
نماز میں قرأت سے متعلق
حدیث نمبر: 99
عَنْ جابر رضي الله عَنْه : أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ قَالَ لِمُعَاذٍ :
«فَلَوْلا صَلَّيْتَ بـ﴿ِسَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الأَعْلَى﴾، ﴿وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا﴾، ﴿وَاللَّيْلِ إذَا يَغْشَى﴾؟
فَإِنَّهُ يُصَلِّي وَرَاءَكَ الْكَبِيرُ، وَالضَّعِيفُ، وَذُو الْحَاجَةِ».
(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب من شكا إمامه إذا طوّل، برقم 705، ومسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة في العشاء، برقم: 1040/1041)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا جابر سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدنا معاذ سے فرمایا:
آپ نماز میں سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلٰی والشَّمْسِ وَضُحَاھَا، وَاللَّیْلِ اِذَا یَغْشٰی کیوں نہیں پڑھتے کیونکہ آپ کے پیچھے بڑی عمر کے بوڑھے، کمزور اور ضرورت مند نماز پڑھتے ہیں۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – فَلَوْلَا : کیوں نہیں ۔
2 – وَرَاءَكَ : آپ کے پیچھے ۔ یعنی آپکی اقتداء میں۔
3 – الْكَبِيرُ : بڑا ۔ بڑی عمر کے ۔
4 – الضَّعِيفُ : کمزور ۔
5 – ذُو الْحَاجَةِ : ضرورت مند ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
نوٹ: یہاں یہ حدیث مبارکہ مختصر بیان ہوئی ہے تفصیل کے لیے صحیح بخاری حدیث نمبر 705 اور صحیح مسلم حدیث نمبر 1040 اور 1041 دیکھیں۔
1۔صحابہ کرام کے نزدیک باجماعت نماز اہم ترین اعمال میں سے تھا، اسی لیے جس شخص نے اپنے عذر کی بنا پر باجماعت نماز کو چھوڑ کر اپنی انفرادی نماز پڑھی، سیدنا معاذ نے اس کو منافق کہا اور جو شخص باجماعت نماز میں شریک ہوا باوجود اس کے کہ اپنے کام کاج کی وجہ سے تھکا ہوا بھی تھا اور اس کو اور اس کے اونٹوں کو بھوک بھی لگی تھی مگر اس سب کے باوجود وہ باجماعت نماز میں شریک ہوا۔
2۔امام اور مقتدی کی نیت میں فرق ہوسکتا ہے جیسا کہ عشاء کی نماز پڑھانے والے سیدنا معاذ بن جبل اپنی عشاء کی نماز رسول اللہ ﷺ کی اقتداء میں پڑھ کر وہی عشاء کی نماز اپنی قوم کو پڑھا رہے تھے۔ اسی طرح نفل پڑھنے والے کے پیچھے فرض پڑھنا اور فرض پڑھنے والے کے پیچھے نفل پڑھنا درست ہے۔ اسی طرح جو امام عصر پڑھا رہا ہو اس کے پیچھے ظہر پڑھنا درست ہے اور یہی حکم باقی نمازوں کا ہے۔
3۔اگر کوئی کسی کو کسی معقول وجہ کی بنا پر کافر یا منافق وغیرہ کہ دے تو ضروری نہیں کہ وہ یا کہنے والا کافر ومنافق ہوجائے۔ جیسا کہ سیدنا معاذ نے اس شخص کو منافق کہا اور دونوں میں سے کوئی بھی منافق نہیں ہوا۔
4۔کسی معقول عذر کی وجہ سے باجماعت نماز چھوڑ کر اپنی انفرادی نماز پڑھنا بعض اہل علم (جن میں امام بخاری اور امام نسائی بھی ہیں ) کے نزدیک جائز ہے۔
