عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:فوت شدہ نمازوں کے متعلق (قسط49) فضل الرحمٰن حقانی

نماز میں کندھوں کو ڈھانپنے کا حکم

حدیث نمبر: 113

عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عَنْه قَالَ : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لا يُصَلِّي أَحَدُكُمْ فِي الثَّوْبِ الْوَاحِدِ، لَيْسَ عَلَى عَاتِقِهِ مِنْهُ شَيْءٌ».

(رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب إذا صلى في الثوب الواحد فليجعل على عاتقيه، برقم 359، ومسلم، كتاب الصلاة، باب الصلاة في ثوب واحد، وصفة لبسه، برقم 516)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ سے روایت ہےکہ رسول اللہﷺ نے فرمایا : تم میں سے کوئی ایک کپڑے میں نماز نہ پڑھے اس حال میں کہ اسکے کندھے پر اس (کپڑے) میں سے کچھ نہ ہو۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1: لا يُصَلِّي: نہ نماز پڑھے ۔

1 – الثَّوْبُ الْوَاحِدُ : ایک کپڑا ۔

2 – عَاتِقُ : کندھا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔مرد کے لیے نماز کے دوران کندھوں کو کپڑے سے ڈھانپنا فرض ہے یہ حکم ہر نماز اور ہر طرح کے نمازی کے لیے ہے طواف کے بعد دو رکعت اور دوران طواف فرض نماز کے لیے بھی ۔

2۔نماز کے علاوہ مرد ضرورت کے مطابق اپنے کندھے ننگے رکھ سکتا ہے۔ کندھے ستر میں نہیں ہیں .

3۔نماز کے لیے اچھا لباس پہننا مستحب ہے۔ البتہ کپڑے کم ہوں مثلا غربت وغیرہ کی وجہ سے ایک ہی چادر وغیرہ ہو تو اس کا کچھ حصہ اپنے کندھوں پر ڈالنا ضروری ہے لیکن اگر کپڑا اتنا چھوٹا یا تنگ ہو جس سے صرف ناف سے گھٹنوں تک کو ڈھانپا جا سکتا ہے تو پھر اسی حصے کو ڈھانپا جائے گا البتہ بڑا کپڑا ہونے کی صورت میں مرد کے لیے کندھے ڈھانپنے واجب ہیں۔ عورت کے لیے پورے سر تا پاؤں کو ڈھانپنا ضروری ہے سوائے چہرے اور ہاتھوں کے لیکن وہ اگر غیر محرموں کے سامنے نماز پڑھے تو پھر چہرے اور ہاتھوں کو کپڑے سے چھپانا ضروری ہے ۔مزید یہ کہ مرد کو نماز اور نماز کے علاوہ سر ڈھانپنے کا حکم نہیں ہے البتہ اس میں عرف کا اعتبار ہے شرعا فرض نہیں ہے اور نہ ہی مرد کا ننگے سر ہونا مکروہ یا حرام ہے ۔اور ٹخنے نماز اور نماز کے علاوہ عام حالات میں بھی ننگے رکھنے کا حکم ہے جراب ، موزے اور جوتوں سے ٹخنوں کا ڈھانپنا شامل نہیں ہے بلکہ یہ حکم تہ بند، شلوار، پاجامہ اور پتلون وغیرہ کے لیے ہے۔۔۔۔

4۔ ہر شخص کو ہر وقت مناسب اور اچھا لباس پہننا چاہیے خصوصاً نماز میں کیونکہ نماز میں بندہ اپنے رب کے سامنے کھڑا ہوتا ہے اور سرگوشی کرتا ہے اس کی دلیل یہ قول بھی ہے کہ حضرت نافع رحمہ اللہ کسی کام میں مشغولیت کی وجہ سے ایک کپڑے میں نماز پڑھ رہے تھے تو نماز کے بعد سیدنا ابن عمر نے فرمایا: کیا میں نے تمہیں دو کپڑے نہیں دیئے تھے؟ نافع نے کہا: جی ہاں! ابن عمر نے کہا: اگر میں تمہیں ایک کپڑے میں باہر بھیجوں تو چلے جاؤ گے؟ نافع نے کہا: نہیں۔ ابن عمر نے فرمایا: کیا اللہ اس کا مستحق ہے کہ اس کے لئے زینت اختیار کی جائے یا لوگ؟ نافع نے کہا:

