
سجدہ سہو سے متعلق
حدیث نمبر: 103
عَنْ أبي جُهيم ــ عبد اللَّه بن الحارث بن الصمة الأنصاري رضي الله عَنْه قال : قَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ : «لَوْ يَعْلَمُ الْمَارُّ بَيْنَ يَدَي الْمُصَلِّي مَاذَا عَلَيْهِ ــ مِنَ الإِثْمِ ــ لَكَانَ، أَنْ يَقِفَ أَرْبَعِينَ خَيْرًا لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ». قَالَ أَبُو النَّضْرِ : لا أَدْرِي : قَالَ «أَرْبَعِينَ يَوْماً أَوْ شَهْراً أَوْ سَنَةً».
رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب إثم المار بين يدي المصلي، برقم 510, ومسلم، كتاب الصلاة، باب دنو المصلي من السترة، برقم 507، وقوله: «من الإثم» لم أجدها في ألفاظ البخاري، ولا مسلم التي بين يدي.
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
حضرت ابو جہیم عبداللہ بن حارث بن صمۃ انصاری بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے اگر نمازی کے آگے سے گذرنے والا جان لے کہ اس پر کیا ( گناہ ،عذاب، وعید وغیرہ ) ہے تو اسکے لئے چالیس تک ٹھہرنا بہتر ہے اس کا نمازی کےآگے سے گذرنے سے حضرت ابو النضر نے کہا میں نہیں جانتا کہ اس نے چالیس دن، مہینے یا سال کہا۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – الْمَارُّ : گذرنے والا ۔
2 – بَيْنَ يَدَیِ الْمُصَلِّی : نمازی کے آگے سے ۔
3 – مَاذَا عَلَيْهِ : اس پر کیاہے ۔
4 – اَلْاِثْمُ : گناہ ۔
5 – اَنْ يَّقِفَ : ٹھہرنا ۔ ان مصدریہ ہے۔
6 – اَرْبَعِيْنَ : چالیس ۔
7 – اَنْ يَّمُرَّ : گزرنا ۔
8 – لَااَدْرِیْ : میں نہیں جانتا ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل مسائل اور احکام
1۔نمازی کے سامنے سے گذرنا سخت منع ہے۔
2۔نمازی کا راستوں اور گذرگاہوں پر نماز پڑھنا منع ہے، اِلا یہ کہ بہت مجبوری ہو ، مجبوری کی صورت میں اپنے سامنے سترہ رکھنے کا اہتمام و التزام کرے اور سترہ کے باہر سے گذرنے میں کوئی حرج نہیں ہے، البتہ سترہ اور نمازی کے درمیان سے گذرنا منع ہے نمازی کو چاہیے کہ وہ گذرنے والے کو پہلے نرمی سے روکے نہ رکنے کی صورت میں سختی سے روکے۔
3۔ حدیث مبارکہ میں چالیس کے عدد کا مقصد معاملے کی سنگینی ہے ، ظاہر ہے کہ کوئی بھی چالیس دن، مہینے، یا سال تک کھڑا نماز نہیں پڑھتا ہے اس سے مقصود اس عمل سے رکنا اور باز آنا ہے ۔