5۔ نیکی کے کام میں بھی کسی معقول وجہ سے کسی کی بڑے امام / نگران وغیرہ کو شکایت لگانا جائز ہے اور یہ غیبت کے زمرے میں نہیں آئے گی۔
6۔ فیصلہ کرنے کے لیے دونوں طرف سے بات کو سننا ضروری ہے۔
7۔نماز پڑھاتے ہوئے امام کو اپنے مقتدیوں کا خیال رکھنا چاہیے۔
8۔باجماعت نماز زیادہ لمبی نہیں پڑھانی چاہیے لوگوں کو اور ان کے حالات کو مدنظر رکھ نماز پڑھانی چاہیے۔
9۔امام کو لوگوں سے نرمی، شفقت اور محبت سے پیش آنا چاہیے ۔
10۔نبی کریم ﷺ تعلیم دیتے ہوئے بھی نہایت نرمی اور شفقت کاانداز اپنایا کرتے تھے۔
11۔حدیث مبارکہ جو سورتیں بتائی گئی ہیں ضروری نہیں ہے کہ یہی پڑھی جائیں ۔ بلکہ اس سے مراد لمبی قرآت نہ کرنا ہے اور مختصر قرات مختلف لوگوں اور ان کے حالات کے پیش نظر مختلف ہوگی۔ اصل بات یہ ہے امام لوگوں کی رعایت رکھے گا مگر اعتدال کو نہیں چھوڑے گا کیونکہ نماز میں اعتدال و اطمینان نماز کا رکن ہے۔
حدیث نمبر: 100
عَنْ أنسِ بنِ مالك رضي الله عَنْه، «أَنَّ النَّبِيَّ ﷺ، وَأَبَا بَكْرٍ، وَعُمَرَ رضي الله عَنْه : كَانُوا يَفْتَتِحُونَ الصَّلاةَ بـِ(الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ)». وَفِي رِوَايَةٍ : «صَلَّيْتُ مَعَ أَبِي بَكْرٍ، وَعُمَرَ، وَعُثْمَانَ، فَلَمْ أَسْمَعْ أَحَدًا مِنْهُمْ يَقْرَأُ (بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ)». 109 ــ ولمسلِمٍ : «صَلَّيْتُ خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ، وَأَبِي بَكْرٍ رضي الله عَنْه ، وَعُمَرَ رضي الله عَنْه ، وَعُثْمَانَ رضي الله عَنْه ، فَكَانُوا يَسْتَفْتِحُونَ الصلاة بـِ(الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ), لا يَذْكُرُونَ (ههه) فِي أَوَّلِ قِرَاءَةٍ، وَلا فِي آخِرِهَا».
(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب ما يقول بعد التكبير، برقم 743، ومسلم، برقم 399)
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا انس بن مالک روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺ سیدنا ابوبکر اور سیدنا عمر نماز کا آغاز الحمدللہ رب العالمین سے کیا کرتے تھے۔
ایک روایت میں آیا ہے کہ
میں نے سیدنا ابوبکر صدیق ، سیدنا عمر فاروق اور سیدنا عثمان غنی کے ساتھ نماز پڑھی میں نے ان میں سے کسی ایک کو بھی بسم اللہ الرحمان الرحیم پڑھتے ہوئے نہیں سنا۔
صحیح مسلم کی روایت ہے میں نے نبی کریم ﷺ، سیدنا ابوبکر ، سیدنا عمر اور سیدنا عثمان غنی کے پیچھے نماز پڑھی وہ نماز کی ابتداء الحمدللہ رب العالمین سے کیا کرتے تھے وہ بسم اللہ الرحمن الرحیم کا ذکر نہیں کرتے تھے قرآت کے شروع میں اور نہ ہی آخر میں۔
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 – يَفْتَتِحُونَ : وہ آغاز کرتے ، شروع کرتے ۔
2 – صَلَّيْتُ : میں نے نماز پڑھی ۔
