
سجدہ سہو سے متعلق
حدیث نمبر: 101
عَنْ محمد بن سيرين عَنْ أبي هريرة رضي الله عَنْه قال : «صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللهِ ﷺ إحْدَى صَلاتَيِ الْعَشِيِّ ــ قَالَ ابْنُ سِيرِينَ : وَسَمَّاهَا أَبُو هُرَيْرَةَ، وَلَكِنْ نَسِيتُ أَنَا ــ قَالَ : فَصَلَّى بِنَا رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ، فَقَامَ إلَى خَشَبَةٍ مَعْرُوضَةٍ فِي الْمَسْجِدِ، فَاتَّكَأَ عَلَيْهَا كَأَنَّهُ غَضْبَانُ، وَوَضَعَ يَدَهُ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، وَشَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ، ووضع خده الأيمن على ظهر كفه اليسرى، وَخَرَجَتِ السَّرَعَانُ مِنِ أَبْوَابِ الْمَسْجِدِ، فَقَالُوا : قُصِرَتِ الصَّلاةُ؟ وَفِي الْقَوْمِ أَبُو بَكْرٍ، وَعُمَرُ ــ فَهَابَا أَنْ يُكَلِّمَاهُ ــ وَفِي الْقَوْمِ رَجُلٌ فِي يَدَيْهِ طُولٌ، يُقَالُ لَهُ : ذُو الْيَدَيْنِ ــ قَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَنَسِيتَ أَمْ قُصِرَتِ الصَّلاةُ؟ قَالَ : «لَمْ أَنْسَ وَلَمْ تُقْصَرْ». فَقَالَ : «أَكَمَا يَقُولُ ذُو الْيَدَيْنِ؟» قَالُوا : نَعَمْ، فَتَقَدَّمَ فَصَلَّى مَا تَرَكَ، ثُمَّ سَلَّمَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَكَبَّرَ، ثُمَّ كَبَّرَ وَسَجَدَ مِثْلَ سُجُودِهِ، أَوْ أَطْوَلَ، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَكَبَّرَ، فَرُبَّمَا سَأَلُوهُ، ثُمَّ سَلَّمَ؟ قَالَ : فَنُبِّئْتُ : أَنَّ عِمْرَانَ بْنَ حُصَيْنٍ قَالَ : ثُمَّ سَلَّمَ».
(رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب تشبيك الأصابع في المسجد وغيره، برقم 482، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السهو في الصلاة والسجود له، برقم 573)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا محمد بن سیرین نے سیدنا ابو ہریرہ سے روایت کی، فرمایا کہ ہمیں رسول اللہ ﷺ نے ظہر یا عصر میں سے ایک نماز پڑھائی، سیدنا محمد بن سیرین نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ نے اس نماز کا نام لیا تھا لیکن میں بھول گیا، فرمایا :ہمیں آپ ﷺ نے دو رکعت پڑھائیں پھر سلام پھیر دیا اور آپ ﷺ مسجد میں نصب لکڑی کے ساتھ جا کھڑے ہوئے اور اس کے ساتھ ٹیک لگا لی گویا کہ آپ ﷺ ناراض ہیں، اپنا دایاں ہاتھ بائیں پر رکھا اور ایک ہاتھ کی انگلیوں کو دوسرے ہاتھ کی انگلیوں میں داخل کیا جلد باز لوگ مسجد کے دروازوں سے نکلے اور کہنے لگے کہ کیا نماز کم کر دی گئی ہے؟ قوم میں سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر بھی تھے، وہ ڈرے کہ آپ ﷺ سے بات کریں، قوم میں ایک شخص ایسا تھا جس کے ہاتھ لمبے تھے اسے ذوالیدین کہا جاتا تھا، اس نے کہا یا رسول اللہﷺ! کیا آپ بھول گئے ہیں یا نماز کم کر دی گئی ہے؟ آپﷺ نے فرمایا: نہ میں بھولا ہوں اور نہ ہی نماز کم کی گئی ہے، اس نے عرض کی آپ ﷺ بھول گئے ہیں، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا ایسا ہی ہوا جیساکہ ذوالیدین کہتا ہے، انہوں نے کہا: ہاں، آپ ﷺ آگے بڑھے، نماز پڑھائی جو چھوڑی تھی پھر سلام پھیرا، پھر اللہ اکبر کہا اور سجدہ کیا پہلے سجدے کی مانند یا اس سے قدرے لمبا پھر اپنا سر اٹھایا پھر اللہ اکبر کہا اور پہلے سجدے کی مانند سجدہ کیا اس سے قدرے لمبا پھر اللہ اکبر کہتے ہوئے اپنا سر اٹھایا۔ سیدنا ابن سیرین نے لوگوں سے سوال کیا پھر سلام پھیرا فرمایا مجھے بتایا گیا کہ سیدنا عمران بن حصین نے کہا پھر سلام پھیرا۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1:الْعَشِیِّ: زوال سے لے کر غروب آفتاب کے وقت کو عشی کہتے ہیں۔
2:نَسِيْتُ : میں بھول گیا ۔
3:خَشَبَةُ مَعْرُوضَةُ: نصب شدہ لکڑی۔
4:شَبَّكَ بَيْنَ أَصَابِعِهِ : آپ ﷺ نے اپنی انگلیاں دوسری انگلیوں میں داخل کیں۔
5 :سَرْعَانُ : جلد باز ۔
6 :أَمْ قُصِرَتِ الصَّلَاةُ : کیا نماز کم کر دی گئی ہے ۔
7 : نُبِّئْتُ : مجھے خبر دی گئی ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ نبی کریمﷺ بشر تھے اور باقی انسانوں کی طرح آپ کے ساتھ بھی انسانی لوازمات تھے مثلا خوش ہونا، پریشان ہونا، بیمار ہونا، صحت یاب ہونا، سونا، جاگنا، کھانا پینا ، بول و براز وغیرہ وغیرہ اور اسی طرح بھول چوک کا ہوجانا۔ مگر اس بھول کا تعلق وحی الہی سے نہیں ہے۔ وحی الٰہی کے لینے اور پہنچانے میں نبی کریم ﷺ سے بھول ممکن نہیں ہے۔
2۔ دو یا دو سے زیادہ لفظ/الفاظ باتوں وغیرہ میں سے اگر کوئی کسی ایک کو یقینی طور پر یاد نہ رکھ سکے تو بیان کرتے وقت بتادے کہ مجھے بالضبط یاد نہیں ہے جیسا کہ حضرت محمد بن سیرین نے کیا اور یہ ہمارے سلف صالحین کے کمال تقوی اور امانتداری میں سے ہے۔
3۔ مسجد وغیرہ میں ہاتھوں کی انگلیوں میں انگلیاں ڈالنا جائز ہے۔ جن روایات میں اس عمل کی ممانعت ہے وہ ثابت نہیں ہیں۔ اور یہی امام بخاری کا موقف ہے۔
4۔یہ حدیث اس اصول کی بھی دلیل ہے کہ ثقہ اگر ثقات کی مخالفت کرے تو ثقہ راوی کی روایت شاذ یعنی ضعیف ہوتی ہے اور مخالف نہ ہو تو وہ صحیح ہے ۔ یعنی ثقہ راوی ثقات کی موجودگی میں بات کرے تو اس کی تصدیق ثقات سے ضروری ہے جیسا کہ ذوالیدین کی تصدیق رسول اللہ ﷺ نے دوسرے کبار صحابہ کرام سے کی ۔
