
کتاب الصلاۃ ۔ نماز عیدین سے متعلق
حدیث نمبر 140
عَنْ جُنْدُبِ بنِ عبد اللَّه البَجَلي رضي الله عَنْه قال: «صلّى رسولُ اللَّه ﷺ يَوْمَ النَّحْرِ، ثُمَّ خَطَبَ، ثُمَّ ذَبَحَ، وَقَالَ : «مَنْ ذَبَحَ قَبْلَ أَنْ يُصَلِّيَ، فَلْيَذْبَحْ أُخْرَى مَكَانَهَا، وَمَنْ لَمْ يَذْبَحْ فَلْيَذْبَحْ بِاسْمِ اللَّهِ».
(رواه البخاري، كتاب العيدين، باب كلام الإمام والناس في خطبة العيد، برقم 985، بلفظه، ومسلم، كتاب الأضاحي، باب وقتها، برقم 1960)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا حضرت جندب بن عبداللہ البجلی رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ ﷺ نے قربانی ( عید الاضحیٰ ) کے دن نماز پڑھائی پھر خطبہ دیا پھر ذبح کیا اور فرمایا:جس نے ذبح کیا پہلےاس سےکہ وہ نماز پڑھے تو وہ اسکی جگہ دوسرا جانور ذبح کرے اور جس نے ذبح کیا وہ اللہ کا نام لے کر ذبح کر لے (بخاری و مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی ۔
1 – يَوْمَ النَّحْرِ : قربانی یعنی عید الاضحیٰ کا دن ۔
2 – ثُمَّ : پھر ، کے بعد۔
3 – ذَبَحَ :اس نے ذبح کیا ۔
4 – قَبْلَ أَنْ يُّصَلِّیَ : نماز پڑھنے سے پہلے۔
5 – فَلْيَذْبَحْ : پس چاہئے کہ وہ ذبح کرے ۔
6 – اُخْرٰى : دوسرا مراد دوسرا جانور ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔نماز عید الاضحیٰ کا وقت صبح سورج کے طلوع ہونے کے تھوڑی دیر بعد شروع ہو جاتا ہے۔
2۔عید الاضحیٰ کے دن پہلے نماز پھر خطبہ اور پھر قربانی کا جانور ذبح کرنا صحیح طریقہ ہے۔
3۔قربانی کا وقت نماز عید کی فراغت سے شروع ہو جاتا ہے۔ البتہ یہ حکم ان لوگوں کے لیے ہے جو اپنی قربانی خود کر رہے ہو یا قربانی کے وقت وہاں موجود ہوں اگر کسی دوسرے ملک سے کوئی شخص اپنی قربانی کا وکیل کسی کو مقرر کرے تو وکیل اپنے وقت اور عید کی نماز کا لحاظ رکھے گا موکل کی عید کے وقت کا خیال نہیں رکھے گا۔
4۔جس نے نماز ادا کرنے سے پہلے جانور ذبح کر دیا وہ قربانی کی حیثیت سے قبول نہیں ہو گا اسے قربانی کا ثواب پانے کے لیے نماز کے بعد دوسرا جانور ذبح کرنا ہو گا۔ البتہ وہ جانور حلال ہے اس کا گوشت وغیرہ کے کھانے میں کوئی حرج نہیں۔
5۔مسئلہ معلوم نہ ہو تو جب معلوم ہو جاۓ تو پھر اپنے عمل کو صحیح یعنی سنت کے مطابق کرنا ضروری ہے۔
6۔مسئلہ معلوم نہ ہونے کی صورت میں عمل میں غلطی پر گناہ اور مواخذہ نہیں البتہ علم کے بعد اس کو درست اور صحیح کرنا ضروری ہے۔
7۔اس حدیث میں علم کی فضیلت اور اہمیت کا بیان ہے ، حتی المقدور عمل سے پہلے علم حاصل کرنا ضروری ہے۔
8۔خطبہ میں امام ضرورت کے مطابق مقتدیوں سے گفتگو کر سکتا ہے جیسے نبی کریم ﷺ نے قربانی کے متعلق کی۔
9۔خطبہ میں موقع کی مناسبت سے گفتگو کرنے کی اہمیت و ضرورت۔
10۔ امام کو مقتدیوں کی غلطی کی اصلاح اچھے انداز اور طریقے کرنی چاہیے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے کی غلطی پر خاموشی خلاف سنت ہے۔
