
کتاب الصلاۃ ۔ نماز عیدین سے متعلق
عمدۃ الاحکام کی حدیث نمبر: 138
عَنْ عبد اللَّه بن عمر رضي الله عَنْه قال : «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ، وَأَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ، يُصَلُّونَ الْعِيدَيْنِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ».
(رواه البخاري، كتاب العيدين، باب الخطبة بعد العيد، بلفظه، برقم 963، وبلفظ آخر، برقم 957، ومسلم، كتاب صلاة العيدين، برقم 888)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:
سیدنا حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرماتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ عیدین کی نماز خطبہ سے پہلے پڑھا کرتے تھے۔ (بخاری و مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – يُصَلُّونَ : وہ نماز پڑھتے ہیں ۔
2 – قَبْلَ : پہلے۔
3-الْخُطْبَةِ : خطبہ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔عید کی نماز میں سنت یہ ہے کہ پہلے نماز عید زائد تکبیرات کے ساتھ ادا کی جائے اس سے پہلے اور بعد کوئی نماز مسنون نہیں ہے اور خطبہ عید کی نماز کے بعد دیا جائے ۔
2۔ نماز عید سے پہلے خطبہ سب سے پہلے مروان بن حکم نے شروع کیا جس کی مخالفت اس وقت صحابی رسول حضرت ابو سعید الخدری رضی اللہ عنہ نے کی اور مروان کو اس بدعت سے روکا مگر وہ اس وقت نہیں رکا مگر اس کی وفات کے بعد دوبارہ سنت بحال ہوگئی ۔
3۔صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کس قدر بدعت کی مخالفت کرتے اور سنت کی دعوت دیتے ، یہ رسول اللہ ﷺ کی تعلیم و تربیت کا اثر تھا۔ آج بھی جو لوگ سنت سے محبت کرتے ہیں اور بدعات کی مخالفت کرتے ہیں وہی صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے منہج و طریقے پر ہیں۔
4۔ مسلمان کی خوشی کا انداز کتنا عظیم الشان ہے کہ مسلمان اللہ کی نعمت پر نماز اور ذکر سے اللہ کا شکر ادا کرتا ہے ۔
حدیث نمبر: 139
عَنْ البراء بن عازب رضي الله عَنْه قال : «خَطَبَنَا النَّبِيُّ ﷺ يَوْمَ الأَضْحَى بَعْدَ الصَّلاةِ، فَقَالَ : «مَنْ صَلَّى صَلاتَنَا وَنَسَكَ نُسُكَنَا فَقَدْ أَصَابَ النُّسُكَ، وَمَنْ نَسَكَ قَبْلَ الصَّلاةِ فَلا نُسُكَ لَهُ»، فَقَالَ أَبُو بُرْدَةَ بْنُ نِيَارٍ – خَالُ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ – : يَا رَسُولَ اللَّهِ إنِّي نَسَكْتُ شَاتِي قَبْلَ الصَّلاةِ، وَعَرَفْتُ أَنَّ الْيَوْمَ يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ، وَأَحْبَبْتُ أَنْ تَكُونَ شَاتِي أَوَّلَ مَا يُذْبَحُ فِي بَيْتِي، فَذَبَحْتُ شَاتِي، وَتَغَدَّيْتُ قَبْلَ أَنْ آتِيَ الصَّلاةَ. فَقَالَ : «شَاتُكَ شَاةُ لَحْم»ٍ. قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ فَإِنَّ عِنْدَنَا عِنَاقاً لَنَا جَذَعةً، هِيَ أَحَبُّ إلَينا مِنْ شَاتَيْنِ، أَفَتُجْزِي عَنِّي؟ قَالَ : «نَعَمْ، وَلَنْ تَجْزِيَ عَنْ أَحَدٍ بَعْدَكَ».
(رواه البخاري، كتاب العيدين، باب الأكل يوم النحر، برقم 955، ومسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، برقم 1961)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہما سے روایت ہے ، آپ نے کہا کہ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کی نماز کے بعد خطبہ دیتے ہوئے فرمایا کہ جس شخص نے ہماری نماز کی طرح نماز پڑھی اور ہماری قربانی کی طرح قربانی کی اس کی قربانی صحیح ہوئی لیکن جو شخص نماز سے پہلے قربانی کرے وہ نماز سے پہلے ہی گوشت کھاتا ہے مگر وہ قربانی نہیں۔ حضرت براء رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت ابو بردہ بن نیار رضی اللہ عنہ یہ سن کر بولے کہ یا رسول اللہ! میں نے اپنی بکری کی قربانی نماز سے پہلے کر دی میں نے سوچا کہ یہ کھانے پینے کا دن ہے میری بکری اگر گھر کا پہلا ذبیحہ بنے تو بہت اچھا ہو۔ اس خیال سے میں نے بکری ذبح کر دی اور نماز سے پہلے ہی اس کا گوشت بھی کھا لیا۔ اس پر آپ ﷺ نے فرمایا کہ پھر تمہاری بکری گوشت کی بکری ہوئی۔ حضرت ابوبردہ بن نیار رضی اللہ عنہ نے عرض کیا کہ میرے پاس ایک سال کی پٹھیا ہے اور وہ مجھے گوشت کی دو بکریوں سے بھی عزیز ہے، کیا اس سے میری قربانی ہو جائے گی؟ آپ ﷺ نے فرمایا کہ ہاں لیکن تمہارے بعد کسی کی قربانی اس عمر کے بچے سے کافی نہ ہو گی۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – خَطَبَنَا : آپ نے ہمیں خطبہ دیا ۔
