
حدیث نمبر: 105
عَنْ عبد اللَّه بن عباس رضي الله عَنْه قال : «أَقْبَلْتُ رَاكِباً عَلَى حِمَارٍ أَتَانٍ ــ وَأَنَا يَوْمَئِذٍ قَدْ نَاهَزْتُ الاحْتِلامَ ــ وَرَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِمِنًى إلَى غَيْرِ جِدَارٍ، فمَرَرْتُ بَيْنَ يَدَيْ بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْتُ فَأَرْسَلْتُ الأَتَانَ تَرْتَعُ، وَدَخَلْتُ فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يُنْكِرْ ذَلِكَ عَلَيَّ أَحَدٌ».
(رواه البخاري، كتاب العلم، باب متى يصح سماع الصغير، برقم 76، ومسلم، كتاب الصلاة، باب سترة المصلي، برقم 504)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہتے ہیں کہ میں گدھی پر سوار ہو کر آیا میں ان دنوں قریب البلوغت تھا رسول اللہ ﷺ منٰی میں لوگوں کو نماز پڑھا رہے تھے سامنے کوئی دیوار نہ تھی میں صف کے تھوڑے سے حصے سے گزرا پھر اتراگدھی کو چھوڑ دیا کہ وہ چر لے اور خود صف میں شامل ہو گیا میرے ایسا کرنے پر کسی نے مجھ پر اعتراض نہیں کیا۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – اَقْبَلْتُ : میں آیا۔
2 – رَاكِبًا : سوار ۔
3 – عَلٰى اَتَانٍ : گدھی پر ۔
4 – اَنَا يَوْمَئِذٍ : میں اس دن ۔
5 – نَاهَزْتُ الْاِحْتِلَامَ : قریب البلوغت تھا ۔
6 – جِدَارٍ : دیوار ۔
7 – فمَرَرْتُ : پس میں گزرا ۔
8 – بَيْنَ بَعْضِ الصَّفِّ : صف کے کچھ حصے کے سامنے سے ۔
9 – اَرْسَلْتُ الْاَتَانَ : میں نے گدھی کو چھوڑ دیا ۔
10 – تَرْتَعُ : وہ چرتی ہے ۔
11 – فَلَمْ يُنْكِرْ : پس کسی نے اعتراض نہیں کیا ۔
12 – ذَالِكَ عَلَیَّ : اس وجہ سے مجھ پر ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔باجماعت نماز میں امام کا سترہ مقتدیوں کے لیے کافی ہے۔
2۔حضرت عبداللہ بن عباس کے عمل سے ثابت ہوا کہ جماعت کی صورت میں اگر کوئی شخص مقتدیوں کی صف کے آگے سے گزر جائے تو اس سے نماز میں کوئی نقص واقع نہیں ہوتا۔
3۔حضرت عبداللہ بن عباس نے جس واقعہ کی طرف اشارہ کیا یہ رسول اللہ ﷺکی وفات سے اسی (80) روز پہلے وقوع پذیر ہوا جبکہ آپ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر لوگوں کو منٰی کے میدان میں نماز پڑھا رہے تھے۔
4۔نابالغ عالم سے دین کا علم حاصل کیا جاسکتا ہے اور اس کا بیان کردہ علم حجت اور قابل عمل ہے جیسا کہ اس حدیث میں حضرت عبداللہ بن عباس سے مروی ہے۔
5۔ نابالغ کا حج کرنا درست ہے جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباس نے کیا البتہ فرض حج بلوغت کے بعد کرنا ضروری ہے ۔
6۔ نابالغ کو بھی نماز کے لیے وضو کا اسی طرح حکم ہے جیسے بالغ کو ہے۔ جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے۔
