماً اس لشکر کو کہتے ہیں جس میں رسول اللہ ﷺ نے خود شرکت نہ کی ہو۔

3 : يَقْرَأُ : وہ پڑھتا ہے ۔

4 : لَمَّا رَجَعُوْا : جب وہ واپس لوٹے۔

5 : ذَكَرُوْا ذَلِكَ : انہوں نے اسکا تذکرہ کیا ۔

6 : سَلُوْهُ : اس سے پوچھو ۔

7 : اَنَا أُحِبُّ : میں پسند کرتا ہوں ۔

8 : أَخْبِرُوْهُ : اسے بتاؤ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ توحید کی فضیلت کا ذکر۔ اس سورۃ میں اللہ تعالیٰ کی توحید اور صفات کا بیان انتہائی جامع اور مؤثر انداز میں کیا گیا ہے تو اس سورۃ کا بار بار تکرار سے پڑھنا،اس بات کی علامت ہے کہ اس انسان کو اللہ اور اس کی صفات سے محبت و پیار ہے۔

اس لیے اللہ سے محبت اس کی محبت کا باعث بنتی ہے اور وہ بھی اپنے محب کو اپنا محبوب بنا لیتا ہے۔۔۔۔

2۔قرآن حکیم کی بعض سورتیں بعض پر فضیلت رکھتی ہیں سورہ اخلاص ثواب کے اعتبار سے ثلث قرآن کے برابر ہے۔

3۔ اعماال کے ثواب کا تعین نیتوں کے اخلاص کی بنیاد پر ہوتا ہے۔

4۔علاقے، جماعت یا لشکر کا امیر عالم فاضل کو بنانا چاہئے۔ اور امیر کو چاہیے کہ وہ نمازوں کی امامت خود کرے۔

5۔جو اللہ تعالیٰ اور اسکی صفات سے محبت کرتا ہے اللہ تعالیٰ بھی اس سے محبت کرتا ہے۔

6۔سربراہ کو کسی امیر کے طرز عمل کے بارے میں اصلاح احوال کی غرض سے اطلاع دینا، چغلی اور غیبت تصور نہیں ہو گی۔

7۔ سربراہ کو لوگوں کے معاملات علم و حکمت سے حل کرنے چاہئیں۔

8۔نماز کی قرات میں سورتوں کو ترتیب سے پڑھنا ضروری نہیں ہے۔ کیونکہ سورۃ اخلاص کے بعد صرف دو سورتیں رہ جاتی ہیں اور وہ ہر رکعت میں سورۃ اخلاص پڑھتے تھے۔

9۔ ایک رکعت میں دو سورتوں کو بغیر ترتیب کے جمع کرنا درست ہے جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے۔

10۔اللہ تعالیٰ کی صفات دو طرح کی ہیں:

ایک ثبوتیہ جیسے أحد اور الصمد

اور دوسری سلبیہ جیسے لم یلد و لم یولد و لم یکن له کفوا أحد۔

ثبوتیہ سے مراد اثبات ہے اور سلبیہ سے مراد نفی ہے۔ اللہ تعالیٰ کی صفات میں کمال ہے اور اللہ تعالیٰ میں کوئی نقص اور عیب نہیں۔

٭٭٭

شادی کی اہمیت اور فضائل

امام ابن القيم ﷫ شادی کی ترغیب دیتے ہوئے لکھتے ہیں :

’’اگر شادی کی اہمیت و فضیلت میں صرف۔۔۔

 نبی ﷺ کا روز قیامت اپنی امت کو دیکھ کر خوش ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 موت کے بعد نیک عمل کا (بصورت صالح اولاد) جاری رہنا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 ایسی نسل جو اللہ کی وحدانیت اور نبی کی رسالت کی گواہی دیتی ہو، کا پیدا ہونا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 محرمات سے آنکھوں کا جھک جانا اور شرمگاہ کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 کسی خاتون کی عصمت کا محفوظ ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ میاں اور بیوی اپنی حاجت پوری کرتے ہیں، لذت اٹھاتے ہیں اور ان کی نیکیوں کے دفتر بڑھتے چلے جاتے ہیں !

 مرد کا بیوی کے پہننے اوڑھنے، رہنے سہنے اور کھانے پینے پر خرچ کرنے کا ثواب ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 اسلام اور اس کے ماننے والوں کا بڑھنا اور اسلام دشمنوں کا اس پر پیچ و تاب کھانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 بہت سی عبادات، جو تارکِ دنیا درویش نہیں بجا لا سکتا، کا بجا لانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 دل کا شہوانی قوت پر قابو پا کر دین و دنیا کیلیے نفع مند کاموں میں مشغول ہو جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔ کیونکہ دل کا شہوانی خیالات میں گِھر جانا، اور انسان کا اس سے چھٹکارے کی جد و جہد کرتے رہنا بہت سے مفید کام نہیں ہونے دیتا۔

 بیٹیوں کا، جن کی اس نے اچھی پرورش کی اور ان کی جدائی کا غم سہا، جہنم سے ڈھال بن جانا ہی ہوتا تو کافی تھا۔

 دو بچوں کا کم عمری میں فوت ہونا جو اس کے جنت میں داخلے کا سبب بن جاتے، ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔

اللہ کی خصوصی مدد کا حاصل ہو جانا ہی ہوتا تو بہت کافی تھا۔ کیونکہ جن تین لوگوں کی اعانت اللہ کے ذمے ہے، اس میں ایک پاکیزگی کی خاطر نکاح کرنے والا بھی ہے۔

(بدائع الفوائد :3؍159)

تبصرہ کریں