حدیث نمبر: 141
عَنْ جابِرٍ رضي الله عَنْه قال : «شَهِدْتُ مَعَ رسول اللَّه ﷺ الصَّلاَةَ يَوْمَ الْعِيدِ، فَبَدَأَ بِالصَّلاةِ قَبْلَ الْخُطْبَةِ بِلا أَذَانٍ وَلا إقَامَةٍ، ثُمَّ قَامَ مُتَوَكِّئًا عَلَى بِلالٍ، فَأَمَرَ بِتَقْوَى اللَّهِ تَعَالَى، وَحَثَّ عَلَى طَاعَتِهِ؛ وَوَعَظَ النَّاسَ وَذَكَّرَهُمْ، ثُمَّ مَضَى حَتَّى أَتَى النِّسَاءَ فَوَعَظَهُنَّ وَذَكَّرَهُنَّ، فَقَالَ : «يَا مَعْشَرَ النِّسَاءِ، تَصَدَّقْنَ، فَإِنَّكُنَّ أَكْثَرُ حَطَبِ جَهَنَّمَ» فَقَامَتِ امْرَأَةٌ مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ، سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ، فَقَالَتْ: لِمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ فَقَالَ:
«لأَنَّكُنَّ تُكْثِرْنَ الشَّكَاةَ، وَتَكْفُرْنَ الْعَشِيرَ» قَالَ: فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ مِنْ حُلِيِّهِنّ،َ يُلْقِينَ فِي ثَوْبِ بِلالٍ مِنْ أَقْرطتهِنَّ وَخَوَاتِيمِهِنَّ».
رواه البخاري، كتاب العيدين، باب موعظة الإمام النساء يوم العيد، برقم 978، ومسلم،كتاب صلاة العيدين، بلفظه، برقم 4- (885)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا حضرت جابر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا کہ میں رسول اللہ ﷺ کے پاس عید کے دن حاضر ہوا آپ نے خطبہ سے پہلے نماز سےابتداء کی بغیر اذان اور اقامت کے پھر آپ ﷺ حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے ہاتھ وغیرہ کا سہارا لے کر کھڑےہوئے اور آپ ﷺ نے اللہ کا تقوی اختیار کرنے کا حکم دیا اور اسکی اطاعت اختیار کرنے کی ترغیب دی اور لوگوں کو وعظ و نصحیت کی اور پھر آپ خواتین کی طرف چل کر گئے اور فرمایا:
اے گروہ خواتین صدقہ دیا کرو تم میں سے بیشتر جہنم کا ایندھن بنو گی۔خواتین کے درمیان سے ایک سیاہ رخساروں والی عورت کھڑی ہوئی اور اس نے عرض کیا کیوں یا رسول اللہ ﷺ؟ آپ ﷺ نے فرمایا اس لیے کہ تم شکوے شکایات بہت کرتی ہو اور خاوند کی نافرمانی و نا قدری کرتی ہو راوی نے کہا عورتیں اپنے زیور میں سے صدقہ و خیرات کرنے لگیں حضرت بلال رضی اللہ عنہ کے کپڑے میں اپنی بالیاں اور انگوٹھیاں ڈالنے لگیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – شَهِدْتُّ : میں حاضر ہوا ۔
2 – فَبَدَأَ : پس اس نے شروع کیا ۔
3 – الصَّلَاةِ : نماز ۔
4 – قَبْلَ الْخُطْبَةِ: خطبہ سے پہلے۔
5 – مُتَوَكِّئًا : ٹیک لگائے ہوئے ۔
6 – وَعَظَهُنٍ : ان سب خواتین کو وعظ کیا۔
7 – وَذَكٍرَهُنَّ : ان خواتین کو نصیحت کی۔
8 -حَثَّ : اس نے ترغیب دی ۔
9 – مَعْشَرَ : جماعت / گروہ
10 – حَطَبُ جَهَنَّمَ : جہنم کا ایندھن
11 – مِنْ سِطَةِ النِّسَاءِ : عورتوں کے درمیان سے ۔