7۔اس حدیث سے معلوم ہوا کہ گدھا ناپاک نہیں ہے کیونکہ اس پر سواری جائز ہے البتہ اس کا گوشت اور دودھ حرام ہے۔
8۔ اس حدیث سے بعض اہل علم نے بغیر سترہ کے نماز پڑھنے پر استدلال کیا ہے مگر اہل علم کے راجح قول کے مطابق اس حدیث کا معنی یہ ہے کہ نبی کریمﷺ نے دیوار کے علاوہ کسی دوسری چیز کو سترہ بنایا ہوا تھا اور امام بخاری بھی یہ مسئلہ بتارہے ہیں ، اس حدیث میں تقدیری عبارت یوں ہوگی:
(يصلي بالناس بمنى إلى غير جدار)
یعنی رسول اللہ ﷺ منیٰ میں دیوار کے علاوہ کسی اور چیز کی طرف رخ کرکے نماز پڑھا رہے تھے۔
حدیث نمبر: 106
عَنْ عائشة رضي الله عَنْها قالت : «كُنْتُ أَنَامُ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ، وَرِجْلايَ فِي قِبْلَتِهِ، فَإِذَا سَجَدَ غَمَزَنِي فَقَبَضْتُ رِجْلَيَّ، وَإِذَا قَامَ بَسَطْتُهُمَا، [قَالَت:] وَالْبُيُوتُ يَوْمَئِذٍ لَيْسَ فِيهَا مَصَابِيحُ».
(رواه البخاري، كتاب الصلاة، باب الصلاة على الفراش، بلفظه، برقم 382، ومسلم، كتاب الصلاة، باب الاعتراض بين يدي المصلي، برقم 272- (512)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ:
سیدہ عائشہ سے روایت ہے کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے سوئی ہوئی ہوتی تھی اور میرے دونوں پاؤں آپ کے سجدے کی جگہ ہوتے جب آپ سجدہ کرتے مجھے ہاتھ لگا دیتے میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی اور جب آپ کھڑے ہوتے تو میں انہیں بچھا لیتی گھروں میں ان دنوں چراغ نہیں ہوا کرتے تھے ۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی:
1 – أَنَامُ : میں سوتا ہوں یا سوتی ہوں۔
2 – رِجْلَایَ : میرے دونوں پاؤں۔
3 – اِذَا سَجَدَ : جب آپ سجدہ کرتے ۔
4 – غَمَزَنِیْ : آپ مجھے دبا دیتے ۔
5 – فَقَبَضْتُ رِجْلَیَّ : تو میں اپنے دونوں پاؤں سمیٹ لیتی۔
6 – بَسَطْتُهُمَا : میں نے ان دونوں کو پھیلایا۔
7 – اَلْبُيُوتُ : گھر ۔
8 – مَصَابِيْحُ : چراغ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:
1۔خاوند اگر نماز پڑھ رہا ہو بیوی سامنے لیٹی ہو اس سے نماز نہیں ٹوٹتی اور نہ ہی اس میں کوئی نقص واقع ہوتا ہے۔ اس سے یہ بھی ثابت ہوا کہ عورت بھی مرد کا سترہ بن سکتی ہے البتہ آگے سے گذرنے کی ممانعت ہے۔
2۔ بیوی یا محرم عورت کو محض چھونے سے وضو نہیں ٹوٹتا ہے۔ لیکن اگر بیوی کو چھونے سے شرم گاہ سے کوئی پانی وغیرہ نکلے تو وضو ٹوٹ جاتا ہے اور وضو کے ٹوٹنے سے نماز ٹوٹ جاتی پھر نئے سرے سے وضو کرنا اور نماز پڑھنا ضروری ہے۔
3۔ نماز کے دوران بیوی یا کسی محرم عورت یا کسی مرد یا کسی بھی چیز کو ضرورت کے تحت چھو لیا جائے یا اس کو اپنی جگہ سے ہٹا دیا جائے یا رکھ دیا جائے تو کوئی حرج نہیں۔
