
آخری تشہد کے بعد سلام سے پہلے کی دعائیں
حدیث نمبر: 118
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رضي الله عَنْه قَالَ : «كَانَ رَسُولُ اللَّه ﷺ يَدْعُو في صلاته : اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنِ عَذَابِ الْقَبْرِ، وَمِنْ عَذَابِ النَّارِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ، وَمِنْ فِتْنَةِ الْمَسِيحِ الدَّجَّالِ». وفي لفظ لمسلمٍ : «إذَا تَشَهَّدَ أَحَدُكُمْ فَلْيَسْتَعِذْ بِاَللَّهِ مِنِ أَرْبَعٍ. يَقُولُ : اللَّهُمَّ إنِّي أَعُوذُ بِكَ مِنِ عَذَابِ جَهَنَّمَ ــ ثم ذَكَرَ نَحُوَهُ».
(رواه البخاري، كتاب الجنائز، باب ما جاء في عذاب القبر، برقم 1377، ومسلم بنحوه، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب ما يستعاذ منه في الصلاة، برقم 131- (588). رواه مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب ما يستعاذ منه في الصلاة، برقم 128- (588)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ اپنی نماز میں یہ دعا کیا کرتے تھے اے اللہ میں پناہ مانگتا ہوں تجھ سے قبر کے عذاب اور جہنم کے عذاب سے زندگی اور موت کے فتنے سے اور مسیح دجال کے فتنے سے مسلم کی روایت میں ہے جب تم میں سے کوئی ایک تشہد پڑھے تو اس کو چاہیے کہ وہ اللہ تعالیٰ سے چار چیزوں کی پناہ مانگے اس طرح کہے “اے اللہ میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں جہنم کے عذاب سے پھر مذکورہ باتوں کا ذکر کیا۔ (یعنی قبر کا عذاب زندگی اور موت کے فتنے اور دجال کے فتنے سے پناہ طلب کرنا)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – يَدْعُوْ : وہ دعا کرتا ہے یا کرے گا ۔
2 – اِنِّیْ أَعُوْذُبِكَ : میں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں ۔
3 – فِتْنَةِ الْمَحْيَا وَالْمَمَاتِ : زندگی اور موت کا فتنہ ۔
4 – اِذَا تَشَهَّدَ : جب کوئی تشہد پڑھے۔
5 – فَلْيَسْتَعِذْ : پس چاہے کہ وہ پناہ مانگے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1: نماز میں سلام سے پہلے دعا کی مشروعیت اور اس کا اہم ہونا۔
2: نماز میں مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ ان میں جامعیت ہے اور ان میں دنیا و آخرت کی خیر و بھلائی جب کہ انسان کے اپنے الفاظ میں وہ جامعیت اور فوائد نہیں ہوسکتے ہیں جو دعا سنت سے ثابت ہے کیونکہ جوامع الکلم رسول اللہ ﷺ کا معجزہ ہیں۔
3: قبر کا عذاب برحق ہے اس پر ایمان لانا واجب ہے اور اس سے پناہ مانگنا اور ان اعمال سے بچنا ہر مسلمان کے لئے ضروری ہےجن کی وجہ سے قبر کے عذاب کی وعید سنائی گئی ہے ۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو قبر کے عذاب کے منکر ہیں یا قبر کے متعلق تاویلات کرتے ہیں ۔ اللہ تعالیٰ ہر جگہ عذاب دینے پر قادر ہے۔ مومن وہ ہے جو اللہ اور رسول ﷺ کی بتائی ہوئی باتوں پر من وعن ایمان لاتا ہے اور کسی تذبذب اور شک کا شکار نہیں ہوتا ہے کیونکہ تذبذب اور شک ایمان کے منافی ہیں۔