12 – سَفْعَاءُ الْخَدَّيْنِ: سیاہ خساروں والی۔
13 – لِأَنَّكُنَّ : اس لئے کہ بیشک تم۔
14 – الشَّكَاةَ : شکوہ/ شکایت ۔
15 – الْعَشِيرَ : خاوند ۔
16 – فَجَعَلْنَ يَتَصَدَّقْنَ : وہ صدقہ دینے لگیں ۔
17 – مِنْ حُلِيِّهِنَّ : اپنے زیورات سے
18 – يُلْقِیْنَ : پھینکنے لگیں ۔
19 – أَقْرَاطَ : بالیاں۔
20 – خَوَاتِيْمَ : انگوٹھیاں۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔نماز عید بغیر اذان اور اقامت کے ہے۔
2۔خطیب کے لیے سنت یہ ہے کہ کھڑا ہو کر خطبہ عید دے۔
3۔ عید کا خطبہ بغیر منبر کے دینا سنت ہے۔
4۔خواتین مردوں سے الگ جگہ پر نماز ادا کریں گی اور خطبہ بھی الگ بیٹھ کر سنیں گی ۔ مردوں کے ساتھ خواتین نہ بیٹھیں چاہے محرم ہی کیوں نہ ہوں۔
5۔خواتین کو بھی عید کی نماز ، خطبہ اور دعا میں شمولیت کا تاکیدی حکم ہے۔ البتہ جو نماز نہ پڑھنے والی ہوں وہ نماز نہ پڑھیں مگر خطبہ اور دعا میں شرکت ہوں ۔
6۔خواتین اگر فاصلے پر ہوں اور ان تک آواز نہ پہنچے تو خطیب ان کے قریب جاکر وعظ و نصیحت کرے۔
7۔خاوند کا شکوہ شکایت، بے قدری، گالم گلوج وغیرہ جہنم میں جانے کا سبب ہے یعنی یہ کبیرہ گناہ ہیں۔
8۔صدقہ و خیرات سے انسان اللہ کے قریب ہوتا ہے، اس میں تقوی پیدا ہوتا ہے اور اللہ انسان کے دل کو ہدایت دیتا ہے۔
9۔خواتین کے لیے زیور پہننا جائز ہے اور اس کے لیے کانوں اور ناک میں سوراخ کرانا جائز ہے ۔
10۔ خواتین بھی مال کی مالک ہوتی ہیں اور وہ اپنے مال میں سے صدقہ و خیرات کرسکتی ہیں۔
11۔ خواتین کو بھی جہنم سے ڈرانا سنت ہے۔
12۔خواتین پر بھی وعظ و نصیحت کا اثر ہوتا ہے بلکہ بعض دفعہ مردوں سے زیادہ ہوتا ہے۔
13۔خواتین بھی امام و خطیب سے دوران خطبہ ضروری گفتگو کر سکتی ہیں ۔
14۔ کسی خاتون کے جسم کے رنگ وغیرہ کا ذکر کرنا ممنوع نہیں ہے خصوصاً جب وہ اپنے رنگ وغیرہ کی وجہ سے مشہور ہو بشرطیکہ اس میں تحقیر وغیرہ کا پہلو ہو۔
15۔اس حدیث سے بعض لوگوں نے عورت کے چہرے کے پردہ نہ ہونے پر دلیل بنائی ہے جو کہ راجح قول کے مطابق درست نہیں ہے۔
٭٭٭
دوست بنانے کے بارے میں لوگوں کے دو مذہب رہے ہیں۔ بعض کہتے ہیں کہ دوستوں کا زیادہ ہونا بہتر ہے۔ تاکہ شان و قوت میں اضافہ ہو، محبت و چاہت کے مراسم بڑھیں اور باہم تعاون و خبر گیری پروان چڑھے۔ کسی دانا سے جب پوچھا گیا: زندگی کیا ہے؟ تو اس نے کہا: زمانے کا ہیر پھیر، بادشاہ کی عزت اور دوستوں کی کثرت۔ اور کہا جاتا ہے کہ دوستوں کی کثرت انسان کا حقیقی زیور ہے۔
جبکہ بعض کا کہنا ہے کہ دوست کم ہوں تو اچھا ہے۔ تاکہ تکلفات اور تعلقات کا بوجھ کم سے کم رہے، اور تنازعات و اختلاف سے دوری بنی رہے۔ اسکندر نے کہا تھا : بغیر پرکھے دوستوں کو جمع کرنے والا ایسے ہے جیسے کوئی پتھروں کی ڈھیری لگا رہا ہو، اور چن چن کر دوست بنانے والا ایسے ہے جیسے کوئی موتی چن رہا ہو۔“
(أدب الدين والدنيا للماوردي : ص 276)
تبصرہ کریں