عمدۃ الأحکام؛ کتاب الصلوٰة:نماز وتر کے متعلق (قسط52) فضل الرحمٰن حقانی، خطیب وامام محمدی مسجد نیلسن یو کے

نماز (فرض) کے بعد مسنون اذکار سے متعلق

حدیث نمبر: 124

عَنْ عبد اللَّه بن عباس رضي الله عَنْه، «أَنَّ رَفْعَ الصَّوْتِ بِالذِّكْرِ ــ حِينَ يَنْصَرِفُ النَّاسُ مِنَ الْمَكْتُوبَةِ ــ كَانَ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ». قال ابن عباس : «كُنْتُ أَعْلَمُ إذَا انْصَرَفُوا بِذَلِكَ، إذَا سَمِعْتُهُ». وفي لفظٍ، «مَا كُنَّا نَعْرِفُ انْقِضَاءَ صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ ﷺ إلا بِالتَّكْبِير».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، برقم 841، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب الذكر بعد الصلاة، بلفظه، برقم 122- (583). رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، برقم 842، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب الذكر بعد الصلاة، بلفظه، برقم 121-(583)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہماسے روایت ہے کہ بیشک بلند آواز سے ذکر جب لوگ فرض نماز سے فارغ ہوتے ہیں رسول اللہ ﷺکے زمانے میں معمول تھا حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ جب لوگ سلام پھیرتے تو مجھے اس بات کا علم اسی (بلند آواز کے ساتھ کیے گئے ذکر) سے ہوتا تھا۔ ایک روایت میں ہے کہ تکبیر ( یعنی اللہ اکبر ) کی آواز سن کر ہم ( صحابہ ) رسول اللہ ﷺ کی نماز کا اختتام پہچان جاتے تھے۔

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 – رَفْعَ الصَّوْتِ : آواز کا بلند کرنا/ ہوں ۔

2 – حِينَ: جب / جس وقت

3 – اَلْمَكْتُوْبَةِ : فرض نماز ۔

4 – عَهْدُ: زمانہ ۔

5 – كُنْتُ أَعْلَمُ : میں جان جاتا تھا۔/ مجھے معلوم ہوتا ۔

6 – إذَا انْصَرَفُوا : جب وہ پلٹتے ۔یعنی سلام پھیرتے۔

7 – اِذَا : جب

8 – كُنَّا : ہم تھے

9 – نَعْرِفُ : ہم پہچانتے / جانتے۔

10 – اِنْقِضَاءَ : اختتام ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام

1۔ فرض نماز کے بعد مسنون اذکار کا اہتمام کرنا۔

2۔ فرض نماز کے فورا بعد بلند آواز سے مسنون ذکر کرنا تاکہ تمام نمازیوں کو نماز کے اختتام کا علم ہوجائے۔

3۔ فرض نماز کے فورا بعد بلند آواز سے اللہ اکبر کہنا سنت ہے اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو فرض نماز کے بعد اللہ اکبر ذکر کو درست نہیں سمجھتے ہیں ۔

4۔اللہ اکبر کی طرح تین بار استغفر اللہ بلند آواز سے کہنا سنت ہے۔

5۔ اگر کوئی مقتدی امام کا سلام نہ سن سکے اور نماز کے اختتام میں امام سے پیچھے رہ جاۓ تو کوئی حرج نہیں ایسے شخص پر کوئی سجدہ سہو وغیرہ نہیں ہے۔ ایسے شخص کو جب نماز کے اختتام کا علم ہو وہ اپنا سلام پھیر لے۔

6۔ ایسے اذکار جو غیر مسنون ہیں یا جن کا بلند آواز سے پڑھنا سنت نہیں ان کو بلند آواز سے پڑھنا درست نہیں ہے خصوصاً اجتماعی شکل میں کیونکہ اس سے باقی نمازیوں کو تشویش اور تکلیف ہوتی کیونکہ بعض اپنی نماز پوری کررہے ہوتے ہیں اور بعض اپنے ذکر میں مشغول ہوتے ہیں کیونکہ تمام نمازیوں کو تمام مسنون اذکار میں ایک ساتھ ہونا ضروری یا سنت نہیں ہے بلکہ صرف تکبیر اور استغفار یعنی اللہ اکبر اور استغفر اللہ کہنے میں سبھی کا ایک ساتھ ہونا سنت ہے ۔