4۔اس حدیث کو امام بخارینے اپنے استاذ عبداللہ بن یوسف سے انہوں نے اپنے استاذ حضرت امام مالک سے انہوں نے ابو النضر عمر بن عبیداللہ سے بیان کیا ہے کہ حضرت زید بن خالد نے حضرت بسر بن سعید کو حضرت ابو جہیم کے پاس بھیجا کہ ان سے پوچھیں کہ انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ سے کیا سنا ہے تو سیدنا بسر بن سعید نے سیدنا ابوجہیم سے حدیث سنی اور بیان کی اور اس میں چالیس دن، مہینہ، سال کا واضح ذکر کیا مگر سیدنا ابوالنضر بھول گئے کہ چالیس دن ، مہینہ یا سال میں سے کیا کہا اور پھر انہوں نے اسی طرح بیان کر دیا جس طرح یاد رکھا یہ ان کی کمال امانت و دیانت ہے اور یہ آج کل کے بھی اہل علم اور اہل ایمان کا طرہ امتیاز ہونا چاہیے ۔ البتہ بعض ضعیف روایات میں اربعین خریفا یعنی چالیس سال کا ذکر آیا ہے۔
5۔ بعض لوگوں کا خیال ہے کہ نمازی کے آگے سے گزرنے کی وعید اہل مکہ یا مسجد الحرام کے لیے نہیں ہے جبکہ یہ درست نہیں ہے یہ حکم سب کے لیے ہے امام بخاری نے اہل مکہ کے لیے سترہ رکھنے کا باب بھی قائم کیا اور ان لوگوں کا رد کیا ہے جو یہ سمجھتے ہیں یہ حکم مسجد الحرام کے لیے نہیں ہے ۔ حتی المقدور اور حتی الامکان حرم سمیت کسی بھی جگہ مسجد وغیرہ میں نمازی کے آگے سے نہیں گذرنا چاہیے الا یہ کہ کوئی انتہائی مجبوری ہو جیسے حرم میں بھیڑ اور ازدھام کی وجہ سے ہوتا ہے۔
6۔ حدیث میں لفظ من الاثم کو بریکٹ میں لکھا گیا ہے کیونکہ یہ الفاظ بخاری اور مسلم میں نہیں ہیں بلکہ یہ مصنف ابن ابی شیبہ کے الفاظ ہیں اور اہل علم نے ان کو کسی راوی کی طرف سے ماذا علیہ ( گذرنے والے پر کیا ہے ) کی تفسیر میں بیان کیا ہے ۔
7۔ اس حدیث مبارکہ سے نمازی کے احترام کا بھی پتا چلتا ہے۔ حتی کہ اس سے آگے سے گذرنا بھی سخت منع ہے چہ جائیکہ کوئی اس کو تکلیف یا نقصان پہنچاۓ۔ واللہ اعلم بالصواب
حدیث نمبر: 104
عَنْ أبي سعيد الخدري رضي الله عَنْه، قال : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ ﷺ يَقُولُ : «إذَا صَلَّى أَحَدُكُمْ إلَى شَيْءٍ يَسْتُرُهُ مِنَ النَّاسِ، فَأَرَادَ أَحَدٌ أَنْ يَجْتَازَ بَيْنَ يَدَيْهِ فَلْيَدْفَعْهُ، فَإِنْ أَبَى فَلْيُقَاتِلْهُ، فَإِنَّمَا هُوَ شَيْطَانٌ».
رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب يرد المصلي من مر بين يديه، بلفظه، برقم 509، ومسلم، كتاب الصلاة، باب منع المار بين يدي المصلي، برقم 259- (505)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا ابو سعید الخدری نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ سے سنا ہے کہ آپ ﷺ نے فرمایا تھا کہ جب کوئی شخص کسی چیز کو آڑ (سترہ) بنا کر نماز ادا کر رہا ہو پھر بھی کوئی شخص ( جان بوجھ کر ) اسکے سامنے سے گذرنے کی کوشش کرے تو اسے روک دینا چاہیے اور اگر پھر بھی اسے گذرنے پر اصرار ہو تو اس سے لڑنا چاہیے ( تاکہ وہ گذرنے سے رک جاۓ ) کیونکہ وہ شیطان ہے۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – اِذَا صَلّٰی : جب نماز پڑھتا ہے ۔
2 – اَحَدُكُمْ : تمہارا ایک ۔
3 – اِلَى شىء يَسْتُرُهُ : کسی چیز کو سترہ ( آڑ ، رکاوٹ ) بناتا ہے ۔
4 – مِنَ النَّاسِ : لوگوں سے ۔
