عمدۃ الأحکام؛ جمعہ کا بیان(قسط57)۔ فضل الرحمٰن حقانی

حدیث نمبر: 135

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه، أن رسول اللَّه ﷺ قال : «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ غُسْلَ الجْنَاَبَةِ، ثُم رَاحَ في السَّاعَةِ الأُولى، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَدَنَةً وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّانِيَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَقَرَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الثَّالِثَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ كَبْشًا أَقْرَنَ، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الرَّابِعَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ دَجَاجَةً، وَمَنْ رَاحَ فِي السَّاعَةِ الْخَامِسَةِ، فَكَأَنَّمَا قَرَّبَ بَيْضَةً، فَإِذَا خَرَجَ الإِمَامُ حَضَرَتِ الْمَلائِكَةُ يَسْتَمِعُونَ الذِّكْرَ»

(رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب فضل الجمعة، برقم 881، ومسلم، كتاب الجمعة، باب الطيب والسواك يوم الجمعة، برقم 850)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت کی کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ”جس نے جمعہ کے دن غسل جنابت (جیسا غسل) کیا پھر مسجد چلا گیا تو اس نے گویا ایک اونٹ قربان کیا اور جو دوسری گھڑی میں گیا تو گویا اس نے گائے قربان کی اور جو تیسری گھڑی میں گیا گویا اس نے سینگوں والا ایک مینڈھا قربان کیا اور جو چوتھی گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک مرغ اللہ کے تقرب کے لیے پیش کیا اور جو پانچویں گھڑی میں گیا اس نے گویا ایک انڈا تقرب کے لیے پیش کیا اس کے بعد جب امام آ جاتا ہے تو فرشتے ذکر (عبادت اور امور خیر کی یاد دہانی) سنتے ہیں۔“

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – اغْتَسَلَ : اس نے غسل کیا۔

2 – رَاحَ : وہ چلا / گیا ۔

3 – السَّاعَةِ الْأُولٰى : پہلی گھڑی۔

4 – فَكَأَنَّمَا : پس گویا کہ ۔

5 – كَبْشُ اَقْرَنُ : سینگوں والا مینڈھا ۔

6 – قَرَّبَ بَدَنَةً : اس نے اونٹ قربان کیا ۔

7 – بَقَرَةُ: گائے ۔

8 – دَجَاجَةُ: مرغی ۔

9 – بَيْضَةُ: انڈا۔

10-حَضَرِتِ الْمَلَائِكَةُ: فرشتے حاضر ہوئے ۔

11 – يَسْتَمِعُونَ: غور سے سنتے ہیں ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔جمعہ کے دن غسل کا اہتمام کرنا بڑی فضیلت والا عمل ہے اس معنی میں اس رات کو بیوی سے ہمبستری کی بھی فضیلت ثابت ہوتی ہے کیونکہ حدیث میں غسل جنابت کا ذکر ہے یا دوسرا اس کا معنی یہ ہے کہ غسل جنابت کی طرح کا غسل کیا اور غسل جنابت عام غسل سے مختلف ہوتا ہے اس میں زیادہ اہتمام ہوتا ہے اور غسل سے پہلے استنجاء اور وضوء کیا جاتا ہے بالوں کی جڑوں تک اچھی طرح پانی پہنچایا جاتا ہے اور جسم کو مل کر دھویا جاتا ہے ۔

2۔ جمعہ کے دن مسجد میں پہلے جانابڑی فضیلت کا باعث ہے پہلے جا کر نوافل ادا کرنا ، قرآن مجید کی تلاوت کرنا اور ذکر و اذکار کرنا نبی کریم ﷺپر درود پڑھنا ۔

3۔ اللہ کی راہ میں جانور ذبح کرنے کی فضیلت ہے ۔ پہلی گھڑی میں پہنچنے والے کو اونٹ کی قربانی جتنا ثواب ملتا ہے ۔

4۔ ان فضیلت والی گھڑیوں کا بالضبط وقت نہیں بتایا گیا اس میں ترغیب ہے جلدی سے جلدی مسجد جانے کی۔

5۔اونٹ کی قربانی گائے کی نسبت افضل ہے اور اسی طرح گائے کی قربانی بکری یا مینڈھے کی نسبت افضل ہے۔

6۔سینگوں والا مینڈھا اللہ کی راہ میں قربان کرنا بکری کی دوسری اقسام کی نسبت زیادہ افضل ہے۔

7۔اچھا اور عمدہ مال اللہ کی راہ میں دینے کی ترغیب ہے۔

8۔صدقہ و خیرات کرنا اللہ تعالیٰ کو پسند ہے ۔چاہے تھوڑا ہی کیوں نہ ہو جیسے حدیث میں انڈے کا ذکر ہے۔

9۔مساجد کے دروازوں پر متعین فرشتے جمعہ کے لیے آنے والوں کے نام درج کرتے ہیں اس میں جمعہ دن جمعہ کی نماز اور خطبہ کی فضیلت ہے۔

10۔جب خطیب صاحب خطبہ دینے کے لیے آتے ہیں تو فرشتے نام لکھنے کا کام چھوڑ کر خطبہ سننے میں مصروف ہو جاتے ہیں۔

اس میں خطبہ جمعہ کی اہمیت کا پتا چلتا ہے خطباء کو چاہیے کہ اس بات کو مدنظر رکھیں اور لوگوں کی قرآن وحدیث کے مطابق راہنمائی اور وعظ و نصیحت وغیرہ کریں ۔

حدیث نمبر: 136

عَنْ سَلَمة بن الأكْوَع رضي الله عَنْه ــ وكان من أصحاب الشجرة ــ قال :

«كُنَّا نُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ صَلَاةَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ، وَلَيْسَ لِلْحِيطَانِ ظِلٌّ نَسْتَظِلُّ بِهِ».