7۔ بعض لوگ نماز کے بعد اجتماعی طور پر بلند آواز سے لا الہ الااللہ اور درود کا ورد کرتے ہیں جو کہ غیر مسنون اور نمازیوں کے لیے تکلیف کا سبب ہے لہذا اس سے پرہیز کرنا چاہیے البتہ نمازی انفرادی طور پر لا الہ الااللہ اور درود شریف سمیت کوئی بھی مسنون ذکر یا اپنی دعا آہستہ آواز میں کر سکتا ہے ۔

حدیث نمبر: 125

عَنْ وَرَّادٍ مولى المغيرة بن شُعبة قال : أَمْلَى عَلَيَّ الْمُغِيرَةُ بنُ شُعْبَةَ في كِتَابٍ إلَى مُعَاوِيَةَ، أنَّ النَّبِيَّ ﷺ كَانَ يَقُولُ فِي دُبُرِ كُلِّ صَلاةٍ مَكْتُوبَةٍ : «لا إلَهَ إلاَّ اللَّهُ وَحْدَهُ لا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٍ، اللَّهُمَّ لا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ وَلا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ». ثُمَّ وَفَدْتُ بعد ذلك على معاوية فسمعته يأمر الناس بِذلك. وفي لفظٍ : «كَانَ يَنْهَى عَنْ قِيلَ وَقَالَ، وَإِضَاعَةِ الْمَالِ، وَكَثْرَةِ السُّؤَالِ، وَكَانَ يَنْهَى عَنْ عُقُوقِ الأُمَّهَاتِ، وَوَأْدِ الْبَنَاتِ، وَمَنْعٍ وَهَاتِ».

(رواه البخاري، كتاب الأذان، باب الذكر بعد الصلاة، برقم 844، ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب الذكر بعد الصلاة، برقم 593. رواه البخاري، كتاب الاستقراض، باب ما ينهى عن إضاعة المال، برقم 2408، وفي كتاب الرقاق، باب ما يكره من قيل وقال، برقم 6473، ولفظه: «إِنِّي سَمِعْتُهُ يَقُولُ عِنْدَ انْصِرَافِهِ مِنَ الصَّلاَةِ: «لاَ إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لاَ شَرِيكَ لَهُ، لَهُ المُلْكُ وَلَهُ الحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ» ثَلاَثَ مَرَّاتٍ، وفي كتاب الاعتصام، باب ما يكره من كثرة السؤال، برقم 7292، ومسلم، كتاب الأقضية، باب النهي عن كثرة المسائل من غير حاجة، برقم 12 بعد الحديث رقم 1715)

حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ

حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے غلام وراد سے روایت ہے کہتے ہیں کہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نےمجھ سےحضرت معاویہ کوخط لکھوایا جس میں یہ تحریر تھا کہ رسول اللہ ﷺ ہر فرض نماز کے بعد یہ کہا کرتے تھے : ’’اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں وہ اکیلا ہے اسکا کوئی شریک نہیں بادشاہت اسی کی ہے اور تعریف اسی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز ہر قادر ہے الہی جسے تو عطا کرے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جس سے تو روک لے اسے کوئی عطا کرنے والا نہیں اور کسی مرتبے والے کا مرتبہ یا مال و دولت والے کا مال و دولت تیرے سامنے کوئی نفع نہیں دے سکتا۔‘‘ پھراس کےبعد میں حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس آیا میں نے سنا کہ آپ لوگوں کو مذکورہ دعا پڑھنے کا حکم دے رہے تھے ایک روایت میں ہے کہ آپ ﷺ قیل و قال یعنی فضول گفتگو، مال ضائع کرنے اور زیادہ سوالات کرنے سے منع کیا کرتے تھے نیز آپ ﷺ ماؤں کی نافرمانی، بچیوں کو زندہ درگور کرنے، بخل اور لالچ سے منع کیا کرتے تھے۔ (صحیح بخاری و صحیح مسلم)

