عمدۃ الأحکام؛ نماز عیدین سے متعلق(قسط58)۔ فضل الرحمٰن حقانی

کتاب الصلاۃ ۔ نماز عیدین سے متعلق

عَنْ أم عطية رضي الله عَنْها قَالت : «أَمَرَنَا – تَعَنْي النبيَّ ﷺ – أَنْ نُخْرِجَ فِي الْعِيدَيْنِ الْعَوَاتِقَ وَذَوَاتِ الْخُدُورِ، وَأَمَرَ الْحُيَّضَ أَنْ يَعْتَزِلْنَ مُصَلَّى الْمُسْلِمِينَ». وفي لفظٍ : «كُنَّا نُؤْمَرُ أَنْ نَخْرُجَ يَوْمَ الْعِيدِ، حَتَّى نُخْرِجَ الْبِكْرَ مِنْ خِدْرِهَا، وحَتَّى نُخْرِجَ الْحُيَّضَ، فَيَكُنَّ خَلف النَّاس، فَيُكَبِّرْنَ بِتَكْبِيرِهِمْ وَيَدْعُونَ بِدُعَائِهِمْ، يَرْجُونَ بَرَكَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ وَطُهْرَتَهُ».

(رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب شهود الحائض العيدين ودعوة المسلمين، ويعتزلن المصلى، برقم 324، وباب وجوب الصلاة في الثياب، برقم 351، ومسلم، كتاب صلاة العيدين، باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين إلى المصلى وشهود الخطبة، مفارقات للرجال، بلفظه، برقم 890. رواه البخاري، كتاب العيدين، باب التكبير أيام منى، وإذا غدا إلى عرفة، برقم 971، بلفظه، ومسلم، كتاب صلاة العيدين، باب ذكر إباحة خروج النساء في العيدين، برقم 11-(890)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ حضرت ام عطیہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا کہ نبی کریم ﷺ نے حکم دیا کہ ہم عیدین میں جوان لڑکیاں اور پردہ دار خواتین کو لے کر نکلیں اور حیض والی عورتوں کو حکم دیا کہ وہ مسلمانوں کی نماز پڑھنے والی جگہ سے الگ رہیں۔ ایک اور روایت میں ہے۔ ہمیں حکم دیا جاتا تھا کہ ہم عید کے دن نکلیں یہاں تک کہ کنواری لڑکیاں پردے کے ساتھ نکلیں۔ یہاں تک حائضہ عورتوں کو بھی عید گاہ میں باہر نکال لائیں۔ وہ ان کی تکبیر کے ساتھ تکبیر کہیں ، ان کی دعا کے ساتھ دعا مانگیں اور اس دن کی برکت اور پاکیزگی کی امید رکھیں۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 – أَمَرَنَا : آپ نے ہمیں حکم دیا ۔

2 – الْعَوَاتِقَ : دو شیزائیں۔ نوجوان ۔

3 – ذَوَاتِ الْخُدُورِ : پردہ دار ۔

4 – الْحُيَّضَ : حائضہ عورتیں ۔

5 – يَعْتَزِلْنَ : الگ رہیں ۔

6 – مُصَلّٰى : نماز پڑھنے کی جگہ۔

7 – اَلْبِكْرُ : کنواری ۔

8 – يُكَبِّرْنَ : وہ عورتیں تکبیر کہیں ۔

9 – يَرْجُوْنَ : امید رکھیں ۔

10 – بَرَكَةَ ذَلِكَ الْيَوْمِ : اس دن کی برکت۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ نماز عید کی اہمیت اور فضیلت جس میں مردوں کے ساتھ ساتھ خواتین کو بھی بھرپور شمولیت کا حکم دیا گیا۔

2۔حائضہ عورتیں نماز والی جگہ سے الگ بیٹھیں اور وہ دعا میں شرکت کریں ذکر اذکار کریں اور وعظ و نصیحت سنیں۔

3۔عید گاہ کا آبادی سے باہر ہونا افضل ہے اس میں اسلام کی شان و شوکت زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔

4۔حائضہ وغیرہ عورت کے لئے کسی بھی وقت دعائیں کرنا اور ذکر الٰہی کرنا جائز بلکہ مستحب ہے۔

5۔عیدین میں تکبیرات آنے جانے والے راستوں میں کہنی مسنون ہیں البتہ خواتین آہستہ آواز میں کہیں گی اور مرد بلند آواز سے۔

6۔عید کا دن برکتوں سے بھرپور ہے اور گناہوں کی معافی کا دن ہے جیسا کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ خواتین بھی اس دن کی برکت اور طھارت کی امید رکھیں ۔

7۔عید گاہ میں خواتین کی جگہ مردوں سے الگ ہونی چاہیے اور اگر مردوں سے پیچھے ہو تو زیادہ افضل ہے۔

8۔عورتیں جب بھی گھر سے باہر نکلیں باپردہ ہوکر نکلیں حتی کہ نماز، جمعہ اور عیدین کے لیے بھی۔

9۔صحابہ کرام جب یہ کہیں کہ ہمیں حکم دیا گیا تو اس سے مراد نبی کریم ﷺ کا حکم ہوتا ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بھی ذکر ہے۔

10۔نماز بغیر کپڑوں کے نہیں ہوتی ہے مرد و خواتین کے لیے ضروری کپڑے پہننا واجب ہے ۔ پاس نہ ہوں تو کسی سے مانگ لیں۔

نماز خسوف ؛ سورج اور چاند گرہن کی نماز

حدیث نمبر: 143

عَنْ عائشة رضي الله عَنْها ، «أَنَّ الشَّمْسَ خَسَفَتْ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، فَبَعَثَ مُنَادِياً يُنَادِي : الصَّلاةَ جَامِعَةً، فَاجْتَمَعُوا، وَتَقَدَّمَ فَكَبَّرَ، وَصَلَّى أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ فِي رَكْعَتَيْنِ وَأَرْبَعَ سَجَدَاتٍ». (رواه البخاري، كتاب الكسوف، باب الجهر بالقراءة في الكسوف، برقم 1066، وقد أخرجه في ثلاثة عشر موضعاً، أطرافها مع الحديث رقم 1044، ومسلم، كتاب الكسوف، باب صلاة الكسوف، برقم 901)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے بیان کیا نبی کریم ﷺ کے عہد میں سورج گرہن لگا تو آپ ﷺ نے ایک آدمی کو یہ اعلان کرنے کے لیے بھیجا کہ نماز ہونے والی ہے پھر آپ ﷺ نے دو رکعتیں چار رکوع اور چار سجدوں کے ساتھ پڑھیں۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 – خَسَفَتْ : سورج کو گرہن لگا۔

2 – عَهْدِ : زمانہ۔

3 – بَعَثَ : آپ ﷺ نے بھیجا۔

4 – مُنَادِياً : اعلان کرنے والا۔

5 – اجْتَمَعُوا : اکٹھے ہوئے۔

6 – تَقَدٍمَ : آپ آگے بڑھے۔

7 – كَبَّرَ : آپ ﷺ نے اللہ اکبر ( تکبیر تحریمہ ) کہا

8 – صَلى: نماز پڑھی / پڑھائی

9 – أَرْبَعَ رَكَعَاتٍ : چار رکوع۔

10 – أَرْبَعَ سَجَدَاتٍ : چار سجدے

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ سورج یا چاند گرہن لگنا نحوست نہیں ہے جیسا کہ بعض جہلاء خیال کرتے ہیں۔

2۔ سورج گرہن لگے تو نماز پڑھنا سنت ہے اس نماز کو نماز خسوف کہتے ہیں۔

3۔ سورج یا چاند کو جب گرہن لگے تو نماز کا اہتمام کرنا چاہیے اس نماز کے لیے الصلاۃ جامعۃ کے ساتھ اعلان کرنا کرانا مسنون ہے۔

4۔ سورج یا چاند گرہن کی نماز کے لیے اذان نہیں ہے ۔

5۔سورج گرہن کی دو رکعت مسنون ہیں ، اور اس کی ہر رکعت میں دو رکوع، دو قیام اور دو سجدے مسنون ہیں۔ جبکہ چاند گرہن کی نماز کی ہر رکعت میں ایک قیام، ایک رکوع اور دو سجدے ہیں۔ بعض لوگ سورج گرہن کی نماز کی ایک رکعت میں دو رکوع اور دو قیام کو صحیح نہیں سمجھتے ہیں جبکہ اس کا سنت ہونا بخاری و مسلم کی صریح احادیث سے ثابت ہے۔

6۔ سورج گرہن اور چاند گرہن کی نماز کے بعد خطبہ بھی مسنون ہے۔ اور ان لوگوں کا قول درست نہیں ہے جو اس خطبہ کو درست نہیں سمجھتے ہیں۔

٭٭٭

دعا

جمال عاجزی کیا ہے؟ دعا ہے

کمال بندگی کیا ہے؟ دعا ہے

فضا معمور ہے جس سے حرم کی

وہ حرف سرمدی کیا ہے؟ دعا ہے

حرا میں ، ثور میں ، بدر و اُحد میں

مناجات نبیؐ کیا ہے؟ دعا ہے

دم عیسیٰ ہے بیماروں کے حق میں

دوا سب سے بڑی کیا ہے؟ دعا ہے

عمل مشروط ہے پختہ یقیں سے

یقیں کی پختگی کیا ہے؟ دعا ہے

بنا ایمان کی صبر و رضا پر

حقیقت صبر کی کیا ہے؟ دعا ہے

سوئے افلاک جو اٹھتی ہے میری

نگاہ ملتجی کیا ہے؟ دعا ہے

زباں خاموش ہے ، پھیلا ہے دامن

یہ چشم شبنمی کیا ہے؟ دعا ہے

تہِ دل سے سر عرش معلی

لپکتی دوڑتی کیا ہے؟ دعا ہے

چراغ امید کا کس سے ہے روشن

دلوں کی روشنی کیا ہے؟ دعا ہے

فقیر بےنوا کو بھی جہاں میں

جو کرتی ہے غنی کیا ہے؟ دعا ہے

پروتی ہے دلوں کے موتیوں کو

محبت کی لڑی کیا ہے؟ دعا ہے

بناتی ہے جو ناممکن کو ممکن

وہ جادو کی چھڑی کیا ہے؟ دعا ہے

دعا میں دوسروں کو یاد رکھو

بقائے دوستی کیا ہے؟ دعا ہے

وہ داتا ہے ، عطا ہے کام اس کا

بساط آدمی کیا ہے؟ دعا ہے

پسند اس کو ہے میری آہ وزاری

متاع بے کسی کیا ہے؟ دعا ہے

ہے دم میں دم تو لب پر ہے یہ جاری

نشان زندگی کیا ہے؟ دعا ہے

جو رہتا ہے پس مردن بھی قائم

وہ ربط آخری کیا ہے؟ دعا ہے

جو ہو توفیق تو دشمن کو بھی دو

علاج دشمنی کیا ہے؟ دعا ہے

گھٹن مایوسیوں کی جان لیوا

گھٹن میں تازگی کیا ہے؟ دعا ہے

سخی دیتا ہے اس کو مال و دولت

عطا مسکین کی کیا ہے؟ دعا ہے

قبولیت پہ سب قدرت ہے اس کی

ہماری تن دہی کیا ہے؟ دعا ہے

جواب اس کا ہے رحمت کی گھٹائیں

سوال آدمی کیا ہے؟ دعا ہے

مِرا ورثہ بزرگوں کی دعائیں

متاع زندگی کیا ہے؟ دعا ہے

سخن میرا دعاؤں کا نتیجہ

خیال مرکزی کیا ہے؟ دعا ہے

لٹائے جاؤ عارف یہ خزانہ

نہ ہو جس میں کمی کیا ہے؟ دعا ہے

خواجہ محمد عار ف برمنگھم

تبصرہ کریں