5 – اَنْ يَّجْتَازَ : گذرنا ۔
6 – بَيْنَ يَدَيْهِ : اسکے سامنے سے ۔
7 – فَلْيَدْفَعْهُ : چاہیے کہ اسے دھکیلے، روکے ۔
8 – فَلْيُقَاتِلْهُ : پھر چاہیے کہ اس سے لڑے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔نمازی کو چاہیے کہ نماز شروع کرنے سے پہلے اپنے سامنے سترہ رکھ لے۔ سترہ کا حکم راجح قول کے مطابق سنت مؤکدہ مستحبہ ہے۔ کیونکہ نبی کریمﷺ سے سترہ کے بغیر بھی نماز پڑھنا ثابت ہے اس مفہوم کی حدیث کو امام ابو بکر البزا نے اپنی مسند البزار میں ذکر کیا اور اہل علم نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے۔ اسی طرح تابعی عروہ بن زبیر سترہ کے بغیر بعض دفعہ نماز پڑھتے اور ان کے اس عمل کو امام ابن شیبہ نے اپنی مصنف ابن ابی شیبہ میں ذکر کیا ہے۔ البتہ اس موضوع پر تمام احادیث کے مجموعہ سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ سترہ رکھنے کا حکم تاکیدی ہے اور یہ سنت مؤکدہ مستحبہ ہے۔ واللہ اعلم بالصواب ۔
2۔سترے اور نمازی کے درمیان سے یا مطلقا نمازی کے سامنے سے گذرنا کبیرہ گناہ ہے ۔
3۔نمازی کے سامنے سے گذرنے والے کو ہاتھ کے اشارے سے روکا جائے اگر اشارہ کافی نہ ہو تو اسے روکنے میں سختی برتی جا سکتی ہے اس کو دھکا وغیرہ دیا جا سکتا ہے بشرطیکہ نماز کے خراب ہونے کا اندیشہ نہ ہو کیونکہ گذرنے والے کو روکنے کا ایک مقصد اپنی نماز کی حفاظت ہے اور اگر سختی برتنے سے نماز مزید خراب ہو تو پھر ایسا نہیں کرنا چاہیئے ۔
4۔نمازی کے سامنے سے گذرنے والے کو روکنے میں ایک حکمت یہ ہے کہ گذرنے والا گناہ سے محفوظ ہو جائے گا اور یہ اس کے ساتھ خیر خواہی ہے۔
5۔نمازی کا حق ہے کہ اس کے سامنے سے کوئی نہ گذرے اور جو کوئی کسی کے حق کو پامال کرے تو جس کا حق ہے اس کو اپنا حق لینے کا پورا حق ہے۔
6۔ سیدنا ابو سعید الخدری کے اس واقعے کو امام بخاری رحمہ اللہ نے دو سندوں سے بیان کیا ۔ وہ سندیں یہ ہیں :
حدثنا ابو معمر، قال: حدثنا عبد الوارث، قال: حدثنا يونس، عن حميد بن هلال، عن أبي صالح، أن أبا سعيد، قال: قال النبي ﷺ. ح وحدثنا آدم بن ابي إياس قال: حدثنا سليمان بن المغيرة، قال: حدثنا حميد بن هلال العدوي، قال: حدثنا أبو صالح السمان، قال: رأيت أبا سعيد الخدري…
7: اس حدیث پر امام بخاری رحمہ اللہ نے یہ باب قائم کیا ۔ باب يرد المصلي من مر بين يديه۔ کہ نمازی اپنے سامنے سے گذرنے والے کو روکے گا۔ یعنی نمازی کے سامنے سترہ ہو یا نہ ہو دونوں صورتوں میں روکے گا بشرطیکہ کہ گذرنے والا سترے اور نمازی کے درمیان سے یا مطلقا نمازی کے قریب سے گذرے ۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو یہ کہتے ہیں یہ حکم صرف سترہ رکھنے والے کے لیے ہے اگر بغیر سترہ کے کوئی نماز پڑھ رہا ہو تو پھر سامنے سے گذرنے والے کو گناہ نہیں ہے۔
