عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:نماز وتر کے متعلق (قسط52) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

نماز وتر کے متعلق

حدیث نمبر: 121

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عَنْه قَالَ: «سَأَلَ رَجُلٌ النَّبِيَّ ﷺ ــ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ ــ مَا تَرَى فِي صَلاةِ اللَّيْلِ؟ قَالَ : مَثْنَى، مَثْنَى، فَإِذَا خَشِيَ أَحَدُكُمُ الصُّبْحَ: صَلَّى وَاحِدَةً، فَأَوْتَرَتْ لَهُ مَا صَلَّى، وَأَنَّهُ كَانَ يَقُولُ: اجْعَلُوا آخِرَ صَلاتِكُمْ بِاللَّيْلِ وِتْراً».

(رواه البخاري، في كتاب الصلاة، باب الحلق والجلوس في المسجد، برقم 472، وكتاب الوتر، باب ما جاء في الوتر، برقم 990، وباب ليجعل آخر صلاته وتراً، برقم 998، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، برقم 749، 751)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے بیان کیا کہ ایک شخص نے نبی کریمﷺ سے سوال کیا۔ اس حال میں کہ آپ منبر پر تشریف فرما تھے۔ عرض کی رات کی نماز کے بارے میں آپکا کیا خیال ھے؟ یعنی وہ کس طرح پڑھی جائے، آپﷺ نے فرمایا: دو دو رکعت پڑھی جائے جب تم میں سے کسی کو صبح ہو جانے کا اندیشہ ہو تو ایک رکعت پڑھے یہ جو نماز پڑھی گئی اسے وتر (یعنی طاق) بنا دے گی۔ آپﷺ فرمایا کرتے تھے کہ تم رات کی آخری نماز وتر کو بناؤ۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – سَأَلَ رَجُلُ : ایک شخص نے پوچھا ۔

2 – مَثْنٰى مَثْنٰى : دو دو ۔

3 – مَا تَرَىٰ : آپ کا کیا خیال ہے۔

4 – فَاِذَا خَشِیَ اَحَدُكُمْ : پھر جب تم میں سے کوئی ایک ڈرے ۔

5 – اَوْتَرَتْ لَهُ : اسکے لیے وتر بنا دے گی ۔

6 – مَا صَلّٰى : جو نماز اس نے پڑھی (یعنی نفل ) ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ مسجد میں بیٹھنا جائز ہے اور علمی حلقات لگانا مستحب ہے۔ البتہ مسجد میں غیر ضروری اور بے فائدہ حلقات مذموم ہیں۔

2۔ درس وغیرہ کے لیے عالم کا لوگوں سے بلند ہو کر بیٹھنا تاکہ لوگ عالم کو دیکھ سکیں اور عالم لوگوں کو اس سے درس اور خطبہ وغیرہ سننے سنانے میں زیادہ توجہ ہوتی ہے۔

3۔ جمعہ کے خطبہ کے علاوہ لوگوں کو خطبہ وغیرہ دینا سنت سے ثابت ہے ۔

4۔ رات کی نفل نماز تہجد وغیرہ دو دو رکعت ہے۔

5۔اگر رات تہجد پڑھنے کی عادت ہو تو عشاء کی نماز میں وتر چھوڑ دیا جائے اور اسے نماز تہجد کے بعد پڑھا جائے۔ اور اگر عادت نہ ہو تو پھر عشاء کی نماز کے بعد یا سونے سے پہلے وتر پڑھ لیے جائیں۔

6۔نماز وتر کا وقت طلوع فجر یعنی صبح صادق کی ابتداء پرختم ہو جاتا ہے۔ نماز وتر کا شروع وقت عشاء کی نماز کے بعد سے ہے۔ البتہ وتر یعنی تہجد کی نماز کے لیے سونا ضروری نہیں ہے جیسا کہ بعض عوام الناس کا خیال ہے۔

7۔نماز وتر تہجد ہی ہے تہجد کے کئی ایک نام ہیں مثلا تہجد، وتر، قیام اللیل ، قیام رمضان ، تراویح وغیرہ ۔

