
نماز کی کتاب ، صف بندی سے متعلق
حدیث نمبر : 70
عَنْ أنس بن مالك رضي الله عَنْه «أَنَّ جَدَّتَهُ مُلَيْكَةَ دَعَتْ رَسُولَ اللَّه ﷺ لِطَعَامٍ صَنَعَتْهُ له، فَأَكَلَ مِنْهُ. ثُمَّ قَالَ : «قُومُوا فَلأُصَلِّيَ لَكُمْ»، قَالَ أَنَسٌ : فَقُمْتُ إلَى حَصِيرٍ لَنَا قَدِ اسْوَدَّ مِنِ طُولِ مَا لُبِسَ، فَنَضَحْتُهُ بِمَاءٍ، فَقَامَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّـه ﷺ، وَصَفَفْتُ أَنَا وَالْيَتِيمُ وَرَاءَهُ، وَالْعَجُوزُ مِنِ وَرَائِنَا، فَصَلَّى لَنَا رَكْعَتَيْنِ ثُمَّ انْصَرَفَ».
وَلِمُسْلِمٍ «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ صَلَّى بِهِ وَبِأُمِّهِ أَو خَالَتِهِ، قَالَ : فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ، وَأَقَامَ الْمَرْأَةَ خَلْفَنَا».
اليتيمُ : هو ضُميرة جدُّ حسين بن عبداللَّه بن ضميرة.
[رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب الصلاة على الحصير، برقم 380، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب الرخصة في التخلف عن الجماعة بعذر، برقم 658. رواه مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز الجماعة في النافلة، والصلاة على حصير وخمرة وثوب وغيرها من الطاهرات، برقم 269- (660)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
’’سیدنا انس بن مالک بیان کرتے ہیں کہ ان کی نانی یعنی سیدنا انس بن مالک کی والدہ محترمہ سیدہ ام سلیم کی ماں سیدہ ملیکہ نے رسول اللہ ﷺ کو ایک کھانے پر بلایا جو اس نے آپ کے لئے تیار کیا تھا آپ نے اس میں سے کھایا، پھر فرمایا:
’’اٹھو میں تمہیں نماز پڑھاؤں۔‘‘
سیدنا انس کہتے ہیں کہ میں اپنی ایک چٹائی کی طرف اٹھا جو زیادہ استعمال کی وجہ سےسیاہ ہو چکی تھی میں نے اس کو دھویا تو پھر آپ ﷺ اس پر کھڑے ہوئے میں اور یتیم (یعنی نابالغ بچہ جس کا نام ضمیرہ ہے) نے آپ کے پیچھے صف بنائی اور بڑھیا یعنی نانی ہمارے پیچھے۔ آپﷺ نے ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی پھر آپ واپس چلے گئے ۔‘‘
صحیح مسلم کی روایت ہے کہ
رسول اللہ ﷺ نے انہیں یعنی سیدنا انس کو اور ان کی والدہ ( ملیکۃ جو ام سلیم کے نام سے معروف ہیں) یا خالہ ( ام حرام بنت ملحان ) کو نماز پڑھائی مجھے اپنے دائیں اور خاتون کو ہمارے پیچھے کھڑا کیا یتیم سے مراد حسین بن عبداللہ بن ضمیرہ کا دادا ضمیرہ ہے۔‘‘
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : دَعَتْ رَسُولَ اللّٰه ﷺ لِطَعَامٍ : اس (عورت) نے رسول اللہ ﷺ کو کھانےپر بلایا، دعوت دی۔
2 : قُوْمُوْا : اُٹھو ۔
3 : حَصِيْرُ: چٹائی ۔
4 : اَسْوَدَّ : سیاہ ہو چکی تھی ۔
5 : نَضَحْتُهُ: میں نے اسے چھڑکا۔ بعض دفعہ دھونے کے معنی میں بھی استعمال ہوتا ہے ۔
6 : صَفَفْتُ : میں نے صف بنائی ۔
7 : الْعَجُوْزُ : بڑھی، بڑھیا عورت ۔
8 : ثُمَّ اِنْصَرَفَ : پھر آپ واپس چلے گئے ۔
9 : اَقَامَنِیْ : مجھے کھڑا کیا ۔