8۔ اس باب کے تحت امام بخاری نےسیدنا عبداللہ بن عمر کا عمل تعلیقا ( یعنی بغیر سند کے ) بیان کیا جس میں یہ ہے کہ سیدنا عبداللہ بن عمر نے کعبہ میں اپنی تشہد کے دوران سامنے سے گذرنے والے کو روکا اس سے دو مسئلے ثابت ہوتے ہیں نمبر ایک کہ سترہ کا حکم کعبہ میں بھی ہے اور دوسرا تشہد میں ہونے کے باوجود سامنے سے گذرنے والے کو حتی الوسع روکا جائے گا۔
9۔نماز کے دوران اس طرح کرنے سے نماز نہیں ٹوٹتی ہے ۔
10۔اس حدیث میں سیدنا ابو سعید الخدری نے جس شخص کو اپنی نماز کے دوران دھکا دے کر روکا تھا وہ ان کا اپنا بھتیجا تھا اور بھتیجے نے دو بار گذرنے کی کوشش کی اور دونوں بار ان کے چچا جناب سیدنا ابو سعید الخدری نے انہیں سختی سے روکا اور پھر وہ رک گئے۔ اسی طرح ہر اس شخص کو رک جانا چاہیے جس کو نمازی اپنے سامنے سے گذرنے سے روکے۔
11۔ گزرنے والے کو شیطان اس لیے کہا گیا کہ وہ اللہ اور بندے کے درمیان حائل ہونے کی کوشش کرتا ہے تاکہ مناجات کے تعلق کو ختم یا کم کردے جو شیطان کا کام ہے۔ یا اس لیے کہ اس شخص کو نمازی کے سامنے سے گذرنے پر شیطان اکساتا ہے ۔
12۔ یہ حدیث دلیل ہے کہ شیطان کا بھی عمل ہے۔ یعنی وہ بھی عمل کرتا ہے۔
13۔ سترہ رکھنے سے یا نماز کے دوران اپنے سامنے سے گذرنے والے کو روکنا اس لیے بھی اہم ہے کیونکہ اس سے نماز کا اجر وثواب کم ہو جاتا ہے جیسا کہ
سیدنا عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ کسی کا نمازی کے آگے سے گذرنا اس قدر منحوس ہے کہ اس سے نصف اجر کی کمی ہوجاتی ہے۔
اور سیدناعمر فرماتے ہیں کہ اگر نمازی کو پتہ چل جائے کہ اس کے آگے سے گزرنا کس قدر ثواب کی کمی کا باعث ہے تو کبھی سترے کے بغیر نماز نہ پڑھے۔
اور یہی امام بخاری کا موقف ہے۔
٭٭٭
مقام شوق فاطمہ بتول
بانوئے بو تراب و جگر گوشۂ رسولؐ
ہیں میر کاروانِ زناں فاطمہؓ بتول
تن سے کسی کو پیار کسی کو ہے من عزیز
مجھ کو عزیز میرا خدا اور مرا رسولؐ
وہ زندگی ہو قابل صد رشک کس طرح؟
مقصد ہے جس کا کوئی نہ جس کا کوئی اصول
حالِ تباہ امت مرحوم دیکھ کر
ہے میرا دل افسردہ و رنجیدہ وملول
آگے ہے عرش وسدرہ سے اس کا مقامِ شوق
دنیائے دوں ہے پائے مسلماں کی گرد، دھول
ہیں خار ہائے رنج ومصیبت بھی بے شمار
گلزارِ زندگی میں نہیں عیش ہی کے پھول
گُل چیں ہی باغباں ہو تو پھر اس کی فکر کیا
کھلتے ہیں پھول، باغ میں اگتے ہیں یا ببول
شاداں ہو جس پر دل جسے رحمت نصیب ہو
وہ پھول بھی ہے کتنا حسین وجمیل پھول
اخلاص کی متاعِ گراں مایہ جب نہ ہو
گفتار بھی عبث ہے، تو کردار بھی فضول
ارضِ وطن میں بھی وہ غریب الدیار ہے
حماد کو پسند ہے یوں گوشۂ خمول
ابو البیان حماد عمری
وفات
باکمال شاعر ادیب، صحافی وتنقید نگار، معلم، جناب ڈاکٹر تابش مہدی دہلوی اس دنیا ئے فانی سے کوچ کرگئے