اللہ، پھر ابن عمر نے فرمایا: نبیٔ اکرمﷺ (یا عمر ) نے فرمایا: «إِذَا وَجَدَ أَحَدُكُمْ ثَوْبَيْنِ فَلْيُصَلِّ فِيهِمَا…» اگر تم میں سے کسی کے پاس دو کپڑے ہوں تو ان میں نماز پڑھے [التمهيد 371/6 وسنده صحيح]

حدیث نمبر: 114

کتاب الصلاۃ ۔ لہسن اور پیاز کے متعلق

عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عَنْه عَنِ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : «مَنْ أَكَلَ ثُوماً أَوْ بَصَلاً، فَلْيَعْتَزِلْنَا ــ أَوْ لِيَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا ــ وَلْيَقْعُدْ فِي بَيْتِهِ»، وَأُتِيَ بِقِدْرٍ فِيهِ خَضِرَاتٌ مِن بُقُولٍ، فَوَجَدَ لَهَا رِيحاً. فَسَأَلَ عَنْها؟ فَأُخْبِرَ بِمَا فِيهَا مِنَ الْبُقُولِ، فَقَالَ : «قَرِّبُوهَا» ــ إلَى بَعْضِ أَصْحَابِه كان معه ــ فَلَمَّا رَآهُ كَرِهَ أَكْلَهَا، قَالَ : «كُلْ، فَإِنِّي أُنَاجِي مَن لا تُنَاجِي».

رواه البخاري، كتاب الأذان، باب ما جاء في الثوم النيئ والبصل والكراث، برقم، 855، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب نهي من أكل ثوماً وبصلاً أو كراثاً أو نحوها، برقم 73- (564)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا جابر بن عبداللہ سے روایت ہے نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے لہسن یا پیاز کھایا تو وہ ہم میں سے الگ رہے یا فرمایا مسجد سے الگ رہے اور وہ اپنے گھر میں بیٹھے. آپ کے پاس ایک ہنڈیا لائی گئی جس میں مختلف سبزیاں پکائی گئ تھیں آپ نے اس میں بو محسوس کی تو آپ نے پوچھا آپ کو اس میں موجود سبزیوں کے بارے میں بتایا گیا تو آپ نے اسے ایک صحابی کے قریب کرنے کا حکم دیا جب اس نے دیکھا تو اس نے بھی اس کے کھانے کو ناپسند کیا تو آپ نے فرمایا تم کھا لو میری جن سے سرگوشی رہتی ہے تمہاری نہیں رہتی ۔( یعنی فرشتوں سے ) ۔ (بخاری ومسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – مَنْ أَكَلَ : جس نے کھایا ۔

2 – ثُوْمُ : لہسن ۔

3 – بَصَلَ : پیاز ۔

4 – فَلْيَعْتَزِلْنَا : پس وہ ہم سے الگ رہے۔

5 – اَو : یا۔

6 –يَعْتَزِلْ مَسْجِدَنَا: وہ ہماری مسجد سے الگ رہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔کچا لہسن یاپیاز کھاکر مسجد میں انا منع ہے اس کی وجہ اس کی بو ہے اور اس حکم میں ہر وہ چیز داخل ہو گی جس میں بدبو ہوتی مثلا سیگریٹ ، نسوار، بیڑی ، مولی وغیرہ ۔

2۔ کچا لہسن اور پیاز حلال ہے البتہ کچا کھا کر مسجد میں آنا منع ہے پکا کر یا کسی طریقے سے اس کی بو ختم کر کے کھا کر آنے میں ممانعت نہیں ہے ۔

3۔مسجد کا ماحول صاف ستھرا اور خوشبودار رکھنا پسندیدہ ہے ۔

4۔انسانوں کی طرح رحمت کے فرشتوں کو بھی بدبو سے تکلیف ہوتی ہے اور مسلمان کو حکم ہے کہ وہ کسی کو بھی غیر ضروری تکلیف نہ دے ۔

