وحدت ادیان۔ڈاکٹر سید حسین مدنی

وحدت ادیان کی ابتدا

وحدت ادیان ایک کفریہ نظریہ ہے، جسے عام کرنے کی کوشش یہود و نصاریٰ دور نبوت ہی سے کر رہے ہیں ۔(سورة البقرة : 109) اور ہر دور میں کرتے رہیں گئے۔ (سورة البقرة : 217) اور اس ناپاک سازش کو کامیاب بنانے کے لیے اپنے پیسے کو پانی کی طرح بہائیں گئے ۔(سورۃ الانفال: 36) کیونکہ ان کی خواہش ہے کہ جس طرح انہوں نے کفر کیا مسلمان بھی ان ہی کی طرح کا فر ہو جائیں ۔(سورۃ النساء : 89) اسی لیے یہ لوگ اس وقت تک چین سے نہیں بیٹھیں گے ،جب تک وہ مسلمانوں کو اپنے دین پر نہ لائیں۔ (سورة البقرة : 120) جس کے لیے وہ کبھی اپنی یہودیت و نصرانیت اور اسلام کو فقہی مسالک کی طرح پیش کرتے ہیں (مجموع الفتاوی: 4؍203)اور جب تنہائی میں رہتے ہیں تو غصے کے مارے اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ (سورۃ آل عمران : 119 )

اصول دین و فروع شریعت

اللہ تعالیٰ نے جن اصول ایمان کے لیے اپنے رسولوں پر آسمانی کتابیں تو رات، انجیل، زبور اور قرآن مجید نازل فرمائیں اور جن کی طرف سیدنا ابراہیم، سیدنا موسیٰ ، اور سیدنا عیسی ﷩جیسے دیگر انبیاء نے دعوت دی ان تمام اصول ایمان میں کسی قسم کا اختلاف نہیں پایا جاتا ہے ،کیونکہ سابقہ انبیاء نے آئندہ انبیاء کی بشارت دی اور بعد میں آنے والے انبیاء نے گزشتہ انبیاء کی تصدیق و تائید کی ۔(سورة البقره : 285 ؛ سورة النساء :152 ؛ سورة آل عمران: 81-85، سورة الانعام: 89-90؛ سورة آل عمران:68 ؛ سورة النحل:123 ؛ سورة الصف :6 )

لیکن اللہ کا فضل، اس کی رحمت ، اس کا عدل اور اس کی حکمت کا تقاضا تھا کہ بندوں کی مصلحت، زمانہ اور حالات کے اعتبار سے فروع مختلف ہوں۔ (سورة المائدة:48 ) جیسا کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ میں سیدنا عیسیٰ سے انتہائی قریب ہوں، اور انبیاء باپ شریک بھائی ہوتے ہیں ان کا دین (اصول ایمان) ایک ہوتا ہے لیکن مائیں ( فروعی شریعت) مختلف ہوتی ہیں، ( صحيح بخاری، كتاب أحاديث الأنبياء، باب قول الله واذکر :3442 ) لیکن اس کا مطلب ہر گز یہ نہیں کہ تو ارت، انجیل اور قرآن مجید کو ایک ہی کتاب کی شکل میں شائع کیا جائے یا عوامی و تفریحی مقامات، ہوائی اڈوں اور یونیورسٹیز کے دامن میں ایک ہی جگہ یہودیوں کی عبادت گاہ ، نصاریٰ کا گرجا گھر، اور مسلمانوں کی مسجد تعمیر کی جائے ، یا مختلف ادیان کے مابین الفت و قربت، دینی بھائی چارہ مختلف دینوں کا مرکز ، عیسائی اسلام دوستی، دین الٰہی ، عالمی ادیان، کتب سماویہ کی ہم آہنگی کے الفاظ کے سہارے وحدت ادیان کا نظریہ پیش کیا جائے۔

وحدت ادیان ایک کفریہ رجحان

وحدت ادیان کفریہ رجحان ہونے کی بے شمار وجوہات ہیں، جن میں سے بعض درج ذیل ہیں:

1۔ وحدت ادیان سے اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے منع کیا ، جیسا کہ فرمایا: ﴿وَلَا تَلْبِسُوا الْحَقِّ بِالْبَاطِلِ وَتَكْتُمُوا الْحَقِّ وَأَنْتُمْ تَعْلَمُونَ﴾ (سورة البقرة :42)

’’اور جانتے بوجتے تم حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور نہ ہی حق کو چھپاؤ۔ ‘‘