8۔مجمع عام میں علم کے حصول کی خاطر کسی عالم سے مسئلہ دریافت کرنا مستحب عمل ہے۔

9۔نبی کریمﷺ سفروحضر میں وتر پڑھنے کا اہتمام کیا کرتے تھے۔ اس میں وتر کی اہمیت کا پتا چلتا ہے۔

10۔ نماز وتر کی کم از کم تعداد ایک رکعت ہے اور زیادہ کی کوئی تحدید نہیں ہے اور اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو نماز وتر کو تین رکعت میں محدود سمجھتے ہیں ۔

11۔ نماز وتر نفل ( سنت ) مؤکدہ نماز ہے البتہ اس کی بہت فضیلت ہے اور اس میں فوائد کثیرہ ہیں۔ اس کے چھوڑنے کی وعید سنت سے ثابت ہے۔ لہذا کوئی مسلمان اس کو سفر و حضر میں کبھی بھی نہ چھوڑے ۔

نماز وتر سے متعلق

حدیث نمبر: 122

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عَنْها لقَالَتْ : «مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ قد أَوْتَرَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مِنِ أَوَّلِ اللَّيْلِ، وَأَوْسَطِهِ، وَآخِرِهِ. فَانْتَهَى وِتْرُهُ إلَى السَّحَرِ.

صحيح البخاري، كتاب الوتر، باب ساعات الوتر، برقم 996، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، برقم 137- (745)، واللفظ له.

حدیث مبارکہ سلیس ترجمہ:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے رات کے ہر حصے میں وتر پڑھا۔رات کے پہلے ، درمیانی اور آخری حصے میں آپ نے عمر کے آخری مرحلے میں سحری کے وقت وتر پڑھا۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – مِنْ كُلِّ اللَّيْلِ : رات کا ہر حصہ ۔

2 – أَوْتَرَ : اس نے وتر پڑھا ۔

3- السَّحَرِ: رات کا آخری حصہ ۔ صبح صادق سے پہلے کا وقت ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ نماز وتر عشاء اور صبح صادق کے درمیان کسی وقت بھی پڑھی جاسکتی ہے البتہ افضل وقت رات کا آخری حصہ ہے ۔

2۔جسے رات کے پچھلے پہر جاگنے کا یقین ہو اور اس کی نیت بھی تہجد پڑھنے کی ہو اسکے لیے افضل و بہتر یہ ہے کہ وہ تہجد کی نماز کے بعد وتر پڑھے۔

3۔جو وتر پڑھنا بھول جائے تووہ اسے جب یاد آئے پڑھ لے البتہ راجح یہ ہے کہ فجر کے بعد جفت کر کے پڑھے مثلا ایک کی جگہ دو تین کی جگہ چار پانچ کی جگہ چھ، گیارہ کی جگہ بارہ اور اگر کوئی صرف دو رکعت بھی پڑھ لے تو کافی ہے ۔ نبی کریم ﷺ سے جب رات کو وتر فوت ہوگئے تو آپ نے دن کو بارہ رکعات پڑھیں۔

4۔ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا:

«مَنْ نَّامَ عَنْ وِتْرِہِ اَوْنَسِیَهُ فَلْیُصَلِّهِ إِذَا أَصْبَحَ أَوْ ذَکَرَ .»

’’جو وتر پڑھے بغیر سو جائے یا اسے پڑھنا بھول جائے تو وہ اسے پڑھ لے یا جب یاد آئے پڑھ لے۔ لیکن اس کی قضاء جفت کر کے ادا کرنا افضل اور راجح ہے۔ ‘‘ واللہ اعلم بالصواب ۔

نماز وتر سے متعلق

حدیث نمبر: 123

عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عَنْها لقَالَتْ : «كَانَ رَسُولُ اللَّه ﷺ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً، يُوتِرُ مِنِ ذَلِكَ بِخَمْسٍ، لايَجْلِسُ فِي شَيْءٍ إلاَّ فِي آخِرِهَا».

رواه مسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب صلاة الليل وعدد ركعات النبي ﷺ في الليل، وأن الوتر ركعة، وأن الركعة صلاة صحيحة، رقم 737، ولم أجده في البخاري.