5۔یہ حدیث اس اصول کی بھی دلیل ہے کہ شریعت کا حکم اپنے اصل پر رہے گا جب تک کہ اس کا نسخ ثابت نہ ہوجائے ۔ جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ چار رکعت والی نماز میں دو رکعت پر سلام پھیر دیا گیا تو اس کے متعلق پوچھا گیا اور رسول اللہ ﷺ نے وضاحت فرمائی کہ نماز تھوڑی نہیں ہوئی ہے ۔
6۔ اس حدیث سے شرعی مسائل میں اجتہاد کا اصول ثابت ہوتا ہے کہ بعض صحابہ کرام نے اس سے نماز کی رکعات کا منسوخ ہونا سمجھا ۔ اور اس سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ اجتہاد میں بعض دفعہ غلطی بھی ہوتی ہے۔
7۔ اس حدیث سے یہ بھی ثابت ہوتا ہے کہ نماز میں بھول کر گفتگو کرنے سے نماز باطل نہیں ہوتی ہے جیسا کہ بعض لوگوں کا خیال وہ ایسی صورت میں نئے سرے سے نماز پڑھنے کے قائل ہیں اور ان کا عمل اس صحیح حدیث کے خلاف ہونے کی وجہ سے مردود ہے۔
8۔سجدہ سہو دو سجدے ہیں اور دونوں طرف سلام پھیرنا ہے سجدہ سہو میں ایک طرف سلام پھیرنا کسی حدیث سے ثابت نہیں ہے ۔
9۔سجدہ سہو شیطان کے لیے اضطراب، پریشانی اور تکلیف کا باعث بنتا ہے۔ نماز میں بھولنے سے اس کا ثواب کم نہیں ہوتا ہے ۔
10۔سجدہ سہو سلام پھیرنے سے پہلے اور سلام پھیرنے کے بعد دونوں طرح درست ہے۔
11۔امام کی بھول کا اثر مقتدیوں پر ہو گا۔ یعنی امام اگر بھول جاۓ تو مقتدیوں پر بھی سجدہ سہو لازم ہے اگرچہ کوئی مقتدی نماز کے آخر میں شامل ہوا ہو۔
12۔ نماز کے بعد مسجد میں ہی رہنا ذکر اذکار کرنا افضل ہے البتہ ضرورت کے تحت سلام کے بعد مسجد سے چلے جانا جائز ہے جیسا کہ اس حدیث میں ہے کہ بعض جلدباز جلدی چلے گئے ۔
3۔ بڑوں کا ادب کرنا چاہیے جیسا کہ اس حدیث کے مطابق صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کی بھولنے کی غلطی پر ادب و احترام کی وجہ سے خاموش رہے اور انہوں نے اجتہادا یہ سمجھا کہ نماز کم ہوگئی ہے۔ صحابہ کرام رسول اللہ ﷺ کا کمال احترام کرتے تھے۔
14۔سجدہ سہو کے لیے بھی تکبیر ہے جیسا کہ اس حدیث میں بھی ذکر ہے۔
15۔ شناختی لقب سے کسی کو پکارنا جائز ہے بشرطیکہ توہین اور حقارت مقصود نہ ہو۔ جیسا کہ ذوالیدین لمبے ہاتھوں والا لقب۔
16۔ خبر واحد حجت ہے ۔
حدیث نمبر: 102
عَنْ عبد اللَّه بن بحينة ــ وكان من أصحاب النبي ﷺ ــ «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ صَلَّى بِهِمُ الظُّهْرَ، فَقَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الأُولَيَيْنِ، وَلَمْ يَجْلِسْ، فَقَامَ النَّاسُ مَعَهُ، حَتَّى إذَا قَضَى الصَّلاةَ، وَانْتَظَرَ النَّاسُ تَسْلِيمَهُ، كَبَّرَ ــ وَهُوَ جَالِسٌ ــ فَسَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، قَبْلَ أَنْ يُسَلِّمَ ثُمَّ سَلَّمَ».