3 – خَلْفَ النَّبِيِّ ﷺ : نبی کریم ﷺ کے پیچھے یعنی اقتداء میں ۔
4 – يَسْتَفْتِحُوْنَ الصَّلَاةَ : نماز کی ابتداء کیا کرتے۔
5 – لَا يَذْكُرُوْنَ : ذکر نہیں کرتے ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ اس حدیث مبارکہ سے امام مالک سمیت بعض اہل علم نے نماز کے شروع کرنے سے پہلے دعاء استفتاح ، تعوذ اور بسم اللہ ، نہ پڑھنے کا استدلال کیا ہے جو کہ درست نہیں کیونکہ یہ تینوں عمل رسول اللہﷺ سے ثابت ہیں۔
2۔بعض اہل علم نے اس حدیث مبارکہ سے سورۃ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ نہ پڑھنے کا استدلال کیا ہے جو کہ درست نہیں ہے کیونکہ الدار قطنی اور سنن البیہقی وغیرہ میں صحیح حدیث میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کا حکم رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے اور اس حدیث میں بسم اللہ پڑھنے کی ممانعت نہیں ہے بلکہ اس میں یہ ذکر ہے نماز میں قرات صرف سورۃ فاتحہ سے شروع ہوگی کسی دوسری سورۃ سے نہیں اور سورۃ فاتحہ کے ناموں میں سے ایک نام سورہ الحمد للہ رب العالمین ہے۔
3۔جہری نمازوں میں سورہ فاتحہ سے پہلے بسم اللہ الرحمٰن الرحیم جہری یعنی بلند آواز اور سری یعنی آہستہ آواز میں پڑھنا رسول اللہ ﷺ سے صحیح حدیث سے ثابت ہے ۔
جن احادیث میں نفی ہے اس سے مراد بلند آواز سے نہ پڑھنا ہے ۔ یا انہوں نے سنی نہیں اس لیے انہوں نے ایسے ہی ذکر کردیا اور جنہوں نے سنی انہوں نے اس کا ذکر ہے ۔
البتہ سری پڑھنے کے دلائل زیادہ ہیں اس لیے سری پڑھنا افضل لیکن اس کو چھوڑنا درست نہیں ہے کیونکہ سورۃ فاتحہ کے ساتھ بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنے کا حکم رسول اللہ ﷺ سے ثابت ہے۔
4۔صحیح حدیث کے مطابق نماز کی پہلی رکعت میں تکبیر تحریمہ کے بعد دعاء استفتاح ، تعوذ اور بسم اللہ پڑھنا اور باقی رکعات میں سورۃ فاتحہ سے پہلے صرف بسم اللہ الرحمٰن الرحیم پڑھنا مشروع ہے۔
5۔ راجح قول کے مطابق بسم اللہ الرحمن الرحيم سورہ فاتحہ کی آیت ہے۔ اس کو چھوڑنا درست نہیں البتہ جھری نمازوں میں جھری اور سری دونوں طرح پڑھنا سنت سے ثابت ہے۔
٭٭٭
استغفار کی عظیم برکت
شیخ محمد بن صالح العثیمین فرماتے ہیں:
إذا رأيت نفسك مُتحيِّرًا فالزم الاستغفار، فإن الاستغفار مما يفتح الله بِه على العَبْد
’’جب آپ اپنے نفس کو حیران پائے (کسی معاملے میں)، تو استغفار کو لازم پکڑیں، کیونکہ استغفار ان چیزوں میں سے ہے جن کے ذریعے اللہ بندے پر دروازے کھول دیتے ہے۔
(شرح الكافیۃ الشافیہ:3؍189)
٭٭٭
شیخ الاسلام امام ابن تیمیہفرماتے ہیں:
’’ جب بھی کوئی مسئلہ مجھے سمجھ نا آتا تو میں ایک ہزار مرتبہ (غالباً) استغفار کرتا اور اللہ تعالیٰ وہ مسئلہ مجھے سمجھا دیتا، اسی طرح کی بات شیخ حافظ گوندلوی کے بارے میں بھی موجود ہے اور یہ تینوں بزرگ ہی علم کی معراج پر تھے۔ طلبہ اسے ضرور اپنائے۔
٭٭٭
تبصرہ کریں