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدہ ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے فرماتی ہیں کہ

رسول اللہﷺ تہجد کی نماز تیرہ رکعت پڑھا کرتے تھے اس میں پانچ وتر پڑھتے آپ ان کے آخر میں تشہد کے لیے بیٹھتے تھے ۔( صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – يُصَلِّیْ : وہ نماز پڑھتا ہے۔

2 – اللَّيْلِ : رات

3 – ثَلاثَ عَشْرَةَ رَكْعَةً : تیرہ رکعت

4 – يُوتِرُ : وہ وتر پڑھتا ۔

5 – مِنْ ذَالِكَ : اس میں ۔

6 – خَمْسٍ : پانچ ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ نبی کریم ﷺ رات کو تیرہ رکعات ادا کیا کرتے تھے، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی حدیث کے مطابق نبی کریم ﷺ گیارہ رکعات سے زیادہ نہیں پڑھتے تھے ان دونوں میں اہل علم نے تطبیق یہ دی ہے کہ تیرہ رکعات میں عشاء کے بعد کی دو رکعات یا فجر کی دو سنتیں،یا تہجد سے پہلے دو ہلکی رکعت شامل ہیں ۔واللہ اعلم بالصواب

اور وتر کبھی ایک کبھی تین کبھی پانچ کبھی سات اور کبھی نو پڑھنا سنت سے ثابت ہے ۔

2۔ وتر پڑھنے کے دو طریقے سنت رسول ﷺ سے ثابت ہیں پہلا طریقہ یہ ہے کہ

ہر دو رکعت پر سلام پھیرا جاۓ اور آخری رکعت الگ پڑھی جائے اور یہ افضل طریقہ ہے۔

دوسرا طریقہ یہ ہے کہ تین، پانچ، سات ، نو وتر اکٹھے ایک سلام سے پڑھے جائیں اس میں تین سے سات رکعات پڑھنے کا طریقہ یہ ہے کہ

صرف آخری رکعت میں تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیا جاۓ البتہ نو وتر پڑھنے کی صورت میں آٹھویں رکعت میں تشہد کیا جائے گا اور پھر اٹھ کر نویں رکعت ادا کی جائے گی۔ تفصیل کے لیے بخاری و مسلم میں نماز وتر کے ابواب کا مطالعہ کیا جائے۔

3۔ کتب حدیث میں وتر کی چھ اقسام اور ان کے پڑھنے کا طریقہ ثابت ہے جس کا خلاصہ یہ ہے ۔

1۔ صرف ایک وتر :ایک رکعت پڑھنے کے بعد سلام پھیر دیا جائے۔

2۔ تین وتر :آخری رکعت میں تشہد یا دو رکعت پڑھ کر سلام پھیر دیا جاۓ پھر ایک رکعت پڑھی جائے۔

3۔ پانچ وتر :پانچویں رکعت میں تشہد اور اس کے بعد سلام پھیر دیا جائے۔

4۔سات وتر :ساتویں رکعت میں تشہد اور اس کے بعد سلام پھیر دیا جائے۔

5۔ نو وتر : دو تشہد کے ساتھ پہلا تشہد آٹھویں رکعت میں ہو گااور دوسرا تشہد نویں رکعت میں ہوگا اور پھر اسی میں سلام پھیرا جائے گا۔

6: گیارہ وتر :دس رکعتیں دو دو کر کے پڑھی جائیں گی اور آخر میں ایک رکعت وتر پڑھا جائے گا ۔ وتر کی آخری رکعت میں رکوع سے پہلے یا بعد دعائے قنوت پڑھنا مستحب ہے اگر دعاء قنوت رہ جائے یا جان بوجھ کر چھوڑ دی جائے تو نماز وتر درست ہے سجدہ سہو وغیرہ کی ضرورت نہیں جیسا کہ بعض لوگ اس صورت میں سجدہ سہو سمجھتے ہیں ۔

4: گیارہ رکعات سے زیادہ پڑھنا ممنوع نہیں ہے کیونکہ یہ نفل نماز ہے اور دو دو رکعت کر کے جتنی چاہے کوئی پڑھ لے مگر گیارہ سے اوپر کسی تعداد کو سنت سمجھنا یا اس تعداد پر ہمیشگی کرنا درست نہیں ہے۔

تبصرہ کریں