5۔اس حکم میں وہ لوگ بھی داخل ہیں جن کی کسی بیماری وغیرہ کی وجہ بدبو آتی ہے ایسے لوگوں کو چاہیے کہ بدبو ختم کرنے کے لیے دوائی یا خوشبو وغیرہ کا استعمال کر کے مسجد آئیں۔ تکلیف دہ بدبو برقرار رہنے کی صورت میں مسجد میں آنے کی ممانعت ہے ۔

6۔ اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ مساجد میں رحمت کے فرشتے بھی حاضر ہوتے ہیں البتہ مساجد کے علاوہ دوسری جگہوں پر رحمت کے فرشتوں کا موجود ہونا یقینی نہیں ہے لہذا مسجد کے علاوہ کسی اور جگہ پر لہسن یا پیاز وغیرہ کھا کر جانا جائز ہے۔ اسی طرح جن فرشتوں کو بدبو سے تکلیف ہوتی ہے ان میں سے کراما کاتبین اور حفاظت کرنے والے فرشتے مستثنی ہیں کیونکہ کچا لہسن و پیاز حلال ہے اور اس کا کھانا ہروقت ممنوع نہیں ہے اور یہ فرشتے انسان کے ساتھ ہر وقت ساتھ رہتے ہیں۔ واللہ اعلم بالصواب ۔

حدیث نمبر: 115

عَنْ جَابِرٍ، عَنْ النَّبِيِّ ﷺ قَالَ : «مَنْ أَكَلَ الْبَصَلَ أو الثُّومَ أو الْكُرَّاثَ، فَلا يَقْرَبَنَّ مَسْجِدَنَا، فَإِنَّ الْمَلائِكَةَ تَتَأَذَّى مِمَّا يَتَأَذَّى مِنْهُ بنو آدمَ».

(رواه مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب نهي من أكل ثوماً وبصلاً أو كراثاً أو نحوها، برقم 74- (564)، وراه البخاري، كتاب الأذان، باب ما جاء في الثوم النيئ والبصل والكراث، برقم 854، وباب ما يكره من الثوم والبقول، برقم 5452، بنحوه دون ذكر الملائكة)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا جابر سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جس نے پیاز لہسن یا گندنا کھایا وہ ہماری مسجد کے قریب نہ آئے کیونکہ فرشتے اس سے تکلیف محسوس کرتے ہیں جس سے انسان تکلیف محسوس کرتے ہیں۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – الْكُرَّاثَ : گندنا ۔ ایک قسم کی سبزی ہے جس کے کچا کھانے کے بعد منہ سے بدبو آتی ہے ۔ اس سبزی کی کچھ اقسام لہسن اور کچھ پیاز سے ملتی جلتی ہیں۔

2 – لَا يَقْرُبَنَّ : وہ قریب نہ آئے ۔

3 – مَسْجِدَنَا : ہماری مسجد ۔

4 – تَتَاَذَّی : تکلیف محسوس کرتے ہیں ۔

5 – اَلْمَلَائِكَةُ : فرشتے ۔

6 – بَنُوْ آدَمَ : آدم کے بیٹے یعنی انسان

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔پیاز، لہسن اور مولی وغیرہ کھانے کے بعد مسجد میں اس وقت تک نہ جائے جب تک انکی بدبو کا اثر زائل نہ ہو جائے۔

2۔جس جگہ بد بو ہو وہاں پر رحمت کے فرشتوں کو تکلیف ہوتی ہے ۔

3۔ پیاز، لہسن یا مولی وغیرہ کا کھانا مطلقاً ممنوع نہیں اور نہ ہی یہ چیزیں حرام ہیں اصل مقصود مسجد میں نماز کے وقت منہ کی صفائی اور ہر قسم کی بد بو سے پاکیزگی کا حکم ہے۔اگر ان چیزوں کو پکا لیا جائے تو انکی بدبو زائل ہو جاتی ہے۔ تو پھر کوئی حرج نہیں ہے ۔

اس حدیث مبارکہ کے فوائد اور مسائل کے لیے اس سے پہلے والی حدیث یعنی حدیث نمبر 114 کا مطالعہ کریں۔

٭٭٭

 

تبصرہ کریں