10 : وَرَاءَهُ : اس کے پیچھے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔یتیم سے مراد نابالغ لڑکا ہے اور نابالغ لڑکا مردوں کی صف میں کھڑا ہوسکتا ہے خصوصاً جب کوئی اور مرد نہ ہو تو امام کے پیچھے نابالغ لڑکا اور مرد ایک ہی صف میں کھڑے ہوں اور اگر ایک مرد اور ایک نابالغ لڑکا ہے تو نابالغ لڑکا مقتدی ہونے کی صورت میں امام کی دائیں طرف کھڑا ہو گا۔۔۔نابالغ لڑکا عورتوں کی صف میں کھڑا نہیں ہوسکتا ہے اسی طرح نابالغ لڑکی مردوں کی صف میں کھڑی نہیں ہوسکتی ہے۔ نابالغ لڑکی اکیلی ہونے کی صورت میں مردوں کے پیچھے اکیلی صف میں کھڑی ہوگی۔ اور جہاں عورتیں ہوں وہاں نابالغ لڑکی عورتوں کے ساتھ صف میں کھڑی ہوگی۔ صف میں کھڑے ہونے کے حکم میں محرم اور غیر محرم مرد ، عورت میں کوئی فرق نہیں ہے ۔
2۔ ایک سے زائد مقتدی ہو تو ان کو امام کے پیچھے کھڑا ہونا چاہیے۔ یہی سنت ہے۔
3۔نماز باجماعت میں عورتیں مردوں کے پیچھے کھڑی ہوں گی۔ امام کے برابر یا آگے نماز نہیں پڑھ سکتی ہیں۔
4۔نوافل باجماعت ادا کرنے جائز ہیں بشرطیکہ اسے معمول نہ بنایا جائے۔ کیونکہ نوافل کے متعلق عام حکم یہی ہے کہ ان کو انفرادی طور پر ادا کیا جاۓ الا یہ کہ خاص نوافل ہوں جیسے تراویح وغیرہ ۔
5۔ تعلیم دینے کی غرض سے بھی نفل نماز باجماعت ادا جا سکتی ہے۔
6۔تمام لوگوں خصوصاً پسماندہ افراد سے خوش اخلاقی کے ساتھ پیش آنا اخلاق نبوی ہیں۔
7۔دعوت دینے والے کی دعوت کو قبول کرنا مستحب عمل ہے۔
8۔اپنے پسندیدہ لوگوں کی اور اہل علم کی دعوت کرنا مستحب ہے۔
9۔زیادہ علم و مرتبے والے کو امام بنانا چاہیے۔
10۔ چٹائی یا کپڑے وغیرہ پر نماز پڑھنا درست ہے۔ بشرطیکہ وہ پاک ہو۔
11۔جس چٹائی ، جاۓ نماز وغیرہ پر نماز پڑھی جائے اس کو صاف ستھرا رکھنا مستحب ہے۔
12۔ کھانا اور نماز اکھٹی ہوں تو پہلے کھانا کھانا چاہیے ۔
13۔ گھر کی عورت مثلا ماں، دادی، نانی ، خالہ، بہن ، بیوی وغیرہ کا نام ذکر کرنے میں کوئی حرج اور عیب نہیں ہے جیسا کہ ہمارے معاشرے میں عیب سمجھا جاتا ہے۔
صحیح مسلم کی روایت کے مطابق اس واقعہ میں ایک سیدنا انس بن مالک اور دوسری ان کی ماں یعنی حضرت ملیکہ جو ام سلیم کے نام سے معروف ہیں وہ تھیں یا سیدنا انس کی خالہ یعنی حضرت ام حرام بنت ملحان تھیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ
یہ واقعہ ایک سے زائد بار ہوا ۔ ایک دفعہ سیدنا انس کے ساتھ ایک نابالغ بچہ اور ماں تھیں اور دوسری مرتبہ سیدنا انس اور ان کی ماں یاخالہ تھیں ۔ واللہ اعلم
دو مرد اور ایک عورت ہوں تو صف بنانے کا طریقہ یہ ہو گا کہ مرد امام کے بالکل ساتھ دائیں طرف کھڑا ہو اور عورت پیچھے اکیلی صف میں کھڑی ہو۔ جماعت کی صورت میں محرم عورت بھی اپنے محرم مرد کے ساتھ ایک ہی صف میں کھڑی نہیں ہوسکتی ہے اس کو تنہا الگ صف میں ہی کھڑا ہونا پڑے گا البتہ راجح قول کے مطابق مرد اکیلا صف میں کھڑا نہیں ہوسکتا ہے مرد کو وہ نماز دھرانی پڑے گی جو اکیلے صف کی صورت میں پڑھی ہو گی ۔ واللہ اعلم
صف بندی سے متعلق
حدیث نمبر : 71
وعَنْ ابن عباس رضي الله عَنْه قال : «بِتُّ عِنْدَ خَالَتِي مَيْمُونَةَ، فَقَامَ النَّبِيُّ ﷺ يُصَلِّي مِنَ اللَّيْلِ، فَقُمْتُ عَنْ يَسَارِهِ، فَأَخَذَ بِرَأْسِي، فَأَقَامَنِي عَنْ يَمِينِهِ».
