عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:اوقاتِ نماز سے متعلق (قسط 25) فضل الرحمٰن حقانی

نماز کے ممنوعہ اوقات کے متعلق

حدیث نمبر: 52

عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رضي الله عَنْهما قَالَ: «شَهِدَ عِنْدِي رِجَالٌ مَرْضِيُّونَ – وَأَرْضَاهُمْ عِنْدِي عُمَرُ – أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ الصَّلاةِ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَطْلُعَ الشَّمْسُ، وَبَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغْرُبَ».

[رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب لا صلاة بعد الفجر حتى ترتفع الشمس، برقم 581، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الأوقات التي نُهي عن الصلاة فيها، برقم 826]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

’’سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے فرمایا:میرے پاس پسندیدہ اشخاص کی شہادت ہے اور ان میں میرے نزدیک سب سے زیادہ پسندیدہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صبح کی نماز کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا یہاں تک کہ سورج طلوع ہو جائے اور عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع کیا یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔‘‘ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : شَهِدَ : شہادت دی، گواہی دی ۔

2 : رِجَالُ مَّرْضِيُّونَ : پسندیدہ آدمی ۔

3 : اَرْضَاهُمْ عِنْدِیْ : ان سب میں سے میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ

4 : نَهٰى : منع کر دیا، روک دیا ۔

5 : حَتّٰى تَطْلُعَ الشَّمْسُ : یہاں تک سورج طلوع ہو جائے۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔صبح کی نماز ادا کرنے کے بعد نوافل کے لیے وقت ممنوع ہے۔ راجح قول کے مطابق سببی نماز ہر وقت ادا کی جاسکتی ہے مثلا کسی فرض نماز کی قضا جو شرعی عذر سے رہ گئی ہو، تحیۃ المسجد، یا صبح کی سنتیں فرض سے پہلے ادا نہ کر سکنے کی صورت میں فرض کے بعد ادا کرنا، طواف کی دو رکعتیں ، سورج یا چاند گرہن کی نماز۔ البتہ عام نوافل فجر کی نماز کے بعد ممنوع ہیں۔

2۔ سورج طلوع ہونے کے تھوڑی دیر بعد سے نوافل ادا کرنے کی اجازت ہے۔

3۔ نماز عصر کے بعد بھی نوافل کے لیے وقت ممنوع ہے مگر اگر سورج سفید یعنی رزد نہ ہوا ہو تو راجح قول کے نوافل پڑھے جاسکتے ہیں۔

اس کی دلیل ابوداؤد کی یہ صحیح حدیث ہے جس کو سیدنا علی نے بیان کیا ہے :

عَنْ عَلِيٍّ أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ نَهَى عَنْ الصَّلَاةِ بَعْدَ الْعَصْرِ إِلَّا وَالشَّمْسُ مُرْتَفِعَةٌ

(سنن أبی داود کتاب الصلاة، باب من رخص فیهما إذا کانت الشمس مرتفعة: 1274)

رسول اللہ ﷺ نے عصر کے بعد نماز پڑھنے سے منع فرمایا ہے ہاں اگر سورج ابھی بلند ہو تو پڑھی جاسکتی ہے۔

نماز کے ممنوعہ اوقات کے متعلق

حدیث نمبر: 53

عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رضي الله عَنْه؛ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ قالَ : «لاَ صَلاَةَ بَعْدَ الصُّبْحِ حَتَّى تَرْتَفِعَ الشَّمْسُ، وَلاَ صَلاةَ بَعْدَ الْعَصْرِ حَتَّى تَغِيبَ الشَّمْسُ».

[رواه البخاري، كتاب مواقيت الصلاة، باب لا يتحرى الصلاة قبل غروب الشمس، برقم 586، ومسلم، كتاب صلاة المسافرين وقصرها، باب الأوقات التي نهى عن الصلاة فيها، برقم 827]

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

سیدنا ابو سعید خدری سے روایت ہے رسول اللہﷺ نے ارشاد فرمایا :صبح کی نماز کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج بلند ہو جائے۔عصر کے بعد کوئی نماز نہیں یہاں تک کہ سورج غروب ہو جائے۔(بخاری و مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 : لَا صَلَاةَ : نماز نہیں ہے۔

2 : بَعْدَ الصُّبْحِ : نماز فجر کے بعد۔

3 : تَرْتَفِعُ الشَّمْسُ : سورج بلند ہوتا ہے ۔

4 : تَغِيْبُ الشَّمْسُ : سورج غروب ہوتا ہے ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔نماز فجر کے بعد سےطلوع آفتاب تک عام نوافل پڑھناممنوع ہیں۔ البتہ راجح قول کے مطابق سببی نماز وغیرہ پڑھنا جائز ہے۔ جس کی تفصیل سابقہ حدیث مبارکہ میں بیان ہو چکی ہے۔

2۔نماز عصر کے بعد سے غروب آفتاب تک نوافل پڑھناممنوع ہیں مگر اگر سورج بلند ہو سفید ہو زرد نہ ہوا ہو تو نوافل ادا کئے جاسکتے ہیں۔ جیسا کہ سابقہ حدیث میں بیان ہوچکا ہے۔

3۔ طلوع آفتاب کے فورا بعد نفل نماز کی اجازت نہیں ہے بلکہ جب سورج اچھی طرح طلوع ہو کر تھوڑا سا افق پر بلند ہو جائے تب نوافل ادا کرنے چاہئیں ۔ واللہ اعلم

٭٭٭

تبصرہ کریں