ڈاکٹر تابش مہدی 1951ء کو بھارت میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے پرتاب گڑھ کے جونیئر پرائمری سکول کا امتحان پاس کیا، تجوید وقراءت سبعہ انہوں نے مدرسہ سبحانیہ الٰہ آباد اور مدرسۃ تعلیم القرآن حس پور مراد آباد سے پاس کیا۔
انہوں نے عربی وفارسی بورڈ الٰہ آباد سے مولوی عربی، فارسی اور کامل فارسی کا امتحان پاس کیا۔ جامع دینیات دیوبند سے عالم دینیات کا اردو کا امتحان پاس کیا۔ اخیر میں 1989ء میں آگرہ یونیورسٹی سے ایم اے اردو اور 1997ء میں جامعہ ملیہ اسلامیہ دہلی سے اردو تنقید میں پی ایچ ڈی کیا، ان کے اساتذہ سخن میں جناب عامر عثمانی بھی شامل ہیں۔ پسماندگان میں دو فرزند شاہ دانش فاروق فلاحی اور شاہ اجمل فاروق ندوی اور چار بیٹیاں شامل ہیں۔ سب فرزند اور دختر اعلیٰ تعلیم وتربیت سے آراستہ و پیراستہ ہیں۔ ایک بیٹی ابو الکلام آزاد یونیورسٹی حیدر آباد دکن میں شعبہ عربی کی پروفیسر ہیں۔
ڈاکٹر تابش مہدی کی ساری زندگی صحافت اور درس وتدریس میں گزری گئی۔ ان کے چند اعزازات یہ ہیں:
حضرت حسان ایوارڈ، کل ہند حمد ونعت اکاڈمی دہلی 2005ء ، نشان رادو، اردو اکاڈمی نیپال 2013ء، راسخ عظیم آبادی ایوارڈ، دہلی 2015ء، علامہ اقبال عالمی ایوارڈ برائے شعر وادب، اردو ڈیویلپمنٹ آرگنائزیشن آف انڈیا 2021ء۔
قلمی وادبی زندگی تصانیف: ڈاکٹر تابش مہدی کی پچپن (55) مطبوعہ تصانیف موجود ہیں، جن میں چند حسب ذیل ہیں: نقش اول، لمعات حرم، سرور حجاز، تعبیر، سلسبیل، کنکر بولتے ہیں، صبح صادق، طوبیٰ، غزل نامہ، مشک غزالاں، رحمت تمام، دانائے سبل۔
ڈاکٹر تابش مہدی وقفہ وقفہ سے برطانیہ آتے رہے اور ان کے اعزاز میں مختلف شہروں میں مشاعرے منعقد ہوتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے انہیں اچھا سا ترنم عطا فرمایا تھا۔ جس سے وہ مشاعروں میں ایک سماں باندھ دیتے تھے، ان کی وفات ان کے وطن دہلی میں ہوئی اور وہیں تدفین عمل میں آئی۔
ان کی وفات پر مولانا محمد عبد الہادی العمری، مولانا محمد حفیظ اللہ خان المدنی، مولانا شعیب احمد میرپوری، قاری ذکاء اللہ سلیم، مولانا شیر خان جمیل احمد عمری، برادر ثاقب، مولانا محمد ابراہیم میرپوری، محمد فاروق نسیم، عبد الرشید چغتائی، خواجہ محمد عارف، افتخار احمد جگنو، ملک فضل حسین، ڈاکٹر خرم بشیر امین، عجائب خان، محمد اقبال بھٹی، ڈاکٹر عبد الرب ثاقب اور دیگر شعراء کرام وعلماء وقائدین جمعیہ نے ان کے فرزند سے اظہار تعزیت کرتے ہوئے۔ دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ڈاکٹر تابش مہدی کی نیکیوں کو قبول فرمائے اور ان کی لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔ آمین یا رب العالمین
موت سے کس کو رستگار ہے
آج وہ، کل ہماری باری ہے
تبصرہ کریں