4۔زندگی کے بھی فتنے ہیں یعنی آزمائش اور امتحان وغیرہ ایک مومن کو چاہے کہ زندگی کا ہر لمحے اللہ اور رسول ﷺ کی بتائی ہوئی ہدایت کے مطابق گذارے اور خواہشات کی تکمیل میں کبھی بھی شیطان کی اتباع نہ کرے ۔ زندگی کے فتنوں سے بچنے کی کوشش کے ساتھ ساتھ اس سے بچنے کی دعا کرنا بھی ضروری ہے کیونکہ اللہ تعالیٰ کی مدد اور توفیق کے بغیر انسان نہ کوئی نیکی کر سکتا ہے اور نہ کسی برائی سے بچ سکتا ہے۔
5۔موت کے فتنے بھی بہت ہیں مثلا موت کے وقت ایمان کا نصیب رہنا اور کفر و شرک وغیرہ نہ کرنا اور اسی طرح موت کے بعد قبر کے سوال و جواب بھی موت کے فتنے ہی ہیں۔ دنیا میں ایسے اعمال کرنا جن سے موت کے وقت اور موت کے بعد فتنوں سے بچا جاسکتا ہے اور اعمال کے ساتھ ساتھ دعا جیسے عظیم عمل کو کبھی بھی نہیں بھولنا چاہیے کیونکہ بغیر اللہ کی مدد اور توفیق کے انسان کسی فتنے سے نہ بچ سکتا ہے اور نہ سرخرو ہو سکتا ہے ۔
6۔حدیث میں نماز کے آخر پر دعا کے لیے دو لفظ آۓ ہیں ایک دعا اور دوسرا ذکر جن احادیث میں دعا کا لفظ آیا ہے اس دعا کا تعلق عموماً تشھد کا آخر اور سلام سے پہلے کا وقت ہے اور جن میں ذکر کا لفظ آیا ہے اس سے مراد سلام کے بعد کا وقت مراد ہے۔
7۔دعا اتنا اہم اور اللہ کو محبوب عمل ہے کہ سید البشر حضرت محمد ﷺ بھی اس سے مستثنیٰ نہیں ہیں بلکہ آپ ﷺ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے مانگنا اسی طرح ضروری ہے جس طرح باقی اہل ایمان کو۔
8۔اس میں توحید کی بہت بڑی دلیل ہے کہ سید البشر حضرت محمد ﷺ سمیت تمام مخلوق اللہ مالک کی محتاج ہے اور نبی کریم ﷺ سمیت تمام انس و جن اللہ کی عبادت کے مکلف ہیں ۔
9۔اس میں صوفیاء کا رد ہے جو کہتے ہیں کہ خاص لوگ عام لوگوں کی عبادات کے مکلف نہیں ہیں ۔ یہ نظریہ رکھنا کہ عام لوگ ظاہری جیسے نماز، روزہ اور دعا وغیرہ عبادات کے مکلف ہیں اور خاص لوگ ایسی عبادات سے بلند ہیں باطل ہے کیونکہ سید البشر حضرت محمد ﷺ سے زیادہ خاص کون ہوسکتا ہے اور آپ ﷺ کی حالت یہ تھی کہ آپ اللہ کے عذابوں سے سب سے زیادہ ڈرنے والے اور نماز و روزہ اور دعا سمیت تمام عبادات میں سب سے بڑھ کر کرنے والے تھے ۔
10: اللہ عزوجل کے ہاں سب سے بڑا مقام اس کا ہے جو عاجزی و انکساری اور عبادات میں سب سے زیادہ ہے اور یہ شرف صرف سید البشر حضرت محمد ﷺ کو حاصل ہے کیونکہ آپ ﷺ نے ہی خبر دی کہ انی اخشکم للہ و اتقاکم یعنی تم میں سب سے زیادہ ڈرنے والا اور متقی میں محمد ﷺ ہوں۔
11: تمام عبادات میں دعا کا افضل ہونا ثابت ہوتا ہے اور درحقیقت تمام عبادات میں دعا شامل ہے ۔
حدیث نمبر: 119
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رضي الله عَنْه : أَنَّهُ قَالَ لِرَسُولِ اللَّهِ ﷺ : «عَلِّمْنِي دُعَاءً أَدْعُو بِهِ فِي صَلاتِي. قَالَ : قُلِ : اللَّهُمَّ إنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي ظُلْماً كَثِيرَاً، وَلا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إلاَّ أَنْتَ، فَاغْفِرْ لِي مَغْفِرَةً مِنِ عِنْدِكَ، وَارْحَمْنِي إنَّكَ أَنْتَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ».