(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب إذا لم ينوِ الإمام أن يؤم، برقم 699، وكتاب الدعوات، باب الدعاء إذا انتبه بالليل، برقم 6316، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، برقم 763)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عباس بیان فرماتے ہیں کہ میں ایک رات اپنی خالہ میمونہ کے ہاں سویا نبی کریم ﷺ اٹھے رات کو نماز ( تہجد ) پڑھنےلگے تو میں آپ کے بائیں طرف کھڑاہوگیا تو آپ نے میرا سر پکڑا اور مجھے اپنے دائیں طرف کھڑا کر لیا۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : بِتُّ : میں نے رات گزاری ۔
2 : عِنْدَ خَالَتِیْ : اپنی خالہ کےپاس
3 : قُمْتُ عَنْ يَّسَارِهِ : میں آپ کی بائیں جانب کھڑا ہوا ۔
4 : اَخَذَ بِرَاسِیْ : آپ نے میرا سر پکڑا ۔
5 : فَاَقَامَنِیْ: آپ نے مجھے کھڑا کیا ۔
6 : عَنْ يَّمِيْنِهِ: اپنی دائیں جانب ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ نماز باجماعت کے لیے اگر صرف دو شخص ہوں تو مقتدی امام کی دائیں جانب کھڑا ہو۔
2۔مقتدی اگر غلطی سے امام کی بائیں جانب کھڑا ہو جائے تو اسے امام اپنے پیچھے سے گھما کر اپنی دائیں جانب کھڑا کرے۔
3۔نماز کے دوران اگر کوئی ایسا عمل کرنے کی ضرورت پڑے جس سے نماز کی درستگی پیش نظر ہو تو اس کا سرانجام دینا نماز کے لیے مضر نہیں ہوتا۔
4۔ نماز تہجد ادا کرنا مستحب عمل ہے۔
5۔ چھوٹے بچے کا صف میں مرد کے ساتھ کھڑے ہونا جائز اور درست ہے۔
6۔ سیدنا عبداللہ بن عباس کی حصول علم پر حرص۔
7۔امامت کی صحت کےلئے شرط نہیں ہے کہ امام نماز میں داخل ہونےسےپہلےامامت کی نیت کرے ۔
8۔نفل نماز کی جماعت کے لیے اقامت کے بغیر ادا کرنا ہی سنت ہے
9۔ خالہ وغیرہ کے گھر رات گذارنا جائز ہے۔
10۔ رات کو جب بھی جاگ آجائے تو نماز ادا کرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے۔
11۔ رات کے وقت دعا کرنے کی فضیلت ۔
12۔مسافر شخص کا تہجد و نوافل وغیرہ پڑھنے کی فضیلت ۔ البتہ فرض نماز سے پہلے اور بعد کی سنتیں نہ پڑھنا سنت ہے ۔
٭٭٭
حافظ ابن رجب رحمہ اللّٰہ فرماتے ہیں:
’’توحید ہی اکسیرِ اعظم ہے؛ اس کا ایک ذرہ گناہوں اور خطاؤں کے پہاڑ پہ رکھ دیا جائے تواسےنیکیوں میں بدل ڈالے۔‘‘(جامع العلوم والحكم: 3؍1175)
تبصرہ کریں