حدیث مبارکہ کے بعض الفاظ کے معانی

1 – اَمْلَى : اس نے سے لکھوایا۔

2 – فِیْ دُبُرِ كُلِّ صَلَاةٍ : ہر نماز کے بعد ۔

3 – مَكْتُوْبَةُ : فرض۔

4 – لَهُ الْمُلْكُ : بادشاہت اسی کی ہے۔

5 – لَهُ الْحَمْدُ : تعریف اسی کی ہے۔

6 – قَدِيرُٗ : قدرت رکھنے والا ۔

7 – لَا شَرِيْكَ لَهُ : اسکا کوئی شریک نہیں ۔

8 – لَا مَانِعَ : کوئی روکنے والا نہیں

9 – اَعْطَيْتَ : تو نے عطا کیا ۔

10 – مُعْطِیَ : دینے والا ۔

11 -مَنَعْتَ : تو نے روک دیا ۔

12 – لَا يَنْفَعُ : نہیں نفع دے سکتا۔

13 – ذَا الْجَدِّ : بزرگی /مرتبے والا ۔

14 – قِيْلَ وَقَالَ : فضول گفتگو ۔

15 – إِضَاعَةُ الْمَالِ : مال ضائع کرنا۔

16 – كَثْرَةُ السُّوَالِ : زیادہ سوالات کرنا ۔

17 – عُقُوْقِ الْاُمَّهَاتِ : ماؤں کی نافرمانی۔

18 – وَوَأْدِ الْبَنَاتِ : بیٹیوں کو زندہ درگور کرنا ۔

19 – مَنْعٍ وَّهَاتٍ : بخل اور لالچ ۔

حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام:

1۔ نبی کریم ﷺ کی احادیث کو خطوط میں لکھنا مستحب ہے۔ اس میں ان لوگوں کا رد ہے جو خط لکھتے وقت بسم اللہ وغیرہ اس لیے نہیں لکھتے ہیں کہ اس سے بسم اللہ کی توہین کا اندیشہ ہے ۔

2۔ جب نبی کریم ﷺ کی حدیث کا علم ہو جاۓ تو پھر اس پر عمل کرنا چاہیے اور دوسروں کو اس کی ترغیب دینی چاہیے جیسے حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ لوگوں کو مسنون دعا کا حکم دیتے تھے۔

3۔حدیث میں مذکورہ دعا ہر فرض نماز کے بعد پڑھنا مستحب عمل ہے۔

اور اس سے توحید کی فضیلت اور اہمیت بھی اجاگر ہوتی ہے ۔ اور کلمہ توحید افضل الذکر والدعاء ہے۔

4۔ یہ عظیم الشان ذکر اور دعا توحید کے اثبات، شرک کی نفی، اللہ تعالیٰ کی مکمل بادشاہت ، اس کی کامل تعریف ، اس کی قدرت کامل، کائنات میں اسکے مکمل تصرفات اور مخلوق کی بے بسی اور محتاجگی کے اعترافات پر مشتمل ہے۔

5۔ قیل و قال فضول اور بے مقصد گفتگو کی مذمت ہے اس سے پرہیز کرنا چاہیے ۔

6۔ مال کا ضیاع اور بربادی مذموم ہے کیونکہ مال اللہ کی بڑی نعمتوں میں سے ہے لہذا اس کی قدر کرنا اور صرف جائز امور میں جائز خرچ کرنا جائز ہے اسراف وتبذیر ناجائز و حرام ہے بدعات اور رسومات و خرافات میں خرچ کرنا مال کا ضائع کرنا ہے جس کی ممانعت رسول اللہﷺ نے خود فرمائی ہے قل، ختم، تیجہ ، ساتواں ، چالیسواں، سالگرہ، رجب کے کونڈے، محرم کی سبیلیں، گیارہویں وغیرہ، عید میلاد اور اس میں کھانا پکانا وغیرہ ، شادی کی رسومات پر خرچ، شادی کے موقع پر ریاکاری و دکھلاوے کے لیے مہنگی کاروں کو کرائے پر لینا ، ریاکاری و دکھلاوے کے لیے مہنگے ہال وغیرہ بک کرنا ، وغیرہ یہ سبھی مال کا ضیاع ہے۔ اسلام نے حلال اور جائز چیزوں میں بھی بے جا خرچ کو ناپسند کیا اور حرام و ناجائز چیزوں میں تو خرچ کرنے والے کو اللہ نے شیطان کے بھائی قرار دیا ہے۔ (سورۃ الاسراء: 27)

7۔ ماں کی نافرمانی یعنی جائز امور میں ماں کی نافرمانی کبیرہ گناہ ہے۔ البتہ اللہ اور رسول ﷺ کی نافرمانی میں ماں کی فرمانبرداری کرنے کی اجازت نہیں ہے۔ نبی کریمﷺ نے فرمایا:

لا طاعة لمخلوق فی معصية الخالق

(مسند احمد و صححہ البانی واصلہ فی البخاری )

8۔ بخل، لالچ یعنی جہاں ضروری خرچ کرنا چاہیے وہاں خرچ نہ کرے اور جہاں خرچ نہیں کرنا چاہیے وہاں کسی لالچ کی وجہ سے خرچ کرے رسول اللہ ﷺ نے اس سے اپنی امت کو روکا ہے۔

9۔ کثرت سوال یعنی بیجا اور بے مقصد اور فرضی سوالات کرنا۔

10۔ بچیوں کو زندہ درگور کرنے کی سخت ممانعت ہے۔

تبصرہ کریں