(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الدعاء قبل السلام، برقم 834، ومسلم، كتاب الذكر والدعاء، باب استحباب خفض الصوت بالذكر، برقم 2705، برقم 817، ومسلم، برقم 217- (484) لمسلم، برقم 52- (705)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا حضرت عبداللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ نے سیدنا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہما سے بیان کیا کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے عرض کیا مجھےدعا سکھلائیے جو میں اپنی نماز میں مانگوں آپ نے فرمایا:تم یہ کہو ( یعنی اپنی نماز میں ) اے اللہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا اور گناہوں کو صرف تو ہی بخش سکتا ہے پس اپنے پس سے مجھے بخش دے مجھ پر رحم فرما بے شک تو بخشنے والا مہربان ہے۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – عَلِّمْنِیْ : آپ مجھے سکھلائیے ۔
2 – اَدْعُوْ بِهِ : ان کلمات کے ذریعے میں مانگو۔
3 – فِیْ صَلَاتِیْ : اپنی نماز میں ۔
4 – اَللّٰهُمّٰ : اے اللہ / الہی ۔
5 – اِنِّیْ ظَلَمْتُ نَفْسِیْ : میں نے اپنی جان پر ظلم کیا ۔
6 – لَا يَغْفِرُ : نہیں بخشتا ہے / نہ بخشے گا ۔
7 – الذُّنُوْبَ : گناہوں ۔
8 – فَاغْفِرْ لِیْ : پس تو مجھے بخش دے۔
9 – مَغْفِرَةً : بخشش۔
10 -مِّنْ عِنْدِكَ : اپنے پاس سے ۔
11 – وَارْحَمْنِیْ : اور تو مجھ پر رحم فرما۔
12 – الْغَفُوْرُ : بہت بخشنے والا ۔
13 – الرَّحِيْمُ : بہت مہربان ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔نماز میں مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ صحابہ کرام میں سب سے افضل ہیں اور آپ عربی ہیں اس کے باوجود آپ نے دعا کے لیے کلمات رسول اللہ ﷺ سے سیکھے ۔
2۔ شاگرد جب استاذ سے کوئی علم و عمل کی بات پوچھے تو استاذ کو چاہیے کہ وہ اس کی راہنمائی کرے جیسا کہ سب سے بہترین معلم نے کیا ۔
3۔دعا میں اپنی عاجزی ، بے بسی ، اور کوتاہیوں وغیرہ کا اعتراف کرنا اور اللہ مالک کی تعریف کرنا دعا کی فضیلت اور دعا کے قبول و مقبول ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔
4۔امت محمدیہ کا سب سے افضل فرد جب اللہ کے حضور اقرار کرتا ہے کہ میں نے اپنی جان پر بہت ظلم کیا ہے تو باقی کوئی شخص کیسے اپنے آپ کو پاک کہ سکتا ہے یا کوئی اپنے آپ کو یا دوسرے کو کیسے اللہ کے سامنے گناہوں سے پاک صاف سمجھ سکتا ہے ۔
5۔ہر مومن گناہوں اور کوتاہیوں سے بچنے کی پوری کوشش کے باوجود بہت سے گناہ اور کوتاہیاں کا شکار ہو جاتا ہے اس لیے اللہ کے حضور ہمیشہ اپنی کوتاہیوں کا اعتراف کرنا چاہیے اور اس سے معافی مانگنی چاہیے کیونکہ کسی بھی مومن کا یہ کردار اللہ کو بہت محبوب ہے یہی وجہ ہے کہ سید البشر حضرت محمد ﷺ باوجود معصوم ہونے کے کثرت سے استغفار کرتے رسول اکرم ﷺ ایک ہی مجلس میں سو سو باراللہ مالک سے استغفار کرتے اور یہ عمل اللہ کو اتنا پسند ہے کہ اللہ تعالیٰ نے رسول اللہ ﷺ کو خاص حکم دیا کہ فسبح بحمد ربک و استغفر ۔ آپ اپنے رب کی حمد کے ساتھ تسبیح کریں اور استغفار کریں۔ اور یہ توحید کی بڑی دلیل ہے کہ مخلوق میں کوئی ایسا نہیں ہے جس کے سامنے دعا کے طور ہاتھ پھیلائے جائیں بلکہ دعا سمیت تمام عبادات صرف اللہ معبود برحق کے ساتھ خاص ہیں ۔
6: نماز میں دعا کا خاص اہتمام کرنا رسول اللہ ﷺ کی عظیم الشان تعلیم ہے لیکن بدقسمتی سے ہمارے مسلمانوں کی اکثریت کی نمازیں مسنون دعاؤں سے خالی ہیں اور نماز کے بعد رسمی دعاؤں کی بھر مار ہے ۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین مسنون دعاؤں اور اعمال کا بہت خیال رکھتے تھے جبکہ آج کل مسلمانوں کی دعاؤں اور اعمال میں مسنون مفقود ہے ۔ بدعات اور شرک کی کثرت ہے الا من رحم ربی۔
حدیث نمبر: 120
عَنْ عائشة رضي الله عَنْها قَالَتْ : «مَا صَلَّى رَسُولُ اللهِ ﷺ صلاةً ــ بَعْدَ أَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ ﴿إذَا جَاءَ نَصْرُ اللَّهِ وَالْفَتْحُ﴾ ــ إلاَّ يَقُولُ فِيهَا : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي». وَفِي لَفْظٍ : «كَانَ رَسُولُ اللهِ ﷺ يُكْثِرُ أَنْ يَقُولَ فِي رُكُوعِهِ وَسُجُودِهِ : سُبْحَانَكَ اللَّهُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ، اللَّهُمَّ اغْفِرْ لِي».
