نماز میں قرأت سے متعلق
حدیث نمبر : 95
عَنْ عَبْدِ اللهِ بْنِ أَبِيْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِيْهِ، قَالَ: «كَانَ النَّبِيُّ ﷺ يَقْرَأُ في الرَّكَعَتَيْنِ الْاوليين من صلاة الظهر بفاتحة الكتاب وسورتين يطول في الأولى ويقصر في الثانية ويسمع الآية أحيانا، وكان يقرا في العصر بفاتحة الكتاب وسورتين وكان يطول في الأولى وكان يطول في الركعة الأولى من صلاة الصبح ويقصر في الثانية» [رواه البخاري، كتاب الأذان، باب القراءة في الظهر: 759، وباب القراءة في العصر:762، وبابٌ: يقرأ في الأخريين بفاتحة الكتاب، برقم 776، ومسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة في الظهر والعصر:451]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
’’سیدنا عبداللہ بن ابی قتادہ سے روایت ہے ، انہوں نے اپنے باپ حضرت ابوقتادہ انصاری سے بیان کیا کہ حضرت ابو قتادہ انصاری نے کہا کہ نبی کریم ﷺ ظہر کی پہلی دو رکعتوں میں سورۃ فاتحہ اور ہر رکعت میں ایک ایک سورت پڑھتے تھے، ان میں بھی قرآت کرتے تھے لیکن آخری دو رکعتیں ہلکی پڑھاتے تھے کبھی کبھی ہم کو بھی کوئی آیت سنا دیا کرتے تھے۔ عصر میں آپ ﷺ سورۃ فاتحہ اور سورتیں پڑھتے تھے، اس کی بھی پہلی دو رکعتیں لمبی پڑھتے۔ اسی طرح صبح کی نماز کی پہلی رکعت لمبی کرتے اور دوسری ہلکی۔‘‘
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : كَانَ يَقْرَاُ: آپ پڑھا کرتے تھے ۔
2 : فِیْ الرَّكْعَتَيْنِ الْاُوْلَيَيْنِ : پہلی دو رکعتوں میں ۔
3 : فَاتِحَةِ الْكِتَابِ : سورہ فاتحہ ۔
4 :يُطَوِّلُ فِیْ الْأُوْلیٰ: پہلی رکعت میں طویل کرتے۔
5 : الرَّكْعَتَيْنِ الْأُخْرَيَيْنِ : آخری دو رکعتیں ۔
حدیث سے حاصل ہونے والے بعض مسائل و احکام
1۔قرات فاتحہ نماز کی ہر رکعت کا رکن ہے۔ یعنی اس کے بغیر نماز نہیں ہوتی ہے۔
2۔پہلی دو رکعتوں میں سورہ فاتحہ کے ساتھ قرآن حکیم کی کوئی دوسری سورۃ یا اس کا کوئی حصہ پڑھنا مشروع ہے۔
3۔آخری دو رکعتوں میں صرف سورہ فاتحہ پر اکتفا کرنا مستحب ہے یعنی سورہ فاتحہ کے علاوہ کوئی دوسری سورہ یا اس کا کوئی حصہ پڑھنا واجب نہیں ہے صرف سورہ فاتحہ پڑھنا فرض ہے ۔
4۔ عموماً پہلی رکعت میں لمبی قرات کرنا اور دوسری میں قدرے مختصر کرنا مستحب ہے۔ لیکن اس کے الٹ بھی ہو جائے تو کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہﷺ سے یہ بھی ثابت ہے۔
5۔نماز فجر، مغرب، عشاء یعنی جہری نمازوں کی پہلی دو رکعتوں میں بآواز بلند قرآت اور آخری رکعت/ رکعتوں میں سری یعنی آہستہ آواز میں مسنون ہے ۔
6۔ظہر اور عصر میں قرآت جہری یعنی بآواز بلند نہیں بلکہ سری ہے۔
7۔سری نماز پڑھاتے ہوئے امام کبھی کبھار کوئی آیت بلند آواز سے پڑھ دے تو یہ مستحب عمل ہے۔
8۔نماز فجر کی پہلی رکعت کو طویل اور دوسری رکعت کو مختصر کرنا مستحب ہے۔
9۔صحابہ کرام نبی کریم ﷺ کے ایک ایک عمل کو بغور دیکھتے اس کو یاد کرتے اس پر خود عمل کرتے اور پوری امت کے لیے اس کو بیان کرتے ۔
نماز میں قرأت سے متعلق
حدیث نمبر : 96
عَنْ جبير بن مطعم رضي الله عَنْه قال : «سَمِعْتُ النَّبِيَّ ﷺ يَقْرَأُ فِي الْمَغْرِبِ بِالطُّورِ».[رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الجهر بالمغرب، برقم 765، ومسلم، كتاب الصلاة، باب القراءة في الصبح، برقم 463]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدنا جبیربن مطعم نے بیان کیا کہ میں نے نبی کریم ﷺ کو نماز مغرب میں سورہ طور پڑھتے ہوئے سنا۔ (بخاری و مسلم)
حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی
1 : سَمِعْتُ : میں نے سنا ۔
2 : يَقْرَاُ : وہ پڑھتا ہے ۔
3 : فِیْ الْمَغْرِبِ 🙁 نماز) مغرب میں ۔
4 : الطُّوْرِ : قرآن مجید کی سورت کا نام ہے۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ مغرب کی نماز کی پہلی دو رکعتوں میں قرآت جہری یعنی بلند اواز سے ہے۔
2۔مغرب کی نماز میں بعض دفعہ طویل قرآت کرنا جائز ہے۔
3۔مغرب کی نماز میں عموماً قرات مختصر لیکن بعض دفعہ لمبی قرات کرنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ لوگوں کے لیے تکلیف کا باعث نہ ہو۔ اسی طرح فجر کی نماز میں لمبی قرات ہے مگر بعض دفعہ مختصر کرنے میں کوئی حرج نہیں کیونکہ رسول اللہ ﷺ سے مختصر قرات کرنا بھی ثابت ۔ البتہ با جماعت نماز میں امام صاحب کو مقتدیوں کا خیال رکھنا بہت ضروری ہے۔
تبصرہ کریں