(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب من لم ير التشهد الأول واجباً، برقم 829، واللفظ له، وكتاب السهو، باب ما جاء في السهو إذا قام من ركعتي الفريضة، برقم 1224، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب السهو في الصلاة والسجود له، برقم 570)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن بحینہ سے روایت ہے اور وہ نبی کریمﷺ کے صحابہ میں سے تھے فرمایا:کہ نبی کریم ﷺ نے انہیں ظہر کی نماز پڑھائی پہلی دو رکعتوں کے بعد اٹھ کھڑے ہوئے اور بیٹھے نہیں لوگ بھی آپکے ساتھ اٹھ کھڑے ہوئے یہاں تک کہ جب آپ نے نماز پوری ادا کر لی لوگوں نے آپ ﷺ کےسلام پھیرنے کا انتظار کیا آپ نے بیٹھے ہوئے، اللہ اکبر کہا اور سلام پھیرنے سے پہلے دو سجدے کئے پھر سلام پھیر دیا۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1: اِذَا قَضَى الصَّلَاةَ : جب نماز پوری ادا کر لی ۔
2: اِنْتَظَرَ النَّاسُ : لوگوں نے انتظار کیا ۔
3: كَبَّرَ : اللہ اکبر کہا ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔جو شخص نماز کی رکعات یا پہلا تشھد کرنے میں بھول جائے اسکے لئے سجدہ سہو کرنا ضروری ہے۔ البتہ کم رکعات کی صورت میں رکعات کو پورا کرنا یا کسی رکن کے رہ جانے سے پوری رکعت کو دوبارہ پڑھنے کے بعد سجدہ سہو کیا جائے گا۔
2:پہلی تشہد نماز کا رکن نہیں ہے اگر رکن ہوتا تو صرف سجدہ سہو اس کا بدل نہ ہوتا۔
3۔گر نماز کے دوران بھول ایک سے زائد مرتبہ ہو اسکے عوض بھی صرف دو سجدہ سہو ہی کافی ہوں گے۔
4۔اس سے امام کی متابعت کی اہمیت اجاگر ہوتی ہے باوجود اسکے کہ مقتدیوں کے علم میں ہوتا ہے کہ دو رکعتوں کے بعد بیٹھنا ہےلیکن چونکہ امام بھول کر کھڑا ہو چکا ہے، لہٰذا مقتدی بھی امام کی اتباع کرتے ہوئے کھڑا ہوں گے۔
5۔نماز کے مسائل کا علم ہر مسلمان کو ہونا چاہیے کیونکہ نماز ہر مسلمان کا عمل ہے۔
6۔سہو کے مسائل کو بھی جاننا ضروری ہے اور کسی مسئلہ کا علم نہ ہونے کی صورت میں اہل علم سے پوچھنا ضروری ہے۔
7۔قرات میں بھول پر سجدہ سہو نہیں ہے۔
٭٭٭
مولانا فضل الرحمٰن حقانی کی والدہ محترمہ کی وفات
مولانا بہادر بیگ کی بیٹی، مولانا جان محمد کی زوجہ محترمہ اور میری ( فضل الرحمن ) کی امی جان 19؍11؍2024 کو اللہ کو پیاری ہوگئیں۔ إنا للہ وإنا إلیہ راجعون اللھم اغفرلھا وارحمھا وادخلھا جنات الفردوس الأعلیٰ وأعذھا من عذاب القبر و عذاب النار …
الحمد للہ میری امی جان رحمھا اللہ رحمۃ واسعۃ نے اپنے پیچھے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں اور بہت ساری شاگردہ چھوڑی ہیں اللہ سب کو امی جان رحمھا اللہ کے لیے صدقہ جاریہ بناۓ ۔ امی جان نے اپنی اولاد سمیت بہت ساری بچیوں اور عورتوں کو قرآن مجید ناظرہ اور ترجمہ القرآن مفت پڑھایا ہے۔ الحمد للہ۔
تقریباً اسی 80 سال کی عمر پائی ہے ۔ آپ صوم و صلوٰۃ کی پابند ،ذکرو اذکار کرنے والی خاتون تھیں اللہ کے عذابوں سے بہت ڈرتی تھیں اپنی دعاؤں میں یہ دعا ضرور کرتی تھیں کہ اے اللہ مجھے کسی کا محتاج نہ کرنا اور ایمان والی موت دینا اور قبر کے عذاب سے بچانا۔