2 – يَوْمُ الْأَضْحٰى : عید قربان کے دن۔
3 – مَنْ صَلَّى صَلَاتَنَا: جس نےہماری طرح نماز پڑھی ۔
4 -نَسَكَ نُسْكَنَا: ہمارے قربان کرنے کی طرح قربانی کی ۔
5 -النُّسْكَ: قربانی۔
6 -خَالُ: ماموں۔
7 -شَاة: بکری ۔
8 -يَوْمُ أَكْلٍ وَشُرْبٍ: کھانے پینے کا دن ۔
9 – أَحْبَبْتُ: میں نے پسند کیا ۔
10- تَغَدَّيْتُ: میں نے صبح کا کھانا ( یعنی ناشتہ) کھایا۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔عید قربان کے دن سنت یہ ہے کہ پہلے نماز پھر خطبہ اور پھر قربانی۔
2۔ خطیب کا خطبہ میں موقع کی مناسبت سے بات کرنا سنت ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے عید الاضحیٰ کے خطبہ میں قربانی کا مسئلہ بیان فرمایا ۔
3۔ سامعین میں سے کوئی ضرورت کے وقت خطیب سے ضرورت کی گفتگو کرسکتا ہے جیسا کہ حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ کے ماموں حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کی۔
4۔جس نے نماز سے پہلے جانور ذبح کر دیا اسکی قربانی نہیں ہوگی۔
5۔دین کی بنیاد محض اچھے خیال، یا اچھی نیت پر نہیں ہے جیسا کہ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کیا بلکہ دین کی بنیاد اللہ اور رسول ﷺ کے حکم اور اطاعت پر ہے۔
6۔عید کے دن نماز سے پہلے کھانا پینا جائز ہے جیسا کہ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے کیا اور رسول اللہ ﷺ نے ان کے کھانے کو ناپسند نہیں کیا۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو عید کی نماز سے پہلے کھانے پینے کو ناجائز یا مکروہ سمجھتے ہیں۔
7۔عید کا دن خوشی، فرحت، اور کھانے پینے کا دن ہوتا ھےاس دن شرعی حدود میں رہتے ہوئے خوشی کا اظہار بھی عبادت ہے۔
8۔قربانی کے لیے جانور کا دوندا ہونا شرط ہے اس سے کم عمر جانور کی قربانی جائز نہیں ہے البتہ کھیرے جانور کی قربانی اسی صورت میں جائز ہے جب دوندے جانور کا ملنا مشکل ہو۔
9۔اگر کوئی کام خلاف سنت ہوجاۓ تو حتی المقدور اس کو دوبارہ سنت کے مطابق کر دینا چاہیے جیسا کہ حضرت ابو بردہ رضی اللہ عنہ نے اچھی نیت سے اپنی بکری نماز عید سے پہلے قربانی کی نیت سے ذبح کردی جو کہ خلاف سنت تھی تو انہوں اس کی جگہ پر نماز عید کے بعد دوسرا جانور قربانی کی نیت سے قربان کیا۔
10۔ اس حدیث سے سنت کی اہمیت کا بھی اندازہ لگایا جاسکتا ہے ۔
٭٭٭
يا بنى اسرائيل
ایمان تھا انمول تمہارا خون نہیں تھا سستا
موسیٰ کے دامن ہی سے جب تک تم تھے وابستہ
موسیٰ کے رب نے بنوایا پانی میں بھی رستہ
پیچھے تھیں فرعون کی فوجیں آگے دریا نیل
کیا کیا احساں جھٹلاؤ گے یا بنی اسرائیل
تم آوارہ بنجارے تھے تم کو دھرتی دے دی
عزت سے رہنا چاہا تو عزت بھی تو بخشی
من وسلویٰ جیسی نعمت بھی تم پر نازل کی
پیاز اور لہسن کھانا چاہا کھانے کی دی ڈھیل
کیا کیا احساں جھٹلاؤ گے یا بنی اسرائیل
گھر والوں کو گھر سے باہر کر دینے کی ٹھانی
تم نے کی ہے کس بل بوتے پر ایسی من مانی
پڑ جائے گی آخر اک دن تم کو منہ کی کھانی
نص کے آگے ٹک پائے گی کب تک یہ تاویل
کیا کیا احساں جھٹلاؤ گے یا بنی اسرائیل
بچہ بچہ جان ہتھیلی پر لے آئے گا پھر
ہر ظالم بچنے کی کوئی راہ نہ پائے گا پھر
مومن کا یہ خون ہے کیسے ضائع جائے گا پھر
ٹھونکے گا اک روز یقیناً تابوتوں میں کیل
کیا کیا احساں جھٹلاؤ گے یابنی اسرائیل
بہنوں کی رکھشا کرنی تھی عصمت ریزی کردی
ماؤں کے سینوں میں اک نفرت ہی نفرت بھر دی
تم نے ہی بچوں کو سکھلائی ہے دہشت گردی
تم پر طاری ہیں یہ بچے بن کر عزرائیل
کیا کیا احساں جھٹلاؤ گے یا بنی اسرائیل
جناب رؤف خیر، حیدر آباد، دکن
٭٭٭
یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ
دورِ جاہلیت میں لوگ یومِ عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اللہ کے رسولﷺ اور مسلمان بھی اس دن روزہ رکھتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا:
’’عاشورا اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک (معزز) دن ہے لہٰذا جو اس دن روزہ رکھنا چاہے، وہ روزہ رکھے اور جونہ رکھنا چاہے وہ نہ رکھے۔‘‘
(صحیح مسلم: 1162)
٭٭٭
تبصرہ کریں