(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الدعاء في الركوع، برقم 794، وباب التسبيح والدعاء في السجود، برقم 817، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب ما يستعاذ منه في الصلاة، برقم 484)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں رسول اللہ ﷺ نے سورۃ اِذَا جَآءَ نَصْرُ اللّٰهِ وَالْفَتْحُ کے نزول کے بعدکوئی نماز ایسی نہیں پڑھی جس میں یہ دعا نہ پڑھی ہو: “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ”
ایک روایت میں ہے کہ رسول اللہ ﷺ اپنے رکوع اور سجدے میں کثرت سے یہ دعا مانگا کرتے تھے: “سُبْحَانَكَ اللّٰھُمَّ رَبَّنَا وَبِحَمْدِكَ اللّٰھُمَّ اغْفِرْلِیْ”
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – اِذَا جَاءَ : جب وہ آیا ۔
2 – نَصْرُ اللّٰهِ : اللہ کی مدد ۔
3 – الْفَتْحُ : فتح / کامیابی ۔
4 – بَعْدَ اَنْ نَزَلَتْ عَلَيْهِ : آپ پر نازل ہونے کے بعد ۔
5 – اللّٰهُمَّ اغْفِرْ لِیْ : اے اللہ تو مجھے بخش دے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔نماز میں جس طرح تشہد کے آخر میں دعا کا مقام و محل ہے اسی طرح رکوع و سجود میں بھی دعا کی فضیلت ہے۔
2۔دعاؤں میں اللہ سے اپنی بخشش طلب کرنے کی فضیلت ہے ۔ بخشش طلب کرنے سے اللہ گناہ معاف کرتے ہیں اور درجات بلند کرتے ہیں۔
3۔مغفرت طلب کرنے کے لیے ضروری نہیں ہے کہ بندے سے گناہ سرزد ہو تو پھر ہی بخشش مانگے بلکہ بغیر گناہ کے بھی اللہ سے معافی مانگے کیونکہ یہ عمل عبادت ہے اور اللہ مالک کوبہت پسند ہے ۔
4۔رسول اللہ ﷺ معصوم ہیں اس کے باوجود کثرت سے توبہ اور استغفار کرتے تھے کیونکہ یہ عبادت ہے اور توحید ہے کہ
جب سید البشر حضرت محمد ﷺ اللہ سے معافی مانگتے ہیں اور توبہ کرتے ہیں تو اور کون ہے جو اس سے مستثنیٰ ہو۔
5۔توبہ اور گناہ کی معافی صرف اللہ سے مانگی جاسکتی ہے کیونکہ یہ عبادت ہے اور عبادت کا حق صرف اللہ مالک کا ہے کسی بھی اور کی عبادت کرنا شرک ہے ۔
6۔جس طرح بدنی اور مالی عبادات ہیں اسی طرح زبان کی بھی عبادات ہیں اور زبان کی عبادت دعا اور ذکر ہے۔ اللہ کے علاوہ نہ کسی سے دعا کی جاسکتی ہے اور نہ ہی کسی کا ذکر ۔
7۔تمام مخلوقات سمیت انبیاء کرام علیہم السلام کے اللہ کے سامنے فقیر ، محتاج اور بندے ہیں ۔