آخری دن تقریباً تین بجے میں نے امی جان سے ویڈیو کال پر بات کی تو امی جان کہنے لگیں کہ میں زیادہ بات نہیں کرسکتی بس صرف کیمرے میرے سامنے رکھ دو اور باتیں اپنی بہنوں سے کرو میں تقریباً ایک گھنٹہ باتیں کرتا رہا اور ہر روز کم از کم دو تین بار امی جان سے ویڈیو کال پر بات ہوتی تھی الحمد للہ ۔
امی جان کی وفات سے ایک دن پہلے سانس کی تکلیف ہوئی ٹیسٹ کرانے پر معلوم ہوا کہ امی جان کے پھیپڑوں میں پانی ہے اسی شام سات بجے ڈاکٹر سے دوائی وغیرہ لینے کا وقت مقرر تھا مگر اس سے پہلے ہی اللہ کو پیاری ہوگئی ہیں ، اس طرح اللہ نے موت کا سبب پیٹ کی بیماری بنایا جو ان شاءاللہ شہادت کے مقام و مرتبہ کا سبب بنے گا ۔
وفات سے چند لمحے پہلے اپنی بیٹیوں کو جو الحمد للہ سبھی پاس موجود تھیں کہا کہ مجھے تیمم کرواؤ میں نے نماز پڑھنی ہے مگر تیمم کے بعد نماز پڑھنے کا موقع نہیں ملا۔ اور اسی روز صبح تین بار کلمہ طیبہ پڑھا اور پھر اس کے بعد کوئی زیادہ دنیاوی گفتگو نہیں کی البتہ اپنی بیٹیوں اور داماد جو مولانا بہادر بیگ کے بھائی محمد سرور بیگ کے بیٹے بھی ہیں ان کی دعاؤں پر آمین کہتے رہے۔
امی جان کی زندگی اور موت دونوں شاندار اور قابل رشک تھیں۔ امی جان کا تین بار جنازہ پڑھا گیا پہلا جنازہ مولانا محمد علی بیگ جو امی جان کے بھتیجے اور جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے استاذ ہیں انہوں نے پڑھایا اور دوسرا فضیلۃ الشیخ سابق مدرس مسجد نبوی جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے سنئیر استاذ ڈاکٹر عبد الباسط فہیم ﷾اور تیسرا میں نے خود جنازہ پڑھایا ۔ الحمد للہ
میری مادر علمی جامعہ سلفیہ اسلام آباد کے رئیس الجامعہ حافظ محمد شفیق ﷾ نے بڑی شفقت اور محبت فرمائی کہ جامعہ سے طلباء اور اساتذہ کو جنازے میں شرکت کی اجازت دی میں محترم جناب رئیس الجامعہ حافظ محمد شفیق ﷾ اور تمام شامل ہونے والے طلباء اور اساتذہ کرام کا تہ دل سے شکر گذار ہوں ۔
اس طرح میری امی جان کے جنازے میں تقریباً سو سے زائد علماء کرام نے شرکت فرمائی اور خاندان اور علاقے کے لوگوں کی کثیر تعداد جنازے میں شریک ہوئی اللہ سب کو جزاۓ خیر دے اور ان کے اخلاص اور دعاؤں کو شرف قبولیت بخشے ۔ میں جنازے میں شریک ہونے والے، دعاۓ مغفرت اور تعزیت کرنے والے تمام افراد کا خصوصاً اپنے مادر علمی کے اہل علم بھائیوں کا تہ دل سے شکر گذار ہوں۔ جزاھم اللہ خیرا و احسن الجزاء ۔
میرے والد گرامی قابل صد احترام مولانا جان محمد رحمہ اللہ 2011 میں اللہ کو پیارے ہوئے۔ آپ بھی عالم دین، نیک و صالح تھے اللہ تعالیٰ والدین کی نیکیوں کو قبول فرمائے، لغزشوں، کوتاہیوں کو معاف فرماۓ جنات الفردوس میں اعلی مقام نصیب فرمائے اور قبر اور جہنم کے عذاب سے بچائے۔ آپ نے اپنے پیچھے دو بیٹے اور پانچ بیٹیاں چھوڑیں سبھی صوم و صلوٰۃ کے پابند دیندار ہیں الحمد للہ ۔ اللہ عزوجل تمام اولاد اور شاگردوں کو صدقہ جاریہ بنائے ۔
اللہ تعالیٰ نے امی جان اور ابا جان دونوں کی قبروں کو ایک دوسرے کے بلکل قریب بنانے کی جگہ نصیب فرمائی اللہ عزوجل دونوں پر اپنا خصوصی رحم و کرم فرماۓ جنت میں دونوں کو اکھٹا فرمائے ۔
اللھم آمین یارب العالمین
٭٭٭
تبصرہ کریں