
حدیث نمبر: 54
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رضي الله عَنْهما؛ «أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ رضي الله عَنْه جَاءَ يَوْمَ الْخَنْدَقِ بَعْدَ مَا غَرَبَتِ الشَّمْسُ فَجَعَلَ يَسُبُّ كُفَّارَ قُرَيْشٍ، وَقَالَ : يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا كِدْتُ أُصَلِّي الْعَصْرَ حَتَّى كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ.
فَقَالَ النَّبِيُّ ﷺ : وَاَللَّهِ مَا صَلَّيْتُهَا. قَالَ : فَقُمْنَا إلَى بَطْحَانَ، فَتَوَضَّأَ لِلصَّلاةِ، وَتَوَضَّأْنَا لَهَا، فَصَلَّى الْعَصْرَ بَعْدَ مَا غَرَبَتْ الشَّمْسُ. ثُمَّ صَلَّى بَعْدَهَا الْمَغْرِبَ».[رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب من صلى بالناس جماعة بعد ذهاب الوقت، برقم 596، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب الدليل لمن قال الصلاة الوسطى…، برقم 631.]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:
سیدنا جابر بن عبداللہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عمر بن خطاب خندق کے دن آئے بعد اس کے کہ سورج غروب ہو چکا تھا کفار قریش کو برا بھلا کہنے لگے اور عرض کی یا رسول اللہ ﷺ میں عصر کی نماز نہ پڑھ سکا یہاں تک کہ سورج غروب ہونے لگا نبی کریم ﷺ نے ارشاد فرمایا :
’’اللہ کی قسم میں بھی یہ نماز نہ پڑھ سکا پھر ہم برساتی نالے کی طرف اٹھ کر گئے آپﷺنے نماز کے لئے وضو کیا ہم نے بھی نماز کے لئے وضو کیا آپﷺ نے سورج غروب ہونے کے بعد عصر کی نماز پڑھی پھر اس کے بعد مغرب کی نماز ادا کی۔ ‘‘
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : يَوْمَ الْخَنْدَقِ: خندق والا دن یعنی جنگ خندق کے دنوں میں سے ایک دن۔
2 : غَرَبَتِ الشَّمْسُ : سورج غروب ہو گیا ۔
3 : جَعَلَ يَسُبُّ: برا کہنے لگے ۔ کسی کے متعلق سخت الفاظ کہنا۔
4 : كَادَتِ الشَّمْسُ تَغْرُبُ : قریب تھا کہ سورج غروب ہو جاتا ۔
5 : بُطْحَانَ: برساتی نالہ ۔مدینہ کے قریب وادی ہے۔
6 : تَوَضَّأَ لِلصَّلٰوةِ : نماز کے لئے وضوء کیا ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔شرعی عذر سے فوت شدہ نماز کی قضاء واجب ہے۔ البتہ جان بوجھ کر چھوڑی گئی نمازوں کی صدق دل سے توبہ ہے۔
2۔حالت جنگ میں مسلمانوں کی حفاظت کا بندوست کرنے کی اہمیت۔
3۔فوت شدہ نمازوں کی ادائیگی میں ان کو ترتیب سے ادا کیا جائے گا یعنی پہلے پہلی نماز اور دوسری اس کے بعد ۔ غزوۂ خندق جس کا دوسرا نام غزوہ احزاب بھی ہے اس کے بعض دنوں میں ایک دن کی چار نمازوں ظہر عصر مغرب اور عشاء کو اکٹھا ادا کیا گیا ، ظہر ، عصر، مغرب اور عشاء اور ان کو ترتیب سے ادا کیا گیا۔
4۔فوت شدہ نمازوں کے لیے بھی جماعت مسنون ہے۔
5۔ ظالم کے خلاف بد دعا کرنا شرعاً جائز ہے۔
6۔یسب کا معنی عموما گالی دینا کے کئیے جاتے ہیں حالانکہ عربی زبان میں یہ لفظ کسی دوسرے کو سخت الفاظ کہنے، ڈانٹ ڈپٹ وغیرہ کے لیے بھی استعمال ہوتے ہیں ۔
7۔سچے آدمی کا قسم اٹھانا جائز ہے اگرچہ اس سے قسم کا مطالبہ نہ کیا گیا ہو۔ جیسا کہ رسول اللہ ﷺ نے کیا۔
8۔ نماز کے لیے وضو شرط ہے ۔ وضو ممکن نہ ہوسکنے کی صورت میں تیمم کیا جاۓ گا۔
حدیث نمبر: 55
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رضي الله عَنْهما؛ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ قَالَ : «صَلاةُ الْجَمَاعَةِ أَفْضَلُ مِنْ صَلاةِ الْفَذِّ بِسَبْعٍ وَعِشْرِينَ دَرَجَةً»[رواه البخاري، كتاب الأذان ، برقم 645، ومسلم، واللفظ له، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، برقم 650.]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا عبداللہ بن عمر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا:’’جماعت کی نماز اکیلے کی نماز سے ستائیس درجے زیادہ افضل ہے۔ ‘‘
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : صَلَاةُ الْجَمَاعَةِ : جماعت کی نماز یعنی باجماعت نماز پڑھنا ۔
2 : صَلَاةُ الْفَذِّ: اکیلے کی نماز یعنی انفرادی طور پر نماز ادا کرنا ۔
3 : بِسَبْعٍ وَّعِشْرِينَ دَرَجَةً: ستائیس درجے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔مسجد میں باجماعت نماز کی اہمیت و فضیلت ۔
2۔نماز باجماعت انفرادی نماز سے ستائیس درجے زیادہ افضل ہے۔
3۔انفرادی نماز کے صحیح ہونے کی طرف اس حدیث میں اشارہ ملتا ہے۔ کیونکہ حدیث میں یہ فرمایا گیا کہ
نماز باجماعت انفرادی نماز سے افضل ہے اس سے معلوم ہوا کہ انفرادی نماز صحیح ہوتی ہے لیکن باجماعت نماز ادا کرنا فرض ہے اور بغیر شرعی اور معقول عذر کے مسجد میں جماعت کے ساتھ نماز کو چھوڑنے کی رخصت نہیں ہے ۔ البتہ جماعت نماز کی ادائیگی کے لیے شرط نہیں ہے ۔ شرط نہ ہونا کا مطلب یہ ہے کہ ایسا نہیں ہے کہ اکیلے کی نماز کا وجود ہی نہیں ہے۔ واللہ اعلم باالصواب۔
تبصرہ کریں