وفي لفظٍ :

«كُنَّا نُجَمِّعُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إذَا زَالَتِ الشَّمْسُ، ثُمَّ نَرْجِعُ فَنَتَتَبَّعُ الْفَيْءَ».

(رواه البخاري، كتاب المغازي، باب غزوة الحديبية، برقم 4168، ومسلم، كتاب الجمعة، باب صلاة الجمعة حين تزول الشمس، برقم 32- (860)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ جوکہ اصحاب شجرہ ( بیعت رضوان ) میں سے تھے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ کی نماز پڑھا کرتے تھے پھر ہم واپس پلٹتے اور دیواروں کا کوئی سایہ نہ ہوتا تھا جن سے ہم سایہ حاصل کر سکیں ایک روایت میں ہے ہم رسول اللہ ﷺ کے ساتھ جمعہ پڑھتے تھے جب سورج ڈھل جاتا پھر ہم واپس لوٹتے تو سایہ تلاش کرتے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – أَصْحَابُ الشَّجَرَةِ : درخت والے مراد اس سے وہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ہیں جنہوں نے بیعتِ رضوان کی تھی ۔

2 – كُنَّا نُصَلِّیْ : ہم نماز پڑھا کرتے تھے ۔

3 – نَنْصَرِفُ : ہم پلٹتے، واپس لوٹتے۔

4 – حِيْطَانُ: دیواریں ۔

5 – ظِلُّ: سایا۔

6 – نَسْتَظِلُّ بِه : ہم اس سے سایا حاصل کر سکیں ۔

7 -اِذَا زَالَتِ الشَّمْسُ: جب سورج ڈھل جاتا ۔

8 – نَرْجِعُ : ہم لوٹتے/ واپس ہوتے ۔

9 – نَتَتَبَّعُ : ہم تلاش کرتے ۔

10 – اَلْفَئَ : سایا ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔نماز جمعہ کا وقت ظہر کی طرح زوال کے بعد کا ہے۔

2۔ ظہر کی طرح نماز جمعہ بھی اول وقت پڑھنا مسنون ہے سوائے کسی مصلحت و حکمت کے اس کو دیر سے نہیں پڑھنا چاہیے ۔

3۔ حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ کا یہ کہنا کہ جب ہم جمعہ پڑھ کر واپس آتے تو دیواروں کا سایہ نہ ہوتا اس کا یہ مطلب نہیں کہ زوال سے پہلے ہی نماز جمعہ پڑھ لیتے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال ہے بلکہ اس سے مراد زوال کے بعد نماز جمعہ جلدی پڑھنے اور خطبہ کے مختصر ہونے کا اشارہ ہے ۔( چھوٹی دیواروں کا سایہ دیر سے آتا ہے ) البتہ خطبہ جمعہ زوال سے کچھ دیر پہلے شروع کیا جاسکتا ہے مگر جمعہ کی نماز زوال کے بعد ہی پڑھی جائے گی۔

4۔ موسم گرما میں جمعہ جلدی پڑھنا مسنون ہے۔

حدیث نمبر: 137

عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه قال :

«كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقْرَأُ فِي صَلاةِ الْفَجْرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ (الم تَنْزِيلُ) السَّجْدَةَ وَ(هَلْ أَتَى عَلَى الإِنْسَانِ)».

(رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب ما يُقرأ في صلاة الفجر يوم الجمعة، برقم 891، وفي كتاب سجود القرآن، باب سجدة (التنزيل) السجدة، برقم 1068، ومسلم، كتاب الجمعة، باب ما يقرأ يوم الجمعة، برقم 879، وزاد:

«… وأن النبي ﷺ كان يقرأ في صلاة الجمعة: سورة الجمعة، والمنافقين»، ورقم 880)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ جمعہ کے دن فجر کی نماز کی پہلی رکعت میں الم تنزیل ( سورہ السجدہ) اور دوسری رکعت میں ھل اتیٰ علی الانسان ( سورہ الدہر/ الانسان) تلاوت کرتے تھے ۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – يَقْرَأُ : وہ پڑھتا ہے / پڑھے گا ۔

2 – فِیْ صَلَاةِ الْفَجْرِ : صبح کی نماز میں ۔

3 – الم السَّجْدَةَ : سورہ سجدہ کا نام ہے۔

4 – هَلْ اَتٰى عَلَى الْإِنْسَانِ: سورہ الانسان کا نام ہے، اس کا ایک تیسرا نام سورہ الدھر ہے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔جمعہ کے دن نماز فجر کی پہلی رکعت میں سورہ سجدہ اور دوسری رکعت میں سورہ دھر پڑھنا مسنون ھے۔ فجر کی نماز باقی نمازوں سے قدرے لمبی قرات والی نماز ہے نبی کریم ﷺ عموماً ساٹھ سے سو آیات تلاوت فرماتے ۔ البتہ اگر لوگ اس کی استطاعت نہ رکھیں تو قدرے مختصر بھی پڑھائی جاسکتی ہے۔

2۔ اس سنت پر بہت کم لوگ عمل کرتے ہیں صرف اہلحدیث مساجد میں اس سنت پر عمل ملتا ہے اور یہ اہلحدیث کے لیے شرف کی بات ہے۔

٭٭٭

تبصرہ کریں