علامہ مجاہد ﷫نے فرمایا کہ حق کو باطل کے ساتھ خلط ملط نہ کرو یعنی یہودیت و نصرانیت کو اسلام کے ساتھ خلط ملط نہ کرو اور یہی قول قتادہ رحمہ اللہ سے بھی منقول ہے، جنہوں نے مزید فرمایا کہ اللہ کا دین تو اسلام ہے اور یہودیت و نصرانیت بدعت ( نئے ادیان) ہیں جو اللہ کی جانب سے نہیں ۔ (جامع البيان عن تأويل آي القرآن للطبري وتفسير القرآن العظيم لابن كثير)

لہٰذا ہمیں یہودیت و نصرانیت سے بیچ کر رہنا چاہیے اور اسلام پر ثابت قدمی کے لیے ہرنماز میں دعا کرنی چاہیے۔(سورۃ الفاتحہ : 6-7 )

2۔یہود نے عزیر کو اللہ کا بیٹا قرار دیا ۔ (سورۃ التوبہ : 30)

3۔یہود نے اپنے آپ کو مال دار اور اللہ کو فقیر بخیل تصور کیا ۔ (سورة آل عمران : 181)

4۔ یہود نے تورات میں تحریف کی۔ (سورة المائدة : 13 ) سورة المائدة 64)

6۔ یہود نے نعوذ باللہ، سلیمان کو مرتد، ہارون کو مشرک، ابراہیم کو ازدواجی رشتہ کا خائن، لوط کو شرابی، یعقوب کو چور اور داؤ د کو زانی قرار دیا ۔ (الإبطال لنظرية الخلط بين دين الإسلام وغيره من الأديان لبكر أبو زيد : ص 75)

6۔ یہود اپنی آسمانی کتاب کو اپنے ہاتھوں سے لکھا کرتے ہیں، اسے اللہ کی جانب منسوب کرتے ہیں (سورة البقرة : 79 ؛ سورة آل عمران : 78) اور اسے اکثر چھیا یا کرتے ہیں۔ (سورۃ الانعام : 91)

7۔نصاری نے عیسی کو اللہ کا بیٹا اور معبود مانا۔ (التوبہ: 30۔31) جو دراصل اللہ کے دین میں غلو (سورۃ النساء : 171) اور کفریہ عقائد ہیں ۔ (المائدة: 72-73)

8۔نصاری نے سیدنا عیسیٰ کو معبود یا اللہ کا بیٹا تصور کیا جب کہ اسلام نے انہیں آدم کی طرح مٹی سے بنا ایک بشر بتایا اور یہ ایسی ٹھوس حقیقت ہے کہ جس میں شک کا شائبہ نہیں بلکہ جس کے لیے مباہلہ کرنے کی بھی گنجائش ہے۔ (آل عمران: 59۔61)

9۔ انجیل تحریف شدہ ہے، کیونکہ اس میں قرآن سے ٹکر انے والی باتیں ہیں، مثال کے طور پر عیسی کو پھانسی دینے کا واقعہ ان کی موت و تدفین کا واقعہ وغیرہ۔

10۔نصاری کا ماننا ہے کہ نعوذ باللہ سلیمان علیم اور داؤد ز نا کی نسل سے ہیں ۔ (الإبطال لنظرية الخلط بين دين الإسلام وغيره من الأديان لبكر أبو زيد :ص76)

11۔ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں متعدد مقامات پر یہود و نصاری سے دلی دوستی کرنے سے منع کیا۔ (سورة المائدة:51 )

12۔یہود و نصاری اللہ کی آیتوں کے کافر ہیں۔ (سورۃ آل عمران: 70 )

13۔ یہود و نصاری دین حق قبول نہ کرنے کی وجہ سے قتال کے مستحق ہیں۔ (سورۃ التوبہ: 29 )

14۔یہود و نصاری کو جنت میں داخل ہونے کے لیے وحدت ادیان پر نہیں بلکہ صرف دین اسلام پر قائم رہنا ہو گا ۔ (صحیح مسلم، کتاب الإيمان، باب وجوب الإيمان : 403 )

15۔ تورات و انجیل اور قرآن کے مابین صرف قرآن ہی محفوظ ہے جو تورات و انجیل کے مساوی نہیں بلکہ ان کے متعلق فیصلہ کرنے والی ہے۔(سورة المائدة:48)

16۔اہل کتاب میں سے اگر کوئی قرآن مجید کو تسلیم کرنے اور اس کی تصدیق کرنے کی بجائے اس کی تردید کرے گا تو وہ بے ایمان اور جہنم رسید ہو گا۔ (سورۃ ہود : 17)

17۔ ہمارے نبی ﷺ یہود و نصاری بلکہ ساری انسانیت کے لیے رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔ (سورہ سبا : 28 ؛ سورة الاعراف : 158 ) اور قرآن مجید بھی ساری انسانیت کے لیے ہدایت کا سر چشمہ ہے۔

18۔ ہمارے نبی ﷺ خاتم النبیین ہیں ۔ (سورۃ الاحزاب :40) جن پر ایمان لانے کے ہم بھی اور یہود ونصاری بھی پابند ہیں ۔ (سورۃ آل عمران : 81)

19۔یہود و نصاری کو کافر جاننا اور ان کے لیے کافر کے الفاظ استعمال کرنا واجب ہے۔ (سورۃ البینہ: 1 ۔ 6 ، مع فتاوى اللجنة الدائمة…، الدعوة : 12؍ 274)

20۔یہود و نصاری کا فر ہیں اور کافر کو کافر نہ سمجھنا بھی کفر ہے۔ (تفصیل کے لیے گزشتہ بحث نواقض اسلام کا مطالعہ کیجیے۔ )

21۔ عام یہود و نصاری کے ساتھ وحدت ادیان کی تشکیل تو در کنار اگر موسیٰ بھی آج زندہ ہوتے تو اللہ کی قسم انہیں اسلام پر چلتے ہوئے نبی ﷺ کی پیروی کرنی پڑتی ۔ (مسند أحمد مسند المكثرين من الصحابة مسند جابر بن عبد الله : 15156 اور یہ حدیث حسن ہے۔)

22۔ اسلام کے علاوہ وحدت ادیان یا کسی اور دین کی طلب نا قابل قبول عقیدہ ہے جو دنیا و آخرت میں خسارہ کا سبب بنے گا۔ (سورۃ آل عمران : 85 )

وحدت ادیان کا نقصان

وحدت ادیان کے نقصانات میں اسلام کی شبیہ بگاڑنا، مسلمانوں میں شبہات و شہوات کو عام کرنا، اسلامی فتوحات کو روکنا، دلوں سے ایمان کی چنگاری کو بجھانا، ایمانی اخوت کا خاتمہ کرنا، یہود و نصاری کے تئیں مسلمانوں کے قلم اور ان کی زبانوں پر لگام لگانا اسلامی احکام کو باطل قرار دینا دوستی اور دشمنی کا معیار مٹادینا، حفاظت کردہ دین اسلام کو تحریف کردہ دینوں کے ساتھ ملانا اور یہودیت ونصرانیت کو فروغ دینا ہے۔ (الإبطال لنظرية الخلط بين دين الإسلام وغيره من الأديان لبكر أبو زيد:ص 37)

سابقہ تفصیل کے باوجود بھی اگر کوئی وحدت ادیان کا قائل ہو تو وہ مرتد ہو جائے گا۔ (فتاوى اللجنة الدائمة، الدعوة : 12؍274) اسی لیے وحدت ادیان کی بجائے اسلام کی دعوت دی جائے گی یا پھر لَكُمْ دِينُكُمْ وَلِی دِینِ کہا جائے گا۔

اس موضوع سے متعلق شیخ بکر ابوزید ﷫ کی کتاب الإبطال لنظرية الخلط بين دين الإسلام وغيره من الأديان، شيخ عبد الرحمن بن سعد الششر می ﷾ کی کتاب الفرقان في بيان حقيقة التقارب والتسامح بين الفرق والأديان اور محمد البہی﷫ کی کتاب الإخاء الديني ومجمع الأديان وموقف الإسلام مفید ہے۔

٭٭٭

نعت

اب اپنے لیے بیش نہ کم آپ کے ہوتے

دیکھیں گے کسی اور نہ ہم آپ کے ہوتے

گزرے نہ قیامت میں قیامت کوئی ہم پر

ٹوٹے نہ کہیں اپنا بھرم آپ کے ہوتے

ہم اور فقیروں کو بھلا شاہ کہیں گے !

اے شاہِ اُمم شاہِ اُمم آپ کے ہوتے

ہم سے کبھی ہوگی نہیں تقلید کسی کی

سر ہوگا کہیں اور نہ خم آپ کے ہوتے

گردن میں کوئی طوقِ غلامی نہیں رکھتے

ہم آپ کے سرتا بہ قدم آپ کے ہوتے

ہیں آپ اگر ساتھ تو پھر ساتھ ہے سب کچھ

کیا چیز ہیں کیخسرو وجم آپ کے ہوتے

کہتے ہیں سکینت جسے حاصل ہے دلوں کو

آنکھیں کبھی ہوتی نہیں نم آپ کے ہوتے

اپنے لیے بے فیض ہے کوفی ہو کہ صوفی

آنکھوں میں عرب ہے نہ عجم آپ کے ہوتے

ہم خیر نہ لکھیں گے کسی کا بھی قصیدہ

ہوگا نہ سبک سار قلم آپ کے ہوتے

ڈاکٹر رؤف خیر ، حیدر آباد دکن

تبصرہ کریں