8۔ نماز میں مسنون دعاؤں کا اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ مسنون دعائیں جامع ہیں یعنی ان کے الفاظ تھوڑے ہیں مگر معنی و مفہوم بہت وسیع ہے اور مسنون دعاؤں میں تکلف و تصنع بھی نہیں ہے ۔ غیر مسنون دعاؤں میں بھی ایسی دعاؤں سے پرہیز کرنا چاہیے جن کے الفاظ پر تکلف اور محض تصنع والے ہو۔ دعا کے کلمات انتہائی سادے اور دل سے ہونے چاہئیں یعنی خشوع وخضوع ہونا چاہیے۔ آج کل اکثر دعاؤں میں (خصوصاً رمضان میں قنوت وتر اور کئی دوسرے موقعوں پر اجتماعی دعا میں ) بہت تکلف اور تصنع آچکا ہے ۔الا من رحم ربی ۔جس سے دور رہنا چاہیے ۔
9۔ہر معاملے میں رسول اللہ ﷺ کی تعلیمات انتہائی شاندار ہیں حتی کہ دعا میں بھی ۔
10۔دعاء کے آداب کا خیال رکھنا بہت اہم ہے۔
11۔جن اوقات یا موقعوں پر دعاء کی قبولیت کے زیادہ امکانات ہوں وہاں دعاء کرنے کی فضیلت ہے۔
12۔دعاء کی قبولیت کے زیادہ امکانات کے اوقات اور مواقعوں میں سے ایک نماز ہے ۔ نماز کے اندر دعاؤں کا زیادہ اہتمام کرنا چاہیے کیونکہ بندہ اللہ کے قریب سب سے زیادہ نماز میں ہی ہوتا ہے۔
٭٭٭
علامہ محمد تقی الدین هلالی رحمہ اللہ فرماتے ہیں:
’’یہ مصیبت جو مسلمانوں پر بالعموم اور اہل عرب پر بالخصوص آئی ہوئی ہے یعنی دنیا کے مٹھی بھر یہودیوں نے چھ سو ملین مسلمانوں اور ایک سو ملین عربوں سے مسجد اقصیٰ کو چھین لیا ہے۔ مسلمان اتنی بڑی تعداد میں ہونے کے باوجود مسجد اقصیٰ کو بازیاب کرانے میں ناکام و نامراد رہے۔ بلکہ جب کبھی مسجد اقصیٰ کی بازیابی کیلئے لیے انہوں نے کوشش بھی کی تو انہیں الٹے پاؤں واپس ہونا پڑا اور دوسری اراضی سے بھی ہاتھ دھو بیٹھے۔ اور ایسا کئی بار ہوا۔
آج تک مسلمان مسلسل تاریکیوں میں بھٹک رہے ہیں اور نجات کا کوئی راستہ انھیں نظر نہیں آرہا ہے۔ حالانکہ جسے بھی ایمان اور علم کی کچھ روشنی ملی ہوئی ہے اس کے لیے وہ راستہ عیاں اور واضح ہے اور وہ ہے قرآن اور سنت رسول ﷺ کی طرف واپسی۔
اللہ کی قسم مسلمانوں کے اوپر سے یہ مصیبت اسی وقت دور ہوسکتی ہے جب مسلمان اپنی موجودہ روش سے توبہ کرکے اللہ کی نازل کردہ شریعت کے مطابق فیصلہ کرنے لگیں اور اہل ایمان کا راستہ اختیار کر لیں۔ ہمارے بس میں نصیحت اور دعا کرنے کے سوا اور کچھ نہیں۔ اللہ تعالی ہی سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کرنے والا ہے۔(سبيل الرشاد: 3؍44)
٭٭٭
اقوال زریں
لازلت أتعجب ممن يجد وقتاً لكل شيء ، للنوم ، وللأكل ، وللترفيه ، وللجوال .
ولكنه لايجد وقتاً لقراءة القرآن .
.أقسم بالله إنه لمحروم .
مجھے تعجب ہوتا ہے اس شخص پر جسے ہر چیز کے لئے وقت مل جاتا ہے :
سونے کے لئے
کھانے پینے کے لئے
تفریح کے لئے
موبائل کے لئے
مگر اسے وقت نہیں ملتا تو صرف قرآن کی تلاوت کرنے کے لئے
اللہ کی قسم ایسا شخص محروم و بد نصیب ہے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں