عمدۃ الأحکام؛ نماز (فرض) کے بعد مسنون اذکار سے متعلق(قسط55) فضل الرحمٰن حقانی

نماز (فرض) کے بعد مسنون اذکار سے متعلق

حدیث نمبر: 130

عَنْ سهل بن سعد الساعدي رضي الله عَنْه، أنَّ رِجالاً تماروا في مِنْبَرِ رسول اللَّه ﷺ، مِنْ أَيِّ عُودٍ هُوَ؟ فقال سهل : مِنْ طَرْفَاءِ الْغَابَةِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رسولَ اللَّه ﷺ قَامَ عَلَيْهِ، فَكَبَّرَ، وَكَبَّرَ النَّاسُ وَرَاءَهُ، وَهُوَ عَلَى الـمِنْبَرِ، ثمَّ رَكَعَ، فَنَزَلَ الْقَهْقَرَى، حَتَّى سَجَدَ فِي أَصْلِ الْمِنْبَرِ، ثمَّ عَادَ حَتَّى فَرَغَ مِنْ آخِر صَلاَتِهِ، ثمَّ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ, فقال : «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، إنَّمَا صَنَعْتُ هذَا لتَأْتَمُّوا بِي، وَلِتَعَلَّمُوا صلاتي». وفي لفظٍ، «فصلى وهو عَلَيْها، ثم كبَّر عليها، ثم رَكَعَ وَهُوَ عَلَيْهَا، ثمَّ نَزَلَ القَهْقَرى». (رواه البخاري، كتاب الجمعة، باب الخطبة على المنبر، برقم 917، وذكره البخاري مفرقاً: 377، و448، و917 ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب جواز الخطوة والخطوتين في الصلاة: 544)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:

سیدنا حضرت سہل بن سعد ساعدی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ لوگوں کا رسول اللہ ﷺ کے منبر کے بارے میں اختلاف ہو گیا کہ یہ کس لکڑی کا ہے حضرت سہل رضی اللہ عنہ نے کہا کہ جنگل کے جھاؤ نامی درخت کا بنا ہوا ہے میں نے رسول اللہ ﷺ کو دیکھا آپ اس پر کھڑے ہوئے اللہ اکبر کہا لوگوں نے بھی آپکے پیچھے اللہ اکبر کہا اس حال میں کہ آپ منبر پر ہی تھے پھر آپ نے رکوع کیا پھر ایڑیوں کے بل پچھلی جانب نیچے اترے اور منبر کی جڑ میں سجدہ کیا پھر لوٹےیہاں تک کہ آپ نمازسے فارغ ہوئےپھر لوگوں کی طرف متوجہ ہوئے اور ارشاد فرمایا:

’’لوگوں یہ میں نے اس لئے کیا ہے کہ تم میری اقتداء کرو اور تم میری نماز سیکھ لو ایک روایت میں ہے کہ آپ نے منبر پر نماز پڑھی پھر اللہ اکبر کہا پھر رکوع کیا اور آپ منبر پر ہی تھے پھر پچھلے پاؤں نیچے اترے۔‘‘

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:

1 – رِجَالُ: رجل کی جمع ہے یعنی دو سے زیادہ مرد/لوگ ۔ 2 – تَمَارَوْا : وہ جھگڑے، باہمی اختلاف کیا ۔ 3 – عُوْدُ : لکڑی ۔

4 – طَرْفَآءَ : جھاؤکا درخت ۔

5 – كَبَّرَ : اللہ اکبر کہا ۔

6 – ثُمَّ رَكَعَ : پھر اس نے رکوع کیا ۔ 7 – وَرَآءَہُ: اس کے پیچھے ۔

8 – الْقَهْقَرٰى : پچھلے پاؤں پلٹنا/ چلنا۔

9 – اَصْلُ الْمِنْبَرِ : منبر کی جڑ / منبر کے قریب ترین۔

10 – صَنَعْتُ : میں نے کیا

11 – لِتَأْتَمُّوْا : تاکہ تم میری اقتداء کرو ۔

12 – وَلِتَعَلَّمُوْا صَلَاتِیْ : اور تم میری نماز سیکھ لو ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ اختلاف کی صورت میں کبار علماء کی طرف رجوع کرنا چاہیے جیسا کہ اس حدیث میں تابعین نے کیا ۔

2۔ کسی مسئلہ میں اختلاف راۓ کا ہو جانا معیوب نہیں معیوب تب ہے جب واضح دلیل کے آجانے کے بعد بھی انسان اپنی یا کسی دوسرے کی رائے پر جم جائے۔

3۔ امام تعلیم/ مصلحت کی غرض سے مقتدیوں سے بلند جگہ پر کھڑا ہو کر نماز پڑھ سکتا ہے۔

4۔بغیر ضرورت و مصلحت کے امام کا مقتدیوں سے اونچی جگہ پر کھڑا ہونا پسندیدہ نہیں ہے البتہ تعلیم وغیرہ کے ایسا کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے۔

5۔نماز کے دوران ضرورت کی حرکت نماز کو نقصان نہیں پہنچاتی ہے۔ البتہ بے جا حرکت نماز میں خشوع کے منافی ہے۔

6۔اس حدیث سے یہ بھی معلوم ہوا کہ امام اگر کوئی خلاف عادت کام کرے تو اسے چاہیے کہ عامۃ الناس کے سامنے اس کی وضاحت کر دے تاکہ شکوک و شبہات پیدا نہ ہوں۔

7۔خطبے وغیرہ کے لئے منبر کا استعمال سنت و مستحب ہے۔

8۔نماز کا معاملہ اس قدر اہم تھا اور ہے کہ نبی کریمﷺ نے اس کی تعلیم میں ازحد مبالغے سے کام لیا، حتیٰ کہ منبر پر کھڑے ہو کر نماز پڑھ کر دکھائی تاکہ لوگ نماز کے طریقے کو اچھی طرح جان لیں ۔

9۔ رسول اللہ ﷺ کی اقتداء بالعموم اور نماز میں بالخصوص فرض ہے۔

10۔طلباء کو اہم علمی مسائل کے ساتھ ساتھ بعض دیگر ضروری امور کی معرفت بھی حاصل کرنی چاہیے۔

11۔ بعض اہل علم کے نزدیک یہ نماز نفل تھی اور بعض کے نزدیک یہ جمعہ کے دو فرض تھے ۔

12۔بعض دوسری روایات میں اللہ اکبر کے بعد قرات کا بھی ذکر ہے۔

13۔ لکڑی وغیرہ کے تختے پر نماز پڑھنا درست ہے۔

تبصرہ کریں