4۔ سوئے یا لیٹے ہوئے آدمی یا عورت کی طرف منہ کر کے نماز پڑھنا درست ہے اور اس کو سترہ بنانا بھی درست ہے جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے۔
5۔سجدہ کرتے وقت زمین کا ننگا ہونا ضروری نہیں بلکہ کسی چادر، قالین، بستر وغیرہ پر نماز پڑھنا درست ہے جیسا کہ اس حدیث میں بیان ہوا ہے البتہ اس کا پاک ہونا ضروری ہے۔
6۔اندھیرے میں نماز پڑھنا درست ہے جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے۔
7۔اگر جگہ تنگ ہو تو وہاں نماز پڑھنا درست ہے جیسا کہ اس حدیث میں ذکر ہے۔
٭٭٭
حائضہ عورت كے ليے حیض كى مدت میں آنے والے خون پر حیض كے احكامات لاگو ہوں گے اور اسے حائضہ شمار كيا جائے گا اور جب حیض كى مدت ختم ہو جائے تو وہ پاك ہو كر غسل كر كے نماز روزہ كى ادائیگى كرے گى اور خاوند اس سے جماع و مباشرت بھى كر سكے گا، چاہے استحاضہ كا خون جارى بھى ہو پھر بھى يہ كام ہونگے۔
سیدہ عائشہ صدیقہ بيان كرتى ہيں كہ
’’فاطمہ بنت ابى حبیش نبى كريم ﷺ كے پاس آكر كہنے لگى:
’’اے اللہ تعالىٰ كے رسول ﷺ مجھے استحاضہ كا خون آتا ہے، اور میں پاك نہیں ہوتى تو كیا میں نماز ترك كر دوں ؟رسول كريم ﷺ نے فرمايا:
’’ نہيں، یہ تو ايك رگ كا خون ہے اور حیض نہیں، چنانچہ جب تجھے حیض آئے تو نماز ترك كردو، اور جب حیض ختم ہو جائے تو خون دھو كر غسل كرو اور نماز ادا كرو ۔‘‘
(صحيح بخارى : 226 ؛ صحيح مسلم : 333 )
شيخ محمد بن صالح العثیمین اس حدیث كا معنى بيان كرتے ہوئے كہتے ہيں:
يہ ايك رگ كا خون ہے:
اس میں يہ اشارہ ہے كہ اگر خارج ہونے والا خون كسى رگ كا ہو اور اس ميں آپريشن كا خون بھى شامل ہے۔ تو اسے حیض شمار نہيں كیا جائے گا اس ليے اس خون كے ساتھ وہ كچھ حرام نہيں ہو گا جو حیض كى بنا پر حرام ہوتا ہے اور اس عورت پر نماز كى ادائیگى اور اگر رمضان ہو تو روزہ ركھنا فرض ہوگا۔‘‘
(فتاوى الشيخ ابن عثيمين ( 11 ) سوال نمبر ( 226 )
سیدہ عائشہ بيان كرتى ہيں كہ
نبى كريم ﷺكے ساتھ ان كى ايك بيوى بھى اعتكاف بیٹھى اور وہ استحاضہ كى حالت ميں تھى انہيں خون آ رہا تھا، بعض اوقات خون كى بنا پر ان كے نيچے برتن ركھا جاتا تھا ۔‘
صحيح بخارى حديث نمبر : 303 )
٭٭٭
امام ابن القیمعبادت کی تعریف کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
العبادة عبارة عن الإعتقاد والشعور بأن للمعبود سلطة غيبية في العلم والتصرف فوق الأسباب يقدر بها على النفع والضر. فكل دعاء وثناء وتعظيم ينشأ من هذه الإعتقاد فهو عبادة
’’عبادت اس اعتقاد اور شعور کا نام ہے کہ معبود کو ایک غیبی تسلط حاصل ہے علم اور تصرف کے معاملے میں، جس کی وجہ سے وہ ما فوق الاسباب نفع نقصان پر قادر ہے، اس لئے ہر تعریف، ہر پکار اور ہر تعظیم جو اس مذکورہ اعتقاد اور شعور کی بنیاد پر ہو تو وہ عبادت ہے۔‘‘(مدارج السالکین: 1؍40)
تبصرہ کریں