
حدیث نمبر: 50
عَنْ عائِشَةَ رضي الله عَنْها: عَنِ النَّبِيِّ صلّى الله عليه وسلّم قَالَ: «إذَا أُقِيمَتْ الصَّلاةُ، وَحَضَرَ الْعَشَاءُ، فَابْدَءُوا بِالْعَشَاءِ». وَعَنْ ابْنِ عُمَرَ نَحْوُهُ.
[رواه البخاري، كتاب الأطعمة، باب إذا حضر العشاء فلا يعجل عن عشائه، برقم 5465, ومسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام الذي يريد أكله في الحال، وكراهة الصلاة مع مدافعة الأخبثين، برقم 558. البخاري، كتاب الأذان، باب إذا حضر الطعام وأقيمت الصلاة، برقم 673، مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام…، برقم 559]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا :جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی جائے اور شام؍ رات کا کھانا آ جائے تو پہلے کھانا کھاؤ۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے بھی اس جیسی روایت مروی ہے ۔
مفرداتُ الحدیث
1: اِذَا أُقِيْمَتِ الصَّلَاةُ : جب نماز کے لئے اقامت کہہ دی گئی ہو۔
2 : الْعَشَاءُ : شام؍ رات کا کھانا ۔
3 : فَابْدَأُوْا : ابتداء کرو۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔ کھاناحاضر ہو اور بھوک کی طلب بھی ہو تو نماز سے پہلے کھانا کھانا چاہیے اور نماز کو بعد میں ادا کرنا چاہیے لیکن اس کی عادت نہیں بنانی چاہیے، کھانے کا اہتمام وغیرہ اس وقت نہیں کرنا چاہیے جب باجماعت نماز کا وقت ہو۔ لیکن اگر اتفاق سے ایسا ہوگیا ہو اور کھانے کی طلب بھی ہو تو پہلے کھانے کا حکم ہے اور پھر نماز چاہے وہ باجماعت نماز ہی کیوں نہ ہو ۔
2۔ جمہور اہل علم کے نزدیک یہ حکم اس صورت میں ہے جب نماز کے وقت میں وسعت ہو لیکن اگر نماز کے قضا ہونے کا خوف ہو تو پھر پہلے نماز ہی ادا کرے البتہ بعض کے نزدیک پہلے کھانا ہی کھائے اور نماز کو ہر صورت بعد میں پڑھے چاہے قضا ہو۔
3۔ شام یا رات کا کھانا جلدی کھانے کی ترغیب ۔ عربی زبان میں عشاء ( عین کے فتحہ؍ زبر ) رات کے پہلے حصے کو کہتے ہیں۔رات کا کھانا جلدی کھانے کے طبی فوائد بھی ہیں اور دیر سے کھانا کھانے کے نقصانات ہیں۔
4۔ نماز کے اندر خشوع و خضوع مطلوب ہے پوری توجہ سے نماز ادا کرنی چاہیے اور ہر اس چیز کو اپنے سے دور رکھنا چاہیے جس سے نماز میں خشوع و خضوع میں کمی آئے۔
5۔ باجماعت نماز کے لیے اقامت کہنا۔
حدیث نمبر: 51
وَلِمُسْلِمٍ عَنْ عَائِشَةَ رضي الله عَنْها؛ قَالَتْ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صلّى الله عليه وسلّم يقُولُ : «لاَ صَلاَةَ بِحَضْرَةِ الطَّعَامٍ، وَلاَ وَهُوَ يُدَافِعُهُ الْأَخْبَثَانِ». [رواه مسلم، كتاب المساجد ومواضع الصلاة، باب كراهة الصلاة بحضرة الطعام الذي يريد أكله في الحال، وكراهة الصلاة مع مدافعة الأخبثين، برقم 560]
حدیث مبارکہ کا سلیس ترجمہ
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے فرماتی ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا آپ فرماتے ہیں :کھانے کی موجودگی میں نماز نہیں ہوتی اور نہ ہی اس وقت جب بول و براز اسے باہر جانے کے لیے دھکیل رہے ہوں۔
مفرداتُ الحدیث:
1 : بِحَضْرَةِ الطَّعَامِ : کھانے کی موجودگی میں ۔
2 : يُدَافِعُهُ : اسے دھکیلتے ہوں۔مجبور کرتے ہوں۔
3 : الْاَخْبَثَانِ : دو خبیث چیزیں یعنی بول و براز ۔
حدیث مبارکہ سے حاصل ہونے والے بعض مسائل اور احکام
1۔بھوک لگی ہوئی ہو اور کھانا موجود ہو تو نماز؍ باجماعت نماز کا وقت ہو جائے تو پہلے کھانے پینے سے فارغ ہو جانا چاہیے۔ تاکہ نماز خشوع وخضوع سے ادا ہو۔
2۔بول و براز کی حالت ہو نماز کے لئے اقامت کہہ دی گئی ہو تو پہلے قضائے حاجت سے فارغ ہو پھر نماز پڑھی جائے۔
3۔نماز میں خشوع و خضوع کی اہمیت ۔
4۔نمازی کو چاہئے کہ جس چیز کے نماز میں خلل انداز ہونے کا اندیشہ ہو اسے پہلے دور کر دیا جائے۔
5۔بھوک،پیاس اور بول براز نماز کو مؤخر کرنے کے سلسلے میں شرعی عذر تصور کئے جائیں گے۔
6۔ نمازی جو کچھ نماز میں پڑھ رہا ہے اس کو معلوم ہونا چاہیے کہ وہ کیا پڑھ رہا پوری قلبی توجہ تب ہی ہوسکتی ہے جب نماز کا ترجمہ آتا ہو۔
7۔نماز کے افعال مثلاً قیام ، رکوع، قومہ ، سجود، دو سجدوں کے درمیان بیٹھنا، پہلی اور تیسری رکعت کے بعد بیٹھ کر پھر اٹھنا تشہد اور سلام وغیرہ آرام سے ٹھہر ٹھہر کے اعتدال و اطمینان سے ادا کرنا کیونکہ جلدی جلدی ادا کرنے سے خشوع وخضوع اور قلبی توجہ سے نماز خالی ہو جاتی ہے ۔
8۔دین میں نماز کی اہمیت
٭٭٭
تبصرہ کریں